علامہ اعجاز فرخ

داستانِ خیرالنسا ٔ۔ قسط ۔ 3
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
ا’’ہم یہ تو نہیں جانتے کہ اس کا نام کیا ہے۔ لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ ہم پچھلے دنوں نواب محمود علی خاں کے گھر جس ضیافت میں گئے تھے، وہ لڑکی شاید ان ہی کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے‘‘۔ کرک پیٹرک نے کہا۔ ’’اس گھرانے سے!‘‘میر عالم نے حیرت اور استعجاب سے پوچھا۔ ’’لیکن وہ تو نواب عقیل الدولہ کی ڈیوڑھی ہے، وہاں کون؟‘‘ میر عالم شش و پنج میں پڑ گئے۔ ان کے چہرے پر فکر اور تشویش صاف دکھائی دے رہی تھی۔ دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ پھر ریذیڈنٹ نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا ’’میر صاحب! ہم آپ کی تشویش کو سمجھ رہے ہیں۔ لیکن ہمارے پاس کوئی اور راستہ بھی نہیں ہے۔ کسی اور سے ہم یہ بات کہہ بھی نہیں سکتے۔ ہم نے آپ کو اپنا رفیق اور غم گسار جان کر آپ سے مدد چاہی اور ہمیں یقین ہے کہ آپ اس کا حل تلاش کر لیں گے‘‘۔ میر عالم نے کہا ’’ریذیڈنٹ بہادر ہم آپ کی دانائی کے معترف ہیں۔ آپ نے بغیر کسی خون خرابے کے ریاست حیدرآباد سے فرانسیسیوں کا قلع قمع کیا ساتھ ہی ہندوستانی روایات کو اپنا کر آپ نے نہ صرف مشرق و مغرب کے درمیان کی خلیج کو کم کیا ہے بلکہ رعایا کو اپنا گرویدہ بھی کیا ہے۔ لیکن ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ مشرق اپنی روایات کا پابند ہے وہ اپنی زمینی سرحدوں میں تو مغرب کو جگہ دے سکتا ہے لیکن تاحال اپنی روایات کی سرحدوں میں کسی کی مداخلت برداشت
نہیں کر پائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس اٹل حقیقت سے آپ کو بھی انکار نہیں ہوگا۔ دوسری طرف آپ نے ریاست حیدرآباد پر حملہ کرنے والوں کو ہر محاذ جنگ پر شکست دینے میں جو کردار ادا کیا ہے اس سے سرکار عالی، نظام ثانی کی نگاہوں میں آپ کی وقعت کا بھی آپ کو اندازہ ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اگر یہ قضیہ کھڑا ہوجائے تو اسے سنبھالنا کس قدر مشکل کام ہوگا۔ نہ صرف حیدرآباد کے امراء آپ کے خلاف ہوجائیں گے بلکہ معززین اور شرفاء بھی۔۔۔‘‘ یہ کہکر میر عالم رک گئے۔ ’’میر صاحب!‘‘ کرک پیٹرک نے نرمی سے کہا ’’ہم آپ سے کہہ چکے ہیں کہ اگر ہمارا مذہب حائل ہوتا ہے تو ہم اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہیں اور اگر ایسٹ انڈیا کمپنی کو اس پر اعتراض ہو تو بخدا ہم یہ عہدہ چھوڑ دیں گے اور اسے لے کر اپنے وطن چلے جائیں گے۔ ہمارے پاس بہت کچھ ہے۔ اتنا کچھ کہ ہم اور ہماری آئندہ نسل کو بھی شاید کسی سے کوئی ضرورت نہ پڑے۔ اس کے علاوہ بھی اگر کوئی اور شرط ہو تو آپ تامل نہ کریں۔ آپ جو ضمانت چاہیں مل جائے گی۔ بس ہمیں اس وقت آپ کی مدد چاہئے۔ ہم آپ کا یہ احسان زندگی بھر یاد رکھیں گے‘‘۔ میر عالم کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر کہا ’’اچھا، آپ ہمیں اجازت دیجئے، میں یہ پتہ کروں گا کہ وہ لڑکی کون ہے اور اگر کوئی راہ سوجھی تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا۔ لیکن یہ بھی عرض کئے دیتا ہوں کہ یہ مسئلہ بھڑوں کے چھتّے کو چھیڑنے سے کم نہیں۔ اگر میں کچھ نہ کر پایا تو آپ مجھے درگذر فرمائیں کہ اس نازک اور حساس مسئلہ کا حل میں تلاش نہ کرسکا۔‘‘ یہ کہہ کر میر عالم اُٹھ کھڑے ہوئے۔ کرک پیٹرک انہیں سواری تک رخصت کرنے آیا۔ رخصت ہوتے ہوئے اس نے کہا ’’میر صاحب! آپ کو اس بات پر تو یقین ہے نا کہ جوڑے آسمان پر بنائے جاتے ہیں۔ جو اگر مقدر میں ہے تو ٹلے گا نہیں۔ آپ اپنی سی کوشش تو کرلیجئے شاید تدبیر تقدیر ساز ہوجائے‘‘۔ میر عالم سیدھے اپنی ڈیوڑھی کو لوٹ گئے۔ ملاقاتی اور دفتر کا عملہ مسلیں لئے منتظر تھا۔ ملاقاتیوں سے سرسری گفتگو کے بعد انہوں نے پیشی کے معتمد سے کہہ دیا کہ مسلیں اور دفتری امور ملتوی کردیے جائیں اور محل سرا کی طرف روانہ ہوگئے۔ حاجب نے پردہ اُٹھاتے اُٹھاتے آواز دی ’’سرکار محل سرا میں تشریف لارہے ہیں‘‘۔ مغلانیاں، مامائیں، اصیلیں، لونڈیاں، باندیاں، قلما قنیاں جسولنیاں سب با ادب اپنے اپنے مقام پر با ادب سلام، مجرے، تسلیم، بندگی کے لئے ایستادہ ہوگئیں۔ ابھی صدر دالان تک پہنچے بھی نہ تھے کہ بیگم صاحبہ زیب النساء کو خبر ہوگئی۔ کنیز کو پاندان لانے کا اشارہ کرکے وہ اٹھ کھڑی ہوئیں کہ، الٰہی خیریہ آج دیوان جی کو ناوقت ہماری کیسے یاد آگئی۔ یا تو رات کے خاصہ کے لئے آنکھیں ترس جاتی تھیں اور آج سہ پہر ہی محل سراء میں تشریف لے آئے۔ میر عالم صدر دالان تک پہنچ چکے تھے۔ تخت پر گاؤ تکیہ سے پشت لگاکر بیٹھ گئے۔ بیگم صاحبہ پاس میں تخت پر بیٹھ گئیں۔ کنیز نے پاندان برابر میں رکھ دیا۔ شوہر کے چہرے کو دیکھا، تردد کی لکیریں چھپی نہ رہ سکیں۔ فوراً کہا ’’نصیب دشمنان خیر تو ہے؟ آج سرکار کی طبعیت پر گرانی سی لگتی ہے۔ سچ بتلائیے، آپ کو ہمارے سر کی قسم ہے۔ کیا دربار میں کوئی بات ہوگئی یا پھر کوئی ناگہاں مہم سر کرنی ہے۔ آپ تو فرنگی محل گئے تھے۔ کیا کوئی انہونی ہوگئی؟‘‘ میر عالم نے کہا آپ تو خواہ مخواہ پریشان ہوتی ہیں۔ اور خود ہی رائی کا پہاڑ بنالیتی ہیں‘‘۔ پھر مسکراکر کہا ’’کیا ہمارے لئے محل سراء میں آنے کا کوئی وقت مقرر کیا گیا ہے کہ ہم آپ سے صرف اسی وقت ملنے کے لئے آئیں۔ بس ہمارا جی چاہا کہ آج شام کی چائے آپ کے ہاتھ کی بنی ہو تو تھکن دور ہوجائے۔ اور یوں بھی آپ کو دیکھ لیا، لیجئے
