علامہ اعجاز فرخ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر النساء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رنگ محل ،آج کی تصویر۔۔۔۔

kداستانِ خیرالنسأ ۔ آخری قسط.خوشبواُڑی اُڑی سی
علامہ اعجاز فرخ
موبائل : 919848080612:
نوٹ: آپ نے عشق ومحبت کی بے شمارداستانیں پڑھی ہوں گی اور اس بات سے بھی آپ واقف ہوں گے کہ محبت کے ان فسانوں میں کبھی عاشق ومعشوق کو وصال نصیب نہیں ہوا مگر اس داستانِ خیرالنسا میں نہ صرف وصال ہوتا ہے بلکہ ان کا گھر بھی آباد و شاد رہتا ہے کیوں کہ اس داستان کا تعلق شہرحیدرآباد فرخندہ بنیاد سے ہے جس کی بنیاد ہی محبت ہے جس کی تعمیروتشکیل میں محبت کا ہی دخل رہا ہے۔ ہم علامہ کے ممنون ہیں کہ انہوں نے اس داستان کے حوالے سے حیدرآباد کی تہذیب و ثقافت کو اردو دنیا کے سامنے پیش کیا۔
------------------------------------------------------------------------------
ا اور وہ اسے مبہوت دیکھتا رہ گیا۔ حسنِ مکمل اگر روبرو ہو تو عشق کو چپ لگ جاتی ہے اور یہی حسن کو عشق کا خراج ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ حسن انگشت تراش ہو تو انگلیوں کے کٹ جانے کا بھی احساس نہیں ہوتا اور تحیر کی مسرت پلک جھپکنے کی بھی مہلت نہیں دیتی۔ کچھ دیر وہ اسے تکتا رہا پھر کہا ’’تم اسی زمین کی مخلوق ہو یا آسمان سے اتاری گئی ہو‘‘ دلہن نے کچھ کہا نہیں آہستہ سے سر کو جھکا لیا۔ ذرا سا آنچل جو سر سے ڈھلک گیا تو زلف بھی رخسار کو چھو گئی۔ کرک پیٹرک نے ذرا سا زلفوں کو چھیڑا ہی تھا کہ سیاہ ریشم کا ڈھیر کھل گیا اور فانوسوں میں چراغوں کی لو مدہم ہوگئی۔ کرک پیٹرک نے سوچا کہ شاید رات اس زلف کے بکھر جانے اور دن اس کے سنور جانے کا نام ہے۔ شمع کی لو کے اطراف پروانے کا رقص اور نظروں سے طواف اپنی جگہ لیکن پروانہ بھی جانتا ہے کہ حاصل عشق تو جل جانا ہے۔ شعلے کا بدن تو وسیلہ ہے ورنہ لذت وصل تو
ایک کیف ہے ایک نشہ ہے۔
حیدرآباد میں دلہن کی رخصتی کے پھول پہنائے جاتے تو طلائی چوڑیوں کی جگہ لاک کی چوڑیوں کا جوڑا پہنایا جاتا تھا اور اسے ’’کھوبڑے کا جوڑا‘‘ کہا جاتا تھا۔ جو کھنکے تو کم کم پر بات پوری کرجائے۔ رات گزرنے کے بعد صبح جب پیش باندی بستر کی شکنیں درست کرنے آتی تو کھوبڑے کے جوڑے کی ٹوٹی کرچیاں چپکے سے چن کر آنچل کے گوشے میں باندھ لیا کرتی تھیں۔ گویا ساری داستانِ شب کو گرہ لگاکر محفوظ کرلیا ہو۔ اور زہر تو چہرے کی رنگت اجاڑ دیتے ہیں لیکن عشق جب حسن کو ڈس لے تو شباب کی دوشیزگی نکھر آتی ہے۔ ماہ عسل، دراصل کہتے اسی عرصے کو ہیں جب ایک دوسرے کے وجود میں ،اپنی مرضی سے رات کو دن اور دن کو رات بنادے۔ جب یہ مدت گزری تو کرک پیٹرک کو دربار کی یاد آئی۔ نظام علی خاں نے ریذیڈنٹ کو تحائف سے نوازا۔ خوشگوارزندگی کی دعائیں دیں۔ ملے توارسطو جاہ بھی لیکن ریذیڈنٹ سے ان کی کینہ توز نظریں چھپی نہ رہ سکیں۔ کچھ دن بعد ارسطو جاہ میر عالم کے گھر آئے۔ تواضع کے بعد انہوں نے میر عالم سے کہا ’’میر صاحب! برا نہ مانئے تو عرض کروں، ریذیڈنٹ کا یہ رویہ دراصل ہماری عزت کو للکارنا ہے۔ ہماری ریاست میں مداخلت کے بعد اب تو فرنگی سے ہمارے گھر بھی محفوظ نہیں۔ میں تو اسے توہین اور بے عزتی سمجھتا ہوں کہ ہماری ناموس فرنگیوں کا کھلونا بن جائے! بھلا کہاں ہمارا نجیب گھرانہ اور کہاں یہ فرنگی۔‘‘ میر عالم نے کہا ’’لیکن نواب صاحب یہ تو باقاعدہ شادی ہوئی ہے‘‘ ارسطو جاہ نے فوراً کہا ’’شادی! اور فرنگی سے اور اس کے بعد مخلوط نسل۔ غریت اور امارت تو بدل سکتی ہے۔ دولت تو دھوپ چھاؤں کا کھیل ہے لیکن نجایت تو وہ جوہر ہے جو نسلاً بعد نسلاٍ منتقل ہوتا ہے۔ میری مانئے تو ہمیں اس بات کی اطلاع وائسرائے کو دینی چاہئے ورنہ پھر کوئی گھر محفوظ نہ رہ سکے گا۔‘‘ میر عالم کو اس کا خدشہ تو تھا ہی وہ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ ارسطو جاہ نے اپنی جیب سے خط نکالا اور میر عالم سے کہا ’’میں نے محضر تیار کرلیا ہے اور دستخط بھی کردیئے ہیں آپ بھی اسے ملاحظہ فرمالیں اور دستخط کردیں۔‘‘ میر عالم نے کہا ’’میرا اس پر دستخط کرنا مناسب نہیں ہے۔ مجھے جو بھی لکھنا ہو وہ میں بذات خود تحریر کرکے روانہ کردوں گا۔‘‘ ارسطو جاہ نے محضر لپیٹ لیا اور رخصت ہوگئے۔ لارڈ ولزلی کو جب یہ محضر وصول ہوا تو اس کی تیوری پر بل پڑگئے۔ محضر پر ارسطو جاہ اور میر عالم کے دستخط تھے اور وائسرائے سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ فوراً اس معاملے کی خبر لے ورنہ حیدرآباد میں انگریزوں کے خلاف نفرت کا جذبہ بڑی شدت سے ابھر آئے گا۔ محضر میں یہ بھی لکھا تھا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے معاہدہ کی حدود سے تجاوز کرکے ریاست کے معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کا باعث ہورہی جو نہ صرف ریاستی امور میں مداخلت بیجا ہے بلکہ سلطنت میں نظم و نسق میں بگاڑ کا بھی باعث ہے۔ لارڈ ولزلی نے فوراً تحقیقات کا حکم دے کر کیپٹن جان مالکم کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہو تو فوری طور پر کرک پیٹرک سے فوری طور پر جائزہ حاصل کرلے۔ کیپٹن جان مالکم کبھی کرک پیٹرک کا ماتحت رہ چکا تھا۔ اس کے باپ نے جان مالکم کا تقرر کیا تھا وہ نہ صرف اس خاندان سے غیر معمولی قربت رکھتا تھا بلکہ اسے ایک گونہ لگاؤ بھی تھا۔ اس نے کرک پیٹرک کو ایک شخصی خط میں ساری تفصیلات لکھ کر مشورہ دیا کہ وہ اپنے دفاع کو مضبوط کرنے میں کوئی کسر نہ رکھے۔ کرک پیٹرک کو اس بات کی توقع نہیں تھی اس نے میر عالم کو بلوا بھیجا اور ساری صورتحال سے واقف کروانے کے بعد کہا ’’دیوان صاحب! محضر پر ارسطو جاہ کے دستخط تو سمجھ میں آتے ہیں لیکن آپ! ہم تو آپ کو اپنا محسن جانتے ہیں۔ آپ نے ہماری خواہش پر ہم سے بھر پور تعاون کیا اور پھر آپ کی یہ دستخط!کیا یہ سب کچھ نظام کی مرضی سے ہورہا ہے اور آپ نے نظام کے دباؤ میں یہ دستخط کئے ہیں یا اور کوئی وجہ سے۔ آپ ہمیں صاف صاف بتلائیے تاکہ ہم اس تحقیقات کے لئے خود کو تیار کرسکیں‘‘ میر عالم نے قدرے تامل کے بعد ٹھہر ٹھہر کر کہا ’’ریذیڈنٹ بہادر! ہم اس واقعہ سے لاعلم نہیں ہیں لیکن ہم اس میں شریک بھی نہیں ہیں۔ ارسطو جاہ ہمارے پاس محضر ضرور لائے تھے اور ہم سے خواہش بھی کی تھی کہ ہم ان کے بنائے ہوئے محضر پر دستخط کردیں لیکن ہم نے انکار کردیا۔ ہم اپنے پُرکھوں سے حق شناس ہیں ایک کا ہو کر ہر ایک کا ہونا ہماری سرشت میں داخل نہیں ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس محضر پر کس کی دستخط ہے لیکن آپ کو اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ اس پر ہماری دستخط نہیں ہیں‘‘ کرک پیٹرک حیرت میں پڑ گیا پھر اس نے کہا ’’ٹھیک ہے، ہم نمٹ لیں گے لیکن آپ تو ہمارا ساتھ دیں گے نا!‘‘ میر عالم نے کہا ’’جتنا کچھ سچ ہوگا ہم اس پر برابر آپ کا ساتھ دیں گے، یہ ہمارا وعدہ ہے‘‘ کرک پیٹرک نے پوچھا ’’کیا آپ کے ذہن میں کوئی طریقہ ہے کہ ہم اس معاملے کو خوش اسلوبی سے سلجھا سکیں؟‘‘ میر عالم نے کہا ’’لڑکی اور اس کی والدہ سے تحریر لے لیجئے کہ کوئی کام ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہوا ہے اور جو بھی ہوا وہ برضاء و رغبت ہوا ہے اور اس شفاقیت کے بعد اگر نظام خود اس کی تصدیق کردیں ۔ پھر تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا‘‘ سارا منصوبہ کرک پیٹرک کی سمجھ میں آگیا۔ اس نے شرف النساء بیگم سے تحریر حاصل کرلی اور قاضی سے وثیقۂ نکاح بھی۔ پھر ان دونوں کاغذات کو نظام علی خاں کی خدمت میں پیش کرکے ساری روداد سنادی تو نظام نے بھی اس پر اپنی مہر ثبت
کردی۔
جان مالکم حیدرآباد نہیں آیا۔ وہ مچھلی پٹنم میں ٹھہرا رہا۔ جب کرک پیٹرک کا قاصد جان مالکم کے پاس پہنچا تو اس نے مہر بند لفافے میں سے دستاویزات برآمد کئے اور بغور مطالعہ کرکے اس کی روشنی میں اپنی رپورٹ مرتب کرلی۔ اپنی تحقیق کو اور شواہد کی بنیاد پر اور مضبوط کرنے کے لئے اس نے پیٹرک کے خاص ملازمین کو بھی طلب کیا اور سارے بیانات کو قلمبند کرنے کے بعد وائسرائے کو نہ صرف اطمینان دلادیا کہ جو کچھ بھی واقعہ گزرا ہے وہ صرف ذاتی ہے اور فریقین کی رضامندی کے ساتھ پیش آیا ہے۔ اس نے کلکتہ میں بھی پیش آنے والے ایسے ہی واقعے کی نظیر پیش کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اور بھی واقعات ہیں۔ گویا دوسرے لفظوں میں اس نے کچھ یوں لکھ دیا کہ جب دونوں راضی ہوں تو قاضی کی مداخلت نہ صرف نامناسب ہے بلکہ وہ مجبور بھی ہے۔ چنانچہ ایسٹ انڈیا کمپنی اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کرسکتی۔ البتہ اس نے ارسطو جاہ کے پیش کردہ محضر میں دستخط پر اپنے شکوک کا اظہار کیا جس کی بعد میں دستخط کے ماہرین نے توثیق کردی کہ اس
