وہ قرض اُتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

ہندوستان کی تہذیب کو کوئی مخصوص رنگ نہیں دیا جاسکتا۔جس طرح دومختلف رنگ کے سیال آپس میں مل کر یک رنگ ہوجاتے ہیں،کچھ یہی کیفیت ہندوستان کی تہذیب کی بھی ہے۔موہنجوداڑ و کی کھدائیوں سے عصر حاضر تک مختلف تہذیبوں کا باہمی اختلاط آپ کی نظر میں ہے۔ہندوستان میں جب عرب آئے تو وہ اپنی تہذیب ساتھ لائے۔خاندان غلامان اور اپنا دور رہا، ترکی تہذیب نے بھی اپنے وقت میں اپنے اثرات چھوڑے، پھر مغلیہ دور حکومت میں مغل تہذیب نے اپنی رنگ آمیزی کی۔چنانچہ شمال سے راجستھان تک مغلیہ دور میں تہذیب اتنی باہم شیر و شکر ہوچکی تھی کہ اس گلدستہ ہمہ رنگ و بو کو ہندوستانی تہذیب کہا جانے لگا۔کچھ یہی حال لسانیات کا بھی ہے، مختلف زبانوں کے الفاظ اور ان کے قبیلے جب ایک دوسرے سے قریب تر ہوتے گئے تو اس باہمی میل جول کے نتیجے میں جب کسی لفظ کے گھرکی کنواری نے کسی سُر سے پیار کیا تو وہ مقامی تلفظ قرار پایا۔چنانچہ یہ بات بجا طور پر کہی جاسکتی ہے کہ کسی لغت کے مرتب ہوکر طباعتی مرحلہ سے گزر کر منظر عام پر آنے تک اس کے بعض الفاظ متروک قرار پاتے ہیں یا مرجاتے ہیں تو چند ایک سسکیاں بھی لیتے نظر آتے ہیں۔اتنی مدت میں جب لغت کا پاٹ وسیع ہوجاتا ہے اور کچھ نوزائدہ لفظ ابھی نہالچوں میں ہوں یا طفلی کی شوخیوں اور شرارتوں میں مصروف ہوں یا پھر کسی میلے میں کھلونوں کے لئے مچل رہے ہوں تو ان الفاظ کا ابھی لغت میں تذکرہ بھی نہیں ہوپاتا کہ یہ روز مرہ بلکہ ادب میں بھی اپنی جگہ پیدا کرلیتے ہیں۔اس دوران یہ عمل بھی جاری رہتا ہے کہ بعض لفظ زبان کی سبک روندی میں نہادھوکر اجلے ہوجائیں، لیکن ان کے معنی کی قبائیں بدل جائیں۔کبھی پیرہن بدلیں تو اتنے چست کہ بند قبا ٹوٹ جائے اور اگر رنگ کچے ہوں تو ساون کی پہلی برسات ہی میں گڈ مڈ ہوجائیں۔اسی طرح اُردو جب شمال سے دکن آئی تو اپنے ساتھ فصاحت کے کنگن،بلاغت کے بازو بند،طاقت کی چوڑیاں،معانی کاست لڑا،محاوروں کی انگشتریاں، تشبیہات کے سمرن،پہلیوں سے آویزے،استعاروں کے جھومر پہن کر دکن کی زمین پر یوں وارد ہوئی کہ ساون کا مہینہ تھا، مانجھی نے گوداوری کی ندیا کیا پار لگادی دوچار ساون کی بوندیں بدن پر برسی ہی تھیں کہ طبیعت ایسی لہرائی کہ داہنے ہاتھ سا گھا گھرا سنبھالے یوں شوخی سے جھومتی ہوئی پگڈنڈی پر چل پڑی کہ پایل ٹوٹ گئی۔گھنگھرو تھے بھی اصلی چاندی کے، جس کے ہاتھ لگے یوں باجے کے غزل کہلائے۔اُردو کے استاد پروفیسر مجاور حسین جنھیں ہزارو ں کتابوں کا آدمی کہوں تو کم ہے، فرماتے ہیں کہ”دوشیزہ تو یوں بھی آنکھوں میں کھب جاتی ہے،لیکن ذرا سی تُتلی ہو تو دل میں یوں اتر جاتی ہے جیسے تیر ترازو ہوا“۔سواُردو نے بانکی تلنگن کو دیکھ کر ڈوپٹہ سے اوڑھنی جو بدلی تو ”نوج‘چھوڑ‘اوئی‘ہاں‘چھوڑ‘ہو‘اور نہیں چھوڑ‘نکو‘پر اتر آئی اور یہ ملاحت نمک خوان تکلم ہوگئی۔حیدرآباد کی تہذیب میں اس کے علاوہ ایرانی تہذیب کی بھی آمیزش تھی، سواس کا چہرہ اور کندن ہوا۔ ڈاکٹر حسن الدین احمد صاحب کا تاثر ہے کہ میں دکن کا طرفدار اور شمال کے لئے جانبدار ہوں۔وہ بزرگ ہیں،جہاندیدہ ہیں،ان کی شفقتیں مجھے ادب آموز کرتی رہتی ہیں۔ان سے تو کہہ نہیں سکتا کہ”ہم سخن فہم ہیں،غالبؔ کے طرفدار نہیں۔“ آپ سے کہے دیتا ہوں ورنہ بزرگوں کے آگے لب کشائی کروں۔”یہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے۔“
