داستانِ خیرالنسأ : قسط ۔ اول
بھاگ متی کے بعد سرزمین حیدرآباد کی ایک انوکھی داستان
علامہ اعجازفرخ – حیدرآباد ۔ دکن
موبائل : 09848080612 – ای میل :
نوٹ : شہرِ حیدرآباد ‘ جس کی بنیاد عشق پر رکھی گئی ہے۔جسے محبتوں نے پروان چڑھایا۔چاہتوں نے جس کی آبیاری کی۔جہاں بیسوں داستانِ محبت حینِ حیات ہیں۔ان ہی میں ایک داستانِ خیرالنسا بھی ہے جس کو عصر حاضر کے صاحبِ طرز انشا پردازحضرت علامہ اعجازفرخ نے حسین پیراے میں بیان کیا ہے۔جن کی نادرتشبیہات ‘خوب صورت استعارے‘ نفیس علامتیں اوران گنت تلمیحات نے ایک سماں باندھ دیا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ان چھوے اوران کہے لفظوں کو ہی روشن کیا ہے ۔یہی لفظ جب موقع و محل کی مناسبت سے جملوں میں ترتیب پاتے ہیں تو ان لفظوں کے جمال کی دوشیزگی نکھرآتی ہے۔ داستان خیرالنسا کے حوالے سے صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ ع ۔ ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا ۔ ۔ ۔ ۔ امید کہ احباب کو یہ داستان پسند آے گی ۔
تعمی                  کی                  ریزیڈنسی
جوں ہی ریزیڈنسی کی تعمیر کی اجازت مرحمت ہوئی، رود موسی کے شمال میں اس کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ حیدرآباد میں شاید یہ پہلی عمارت تھی، جس کی طرز تعمیر میں مغرب و مشرق کا امتزاج تھا۔ یہ درست ہے کہ مختلف تہذیبوں کے میل جول سے مشترکہ تہذیب نمو پاتی ہے، لیکن اس اندیشے سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا کہ کس تہذیب کا اثر زیادہ غالب ہوجاتا ہےاوراس کے نتیجے میں کونسی تہذیب کیا کھوتی اور کیا پاتی ہے۔ میرے خیال میں عمارتیں خود بھی قوت گویائی رکھتی ہیں، ان کی شان و شوکت، طرز آرائش، مکینوں کی طرز بودوباش اور ان سب سے سواء ان کی خوشیاں، غم، تبسم، آنسو، کردار کے ساتھ ساتھ وصال آسودہ لمحات اور تپش فراق کی نہ صرف یہ چشم دید گواہ ہوتی ہیں، بلکہ کبھی کبھی کسی کو رازداں پاکر دیواریں سرگوشیوں میں جب آپ بیتی سناتی ہیں، تب ان دیواروں کے دل کا بوجھ تو ہلکا ہو جاتا ہے، لیکن سننے والا ان کہانیوں کا بوجھ جو اس عمارت سے بھی گراں ہوتا ہے اپنے آپ میں سمیٹ کر منجمد سا ہو جاتا ہے کہ نہ کہا جائے ہے اور نہ سہا جائے ہے۔ وہ برطانوی جو
میں                  اس                  آئے،                  ہندوستان