محضر میں میر عالم کے دستخط جعلی تھے۔ ارسطو جاہ کو نہ صرف شرمندگی ہاتھ آئی بلکہ انہیں محضر واپس لینا پڑا۔
خوشی کی مدت ماہ و سال کے پیمانوں میں کتنی ہی طویل سہی لیکن احساس کے پیمانے میں لمحوں سے بھی کم ہوتی ہے۔ انسان کے اندر کی گھڑی کی سوئیاں اس تیزی سے حرکت کرتی ہیں کہ پتہ نہیں چلتا اورماہ و سال بدل جاتے ہیں لیکن وہی وقت ہے جو غم اور اندوہ کے پل کو صدیوں کی
طوالت پہنچا دیتا ہے پھر بھی پل کی مسافت طئے نہیں ہوتی۔
پانچ برس کیسے گزرے کچھ خبر ہی نہ ہوئی۔ رنگ محل کے برآمدے میں بیٹھی خیر النساء نے دیکھا ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے دو خوبصورت بچے سیڑھیوں پر ہیں تب اس نے سوچا اس کے بچے! چار برس کا لڑکا غلام علی صاحب عالم اور نورالنساء بیگم صاحبہ جنہیں کرک پیٹرک ہمیشہ پیار سے صاحب عالم اور بیگم صاحبہ ہی کہا کرتا تھا۔ بیٹی کو دیکھ کر خیر النساء کو خیال آیا کہ اس کا بچپن اس کے آنگن میں کھیل رہا ہے۔ وہی پھولے پھولے سے گال، وہی سیاہ وحشی ہرن جیسی آنکھیں، وہی بھولپن اور وہی معصومیت اسے بے ساختہ اپنے بچوں پر پیار آگیا۔ اس نے دونوں کو کلیجے میں بھر لیا اور بے تحاشہ انہیں چومنے لگی۔ بیٹے نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور رخسار پر رخسار رکھ دیا اور بیٹی نے زانو پہ سر۔ خیر النساء اسی محویت میں تھی۔ اسے خبر بھی نہ ہوئی کہ پیٹرک کب سے کھڑا اسے اس عالم میں دیکھ رہا ہے۔ اس کی نظر پڑی تو اس نے کہا ’’آپ! آپ کب آئے؟ میں نے دیکھا ہی نہیں‘‘ پیٹرک نے کہا ’’آپ کو ہمیں دیکھنے کی فرصت ہو تب نا!‘‘ عورت ماں ہوجاتی ہے تو محبوبہ نہیں رہتی۔ مرد محبت میں ساجھے داری نہیں چاہتا۔ عورت اپنے وجود کے حصوں کو بکھرنے نہیں دینا چاہتی۔ کہتی تو نہیں لیکن سلوک یہی کہتا ہے ’’مجھ سے پہلی محبت مرے محبوب نہ مانگ‘‘۔ عورت اتنی مامتا نچھاور کردیتی ہے کہ زندگی کی کڑی دھوپ میں بھی ماں کا غیر مرئی آنچل سایہ کی طرح ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ آسمان کی تاروں بھری چادر اگر زمین پر آجائے تو ماں کی اوڑھنی کے آگے ستاروں کی چادر ہیچ۔ باپ تو کمبخت ضرورتیں پوری کرنے والا مشینی آدمی ہے۔ ساری زندگی بیت جانے کے بعد اندیشۂ سو دوزیاں سے بے نیاز احترام کی خیرات پر فخر کرتا پھرتا ہے۔ احترام
اور ہے محبت اور احترام ایک فرض۔محبت ایک عبادت۔
