داستانِ خیرالنسا ٔ۔ قسط ۔ ۴
کرک پیٹرک اور خیرالنساء ۔ زندگی بھر وہ رات یاد آئی
علامہ اعجازفرخ
موبائل : 09848080612 – ای میل :
’’بخدا یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ سب سننے کے لئے زندہ کیوں ہیں۔ ہم یہ گوارہ کر لیں گے کہ ہیرا چاٹ لیں اور کفن پوشی ہماری آبرو کی پردہ پوش ہوجائے۔ ہماری ناموس اور فرنگی کے گھر! میر صاحب ہمارے پاس اب دو ہی راستے ہیں۔ یا تو اس نامراد کو زہر دیدیں کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ یا پھر خود ہم جی سے گزر جائیں۔ لیکن حشر تک بھی شاید ہماری ہڈیاں قبر کو نہ لگ سکیں‘‘۔ میر عالم اپنی جگہ سے اُٹھے صراحی سے ٹھنڈا پانی گلاس میں بھر کر دونوں ہاتھوں میں لئے عقیل الدولہ کے روبرو مودب کھڑے ہوگئے۔ عقیل الدولہ نے کہا ’’میر صاحب!‘‘ میر عالم نے کہا ’’میری خاطر دو گھونٹ پانی پی لیجئے۔ جو بھی ہوگا آپ کے حسب مرضی ہوگا‘‘۔ کچھ دیر ماحول پر سکوت رہا پھر میر عالم نے خاموشی
توڑتے ہوئے کہا۔
’’نواب صاحب! ہم بھی آپ کی جگہ ہوتے تو یہی سب سوچتے اور شاید یہی کچھ کہتے بھی لیکن ہمارے خیال میں مسائل کو حل کرنا عقل کا جوہر بھی ہے اور پا مردی بھی۔ موت مسائل کا حل نہیں ہے۔ مسائل سے تو زندگی کے ہر قدم پر سامنا ہے۔ موت تو ایک ہی بار اختیار کی جاسکتی ہے لیکن اس کے بعد پیدا ہونے والے مسائل پسماندگان کی زندگی کو جہنم بنا سکتے ہیں۔ ان کی پیشانی پر یہ داغ! کیا یہی ایک سوغات اپنی نسلوں کو ورثے میں چھوڑ جائیں گے؟‘‘ عقیل الدولہ گم سم سنتے رہے۔ پھر نہایت نحیف آواز میں کہا ’’تو کیا آپ کے پاس اس کا کوئی حل ہے؟‘‘ میر عالم نے جواب دیا ’’ابھی آپ نے کچھ دیر پہلے فرمایا، کِسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں۔ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج آپ منصف اور میں مدعی۔ بحیثیت منصف، آپ کا ہر فیصلہ میرے لئے قابل قبول ہوگا۔ نوعیت تو یہ ہے کہ ہم اپنے مذہب، اس کی اخلاقیات، اپنے ضمیر سے زیادہ معاشرے کے خود ساختہ اصولوں کے اسیر ہیں۔ جس معاشرے میں دوستیوں اور دشمنیوں کی اساس ذاتی مفادات، خود غرضی، حرص و ہوس، ملک گیری، انا پرستی، جنونِ قد آوری، عیب جوئی، غیبت، تنگ نظری، کینہ، کپٹ، چھل، مکر، فریب، ریا، جھوٹ، منافقت اور ان سب سے سواء حسد پر ہو اس معاشرہ اور حاسدوں کے خوف سے فرار آمادہ ہونا میری نظر میں کوئی دانائی نہیں ہے۔ رہی بات اس مسئلہ میں ریذیڈنٹ کے موقف کی تو اس نے اسلام قبول کرنے پر ازخود آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ یہ ایک شریفانہ بات ہے۔ اور اگر بات رنگ و نسل کی ہے تو آپ کی نظر میں پوری اسلامی تاریخ ہے کہ کون کہاں سے چلا اور کس سے کتنی قربت پائی۔ عرب اور عجم تو اصطلاحات ہیں ورنہ اسلام نے کسی کو کسی پر فوقیت نہیں دی۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں کچھ کینہ پرور اعصابی، نفسیاتی اور سادیت پسند مریض ہیں جو دشنام طرازی میں اس درجہ آگے بڑھ جاتے ہیں، مسلمان کو یہودی کہنے سے بھی باز نہیں آتے۔ یہ دراصل زندہ انسان نہیں چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔‘‘ میر عالم سانس لینے کے لئے رُکے، پھر کہا ’’میں کوئی مبلغ نہیں ہوں ، نہ کسی پر تنقید میرا مقصد ہے۔ خدا نخواستہ لڑکی نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی جس پر وہ خود شرمندہ ہو۔ آپ بتلائیے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک چودہ برس کی لڑکی کا رشتہ کسی پچاس برس کے ادھیڑ جہاندیدہ مرد سے کردیا جائے۔ ذرا تصور کیجئے کہ دو، پانچ برس کے بعد کچی مٹی کے بند بھلا منہ زور چڑھی ہوئی ندی کی تاب لاسکتے ہیں؟ شرافتوں کے بھرم کو باقی رکھنے کے لئے جذبات اور جبلت کا گلا گھونٹنا ہی مقدر ٹھہرا تو جی سے گزر جانا تو ایک وقت کا مرنا ٹھہرا۔ کوئی لمحہ لمحہ پگھلتی ہوئی شمع تو نہ ہوئی جسے اپنے انجام کی تو خبر ہے لیکن انتظار سحر میں ہر لمحہ پگھلنا اس کی تقدیر بن جائے۔ شاید یہ ہمارا جھوٹا بھرم ہے نواب صاحب، ایک لاش جو ہمارے جھوٹے بھرم بوجھ صدیوں سے اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائے پھرتی ہے۔ بس مجھے جو کہنا تھا سو کہہ چکا۔ اب فیصلہ آپ پر منحصر ہے۔‘‘ نواب عقیل الدولہ سرد پڑ گئے۔ کچھ دیر سوچتے رہے۔ پھر کہا ’’میر صاحب! آپ ہمارے عزیز ہیں، مونس و غمخوار بھی۔ آپ فرمائیے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ آپ کی صائب رائے یقیناًہمارے حق میں بہتر ہوگی۔‘‘ میر عالم نے کہا ’’میں عرض کئے دیتا ہوں، ویسے آپ خود صائب الرائے ہیں۔ آپ چاہیں تو اوروں سے بھی مشورہ کرلیں اور جو پسند فرمائیں تو علماء سے بھی دریافت کرلیں۔ ویسے مسئلہ صاف اور صریح ہے۔ کوئی کسی کو دائرۂ اسلام میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتا۔ ویسے یہ ایک پسندیدہ عمل ہوگا۔ رہی بات رشتے کی تو چونکہ صاحبزادی کے والد کا انتقال ہوچکا ہے، آپ اس کے سرپرست بھی ہیں اور ولی بھی۔ ان کی والدہ صاحبزادی کا عندیہ حاصل کرلیں گی تو مسئلہ صاف ہوجائے گا۔‘‘ عقیل الدولہ نے سر کو جنبش دی گویا ساری بات نہ صرف وہ سمجھ گئے ہوں بلکہ ان کے چہرے کا تناؤ ہٹ چکا تھا۔ میر عالم نے کہا اب مجھے اجازت عطا فرمائیں اور جب مناسب سمجھیں اپنے فیصلے سے آگاہ فرمادیجئے۔‘‘ یہ کہہ کر میر عالم اُٹھ کھڑے ہوئے۔ نواب عقیل الدولہ انہیں سواری تک رخصت کرنے آئے اور سلام کے بعد ہاتھ چوم کر انہیں رخصت کیا۔ دو تین دن بعد نواب عقیل الدولہ میر عالم کی دیوڑھی پر آئے۔ تواضع کے بعد میر عالم نے اشارہ کیا۔ ملازم تخلیہ کرگئے۔ عقیل الدولہ نے کہا ’’حضور والا! آپ کے تشریف لے جانے کے بعد ہم نے اس مسئلہ پر کافی غور کیا۔ ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے نہ صرف ہماری دلجوئی کی بلکہ زندگی کے ان رموز سے آشنا کیا جن پر روایات کے اتنے دبیز پردے پڑے تھے کہ ہماری نظر نہ جاسکی۔ ہم آپ سے ملتمس ہیں کہ آپ اپنی فراست اور دور رسی سے اس مسئلہ کو سلجھائیں۔ ہم اپنا سارا اختیار آپ کو سونپتے ہیں۔‘‘ میر عالم نے کہا ’’نواب صاحب آپ کا اور میرا خاندان الگ نہیں ہے۔ میں اس ذمہ داری کو نہ صرف قبول کرتا ہوں بلکہ خدا نخواستہ آئندہ کوئی ناگہانی پیش آئے تو اسے نمٹنا بھی میری ذمہ