دو شخصیتیں یاد رکھی جائیں گی، ایک پروفیسر جان گلکرائسٹ جس نے اردو سے والہانہ محبت کی، اسی کے دور میں فورٹ ولیم کالج میں میر تقی میرؔ کا پہلا دیوان ترتیب پایا۔ اس کی ادبی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ پروفیسر مغنی تبسم نے جب ڈاکٹریٹ کے لئے اپنے موضوع کا انتخاب کیا تو وہ ’’جان گلکرائسٹ کی ادبی خدمات‘‘ ہی تھا۔ لیکن ابھی ان کا مقالہ تکمیل کے مراحل کو پہنچا ہی چاہتا تھا کہ جامعہ عثمانیہ کے صدر شعبہ اردو نے اسے بدل کر ’’فانی بدایونی‘‘ پر تازہ مقالہ لکھنے کے لئے کہا۔ یہ کیوں ہوا؟ کس لئے ہوا؟ کس کے لئے ہوا؟ یہ ایک الگ داستان ہے۔ حیدرآباد اپنے دامن میں اتنی داستانوں کو سنبھالے ہوئے ہے کہ اس کے لئے ہزار ہزار راتوں کی داستان گوئی بھی شاید کم پڑجائے۔ دوسری شخصیت کرک پیٹرک کی ہے، جس کا قیام تو حیدرآباد میں صرف سات برس رہا، لیکن اس کا افسانوی کردار بھی کسی ہزار شیوہ داستان سے کم نہیں ہے۔ جب ریزیڈنسی کی تعمیر مکمل ہو چکی تو ایک بہت بڑے بحری جہاز میں اس کے لئے برطانیہ سے فرنیچر لایا گیا۔ یہ فرنیچر دراصل پرنس ریجنٹ کی رہائش CARLTON HOUSEکا تھا۔ وہ اس فرنیچر کو بدلنا چاہتے تھے سو ایسٹ انڈیا کمپنی نے اسے خریدلیا۔ خود ایسٹ انڈیا کمپنی شہزادہ والا شان کی خوشنودی چاہتی تھی، سو اسے منہ مانگی قیمت پر خریدا گیا۔ نظام جو ریزیڈنسی کے اخراجات کے ذمہ دار تھی، بالآخر یہ رقم ان کو ادا کرنی پڑی۔





کرک پیٹرک جب ریزیڈنسی کی پرشکوہ عمارت میں منتقل ہوا تو اس نے میر عالم کے توسط سے حیدرآباد کے امراء کے لئے ایک پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا۔ اس ضیافت میں امراء کے گھر کی بیگمات بھی مدعو تھیں، جن کا استقبال یوروپین خواتین نے کیا۔ امراء کے لئے ریزیڈنسی کا سبزہ زار سجا ہوا تھا، جب کہ خواتین کی میزبانی کے لئے خصوصی طورپر رنگ محل کو آراستہ کیا گیا تھا۔ اس پراثر تقریب کے نتیجے میں حیدرآباد کے امراء سے نہ صرف کرک پیٹرک کے روابط بڑھ گئے، بلکہ دعوتوں اور ضیافتوں کا سلسلہ کچھ یوں بڑھا کہ کبھی کسی رئیس کے گھر کوئی تقریب ہو جاتی اور ریزیڈنٹ بہادر شریک ہو جاتے تو صاحب خانہ افتخار محسوس کرتے۔ کسی ریزیڈنٹ کا دعوت نامہ خصوصی قاصد کے ذریعہ کسی امیر کے گھر پہنچ جاتا تو وہ بھی تفاخر محسوس کرتے۔ اس باہمی تال میل سے نظام کے دربار میں ریزیڈنٹ کا رسوخ بھی اتنا بڑھ گیا کہ میر نظام علی خاں نے کرک پیٹرک کو نواب حشمت جنگ کے خطاب سے سرفراز کیا اور اسی کے نام سے ریزیڈنسی کوٹھی کا متصلہ علاقہ حشمت گنج کہلاتا ہے۔ آخرِ اردی بہشت کی خوشگوار شام تھی، چمن نے بہار کے قدموں کی چاپ سن لی تھی اور منہ بند کلیاں شاخوں پر انتظار کی ساعتیں کاٹ رہی تھیں کہ کب نسیم سحری چٹکنے کی نوید جانفزا سناتی ہے۔ رنگ محل کی سیڑھیوں کی دونوں جانب بوگن ویلیا کے غنچوں سے کبھی بوجھل تو کبھی سبک خرام ہوا کے جھونکے سے جھوم جھوم جاتی۔ لیکن اس شام گرمی کچھ زیادہ ہی تھی، شگوفوں کے کھلنے کا موسم ہو تو گرمی محسوس بھی ہوتی ہے، کچھ فضاء کی گرمی تو کچھ بے چین کلیوں کے وجود کے اندر کی گرماہٹ اور یوں بھی چٹکنے کا موسم اور بہار کی گرمی کا ساتھ تو چولی دامن کا ہے۔ ابھی رات ڈھلی نہ تھی، کرک پیٹرک ایک محفل سے واپس ہوا۔ نیلے سرج کے سوٹ میں ملبوس، سفید بے داغ قمیص اور گہری نیلی ٹائی۔ سنہرے بال کچھ اڑے اڑے سے۔ فراخ پیشانی اور نیلگوں آنکھیں۔ کچھ شام کا نشہ، کچھ محفل کا خمار۔ قدموں میں لڑکھڑاہٹ تو نہ تھی، لیکن بے پرواہی ضرور تھی۔ سرخ بجری پر چلتے ہوئے جب وہ سبزہ زار کے پہلو سے گزر رہا تھا تو اسے لگا جیسے اسے دیکھ کر کوئی پیڑ کی اوٹ میں چھپ گیا ہو۔ اس نے رک کر آواز دی ’’کون؟‘‘۔ کوئی سامنے تو نہیں آیا، لیکن حس کہہ رہی تھی کہ کوئی ہے ضرور۔ وہ رخ بدل کر پیڑ کی طرف بڑھا اور رک گیا۔ اسے پیڑ کے پیچھے لہراتا ہوا آنچل سا دکھائی دیا۔ کرکپیٹرک کو خیال ہوا کہ شاید یہ اس کا وہم ہے یا خمار کا اثر ہے۔ اس نے آہستہ آہستہ قدموں سے فاصلہ طے کیا اور جب قریب پہنچا تو دیکھا ایک دراز قد لڑکی سر کو آنچل سے ڈھانکے سر جھکائے خاموش کھڑی ہے۔ ’’کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘ کرک پیٹرک نے پوچھا۔ وہ اسی طرح سر جھکائے کھڑی رہی۔ سفید قمیص اور غرارے میں ملبوس، سر پر مہین جالی کا دوپٹہ، روشن پیشانی، ابروئے خمدار، حیا سے بوجھل پلکیں، رنگت جیسے کسی نے کچے دودھ میں سیندور گھول دیا ہو، عارض پر شفق کی ہلکی سی لالی، پنکھڑیوں جیسے ہونٹ، گویا کلیوں نے کم کم کھلنا ان ہی سے سیکھا ہو۔ صراحی دار گردن، سڈول بازو، مخروطی انگلیاں، حنائی ہتایلی ں کہ کبھی اس ہتھیلی میں مصری کی ڈلی رکھ کر پوچھا جائے کہ کون میٹھی تو مقابل سانس لینا بھول جائے۔ آگے کو سینے پر پڑی گندھی ہوئی چوٹی جیسے خزانے پر سیاہ ناگن کا پہرہ۔ کرک پیٹرک نے آس پاس چاندنی کو دیکھا، یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ روشنی چاند کی ہے یا اس مہ جبین کی۔ وہ مبہوت کھڑا دیکھتا رہا۔ اس وقت تو ہوا بھی ساکت تھی کہ خاموشی کی شہنائی نے گویا سہاگ کے سر میں راگ مالکوس چھیڑ رکھا تھا۔ جب سحر ٹوٹا تو کرک پیٹرک نے اپنے پورے حواس جمع کرکے پوچھا ’’آپ! آپ کون ہیں؟ کیا نام ہے آپ کا؟ کہاں سے آئی ہیں؟‘‘۔ اس نے بیک وقت کئی سوال کردیئے۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم ابھرا، پھر بانسری کا ساتواں سر چھڑا ’’ہم! بس ہم ہیں، آپ کوئی بھی نام رکھ لیجئے‘‘۔ کرک پیٹرک نے سوچا شاید سوال غلط تھا، لیکن جواب بالکل صحیح ہے۔ حسن بس حسن ہوتا ہے، اس کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ نام تو بس ایک شناخت ہے، ایک پہچان، جس کی پہچان سب سے الگ ہو اس کا بھلا نام کیا ہوسکتا ہے۔ جس کے لئے ہر تشبیہ ہیچ ہو اس کا نام کیا ہو۔ ’’پھر بھی، پھربھی! آخر کون ہے یہ‘‘ وہ سوچتا رہ گیا اور وہ خراماں خراماں چلتے ہوئے اوجھل ہو گئی، جیسے چمیلی کی خوشبو کو اوس نے ڈھک لیا ہو۔ کرک پیٹرک لباس تبدیل کرکے مسہری پر لیٹ گیا۔ نیند اس وقت پلکوں کی مسہری پر اتر آتی ہے، جب حواس اس کے حوالے کردیئے جائیں۔ لیکن وہ تو جاتے جاتے حواس بھی ساتھ لے گئی تھی، سو نیند بھی روٹھ گئی۔ ابھی صبح نمودار نہیں ہوئی تھی، شب نے کامدانی کی ردا سر پر ڈال لی کہ کہیں آفتاب کو جھلک نہ دکھلائی دے کہ کرک پیٹرک برآمدے میں آبیٹھا۔ ابھی ہلکی ہلکی روشنی سی نمودار ہوئی ہی تھی کہ وہ اٹھا اور اسی پیڑ کے نیچے پہنچ گیا، جہاں کل وہ کھڑی تھی۔ اس نے سوچا شاید کوئی نشان، کوئی پتہ، کوئی سراغ سہی مل جائے، لیکن وہ ایک خواب کی طرح سے آئی اور پلک کھلتے ہی غائب ہو گئی۔ دن میں وہ دربار پہنچا۔ مسند سے لگی ہوئی زرنگار کرسیوں پر ارسطو جاہ اور میر عالم تشریف فرما تھے۔ انکے مقابل ریزیڈنٹ بہادر کرک پیٹرک اور پھر حسب مراتب امراء، رؤساء اور نوابین کی نشست تھی۔ منادی نے نظام کی آمد کی خبر دی۔ اہل دربار نے تعظیم دی اور آصف ثانی مسند پر رونق افروز ہوئے۔ انھوں نے میر عالم اور ارسطو جاہ سے مخاطب ہوکر دریافت کیا کہ امرائے پائیگاہ کو ان کی جاگیروں سے کتنی آمدنی ہوتی ہے؟۔ میر عالم نے عرض کیا ’’حضور 52 لاکھ سالانہ‘‘۔ ’’اور اس کے عوض؟‘‘ نظام علی خاں نے دریافت کیا۔ میر عالم نے کہا ’’حضور والا کا اقبال بلند ہو، اس کے عوض حضور کی حفاظت کے لئے جو فوج ملازم رکھی گئی ہے، ان کی یافت ادا کی جاتی ہے‘‘۔ نظام نے فرمایا ’’ہم برطانوی ریزیڈنٹ کو 15 ہزار سپاہیوں کی فوج مہیا کرنے کا عہد کرچکے ہیں، پھر 70 ہزار نفری؟ یہ بے قاعدہ فوج! اس کا مصرف!‘‘۔ میر عالم نے ریزیڈنٹ بہادر کی طرف دیکھا کہ شاید وہ ان کی تائید اور مدد کے لئے آگے بڑھ کر کچھ کہے گا، لیکن وہ تو یوں گم صم جیسے پتھر کا مجسمہ ہو، اس کی تو پلک بھی نہیں جھپک رہی تھی۔ دربار برخاست ہو گیا تو ریزیڈنٹ اپنی بگھی میں سوار ہوکر لوٹ گیا۔ شام سے کچھ پہلے ملازم نے خبر دی کی دیوان بہادر میر عالم تشریف لا رہے ہیں۔ کرک پیٹرک استقبالیہ کے کمرے میں پہنچا اور انھیں لئے دیوان خانہ میں آگیا۔ میر عالم نے اسے غور سے دیکھ کر کہا ’’نصیب دشمناں، آج آپ کی طبیعت ناساز سی لگتی ہے، خیر تو ہے؟۔ میں نے دربار میں دیکھا تو بے چین ہو اٹھا۔ آپ کے چہرے پر تفکر کی گہری لکیروں نے ہمیں بے چین کردیا۔ ہم تو فوراً ہی آیا چاہتے تھے، لیکن خیال ہوا کہ دربار کی تکان نے آپ کو کچھ اور مضمحل کردیا ہوگا۔ آپ آرام فرمالیں تو ہم حاضر ہوں۔ سو میں بغیر پیشگی اطلاع کے چلا آیا‘‘۔ کرک پیٹرک نے میر عالم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ’’میر صاحب! یقین جانئے، جب سے آپ ہم سے ملے ہیں ہمیں اپنے گھر سے دوری کا احساس نہ رہا۔ ہمیں تو ہمیشہ ہی یہ محسوس ہوا کہ ہم شاید اپنے ہی خاندان میں ہیں۔ آپ اسے ہماری صاف گوئی جانئے کہ برطانیہ میں تعلمھ اور آداب شہر نشینی تو ہے، لیکن وہ محبتیں جو ہم ہندوستان میں دیکھتے ہیں، یقین جانئے ہمیں اس بیش قیمت سرمایہ پر رشک آتا ہے۔ ویسے میری طبیعت ٹھیک ہے، بس ذرا سا رات کسلمند سی گزری، سو شاید کم خوابی کا اثر ہے۔ میں نے آج شام کی تمام مصروفیات کو منسوخ کردیا ہے۔ امید ہے گہری نیند کے بعد صبح تک طبیعت سنبھل جائے گی۔ آپ فکرمند نہ ہوں۔ آپ کی تشریف آوری اور خلوص کی وجہ سے میں یوں بھی خود کو بہتر محسوس کر رہا ہوں‘‘۔ میر عالم نے کہا ’’اگر طبیعت مکدر ہو تو چلئے، بندہ حاضرہے، کہیں تفریح کر آتے ہیں‘‘۔ کرک پیٹرک نے کھڑکی سے باہر اسی درخت کو دیکھا، پھر کہا ’’نہیں میر صاحب! بس آپ نے یہ زمین دلوادی۔ جانے وہ کونسی مبارک ساعت تھی کہ یہ کوٹھی یہاں بن گئی۔ اس کے معمار نے بھی جو نقشہ بنایا تھا، اسے دیکھ کر بھی میرے دل میں یہ خیال آیا تھا کہ کاش! یہ میرا گھر ہوتا۔ میں تو یہاں تعیناتی پر آیا ہوں، اگر کبھی میں نے گھر بنوایا تو وہ بالکل ایسا ہی ہوگا۔ ورنہ شاید یہ میرا آخری گھر ہے‘‘۔ یہ کہہ کر وہ پھر خیالوں میں کھو گیا۔ میر عالم حیرت زدہ رہ گئے، ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ ریزیڈنٹ کیا کہہ رہا ہے۔ وہ جس تشویش کے ساتھ یہاں آئے تھے، اس سے زیادہ تشویش کے ساتھ واپس
گئے۔                & لوٹ
کرک پیٹرک نے شام ہی سے اپنی کرسی لان پر ڈلوادی۔ ملازم چائے کی میز روبرو رکھ کر حکم کا منتظر دست بستہ کھڑا رہا۔ کرک پیٹرک نے دو کپ چائے لی اور ملازم سے کہہ دیا کہ اس میں چینی نہ شامل کی جائے۔ تلخی انتظار کشیدہ تلخی کو کاٹ دیتی ہے۔ اس نے کچھ تازگی محسوس کی تو ملازم کو اشارہ کیا کہ وہ برتن سمیٹ لے جائے اور ساتھ ہی حکم بھی دیا کہ جب تک آواز نہ دی جائے کوئی مخل نہ ہو۔ رات ڈھل گئی، مگر نہ کوئی چاپ، نہ سنچل، نہ کوئی آہٹ، نہ کوئی سایہ۔ ادھر وہ پیڑ جس کے تلے وہ کھڑی تھی اسے انتظار تھا، ادھر کرک پیٹرک نے اپنی آنکھیں انتظار میں طاق پر رکھ چھوڑی تھیں۔ صبح سے پہلے جب چڑیاں جاگ پڑیں اور بلبل خاموش ہو گئی تو کرک پیٹرک اداس اداس، بوجھل بوجھل، تھکا تھکا اپنی خوابگاہ میں میں روٹھی نیند کو منانے چلا آیا۔ لیکن نہ اس کروٹ چین نہ اس پل قرار تھا۔ دو دن گزر گئے۔ خبر پھیل گئی کہ ریزیڈنٹ بہادر کا مزاج ناساز ہے۔ ادھر سے شاہی طبیب میر عالم کے ساتھ آیا، ادھر کمپنی بہادر کے ڈاکٹر پہنچے، لیکن سوائے تھکن کے کوئی تشخیص نہ ہوسکی۔ اس نے آرام کا بہانہ کرکے سب کو رخصت کردیا۔ شام کو وہ روز کی طرح باہر بھی نہیں آیا، بس اپنے کمرے میں بند رہا، لیکن جب رات کے سائے دراز ہوئے تو اسے لگا شاید وہ آگئی۔ اس نے تیزی سے پیروں میں سلیپر پہنے باہر نکل پڑا۔ گویا اس کا دل کہہ رہا تھا وہ آگئی۔۔۔ اور وہ آگئی۔ اسی پیڑ کے نیچے، سر پر فیروزی آنچل، فیروزی ریشمی قمیص اور اسی رنگ کا اطلسی غرارہ۔ کلائیوں میں فیروزی چوڑیاں اور انگلی میں نیلم کی انگوٹھی۔ نظر جھکائے ہوئے اور بدن چرائے ہوئے۔ کرک پیٹرک بے تابانہ آگے بڑھا اور اس کے روبرو ہوکر کہا ’’تم آگئیں، تم وہی ہو نا!‘‘۔ پھر خود ہی کہنے لگا ’’ہاں! تم وہی ہو، وہی معصوم آنکھیں، وہی چہرے کا بھولپن، وہی سادگی، وہی آنکھوں پر حیا کی چلمن اور وہی خوشبوئے پیراہن‘‘۔ پھر کہا ’’مجھے دیکھو جبسے تم گئیں، اس دن سے میں نے پلک نہیں جھپکائی کہ شاید وہ کونسا لمحہ ہے جب تم آجاؤ اور مجھے نہ پاکر واپس لوٹ جاؤ‘‘۔ اس نے آہستہ آہستہ بوجھل پلکیں اٹھائیں۔ کرک پیٹرک نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ آنکھوں میں کھنچے سرخ ڈوروں نے ساری داستان سنادی کہ تمہاری آنکھیں اگر بے چین تھیں تو میری آنکھوں کو بھی کب قرار تھا۔ وصال کی ساعتیں تو لمحوں سے بھی مختصر ہوتی ہیں، بے رحم وقت تو یہ بھی نہیں کرتا کہ ان ساعتوں میں شب فراق کا کوئی ٹکڑا ہی جوڑ دے کہ ساعت وصال کچھ اور دراز ہو جائے۔ وہ چلنے لگی تو کرک پیٹرک نے کہا ’’ذرا سی دیر اور رک جاؤ‘‘۔ تو اس نے یوں عاجزی سے دیکھا، گویا ’’بس اب نہ مجھ کو روکنا‘‘۔ لیکن جاتے جاتے یہ ہوگیا کہ اس کے دوپٹے کا آنچل کرک پیٹرک کے ہاتھ کو جو چھوکر گزر گیا تو انگلی انگلی مہک اٹھی۔ چلتے چلتے کرک پیٹرک نے پوچھا ’’میں تم کو کہاں تلاش کروں، کہاں کہاں ڈھونڈوں، کچھ تو اپنا پتہ دیتی جاؤ‘‘۔ تو اس نے ایک ادائے دلبرانہ سے دیکھا اور چل پڑی۔ گویا کہہ گئی ہو ’’میرا پتہ! میرے ملبوس کی خوشبو، مرے قدموں کے نشاں‘‘۔ جاری ہے ۔ ۔ ۔

  

***