ساری تھکن دور ہوگئی۔‘‘
بیگم صاحبہ نے کہا ’’زہے نصیب! کبھی وہ دن بھی تھے کہ حضور دوپہر میں خاصہ تناول فرمانے تشریف لاتے تھے اور ہماری بنائی ہوئی کسی چیز کو چکھ کر ہی ہماری طرف دزدیدہ نگاہوں سے دیکھ لیتے تھے تو لگتا تھا زندگی کی ساری خوشیاں اسی ایک دزدیدہ نظر نے دامن میں ڈال دی ہیں۔ اب تو حضور دیوان بہادر ہیں کبھی یہاں دعوت تو کبھی وہاں ضیافت۔ شام ڈھلے فانوس تو جل اُٹھتے ہیں نہ جانے کب حضور قدم رنجہ فرمائیں۔ لیکن یہی کیا کم ہے کہ ابھی شمعوں کی روشنی کچھ باقی رہ جاتی ہے کہ شبستاں کے چراغ آپ کی آمد کی وجہ سے زیادہ روشن روشن سے لگتے ہیں۔‘‘ کنیز اتنے میں چائے اور لوازمات سجا گئی۔ میر عالم نے بیگم صاحبہ سے کہا ’’دراصل ہم آپ سے ایک امر میں مدد چاہتے ہیں‘‘ بیگم صاحبہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ میر عالم نے ریذیڈنٹ سے ہونے والی ساری گفتگو سنا دی اور کہا کہ آپ اپنے طور پر عقیل الدولہ کی ڈیوڑھی میں پتہ لگوائیں کہ آخر وہ کون فتنہ ساماں ہے جس کی وجہ سے ساری ریاست کا وقار داؤ پر لگا ہے۔ بیگم صاحبہ نے کہا ’’وہ تو خیر میں آج ہی کل میں کرلوں گی لیکن یہ موا فرنگی تو جوتیوں سمیت آنکھوں میں گھسا آرہا ہے۔ آپ یہ بھی تو سوچئے کہ خاندان بھر میں تو کیا سارے شہر میں ناک کٹ جائے گی۔‘‘ میر عالم نے کہا یہی تو مجھے بھی تردد ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والا معاملہ ہے‘‘۔ بیگم صاحبہ نے کہا ’’آپ فکر مند نہ ہو میں ایک دو دن ہی میں اس ناس پیٹی کا کُھرا (نشانِ قدم) اٹھوالیتی ہوں کہ آخر وہ کونسی حور ہے کہ پری جس نے یہ آفت مچا رکھی ہے۔‘‘ دو روز بعد بیگم صاحبہ کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ دیکھ کر میر عالم سمجھ گئے کہ بیگم کی زنانہ ماہرِ سراغ رساں کُھرا اٹھا لائی ہے۔ انہوں نے بیگم صاحبہ سے کہا ’’لگتا ہے سراغ لگ گیا ہے‘‘ بیگم صاحبہ نے کہا ’’ہاں! وہ عقیل الدولہ کی نواسی ہے۔ شرف النساء کی بیٹی خیر النساء، چودھواں سال پورا ہوا ہے پندرھویں میں چل رہی ہے۔ اس کا رشتہ بھی طئے ہوچکا ہے لیکن شر ف النساء خود بھی اس رشتہ سے خوش نہیں ہیں۔ میری اطلاع کے مطابق یہ مسئلہ کوئی اکیلے فرنگی صاحب ہی کا نہیں بلکہ۔۔۔!‘‘ یہ کہہ کر بیگم صاحبہ خاموش ہوگئیں۔ میر عالم نے کہا ’’ہوں! آپ شرف النساء کو بلوائیے اور راست ان ہی سے سُن گُن لیں‘‘ بیگم صاحبہ تنک کر بولیں ’’اے لیجئے، وہ عیسائی ہم مسلمان، وہ فرنگی ، موا ذات کا نہ پات کا۔ خاک ڈالئے، آپ نے تو بڑی بڑی گتھیاں سلجھائی ہیں، کوئی ایسی ترکیب نکالئے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔‘‘ میر عالم نے کہا ’’آپ شرف النساء کو تو بلوائیے اور اپنے طور پر بات کرلیجئے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ کیا کیا جاسکتا ہے۔‘‘ زیب النساء کی کنیز خاص شرف النساء کے پاس گئی اور نیوتہ پہنچا آئی کہ بیگم صاحبہ نے کہا ہے کہ بہت دن ہوئے آپ قدم رنجہ نہ ہوئیں آپ کو دیکھنے کو بہت جی چاہتا ہے تکلف نہ ہو تو محل سراء کو عزت بخشیں بیگم صاحبہ منتظر ہیں۔ شرف النساء نے کنیز کو رخصت کرتے ہوئے کہا ’’بیگم صاحبہ سے ہماری طرف سے تسلیم کہنا اور کہنا کہ ہم بہت جلد آئیں گے۔ اور چاندی کے سکّے دیکر کہا کہ، بوا یہ اپنے پاندان کے لئے رکھو۔ کنیز نے جھک کر سلام کیا اور رخصت ہوگئی۔ دوسرے دن کہاروں نے پالکی ڈیوڑھی کے پردے کے قریب رکھی اور باہر ہوگئے۔ حاجب نے آواز دی۔ میر بخشی نواب عقیل الدولہ کی محل سراء سے سواریاں آئی ہیں۔ بیگم صاحبہ زیب النساء بیگم خود دالان کی سیڑھیوں تک استقبال کو آئیں۔ کنیز یں پیچھے پیچھے غرارہ کے پائینچے سنبھالے ہوئے ایک اور کنیز بیگم صاحبہ کا پاندان اٹھائے ہوئے صحن سے سلام لیتی ہوئیں سیڑھیوں تک پہنچیں۔ بیگم زیب النساء نے بڑھ کر گلے لگا لیا اور تخت تک لے آئیں۔ دوپہر کو کھانے کے بعد اپنے ہاتھ سے پان بناکر بیگم صاحبہ نے شرف النساء کو پیش کیا تو انہوں نے چٹ چٹ بلائیں لے کر کہا ’’خدا اس ڈیوڑھی کی شان و شوکت سلامت رکھے، عہدۂ دیوانی نسلوں میں جاری رہے اس شہرِ فیض بنیاد میں آباد رہئے شاد رہئے۔ دودھوں نہاؤ پوتوں پھلو‘‘ تو بیگم زیب النساء تسلیم کو جھک گئیں۔ پھر کہا ’’آپ برا نہ مانیں تو ایک بات کہوں‘‘شرف النساء نے کہا ’’ہاں ہاں کہئے، آپ میں اور مجھ میں کونسی غیریت ہے اور بھلا کوئی اپنوں کی بات کا برا بھی مانتا ہے۔‘‘ بیگم زیب النساء نے میر صاحب سے سنی پوری واردات کو مناسب کتربیونت کرکے شرف النساء کو سنادی۔ شرف النساء نے ساری بات نہایت تحمل سے سنی پھر کہا ’’اب آپ سے کیا چھپا ہے۔ خیر النساء کا رشتہ بھائی محمود علی خاں نے مجھ سے پوچھے بغیر طئے کردیا۔ لڑکے کی عمر 50 کے لگ بھگ ہوگی۔ اوپر سے پہلی بیوی کے بچّے بھی ہیں۔ آپ تو جانتی ہیں، میں خود یہ عذاب بھوگ چکی ہوں۔ ایسے میں جانے کب کیا ہوا۔ ریذیڈنٹ دیوڑھی کے سامنے سے گزرا کرتا ہے۔ چلمن کی ایک تیلی ٹوٹی ہوئی ہو تو کہانی اپنے سارے منظر کے ساتھ در آتی ہے۔ موتیا کا گجرا گلے کا ہار ہوجائے تو صرف اپنی خوشبو بدن میں نہیں چھوڑتا بلکہ بدن کی مہک بھی اپنے وجود میں سمیٹ لیتا ہے۔ ہوا تو رازدار بھی پیام رساں بھی اور پھر اپنے دودھ کی مہک مامتا سے کب چھپی رہتی ہے سو جھکی ہوئی پلکوں نے داستاں سنادی۔مامتا اندھی سہی، لیکن ماں کی آنکھ بیٹی کے آر پار دیکھ لیتی ہے۔ خیر النساء کے باپ تو گذر گئے اس کی تو ماں بھی میں ہوں اور باپ بھی۔ اتنا ضرور کہوں گی کہ ، موتی نے صدف سے باہر ہوکر اپنی آب و تاب نہیں کھوئی‘‘۔ اتنا کہہ کر وہ رو پڑیں۔ پھر سسکیوں ہی میں کہا ’’مجھے پاک پروردگار کے بعد آپ کے سر تاج میر صاحب پر بڑا بھروسہ ہے۔ وہ فریس اور درد مند ہیں، مجھے ان پر کامل بھروسہ ہے وہ صرف اپنا منشاء ظاہر کردیں۔ میں اپنے ہاتھ سے اسے زہر دیدوں گی اور لال جوڑے میں ڈولی میں نہ سہی ڈولے میں رخصت کردوں گی‘‘۔ زیب النساء بیگم نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور خود بھی روتے ہوئے کہا’’ یہ کیا بدشگونی کی باتیں کر رہی ہیں آپ؟ خدا نے چاہا تو لڑکی عروسی لباس میں ڈولی چڑھے گی۔ حرماں نصیب ہوں اس کے دشمن میں ، ان، سے کہوں گی کہ وہ نواب عقیل الدولہ سے بات کرکے کوئی راہ نکالیں۔ آپ خاطر جمع رکھئے خدا نے چاہا تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ شرف النساء کے رخصت ہونے کے بعد بیگم زیب النساء نے الماری سے عطر کی شیشی نکالی اور ذرا سی روئی ڈبوکر انگوٹھی کے نیچے رکھ لیا۔ اپنے ہاتھ سے پان کی گلوری بناکر مرصع ڈبیا میں رکھ کر، کنیز سے کہا کہ وہ دیوان خانے میں پان سرکار تک پہنچا دے۔ کنیز گئی، جھک کر میر عالم کی خدمت میں پان پیش کیا ہی تھا کہ میر عالم نے نظر اٹھاکر کنیز کو دیکھا۔ عطر کی خوشبو اپنی مہک سے سوا بیگم صاحبہ کی انگلیوں کی مہک بھی ساتھ لائی تھی۔ میر عالم بہادر نے بڑے بڑے معرکے سر کئے ہمیشہ دشمن کی فوج کے آگے سینہ سپر رہے لیکن دشمن کی فوج اور ہے بیگم کی ’’نوج‘‘ اور۔ سیدھے اٹھ کر محل سراء میں آئے تو بیگم صاحبہ بھی مہکتی ہوئی آن بیٹھیں۔ میر عالم نے کہا ’’فرمائیے! آج آپ نے ناوقت ہمیں یاد کیا تو بیگم نے ذرا سی لٹک کے کہا ’’اے لو! میں کوئی ملاقاتی ہوں جو وقت کا انتظار کروں۔ بھاڑ میں جائے آپ کی دیوانی، دیوان صاحب ہوں گے آپ سب کے لئے۔ میرے لئے تو سب کچھ آپ ہیں۔‘‘ میر عالم مسکرا اُٹھے۔ پھر بیگم صاحبہ نے کہا ’’وہ جو آپ پرسوں ریذیڈنٹ بہادر کی بات کر رہے تھے، آپ نے اس مسئلہ پر غور فرمایا؟