گورنس بچوں کو لے گئی تو خوشبو اور جوہی نے چائے سجادی۔ خیرالنساء نے اپنے ہاتھ سے چائے بناکر پیٹرک کو پیش کی اور خود بھی ایک کپ اٹھاکر پیٹرک کی طرف دیکھا۔ پیٹرک نے کہا ’’آنکھیں تو وہی ہیں لیکن حضور کے انداز بدل گئے۔ اب نہ وہ اندازِ دلبری ہے نہ وہ والہانہ خود سپردگی۔ ہم دیکھ رہے ہیں جب سے صاحبِ عالم نے آپ کی آغوش میں جگہ پائی ہے، ہم سے وہ لگاوٹ نہیں رہی‘‘ خیرالنساء نے کہا ’’جل گئے نا!‘‘ پیٹرک نے کہا ’’جلن تو ہوگی! نقب زن کہیں کا۔ میری محبت میں ڈاکہ ڈال گیا اور وہ بھی دن دہاڑے۔ ذرا دیدہ دلیری تو دیکھئے ۔اسی کو کہتے ہیں’’ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد‘‘۔
خیر النساء ہنس پڑی۔ پیٹرک نے کہا ’’سنو! میں سمجھتا ہوں کہ تم اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ پروان چڑھتے دیکھنا چاہوگی کہ وہ تمہیں سرخرو کرسکیں۔ لیکن اس کے لئے تمہیں تھوڑی سی قربانی دینی ہوگی۔ ہندوستان میں ابھی تعلیم کا اتنا بہتر انتظام نہیں ہے۔ ہمیں انہیں لندن بھیجنا ہوگا۔ میں انہیں تم سے دور نہیں کرنا چاہتا لیکن ان کے بہتر مستقبل کے لئے ان کی تعلیم و تربیت بھی ضروری ہے۔ وہ ہر سال چھٹیوں میں تم سے ملنے آجایا کریں گے اور جب جی چاہے تم ان کے پاس چلی جانا۔‘‘ خیر النساء کی آنکھیں چھلک اٹھیں۔ پیٹرک نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا ’’تم کہو تو میں تمہیں ان کے ساتھ بھیج دوں۔ میں یہاں کسی طرح رہ لوں گا‘‘ خیر النساء نے پیٹرک کو دیکھا۔ گویا کہہ رہی ہو، یوں بھی میری ہار اور یوں بھی، پھر دھیرے سے کہا ’’آپ کی مرضی‘‘ 1804 ء میں بچے لندن کے لئے روانہ ہوگئے۔ خیر النساء رنگ محل کے برآمدے میں کھڑی رہی۔ دونوں بچے ماں سے لپٹ گئے۔ ماں نے آغوش میں اٹھاکر چوما اور پیٹرک کے حوالے کردیا۔ جب تک گاڑی اوجھل نہ ہوئی بچے ماں کو دیکھتے رہے۔ گارڈ نے سلامی دی اور پیٹرک بچوں
کو وداع کرنے روانہ ہوگیا۔
1805 ء میں کرک پیٹرک کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ بہیترا علاج کیا لیکن مرض بڑھتا گیا۔ جوں جوں دوا کی، مصداق کوئی شفا نہ ہوئی تو طبیبوں نے تبدیلی آب و ہوا کا مشورہ دیا۔ اسی اثناء میں کلکتہ سے اس کی طلبی ہوئی۔ لارڈ ولزلی کو یہ محسوس ہوا کہ پیٹرک ایسٹ انڈیا کمپنی کے مفادات کا حیدرآباد میں خیال رکھنے کی بجائے حیدرآباد کے مفادات کا زیادہ خیال رکھ رہا ہے۔ پیٹرک نے کلکتہ کے سفر کا عزم کیا۔ کچھ کمزور اور نحیف تو تھا ہی۔ ملازم سفر میں ساتھ ہوگئے۔ سامان سفر لادا جاچکا تو رخصت ہونے سے پہلے وہ خیرالنساء کے ساتھ اپنی خوابگاہ میں آیا۔ خیرالنساء روبرو تھی۔ اس نے کندھوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔ خیر النساء کی گردن جھکی ہوئی تھی۔ اس نے آہستہ سے پکارا ’’خیرون‘‘ اس نے سر نہیں اٹھایا تو کرک پیٹرک نے تھوڑی کو انگلی سے اٹھاکر دیکھا تو اس کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ پیٹرک کو ہر آنسو میں اپنی تصویر اور تصویر کی آنکھوں میں خیرالنساء کی چھبی نظر آئی۔ اس نے بیساختہ خیرالنساء کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ اور کہا ’’میری زندگی! اگر تم نے مجھے یوں رخصت کیا تو شاید میں منزل تک بھی نہ پہنچ پاؤں گا۔