حرف سادہ کو عنایت کرے اعجاز کا رنگ

ناصر بغدادی کے تعلق سے لکھتے ہوئے یہ بات یاد آئی کہ الف لیلوی شہر بغداد میں الف لیلوی شہزادے نے کتنی صعوبتیں اٹھائیں اور کیسی کیسی بیش بہار احتیں بھی میسر آئیں۔ بھلا تصور کیجئے۔ پیر دانا سے ملاقات ہوئی۔ ہیرے جواہرات ملے۔ خزانوں سے بھرے محلوں میں چالیس دلربا شہزادیاں کوئی نوجوان کوئی الھڑ جوان کوئی بالکل ہی دھان پان کسی کی ناک میں نتھ کسی کی ناک میں تنکہ، کوئی بوٹا سا قد، کوئی سرو قد، کوئی سلونی، کوئی سانوری، کوئی زلف بردوش، کوئی زلف زیر کمر اور پھر ابوالحسن کی پاسداری۔ علی خواجہ کی اشرفی بھری ٹھلیا کو بد دیانت تاجر سے واپس دلوانے کی منصفانہ کاروائی۔ میرا مقصد الف لیلہ رقم کرنا مقصود نہیں بلکہ ناصر بغدادی کو جو الف لیلوی وراثت میسر آئی ہے۔ وہ دراصل اس داستان سے عصر حاضر کی تخیلی اور تخلیقی مسافت کا سفر ہے جو روشنی کی سمت ہے۔
ناصر بغدادی نام سے بغداد نثراد اور ولادت کے اعتبار سے حیدرآبادی ہیں۔ ان کے بزرگ جو عراق سے تعلق رکھتے تھے بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں نظام کی دعوت پر حیدرآباد تشریف لائے تھے۔ ناصر بغدادی کے والد ایک عرصہ تک مکہ مسجد کے پیش امام رہے۔ خوش لحن بھی تھے۔ قرأت میں گداز بھی بے حد۔ حال تک بھی ان کا تذکرہ ہمارے بزرگوں سے سننے کو ملتا رہا۔ کچھ لو گ اب بھی پاے جائیں گے۔ جنہوں نے ان کے پیچھے نماز ادا کی ہے۔ ناصر بغدادی 15 فبروری 1943ء کو تولد ہوئے۔ خاندانی نام تو سید محمد ناصر ہے لیکن ادبی حلقوں میں ناصر بغدادی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ والد کا سایہ بچپن ہی میں سر سے اٹھ چکا تھا لیکن ان کی والدہ نے بہت محنت اور محبت سے ناصر بغدادی کی پرورش کی۔ یہ خاندان تقسیم ملک کے بعد پاکستان منتقل ہوگیا اور میٹرک کے بعد ناصر بغدادی نے اسلامیہ کالج میں داخلہ لے لیا جہاں انہیں پروفیسر محمد حسن عسکری کی قربت نے تراش خراش کر کے ان کی فکر کو ایک نئی جہت سے روشناس کروایا۔ اگرچہ کہ ناصر بغدادی محمد حسن عسکری کی بعض افکار سے متاثر نہیں ہوئے بلکہ مختلف بھی رہے لیکن استاد کا اقدام اور ان کے اوصاف سے ناصر بغدادی کا مستفیض ہونا جاری رہا۔ ناصر بغدادی کے لئے یہ طئے کرنا مشکل ہے کہ بنیادی طور پر وہ اقتصادیات کے آدمی ہیں یا ادب کے اس لئے کہ معاشیات میں ایم اے کی ڈگری انہوں نے پہلے کراچی سے حاصل کی پھر لیک ہیڈ یونیورسٹی (کینیڈا) سے اور یونیورسٹی آف اوریگن (امریکہ) سے حاصل کیں۔ پھر میک گل یونیورسٹی (مانٹریال) سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کیا لیکن اس کے باوجود ان کا رشتہ ادب سے کبھی منقطع نہیں وہا۔ ناصر بغدادی کے لئے بلا خوف تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ ایک وسیع المطالعہ صاحب طرز اور منفرد اسلوب کے مصنف ہیں۔ جہاں ان کی نظر مغربی ادب پر بہت گہری ہے وہیں ان کی ذات میں مشرق کا کلاسیکی رچاؤ بھی ہے۔ اس لئے شاید ان کی طرز نگارش میں اکثر مشرق کی دلنوازی اور دلداری کا احساس ہوتا ہے تو کہیں کہیں مغرب کی ہلکی سی جھلک کی آمیزش بھی دکھائی دیتی ہے۔ اس تر
کیب وترتیب نے جہاں ان کے افسانوں کو ایک سحر آگیں کیفیت سے سرشار کیا ہے و ہیں ان کا قلم سماج کے ناسور پر جراحت جاں کے نشتر سے بھی نہیں چوکتا۔ ناصر بغدادی کوئی بسیار نویس نہیں ہیں بلکہ ان کی کہانیاں فرد اور معاشرے کے درمیان قائم ہونے والے مادی رشتوں کے ساتھ تہذیبی اکائی، شناخت اور پہچان سے متعلق ایسے جذباتی اور نفسیاتی سوال بھی اٹھاتی ہیں کہ معروضی سچائی عمل اور ردعمل کے حوالے سے اظہار پاتی ہے۔ شاید اسی لئے ان کی رجائیت خیالی رومانیت اور تصوراتی سنگیت کے بجائے حقیقت کی کوکھ سے کونپل بنتی ہے تب ان کی امید و خود اعتمادی کے شجر کے برگ و بار بنتے ہیں۔
غالب نے توقید حیات کا ذکر کر کے موت میں آزادی کا تصور پیش کردیا اور ایمرسن نے تو غالب سے بہت پہلے Say no man happy untill he dies کہہ کر یہ بات ثابت کردی کہ صدیوں کے فاصلے اور بعدالمشرقین کے باوجود ذہانت کی ترسیم اپنی بلندی پر پہنچ کر ہم آغوش ہو جاتی ہے لیکن ناصر بغدادی کے فن میں قید کا تصور نہ صرف بہت وسیع ہے بلکہ تہہ بہ تہ یہ تصور قبر اور کفن کی قید۔ کمرے کی قید، سرحدوں کی قید، زمان و مکان کی قید کے ایک لامتناہی سلسلے کو اس حد تک دراز کرتی ہے کہ جہاں غم کی قید آزادی کی تلاش میں بے سرحد غم کی فضاء میں تحلیل ہوجائے اور پھر بھی اس کے غم کی خواہش وسعت طلب ہو۔ ناصر بغدادی نے اپنے فن میں کسی کی ذہنی غلامی قبول نہیں کی اس لئے ادب میں انہیں گہرا رسوخ ہے لیکن وزیر آغا، مغنی تبسم، یوسف عارفی، حمیدالماس، اقبال متین نے ان کی ادبی دیانت کے پیش نظر انہیں افسانے کے ایک نئے دبستان کا بانی قرار دیا جو ایک ادبی حقیقت بھی ہے۔ انہوں نے اپنے فن کی وساطت سے زندگی کی غیر دریافت حرکت اور حرارت کو دریافت کیا ہے۔ اقبال متین کے مطابق ناصر بغدادی کی تحریر کچھ اس طرح ملفوفہ لگتی ہے کہ جو ہے وہ پڑھی نہ جائے اور جو نہیں ہے وہ پڑھی جائے۔ زندگی جب طبق در طبق ناصر بغدادی کے سامنے پرت پرتلٹتی ہے تو وہ مبہوت ہوجاتا ہے۔ کبھی ہونے اور نہ ہونے کے درمیان، کبھی ذات اور کائنات کے درمیان۔ کبھی ماضی و حال کے درمیان کبھی جنوں و خرد کے درمیان کبھی قاری کی آنکھ پر پٹی باندھ کر اور کبھی پٹی کھول کر کہانی میں شامل کرلیتے ہیں۔ ناصر کا کمال یہ ہے کہ وہ لمحاتی گریز پا کیفیت کو احساس کی گرفت میں رکھ کر کہانی کو صاف بچالے جاتے ہیں اور کہانی قاری کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور قاری اس میں گم ہوجاتا ہے، جیسے الف لیلیٰ کی داستان جیسے طلسم ہو شربا کا طلسم۔

حرف سادہ کو عنایت کرے اعجاز کا رنگ