‘‘ میر عالم نے کہا ’’مسئلہ تو ہم نے آپ کے حوالے کیا تھا، آپ نے کچھ کہا نہیں‘‘۔ ’’ہاں ہاں! میں کب انکاری ہوں‘‘ بیگم صاحبہ نے فرمایا ’’میں کہوں! آخر اس مسئلہ میں تردد کیا ہے۔ وہ ریذیڈنٹ ہے، پھر اسلام قبول کرنے کو تیار ہے، لڑکی کو عزت و احتشام کے ساتھ بیاہ لے جانا چاہتا ہے، محلوں میں رہے گی۔ راج کرے گی۔ آخر کو نو مسلم ہونا کوئی جرم تو نہیں ہے۔ اور سنئے، کون نو مسلم نہیں! کوئی پہلے تو کوئی بعد۔ آپ کی نظر میں اس بوڑھے کھوسٹ سے چودہ برس کی لڑکی کا کوئی جوڑ ہے؟ آخر کو لڑکی ہے کوئی گائے، بھینس نہیں کہ جس کھونٹے سے چاہا باندھ دیا۔ آپ نواب عقیل الدولہ کو سمجھائیں تو شاید وہ بات مان جائیں گے۔‘‘ میر عالم دنگ رہ گئے۔ پھر کہا ’’آپ! آپ یہ کہہ رہی ہیں۔ کل تو آپ کچھ اور کہہ رہی تھیں۔ آپ تو معاشرے کی ہمنوا تھیں اور اس فرنگی پرپھٹکار کر رہی تھیں اور آج!‘‘ بیگم صاحبہ نے کہا ’’کل کی بات اور تھی وہ تو ہم نے صرف آپ کی بات سنی تھی۔ آج ہم شرف النساء کے سارے حالات سے واقفیت کے بعد آپ سے کہہ رہے ہیں۔ وہ بے چاری خود سوتن کا عذاب جھیل گئی۔ پھر شوہر گذر گئے۔ بھلا اس یتیم لڑکی کو پھر اسی جہنم میں ڈھکیل دینا، یہ کہاں کا انصاف ہے۔ دیوان صاحب! صرف دربار ہی کے مسائل نہیں ہوتے، مسائل تو انسانوں کے ہوتے ہیں۔ بھلا بتلائیے، ذرا سی دیر میں آپ فوراً دفتر برخواست کرکے چلے آئے۔ ہم نے تو کچھ کہا نہیں تھا‘‘۔ میر عالم نے کہا ’’آپ نے کچھ کہا ہو نہ کہا ہو۔ لیکن پان کی ڈبیہ آپ کی انگلیوں کی مہک لے آئی تھی۔ یہ سوغات ہمارے سوا کس کا حصہ ہوسکتی تھی سو ہم چلے آئے‘‘۔ بیگم نے بڑی لگاوٹ سے میر عالم کے چہرے پر نظر کی اور اپنی نرم ہتھیلی میر عالم کے ہاتھ پر رکھ کر کہا ’’بس اب عقیل الدولہ سے بات کرلیجئے، سب ٹھیک ہوجائے گا‘‘۔ دوسرے دن میر عالم خود عقیل الدولہ سے ملاقات کے لئے گئے۔ عقیل الدولہ نے پذیرائی کرتے ہوئے کہا ’’آپ نے یاد کرلیا ہوتا، میں حاضر ہوجاتا۔ ویسے یہ غریب خانہ بھی آپ ہی کا ہے۔ میں تو صرف آپ کے زیر سایہ ہوں‘‘۔ میر عالم نے کہا ’’آج ہم آپ سے کچھ ضروری اور نجی بات کرنا چاہتے ہیں سو چلے آئے۔ پھر ٹھہر ٹھہر کر میر عالم نے ساری روداد سنادی اور کہا ’’اب آپ ارشاد فرمائیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں‘‘ عقیل الدولہ گنگ ہوگئے۔ بڑی دیر کے بعد سکوت توڑتے ہوئے کہا ’’نواب صاحب! آپ ہمارے لئے لائق صد احترام ہیں آپ نے فرمایا سو ہم نے سن لیا۔ ہم تو یہ بھی نہیں سوچ پا رہے ہیں کہ کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں۔ اگر کوئی دوسرا ہوتا تو بخدا۔۔۔‘‘ جاری ہے

  

***