‘‘ خیرالنساء نے کہا ’’آپ مجھے اپنے ساتھ لے چلئے‘‘ پیٹرک نے کہا ’’اگر مجھے دیر لگ گئی تو میں تمہیں بلوالوں گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں تم بہت جلد مجھ سے ملنے آؤگی‘‘ پیٹرک خیرالنساء کے ساتھ برآمدے تک آیا۔ اسے دیکھتا ہوا سیڑھیاں طئے کیں۔ گارڈ نے سلامی کا بگل بجایا۔ خیر النساء نے آنسووں کے پیچھے سے دیکھا پیٹرک اسے ہاتھ ہلاکر رخصت کر رہا تھا اور وہ رخصت ہوگیا۔ خیرالنساء جب بوجھل قدموں سے خوابگاہ میں لوٹ کر آئی تو اس کا دل دھک سے رہگیا۔ امام ضامن تو میز ہی پر رکھا رہ گیا تھا۔ وہ امام ضامن باندھنا بھول گئی۔ اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ’’میرے مولا خیر ہو۔ یہ کیا بدشگونی ہوگئی۔ سب خیر ہو مولا۔ میرے مولا سب
خیر ہو‘‘۔
مچھلی پٹنم پہنچ کر پیٹرک نے بحری سفر کو ترجیح دی لیکن سمندری آب و ہوا اسے راس نہیں آئی اور اس کی صحت بگڑتی چلی گئی۔ /15 اکتوبر 1805 ء کی صبح تھی۔ جہاز ساحل سے کچھ ہی دور تھا۔ پیٹرک پر غشی طاری تھی۔ غشی کی کیفیت میں اس کے ہونٹوں سے آواز نکلی۔ ملازم سمجھا شاید کسی چیز کی طلب ہو۔ اس نے قریب پہنچ کر غور سے سنا۔ وہ پکار رہا تھا ’’خیرون، خیرون، کہاں ہو تم‘‘ پھر اس کی آواز بجھ گئی اور گردن بھی ڈھلک گئی۔ خادم نے چادر ڈھک دی۔ ساحل پر اس کے استقبال کو آنے والوں کو امید بھی نہ تھی کہ وہ یوں استقبال کریں گے۔ لاش ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہیڈکوارٹر لیجائی گئی۔ لارڈ ولزلی نے ٹوپی اتار دی اور جنازے پر پھول رکھتے ہوئے کہا ’’اچیلی کرک پیٹرک میں نے تمہیں صرف سرزنش کرنے کے لئے بلایا تھا۔ میرے بچے! میں شاید تمہارے باپ اور تمہارے بچوں سے ہمیشہ شرمندہ رہوں گا۔‘‘ پیٹرک کو سپرد لحد کردیا گیا۔ حیدرآباد میں جب اطلاع پہنچی تو شہر سوگوار ہوگیا۔ خیر النساء اپنی ماں اور عزیزوں کے ساتھ کلکتہ پہنچی۔ جب قبر کے قریب پہنچی تو بے ساختہ قبر پر گر پڑی۔ جب روتے روتے بیہوش ہوگئی اور اسے قبر سے اٹھایا گیا تو اس کی مٹھی میں دبی امام ضامن قبر ہی پر رہ گئی۔ لیکن قبر کی مٹی سے ایک مانوس سی خوشبو پھوٹی پڑ رہی تھی۔ اس کے بعد خیر النساء صرف چھ سال زندہ رہی اور 27 برس کی عمر میں دنیا سے گزر گئی۔ اب تو شہر روشنیوں کا جنگل ہے لیکن کوئی چہرہ صاف نہیں دکھائی دیتا۔ آلودہ فضاء میں جہاں ہوا کا گزر نہیں وہاں خوشبو کا کیا تذکرہ۔ لیکن کبھی میں ترپ بازار سے گزرتا تھا تو مجھے خوشبو سی محسوس ہوتی تھی۔ شاید میں اس کی قبر کا پتہ جانتا ہوں۔ لیکن شاید میں اسکی قبر کا پتہ نہیں جانتا۔ WOMENS COLLEGE کی لڑکیاں کہتی ہیں کہ کبھی وہ اس چٹان کے پاس ہوتی ہیں جو BEGUM’S ROCK
کہلاتی ہے تو اس کے قریب کے پیڑ سے ایک مخصوص خوشبو سی محسوس ہوتی ہے۔ خوشبو اُڑی اُڑی سی۔

  

***