حیدرآباد توقطب شاہوں کے دور ہی سے علوم و فنون کا قدر داں تھا۔آصفیہ دورحکومت میں بھی نہ صرف اس کی قدر دانی برقرار رہی، بلکہ اس میں اضافہ ہوا۔خصوصیت کے ساتھ افضل الدولہ کا دور اگر اس اضافہ میں آغاز کا دور کہا جائے تو محبوب علی پاشاہ کادور اس کی ترقی اور آصف سابع کا دور اس کے انتہائے عروج کا دور کہا جاسکتا ہے۔آصف سادس کی طفلی کے دور میں سالار جنگ اول نہ صرف امور سلطنت کے نگران تھے،بلکہ آصف سادس کی تربیت کی ذمہ داری بھی ان ہی کے ذمہ رہی۔چنانچہ۳۷۸۱ء میں ان کی نگاہ انتخاب مولوی سید حسین بلگرامی پر پڑی۔مولوی سید حسین بلگرامی ایک ممتاز سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے والد سید زین الدین حسین خان اور چچا سید اعظم الدین خان بہار میں تعلقدار اورناظم عدالت کے عہدوں پر فائز تھے۔سید حسین بلگرامی کے ولادت۲۴۸۱ء میں صاحب گنج(گیا) میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم انہوں نے وہیں حاصل کی،البتہ فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم کے بعد وہ انگریزی مدارس اور جامعات سے فارغالتحصیل ہوئے، جہاں وہ بی اے تک ہمیشہ درجہ اول میں امتیازی کامیابی حاصل کرتے رہے۔ان کی تعلیم کے دوران ہی ان کے ذوق لسانیات نے انھیں عربی،فارسی اور انگریزی میں وہ مہارت عطا کی تھی کہ وہ اہل زبان کی طرح ان کے قواعد،صرف ونحو، ضرب الامثال،محاورات پر نہ صرف کماحقہ عبور حاصل کرچکے تھے،بلکہ ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمے پر بھی انھیں بے پناہ قدرت حاصل تھی۔بامحاورہ مترجمین اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ باکمال مترجم اگر کسی زبان میں پڑھتا یا سنتا ہے تو سوچتا اس زبان میں ہے،جس میں ترجمہ مقصود ہو اور یہ عمل لاشعوری طور پر خود بخود انجام پاتا ہے، بشرطیکہ اسے نہ صرف دونوں زبانوں پر عبور رہے، بلکہ وہ کتاب کے مصنف،اس کے دور کی لغت، اصل کتاب کے بین السطور کی زیریں لہریا لب ولہجہ اور آہنگ سے اتنا قریب ہو کہ گویا: دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
سید حسین بلگرامی کی علمی استعداد کے اعتبار سے انہیں بڑی سی بڑی ملازمت مل سکتی تھی، لیکن انہوں نے اپنے ذوق علمی کی وجہ سے لکھنو ئ کے کیننگ کالج عربی تدریس کو ترجیح دی۔۳۷۸۱ء میں سالار جنگ اول کی ایماء پر وہ حیدرآباد آئے اور کامل دس برس تک وہ سالار جنگ اول کے شخصی معتمد کہلائے۔۵/فروری۴۸۸۱ء میں آصف سادس نے عنان حکومت خود سنبھالی اور حکومت کو صلاح و مشورہ دینے کے لئے کونسل تشکیل پائی،جس کے صدر نشین خود آصف جاہ سادس تھے، تب اس کونسل کے سکریٹری سید حسین بلگرامی مقرر ہوئے۔لیکن۹۸۸۱ میں وہ آصف سادس کے شخصی معتمد مقرر ہوئے۔ان کی خوش انتظامی اعلیٰ صلاحیتوں اور لیاقت علمی کی بناء پرانھیں کئی ذمہ داریاں سونپی گئیں،لیکن ان کی اپنی خواہش اور ایما پر انھیں ناظم تعلیمات کے عہدہ پر قائم وبرقرار رکھا گیا۔