ہے۔          شامل          میں          داری‘‘
دوسرے دن میر عالم ریذیڈنسی پہنچے۔ میر عالم کے چہرے کو فکرمند نہ دیکھ کر کرک پیٹرک کو اطمینان ہوا کہ جہاندیدہ اور تجربہ کار دیوان نے یقیناًمسئلہ کا کوئی حل تلاش کرلیا ہوگا۔ میر عالم شاید گفتگو میں پہل کرتے، لیکن کچھ تو بے تابئ عشق اور کچھ وحشتِ دل، کرک پیٹرک نے خود ہی پوچھا ’’کہئے میر صاحب، آپ نے ہمارے مسئلے میں کچھ کیا؟ ہم تو ہر پل آپ کے انتظار میں ہیں کہ شاید آپ کوئی نوید لے کر آئیں‘‘ میر عالم نے کہا ’’ریذیڈنٹ بہادر! مسئلہ پیچیدہ بھی ہے اور نازک بھی۔ ہمیں آپ کے، ریاست کے اور اپنے وقار کے ساتھ ساتھ اس لڑکی کے گھرانے کا وقار بھی عزیز ہے۔ بہر حال اگر آپ اپنی شرائط پر اٹل ہیں تو میں قاضی شہر سے کہوں کہ آپ اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں اور اگر یہ مرحلہ گزر جائے تو شاید کامیابی کچھ دور نہیں۔‘‘ کرک پیٹرک خوش ہوگیا۔ اس نے کہا ’’بخدا میر صاحب! ہم اس بات کے پابند ہیں کہ نہ صرف ہم اسلام قبول کریں گے بلکہ ہم سے جو نسل پیدا ہوگی وہ بھی اسی دین کی پیرو ہوگی۔ ہماری زندگی تک ہمارا یہ وعدہ ہے کہ ہم اس لڑکی کے سواء کسی اور سے شادی بھی نہیں کریں گے۔‘‘ کرک پیٹرک مقررہ تاریخ اور وقت پر میر عالم کے گھر پہنچا۔ قاضی شریعت پناہ، علماء کرام، نواب عقیل الدولہ اور قریبی امراء اور معززین کی مختصر سی محفل تھی۔ قاضی شریعت پناہ نے ایک تحریر میر عالم کو پیش کی۔ میر عالم نے پڑھ کر اسے ریذیڈنٹ کے حوالے کردیا۔ تحریر میں قبولیت اسلام کی ساری شرائط موجود تھیں۔ کرک پیٹرک نے بہ آواز بلند اس تحریر کو پڑھ کر بہ رضا و رغبت، بلا چبروا کراہ بحالت ہوش و حواس، بہ اختیارِ ذاتی اپنے قبولیت دین اسلام کا اقرار کیا اور مشرف بہ اسلام ہوگیا۔ محفل میں مبارک سلامت کا شور ہوا۔ سب نے کرک پیٹرک کو مبارک باد دی اور اس کے بعد ضیافت کا پرتکلف اہتمام ہوا۔ حیدرآباد میں سلسلہ جنبانی کے ضمن میں کئی طریقے رائج تھے۔ کبھی خاندانوں ہی میں لڑکیاں آنکھوں آنکھوں میں چن لی جاتی تھیں۔ کبھی لڑکی پیدائش کے ساتھ ہی خاندان میں منسوب ہوجاتی تھی اسے ٹھیکرے کا رشتہ کہا جاتا تھا۔ خال خال کبھی مشاطہ کی ضرورت پڑ جاتی تو وہ لڑکی کو حور شمائل اور لڑکے کو ہفت اقلیم کا مالک ثابت کرنے میں کوئی کسر نہ رکھ چھوڑتی اور دونوں طرف سے چاندی بٹورتی۔ لیکن پچھلے زمانے میں مطالبات کی فہرست کا کبھی کوئی رواج نہ رہا۔ بلکہ اسے انتہائی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ آج لڑکی کا انتخاب انسانی اقدار پر نہیں ہوتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس سے آمدنی کتنی ہوگی یا جہیز کے نام پر کیا کچھ سامان تعیش فراہم ہوجائے گا۔ اگر اس معیار پر لڑکی پوری نہ اُترے تو استخارہ کے منع آنے کے بہانے سارا الزام خدا کے سر رکھ دیا جاتا ہے۔ شاید کبھی میں نے اپنی کسی تحریر میں یہ لکھا تھا کہ ’’لوگ زندگی تو فرعون کی گزارتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عاقبت موسیٰ جیسی ہو‘‘ اس زمانے میں بن مانگے ہیرے موتی مل جاتے تھے۔ آج مانگے کی بھیک میں دھول بھی نہیں ملتی۔ باپ تعلیم تو دلوا دیتا ہے، اس کی مفلسی یہی کرسکتی ہے لیکن وہ جہیز فراہم نہیں کرسکتا۔ کمبخت آئینہ کی بھی مجبوری ہے کہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔ عمر تو بہتی ندی کی طرح گزری جائے ہے۔ آئینہ جب سر میں چاندی کی کوئی لکیر سی دکھلا دیتا ہے تو لڑکی کو بھی یہ خیال کہ میرے حصے میں ملاح کے راگ کا رس تو نہیں ہے شاید ڈوبتی ناؤ کی سسکیاں ہوں۔ تب جانے انجانے ویران صحراؤں میں بگولے رقص کرتے دکھائی دیں تو کوئی
نہیں۔          بھی          حیرت
شام ڈھل رہی تھی ابھی الھڑ رات نے اپنی کامدانی کی رِدا سر پر نہ ڈالی تھی کہ آگے آگے برطانوی گھڑ سوار دستہ، اس کے پیچھے چار گھوڑے والے چوکڑے، اس کے پیچھے قطار در قطار پالکیاں ، پہلو میں مشعل بردار جلوس عقیل الدولہ کی دیوڑھی میں داخل ہوا۔ ریذیڈنٹ کے معتمد نے جھک کر نواب صاحب کو تعظیم دی اور مودب ہوکر عرض کیا۔ ’’ریذیڈنٹ بہادر نے آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا ہے اور کہا ہے کہ تہذیب مانع ہے ورنہ وہ خود سلام کے لئے حاضر ہوتے۔ انہوں نے صاحبزادی سلمہا کے لئے سوغاتیں بھیجی ہیں آپ کی شرف قبولیت ان کے لئے باعث افتخار کا پیام دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ دیوان ریاست ان کی طرف سے وکیل ہیں۔ ان کا کہا ہوا ریذیڈنٹ بہادر کا کہا ہوا تسلیم کیا جائے گا۔ سر پوش خوان دالانوں میں سجا دیئے گئے۔ نواب عقیل الدولہ نے کہا ’’ریذیڈنٹ بہادر سے کہئے کہ حضرت میر عالم ہماری طرف سے بھی مختار ہیں۔ ان کے ارشاد کی تعمیل ہوگی۔ معتمد کے رخصت ہوجانے کے بعد جب خوان سے سر پوش ہٹائے گئے تو مرصع کشتیوں میں سانچے موتی کا ست لڑا، طوق، ٹھسی، گلوبند، زنجیر، یاقوت، زمرد، الماس سے مزین ماتھے کے جھومر،کانوں کے لئے مرصع آویزے، چاند بالیاں، ہیرے، یاقوت و زبرجد کے بازو بند، کلائیوں کے لئے پہنچیاں، نقشی کڑے، مرصع گوٹ، بیش بہا انگشتریاں، درمیان میں بیضوی الماس اور اطراف میں زرد جواہر کا کمر بند، مرصع زریں پازیب، اطلس،زربفت، کمخواب، ریشم کے متعدد ملبوس ان سب کے بیچ جالی کے سنہری قلمدان میں ایک رقعہ جس میں صرف یہ تحریر تھا ’’آپ کی فرزندی کا آرزومند۔ کرک پیٹرک۔ گر قبول اُقتد زہے عِزّ و شرف۔‘‘ دوسرے دن میر عالم اور ان کی بیگم زیب النساء نواب عقیل الدولہ کے گھر آئے۔ شرف النساء بیگم میر عالم سے لپٹ گئیں۔ خیر النساء جھکی جھکی نظروں سے بیگم صاحبہ کو تسلیم کے لئے آئی تو زیب النساء نے کہا جُگ جُگ جیو ہمیشہ صندل سے مانگ بھری رہے۔ دونوں خاندانوں میں مشاورت کے بعد شادی کی تاریخ طئے کردی گئی۔ میر عالم اور عقیل الدولہ نے کچھ مشترکہ فیصلے کئے اور سوغاتوں کے ساتھ کرک پیٹرک کو رشتہ کی منظوری کی اطلاع دیدی گئی۔ حیدرآباد کی شادی میں راجپوتانہ کی تہذیب کا بڑا دخل ہے چنانچہ لڑکی کو پانچ دن پہلے مائیوں(منجھے) بٹھلا دیا جاتا اور اسے زرد لباس پہنایا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پوشاکیں زرد، فرش زرد، پلنگ پوش زرد۔ لڑکیاں، بالیاں، ہمجولیاں سب دن بھر دلہن کے کمرے میں گھسی رہتیں۔ بات بات پر نقرئی ہنسی اور ڈھولک کی تھاپ پر آرزوؤں اور امنگوں کی لئے آسمان کو چھولیا کرتی۔ سب کی آنکھوں میں دھنک رنگ خواب۔ سانچق تو شوخ اور توبہ شکن ہوا کرتی تھی۔ دلہن کے لئے زیور اور ملبوسات کی سوغاتیں اور بانس کے خوبصورت چوکھٹوں پر فواکہات سے بنے ملیدے سے بھرے چاندی کے گھڑے۔ آگے آگے روشن چوکی اور شہنائی راگ مالکوس میں سہاگ کا سُر چھیڑے ہوئے۔ دونوں طرف مشعل برداروں کے ہاتھوں میں جلتی ہوئی مشعلیں۔ جب سانچق راستوں سے گزرتی تو کنواریاں، سہاگنیں، بلکہ بڑی بوڑھیاں تک دریچوں کے چلمن سے یہ نظارہ کیا کرتیں۔ کنواریاں تو آنکھوں میں خواب لئے کہ شاید کبھی کوئی خوابوں کا شہزادہ یہ سوغاتیں لئے ادھر بھی آنکلے اور سہاگنیں ماضی کی یادوں میں گم۔ دل دھڑکنے کے انداز الگ تھے لیکن دھڑکن سب کی تیز ہوجایا کرتی تھی۔ مہندی کی تقریب جسے حنا بندی بھی کہا جاتا ہے۔ بڑی شوخ اور توبہ شکن ہوا کرتی تھی۔ کنواری لڑکیاں اور دو چار سہاگنیں دولہا کو مہندی لگانے کے لئے دولہا کے گھر پہنچتے پہنچتے آسمان کے شامیانے پر ستاروں کی چادر تن جاتی تھی۔ دولہا کی چھوٹی سالی حنا بندی کی رسم انجام دیا کرتی تھی۔ دونوں کے درمیان ایک مہین پردہ لڑکیاں تھامے رکھتی تھیں گویا صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔ سانچق دراصل اسی مہین پردے کو کہتے ہیں۔ خیر النساء کی آنکھوں میں لمحہ لمحہ یہی خواب اترتے رہے۔ انتظار کی ساعتیں طویل بھی، خوش کن بھی۔ دل میں انجانی مسرت بھی ہلکی ہلکی کسک بھی۔ کبھی کبھی خوابوں میں یوں کھو جانا کہ دل دھڑکنا بھول جائے اور کبھی کبھی یوں دھڑک اٹھے جیسے ساجن کے قدموں کی چاپ سن لی ہو۔ انتظار کشیدہ آنکھیں تھک سی گئیں لیکن سانچق نہیں آئی۔ دراصل ریذیڈنسی میں ان رسومات کے لئے کوئی تھا بھی نہیں۔ کرک پیٹرک کے دوست اور یوروپین خواتین ان رسومات سے نا بلدتھیں۔ تحائف آئے فرنگنیں رسم دیکھتی رہیں اور خوش ہوتی رہیں ۔ انہیں پہلی مرتبہ ہندوستانی شادی کو تفصیلی دیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔ البتہ بارات بڑی دھوم دھام سے آئی۔ نوشہ سفید بروکیڈ کی اچکن سر پر راجپوتی شملہ، گلے میں بدّھی، چاندی اور سونے کے تار کے ساتھ موتیا اور گلاب میں گندھا ہوا سہرا۔ اونچا پورا قد، گورا چٹا رنگ، سجے ہوئے بلند ہاتھی پر سونا چڑھا ہودج اور اس پر نوشہ۔ ساتھ میں فوج کی بریگیڈ۔ نوشہ کی سواری جب عقیل الدولہ کی دیوڑھی پر پہنچی تو ادھر روشن چوکی جاگ اُٹھی اور ادھر بریگیڈ نے فوجی بینڈ پر سلامی کی دھن بجائی۔ میر عالم نے نوشہ اور باراتیوں کا استقبال کیا اور صدر دالان میں مسند تک خود بازو تھام کر نوشہ کو لے گئے۔ محفل آراستہ تھی۔ جاہ، دولہ، جنگ، امراء، روساء، معززین سب شریک تھے۔ سب کے چہرے پر مسرت عیاں تھی۔ صرف ارسطو جاہ کے ہونٹوں پر معنی خیز تبسم تھا۔ عقد کے بعد مبارک سلامت کا سلسلہ شروع ہوا۔ شعراء نے سہرا پیش کیا۔ نواب عقیل الدولہ نے 256 پکوان پر مشتمل ضیافت کا اہتمام کیا تھا۔ نشستوں میں بھی اہتمام یہ تھا کہ ہم جلیس اور ہم خیال احباب کی چوکیاں آراستہ کی گئی تھیں۔ وسیع صحن میں چوکور تخت پر طائفے محفل رقص و سرود سجائے ہوئے تھے۔ محفل میں ایک لہر ایک موج ایک مستی تھی۔ حسینہ شب کی زلفیں دراز ہوکر کمر سے نیچے آپہنچی تھیں کہ شہنائی نوازوں نے بابل سے رخصتی کا نغمہ کچھ یوں چھیڑا کہ نہ صرف اہلِ محفل کی آنکھ بھر آئی بلکہ شہنائی بھی رو پڑی۔ آنگن بچپن کی کھیلی ہوئی کو رخصت کر رہا تھا۔ ماں اپنے وجود کے حصے کو۔ دلہن کی ڈولی کو پہلے خاندان کے لڑکوں نے اٹھاکر دیوڑھی کے دروازے تک پہنچایا پھر کہار آگے بڑھے۔ دلہن تاروں کی چھاؤں میں رخصت ہوئی اور بھرپور چاندنی میں نہائی ہوئی ڈولی ریذیڈنسی کے رنگ محل پہنچ گئی۔ کنیزوں نے بڑی آہستگی کے ساتھ اتارا اور آہستہ آہستہ دلہن کو حجلہ عروسی میں پہنچاکر دونوں کنیزیں خوشبو اور جوہی دروازے کے
ہوگئیں۔          کھڑی          پاس
کرک پیٹرک ریشمی کرتے ، پاجامے میں ملبوس گلے میں سونے کی زنجیر ، سنہری بال، مخمور نگاہوں اور فاتحانہ انداز میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے حجلہ عروسی کے دروازے تک پہنچا تو دونوں کنیزیں کورنش کے لئے جھک گئیں۔ کرک پیٹرک نے اپنے گلے کی زنجیر مسکراتے ہوئے خوشبو کو بخش دی اور ایک انگوٹھی جوہی کی ہتھیلی میں رکھ دی۔ دونوں دروازے سے ہٹ گئیں۔ کرک پیٹرک کمرہ میں داخل ہوا۔ مسہری پھولوں سے سجی تھی۔ سیج تک پہنچنے تک کی راہ بھی پنکھڑیوں سے آراستہ تھی۔ پھولوں کی مہک چار سو پھیلی تھی۔ کرک پیٹرک جیسے ہی مسہری تک پہنچا خوشبو کے نرغے سے نکل کر ایک مانوس خوشبو اس کے وجود کو معطر کر گئی۔ وہی خوشبو جو پہلی بار آنچل کے چھو جانے سے اس کے وجود کو معطر کر گئی تھی۔ کرک پیٹرک مسہری پر بیٹھ گیا وہ روبرو تھی۔ گردن جھکی ہوئی گھونگھٹ میں چھپا ہوا چہرہ، حنائی ہاتھ چہرے کو ڈھک ہوئے۔ اس نے آہستہ سے کہا ’’خیرون‘‘ لیکن کوئی جنبش نہ ہوئی۔ اس نے اپنا ہاتھ اس کی کلائی پر رکھا۔ دلہن کسمسائی لیکن چہرے سے ہاتھ نہیں ہٹائے۔ کرک پیٹرک نے اپنے ہاتھوں سے اس کی نازک کلائیوں کو تھاما۔ چوڑیوں کی جلترنگ بج اُٹھی ۔ اس نے آہستہ سے اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹائے اور تھوڑی کو ہلکے سے تھام کر چہرے کو اٹھاکر روبرو کیا ہی تھا کہ دنگ ہوکر پیچھے ہٹ گیا۔ اور حیرت سے دیکھ کر کہا ’’تم؟‘‘ جاری ہے

  

***