چنانچہ حیدرآباد میں باقاعدہ تعلیمی نظام،اس کی ترقی و ترویج، ان ہی کی رہین منت ہیں، جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔نواب میر محبوب علی خاں نے۰۲/ اپریل۴۸۸۱ء کو جشن نوروزکے موقع پر انھیں علی یار خاں موتمن جنگ کے خطاب سے سرفراز کیا اور تقریباً تین سال بعد۴۲/ مارچ۷۸۸۱ء کو جشن نوروز پر عماد الدولہ اور بموقع جشن سالگر ہ آصف سادس انھیں عماد الملک کا خطاب دیا گیا۔ جب نواب میر عثمان علی خاں بحیثیت آصف سابع تخت نشین ہوئے اور۱۱/ جولائی۲۱۹۱ء کو میر یوسف علی خاں سالار جنگ سوم کو مدارالمہام مقرر کیا تو ان کی نوجوانی کے پیش نظر نظام دکن نے اسی فرمان میں عماد الملک کو دو سال کے لئے امپریل لچسلیٹیو کونسل کارکن مقرر کیا اور پھر حکومت ہند نے یونیورسٹی کمیشن کارکن نامزد کیا۔۷۰۹۱ء میں وہ انڈین کونسل لندن کے رکن مقرر ہوئے۔عماد الملک ہندوستان کے پہلے مسلمان ہیں،جنھیں یہ رکنیت دی گئی۔اس کے علاوہ ان کی غیر معمولی تعلیمی خدمات کے پیش نظر انھیں ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگری عثمانیہ یونیورسٹی سے دی گئی،جو پہلی اعزازی ڈگری تھی۔ عماد الملک کے بے شمار کارناموں کے لئے کئی صفحات درکار ہیں۔ان کا علم، فضل،
کمال،ہنر،شیریں سخنی،ہمدردی،بے باکی،اصول پسندی،ہر طالب امداد کی مدد،بے نیازی، غرض کوئی جذبہ خیر ایسا نہیں تھا، جو ان میں موجود نہ ہو۔لوگ دُنیا سے گزر جاتے ہیں، گزرنے والوں کو شاید کوئی یاد بھی نہیں رکھتا،لیکن عوامی فلاح و بہبود،علمی تدریج کے لئے جو لوگ مستحکم کارنامے چھوڑ جاتے ہیں،ان کے نقوش ان کو زندہ اور باقی رکھتے ہیں۔چنانچہ دائرۃ المعارف،آصفیہ کتب خانہ جسے اب اسٹیٹ لائبریری کہتے ہیں اور نظام کالج عماد الملک کے زندہ کارناموں کی ٹھوس شکلہے۔دائرۃ المعارف میں عماد الملک نے دُنیا کے نایاب قلمی نسخوں کو زیو رطباعت سے آراستہ کیا۔ملا صدر الدین شیرازی کی مشہور عالم کتاب اسفار اربعہ کا مولانا مناظر احسن گیلانی سے ترجمہ کروایا لیکن اس کی دوجلدوں کی طباعت ہوسکی اورباقی دو جلدیں طباعت سے محروم ہوگئیں۔نظام کالج اور اسٹیٹ لائبریری تو پھر بھی آج باقی ہے، لیکن دائرۃ المعارف کاکوئی پرسان حال نہیں۔۴۲/ اگست۸۰۰۲ء کو عثمانیہ یونیورسٹی کے۰۹ سال مکمل ہورہے ہیں،اس کی تقریب کے لئے عثمانیہ یونیورسٹی صرف پندرہ ہزار روپئے خرچ کرنے کے موقف میں ہے اور حکومت آندھراپردیش کو اس عظمت رفتہ کے روشن نشان کی کوئی فکر نہیں۔تلنگانہ کے نام پر آج سیاست دانوں نے اپنی دوکانیں تو حوب چمکالیں،لیکن یہ یونیورسٹی بھی تو تلنگانہ ہی میں ہے، کوئی لندن میں نہیں ہے کہ اس سے تغافل برتا جائے۔
ڈاکٹر داؤد اشرف نے عماد الملک کے تعلق سے بہت ہی تفصیلی مضمون لکھا ہے، جو آرکائیوز کے ریکارڈ کی روشنی میں حقائق کو واضح کرتاہے۔ان کی یہ تلاش گھاس کے ڈھیر سے سوئی برآمد کرنے سے بڑھ کر ہے، لیکن یہ کام انہوں نے کسی مقناطیسی آلے سے نہیں کیا، بلکہ اپنی دیدہ وری سے انجا م دیا ہے۔انھوں نے ہر گوشہ پر اس احتیاط اور تفصیل سے جائزہ لیا ہے کہ مزید کوئی اس پر قلم فرسائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔مجھے جیسے نابینا سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی،مگر جذبہ شوق اور وارفتگی کہ میں نے بھی اسی گھاس کو اپنی انگلیوں سے بٹورا۔اتفاقاً سوئی میری انگلی میں چبھ گئی تو بوند بھر لہو کی پرواہ کئے بغیر میں نے یہ سوئی تھام لی۔شاید سوئی بھی نابینا اوردیدہ ور کا فرق جانتی ہے۔شاید ہی کسی فرد فریدکو اس بات کا علم ہوکہ آصف جاہ سادس نے عماد الملک کو میر عثمان علی خاں کے لئے اتالیق مقرر کیا تھا۔آصف سابع کی حکمرانی کے دوران جب مہاراجہ کشن پرشاد مدارالمہام تھے، عماد الملک نے ان کے نام ایک درخواست میں لکھا تھا کہ انہوں نے حکمرانِ وقت کے اتالیق کی حیثیت سے جو خدمت انجام دی تھی، اس کا کوئی معاوضہ انہوں نے نہیں حاصل کیا۔انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اس خدمت کے عوض واجبی ماہوار کی وہ سفارش فرمائیں گے اور مدت اتالیقی کے تعلق سے انہو ں نے تفصیلات بعد میں فراہم کرنے کا بھی ذکر کیا۔عماد الملک کے دوراتالیقی میں میر عثمان علی خاں کی لیاقت کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب انگریزی کی تعلیم کے لئے مسٹر ایجرٹن کا تقرر ہوا تو اس وقت میر عثمان علی خاں انگریزی میں کافی مہارت حاصل کرچکے تھے اور انگریزوں سے برطانوی لب ولہجہ میں شستہ انگریزی بولنے کے قابل ہوچکے تھے۔عربی اور فارسی میں ان کی علمی استعداد اس بلندی پر تھی کہ ایشیا کے عظیم عالم آقا سید علی شوستری کو انہوں نے ورطہئ حیرت میں ڈال دیا تھا۔عماد الملک کو تو مدت اتالیقی یاد نہ رہی، لیکن آصف سابع نے استاد کی مدت اتالیقی فراموش نہیں کیا۔اگرچہ کہ انہوں نے محکمہ فینانس کے سربراہ مسٹر گلانسی، فریدون جنگ اور سالار جنگ سے رائے طلب کی، جس پرگلانسی نے لکھا کہ اگر آصف سابع دیوانی ہی سے کچھ رقم ادا کرنا چاہتے ہیں تو یکمشت دس ہزار روپئے ادا کئے جاسکتے ہیں۔آصف سابع نے رائے طلب کرتے وقت مدت اتالیقی ساڑھے چھ سال متعین کی تھی۔چنانچہ فریدون جنگ اور سالار جنگ نے رائے پیش کی کہ اگر ماہوار دو سوروپے بھی واجبی قرار دی جائے تو یہ الاؤنس پندرہ ہزار سے تجاوز کرجاتا ہے۔چنانچہ یکمشت پندرہ ہزار روپئے ادا کئے جاسکتے ہیں۔چنانچہ نظام دکن نے گلائسی کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے۱۲/ صفر۱۳۲۱ھ بروز چہارشنبہ یہ فرمان جاری کیا۔ ”سالار جنگ بہادر
میرے اتالیقی الاؤنس کی نسبت عماد الملک بہادر کی درخواست کے متعلق تمہاری اور فریدون جنگ بہادر کی رائے معروضہ امروز مناسب ہے۔حسبہ عماد الملک بہادر کو یکمشت رقم پندرہ ہزار روپہ خزانہ عامرہ سے دلوادی جائے۔“ آج جب آپ مضمون پڑھ رہے یں تو پندرہ ہزار روپے کی معمولی رقم ہے، لیکن اس وقت آج کا موازنہ کیجئے تو یہ رقم لاکھوں میں پہنچ جاتی ہے۔اگرچہ کہ عماد الملک نے اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کی اہمیت جان کر اس کو لاقیمت کردیا۔اتنی مصروفیت کے بعد یہ توقع کم کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے تصنیف وتالیف میں کوئی گراں قدر انجام دیا ہو، لیکن ان کی انگریزی تصانیف میں:
اس کے علاوہ مسائل عماد الملک(اُردو مضامین،مقالات اور خطبات کا مجموعہ)اور ان سب سے اہم قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ ہے۔عماد الملک کو قرآن مجید کے انگریزی ترجمے کی بڑی خواہش تھی۔دوسال تک وہ یہ کام خاموشی سے انجام دیتے رہے۔انہوں نے خود اس بات کا اقرار کیا ہے کہ۲۱۹۱ء تک قرآن مجیدکے صرف تین ترجمے منظر پر آئے،جن میں کوئی صحیح ترجمہ نہیں تھا۔اس کے علاوہ یہ تراجم زبان و بیان، محاورات کے ساتھ ساتھ بہت ساری غلطیوں کے حامل تھے۔صرف راڈول کے ترجمے میں کسی حد تک عیب کم تھا،لیکن وہ بھی صحیح ترجمہ نہیں تھا۔اس کے علاوہ فرانسیسی میں ایک اور جرمن میں دو ترجمے شائع ہوئے۔وہ ترجمے کے ضمن میں اس بات کے قائل تھے کہ ترجمہ لفظ بہ لفظ اتنا شستہ و شائستہ ہو کہ ثقیل الفاظ کے علاوہ وہ یونانی اور لاطینی الفاظ سے بھی گریز ہونا چاہیئے۔جن کی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان زبانوں کے بعض لفظ کلیساؤں میں شب بسری کرچکے تھے اور وہ ترجمہئ قرآن کے لئے یوں بھی صرف نجیب الفاظ چاہتے تھے۔انہوں نے پہلے سورہئ فاتحہ اور سورہئ بقرہ کا ترجمہ انگلستان کے عربی زبان کے تین مشہور اور مسلم الثبوت اساتذہ کو بتلایا۔تینوں نے کھلے دل سے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس سے بہتر ترجمہ اب تک نہیں ہوسکا اور اس ترجمہ کو دیگر ترجموں پر فوقیت حاصل ہے۔اس ترجمہ کے تعلق سے حکیم عبدالقوی مدیر صدق جدید لکھنؤ نے مضمون لکھا ہے،جو۳/ جنوری۸۸۹۱ء کو سیاست میں شائع ہواتھا۔
اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے وہ صرف سورہ طٰہ تک بیس سورتوں کا ترجمہ کرسکے۔اس کی تقریباً ڈیڑھ سو کا پیاں بطور پروف چھوائی گئی تھیں،تاکہ ماہرین لسانیات سے ان کی رائے لی جائے اور حتی الامکان کسی غلطی کا احتمال نہ رہے۔مولانا عبدالماجد دریا بادی نے اس ترجمہ کے تعلق سے لکھا ہے کہ”صرف یہ ترجمہ انکے نام کی بقاء کے لئے کافی ہے“اس ترجمہ کی ایک کاپی ڈاکٹر حسن الدین احمد صاحب کے پاس موجود ہے اور بھی کہیں نہ کہیں دستیاب ہوجائے گی۔عماد الملک ان کے بیٹے مہدی یار جنگ اور پوتے جناب ہادی حسین بلگرامی نے حیدرآباد کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔ہادی بلگرامی کے صاحبزادوں محمدبلگرامی اور عقیل بلگرامی سے میں اپنے ماریشس کے دورہ میں مل چکا ہوں،لیکن میں ان کی صاحبزادی محترمہ طیبہ سنجر علی خان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے بڑی کاوش سے عماد الملک کا مخطوطہ سورہ فاتحہ کا ترجمہ فراہم کیا،جو تقریباً سو برس پہلے کا ہے۔اپنے وطن کی مٹی کسے عزیز نہیں ہوتی،لیکن ان بزرگواروں نے دکن کو سنوارا اور اسی مٹی کے ہورہے۔اس مٹی کے لئے انہوں نے جو کچھ کیا، اس کے لئے اس کے سواء کیا کہا جاسکتا ہے: مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے ان کے کارناموں کی وجہ سے ہم عماد الملک کے قرضدار ہیں اور رہیں گے۔

وہ قرض اُتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے