موم کے شہر میں دھوپ

آپ نے تو سالار جنگ میوزیم دیکھا ہوگا، میں نے بھی کئی بار دیکھا ہے۔ جب میں اسکول میں تھا تب بھی میں میوزیم ضرور جاتا اور اس مخصوص گھڑی کے سامنے بنچ پر بیٹھ جاتا، جس میں ہر گھنٹہ ایک شخص دروازہ کھول کر باہر آتا اور مقررہ تعداد میں گھنٹے بجا کر چلا جاتا اور پھر دروازہ بند ہوجاتا۔ کم ازکم میں اسے جب تک دو مرتبہ گھنٹے بجاتے نہ دیکھ لیتا، وہاں سے نہ ٹلتا اور ساری شام یہ سوچتا کہ یہ کبھی گھنٹے بجانا کیوں نہیں بھولتا اور اسے کیسے معلوم ہوتا ہے کہ کتنے بجے اسے ہتھوڑے سے کتنے گھنٹے بجانا ہے۔ جب میں کالج میں آگیا، تب بھی میوزیم اکثر جاتا رہتا، لیکن اب میں کبھی اس گھنٹہ گھڑی کی طرف نہیں جاتا تھا، شاید اس لئے کہ مجھے ان گھنٹوں کا راز معلوم ہوچکا تھا۔ کئی مرتبہ میوزیم الگ الگ حصوں میں دیکھ کر میں شاید ایک مرتبہ پورا میوزیم دیکھ سکا۔ پھر میں سوچتا رہا کہ ایک شخص نے اپنی زندگی میں اتنے نواردات کیسے اکٹھے کئے اور کیوں اکٹھے کئے۔ تب مجھ پر یہ راز منکشف ہوا کہ تاج محل کی تعمیر صرف اسی وقت ممکن ہے، جب عشق بھی ہو،شہنشاہی بھی اور دولت بھی۔ اسی طرح سے سالار جنگ میوزیم کے لئے بھی بہ یک وقت دولت، ذوق اور نظر چاہےئے، اس میں سے کوئی بھی عنصر کم پڑجائے تو ان کی تکمیل ناممکن ہے، اسی لئے نہ کوئی دوسرا تاج محل بن سکا نہ سالار جنگ میوزیم جیسا کوئی دوسرا میوزیم تشکیل پاسکا۔ حکومت ہندوستان نے جب نظام کے جواہرات خرید لئے تو یہ سارے جواہرات عوامی ملکیت بن گئے۔ عوامی ملکیت کا مطلب تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ملک کا امیر ترین آدمی اور فاقہ کش، مفلوک الحال، ناداریہ سب کی ملکیت ہوتی ہے اور ان سب کا مالک کبھی سرکاری نل سے یا وہ بھی خشک پڑا ہوتو کسی بورویل سے پیٹ کی آگ بجھا کر سونے کی کوشش کرتا ہے، اس لئے کہ اس عظیم سرمایہ دار کو یہ نہیں معلوم کہ جب جلتی ہوئی بستیوں کی آگ فائربریگیڈ نہیں بجھا پاتے تو پیٹ کی آگ جس کی تپش سے سارا وجود راکھ کر ڈھیر بن جاتا ہے، اس کو دو گھونٹ پانی کیا بجھا پائے گا۔ سرمایہ داری اپنی جگہ پیٹ کی آگ اپنی جگہ۔ اور پھر ریاضی کا یہ کلیہ بھی درست ہے کہ دو اور آٹھ کا اوسط پانچ ہوتا ہے، تین اور سات کا اوسط پانچ ہوتا ہے، چار اور چھ کا اوسط پانچ ہوتا ہے تو اسی کلیے کی روشنی میں یہ بات بھی طے ہوجاتی ہے کہ عوامی ملکیت اور عوامی زندگی میں یہ ربط ضرور ہے کہ اگر کسی انسان کا ایک پیر برف پر ہو اور دوسرا آگ میں تو وہ اوسطاً آرام سے ہے۔ میں نے کبھی ہیرے جواہرات نہیں دیکھے تھے، پہلی مرتبہ سالار جنگ میوزیم میں اس کی نمائش کا اہتمام ہوا تو احساس ملکیت کا تفاخر کہیے یا اندرونی خواہش، میں بھی یہ نمائش دیکھنے کے لئے گیا، لیکن جواہرات کی قدر یا بادشاہ کو ہوتی ہے یا جوہری کو، مجھے تو لاڈبازار میں کانچ کی چوڑیوں کے بیچ لاک میں جڑے ہوئے کانچ کے نگینوں میں اور ان جواہرات میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔ ایک بڑا سا تراشیدہ ہیرا خوشنما اسٹینڈر پر رکھا تھا، معلوم ہوا کہ یہ جیکب ڈائمنڈ ہے۔ آصف جاہ سادس میر محبوب علی خاں اس کو اپنی میز پر پیپر ویٹ کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے۔ وہاں تو روشنی میں اس سے شعاعیں پھوٹتی دکھائی دے رہی تھیں، مگر معلوم نہیں حقیقت ہے کہ افسانہ، کہا جاتا ہے کہ گھپ اندھیرے میں بھی اگر یہ ہیرا رکھ دیا جائے تو اس کی روشنی بند کمرے میں پھیل جاتی ہے۔ میں نے سوچا بند کمرے میں تو مٹی کے تیل کا دیا بھی روشنی بکھیر دیتا ہے، اس دئیے کی روشنی میں چہرے بھی کتنے صاف شفاف اور معصوم دکھائی دیتے تھے، آج تو روشنیوں کا جنگل ہے، لیکن کوئی چہرہ صاف دکھائی نہیں دیتا، ہاں اگر اندھیرا ہو تو ہر چیز روشن دکھائی دیتی ہے، جیسے رات کی سیاہی، جیسے جیکب ڈائمنڈ کی روشنی۔
پتھروں کی دنیا سے میں نکلا تو رنگوں کی دنیا میں کھوسا گیا۔ دنیا کے نامور مصوروں کے شاہکار جیسے سب بہزاد و مانی کو مات دینے پر تلے ہوں۔ ان گنت رنگوں سے ان گنت ان کہی کہانیاں رنگوں کے حصار میں ایک تصویر ایسی تھی کہ ایک خوبصورت عورت کا مجسمہ تھا، عورت سر سے کمر تک مکمل زندگی کا ثبوت تھی اور کمر سے پیر کے ناخن تک پتھر کا مجسمہ اور مجسمہ ساز اس کے قدموں میں بکھرا بکھرا سا اپنے دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر یوں مطمئن سو گیا تھا کہ گویا اس نے اپنی منزل پالی۔ میری ہی طرح ایک اور شخص بھی اس تصویر کو بڑے انہماک سے دیکھ رہا تھا، اس کے چہرے پر سمندر کی گہرائی کا سکون اور طوفان کے بعد کی خاموشی اور اضطراب دونوں پایا جاتا تھا۔ بال بے ترتیب، آنکھیں جیسے برسوں سے نیند کو ترسی ہوں، کھلتا ہوا گندمی رنگ جو شاید کبھی سفید رہا ہوگا، چہرے کی ہرشکن میں صدی صدی کی داستان۔ مجھے یہ فیصلہ کرنے میں دشواری ہو رہی تھی کہ کس تصویر کو دیکھوں اور کس کو پڑھوں کہ آرٹ گیلری کے انچارج نے مجھے اشارے سے قریب بلایا، شاید میری آنکھوں میں سوالات کی پرچھائیاں نظر آگئی تھیں۔ اس نے پوچھا آپ کیا جاننا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا میں تصویر اور اس شخص کو جو مبہوت تصویر کو تک رہا ہے، ان کو پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا تو اس نے بتلایا کہ تصویر کی کہانی تو بس یہ ہے کہ ایک سنگتراش نے اپنے تصور میں بسی آئیڈیل کا مجسمہ بنانا چاہا۔ جب وہ مجسمہ تراشنے لگا تو تراشنے میں اس کی ہتھیلیاں زخمی ہو جاتی تھیں، لیکن اس کو اس با ت کا ا حساس تھا کہ پتھر کو کتنے زخم آئے ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ پتھر کو مجسمہ بننے میں تخلیق کے اس کرب سے گزرنا ہی پڑتا ہے، پھر بھی وہ ہر تراشے ہوئے حصے کو اپنے دامن سے یوں صاف کرتا جیسے پتھر کے زخم پر مرہم رکھ رہا ہو۔ اس نے تصور کی مقیاس اور تخیل کے پرکار سے ہر قوس و خم تراشے اور جب ہر خط بدن سے گزر کر اس نے مجسمہ کو مکمل کر کے اپنی زخمی ہتھیلیوں سے چھو کر دیکھ لیا تو گویا اس کے اندر کے آدمی کے آئینے میں جو عکس تھا وہ مجسم ہوچکا تھا۔ اسی آرزو کی اس تکمیل کے بعد تھکن سے چور جب اس نے اپنے ہتھیار مجسمے کے قدموں کے قریب رکھ دئیے اور وہیں ہاتھ پر سررکھ کر آنکھیں موندلیں تو اسے یہ خواہش ہوئی کہ کاش اس مجسمہ میں زندگی کی حرارت بھی ہوتی۔ قدرت کو اس کی معصوم خواہش اچھی لگی اور اس مجسمے میں زندگی کے آثار شروع ہوئے۔ سرے کمر تک زندگی سے بھر پور پہلے سر سے چہرے تک، پھر گردن سے سینے تک، پھر سینے سے کمر تک۔ ابھی زندگی اپنی بھر پور حرارت اور رعنائی کے ساتھ یہاں تک پہنچی تھی کہ مجسمہ ساز زندگی کی سرحدوں کو پار کر کے پتھر ہوچکا تھا۔ وہ اپنی اس آرزو کی تکمیل کو ایک نظر بھر کر دیکھ بھی نہ پایا۔ مصور نے اس کہانی کو رنگوں میں لکھا ہے۔ رنگ تو رنگ ہے رنگ حنا بھی سرخ، خون جگر بھی سرخ، لیکن غور سے دیکھئے جہاں پتھر اور زندگی کی سرحدیں ملتی ہیں، اس رنگ کا لفظ احاطہ نہیں کرسکتے۔ وہ شخص جو تصویر کو تک رہا تھا، اب بھی وہیں کھڑا تھا۔ پلک جھپکے بغیر جب میں نے اس شخص کے تعلق سے پوچھا تو کیوریٹر نے آنکھیں جھکالیں اور دوسری طرف متوجہ ہوگیا اور پھروہ کسی اور شخص کو کسی دوسری تصویر اور رنگوں کی کہانی سنا رہا تھا۔ میں بوجھل قدموں سے گھر لوٹ گیا۔ حال ہی میں جب سالار جنگ میوزیم میں دوبارہ جواہرات کی نمائش ہوئی تو میں پھر میوزیم پہنچ گیا۔ حالانکہ بھوک لگے تو جواہرات سے پیٹ نہیں بھرا جاسکتا، مگر پھر بھی شاید ان میں کوئی انجانی کشش ہوتی ہے، ورنہ نادر شاہ درانی، محمد شاہ رنگیلے سے پگڑی کیوں بدلتا۔ گیا تو میں جواہرات دیکھنے کے لئے تھا۔ لیکن میرے قدم بے ساختہ آرٹ گیلری کی طرف اٹھ گئے۔ میری حیرت کی انتہاء نہ رہی جب میں نے دو سال پہلے کی طرح اب بھی اس شخص کو اسی تصویر کے سامنے اسی مقام پر کھڑے تصویر کو تکتے دیکھا، فرق صرف اتنا ہو گیا تھا کہ سر کے بالوں میں چاندی زیادہ جھانک رہی تھی۔ بے خواب آنکھوں کی پلکیں کچھ اور بوجھل ہوگئی تھیں۔ چہرے کا رنگ کچھ اور مدھم ہوگیا تھا اور شاید کندھے بھی کسی بوجھ سے جھکنے لگے تھے۔ میں دیر تک کھڑا اس شخص کو دیکھتا رہا، مگر کچھ پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اب میرا روز کا معمول ہوگیا تھا کہ آتے جاتے کسی وقت میں میوزیم کا ٹکٹ خرید کر کچھ دیر کے لئے آرٹ گیلری میں چلا جاتا اور اس شخص کو تصویر تکتا دیکھ کر واپس چلا آتا۔
دو تین دن میں کچھ مصروف ہوگیا میوزیم نہ جاسکا تو لگا جیسے میرے اندر کوئی چیز ٹوٹ گئی ہے، باربار میری نگاہوں میں اس کا چہرہ پھرتا رہا۔ دوسرے دن اپنی پہلی فرصت میں میوزیم پہنچ گیا اور آرٹ گیلری میں داخل ہوتے ہی جیسے ہی میری نظر اس شخص پر پڑی۔ میں نے ایک بھرپور سانس لی، جیسے سب کچھ ٹھیک ہے اور میں ہاری ہوئی بازی جیت گیا۔ اس دن میری خواہش ہوئی کہ اس شخص کے تعلق سے جاننا چاہئے۔ میں میوزیم کے باہر لان میں ایک ایسی جگہ بیٹھ گیا کہ اگر وہ نکل آئے تو میری نظر فوراً اس پر پڑجائے۔ جب میوزیم کا وقت ختم ہوا اور وہ باہر نکلا تو میں اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ جب وہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا تالا کھول رہا تھا، میں دبے پاؤں نظر بچا کر گزر جانا چاہتا تھا کہ اس نے بھاری مگر نرم لہجے کہا ’’ٹھہرو! جب یہاں تک آہی گئے ہو تو اندر آجاؤ۔‘‘ جانے اس آواز میں کیا کشش تھی کہ میرے قدم تھم گئے۔ حالانکہ جیکب ڈائمنڈ دیکھتے ہوئے بھی میرے قدم ایک لمحہ کو نہ رکے تھے۔ جب وہ دروازہ کھول چکا تو اس نے پھر مجھے اندر آنے کو کہا اور میں ایک سحر زدہ معمول کی طرح اس کے پیچھے پیچھے داخل ہوگیا۔ اوسط سائز کا کمرہ تھا، فرنیچر بھی اوسط لیکن اس سلیقہ سے سجایا گیا تھا کہ گویا ایک بھی چیز یہاں سے ہٹنے کے لئے نہ بنی ہو۔ کمرہ کی ایک دیوار پر ایک دیدہ زیب فریم میں ایک خوبصورت خاتون کی تصویر آویزاں تھی، اس کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سی میز تھی، جس پر کچھ موتیا کی کلیاں بکھری ہوئی تھیں۔ تصویر کو دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ میں نے اس خاتون کو کہیں دیکھا ہے اور قریب سے جانتا ہوں، لیکن کچھ سوچ نہیں پارہا تھا، کچھ کہہ نہیں پارہا تھا۔ حسن مکمل جب سامنے ہو تو چپ لگ جاتی ہے۔اس نے سکوت کو توڑتے ہوئے کہا کہ یہ میری بیوی کی تصویر ہے، یہ جب مجھے ملی تھی تو وینتا ودیالیہ کی ہزار دو ہزار لڑکیوں میں بھی اکیلی نظر آتی۔ خوب سفید سرخی مائل رنگ تھا، جیسے کچے دودھ میں سیندور گھلا ہوا ہو۔ کنارہ سی کھڑی ناک، بڑی بڑی آنکھیں اور کرنجی پتلیاں، پلکوں کی چلمن حیا سے جھکی ہوئی۔ قد قامت بدن سب موزوں سانچے میں ڈھلا کہ گمچی برابر کا فرق نہ ہو۔ سنہرے بال جھٹک کرکھلی دھوپ میں کھڑی ہو جاتی تو بدن سے روشنی پھوٹتی اور ادھ کھلی موتیا کی کلیوں کی مہک الگ۔ وہ تھی ہی کسی اور دنیا کی مخلوق۔ میں اپنی تنخواہ سے تھوڑے تھوڑے پیسے بچا کر کہتا کچھ روپے جمع ہوگئے ہیں، چلو تمہارے لئے کوئی چھوٹا موٹا زیور خریدلیں تو ہنس کر کہتی شام کو گھومنے جانا تو کسی زیور میں لدی پھندی خوبصورت لڑکی کو دیکھ آنا، تمہاری نظروں کی پیاس بجھ جائے گی۔ ویسے وہ کہتی بھی ٹھیک ہی تھی، اس کے حسن کے آگے تو سارے زیور ماند تھے۔ بندیا وندیا بالا والا جھومر وومر کیا چہرہ تیرا زیور جیسا تجھ کو زیور کیا
کبھی کپڑے خریدنے کے لئے ساتھ لے جاتا تو اپنے لئے ہلکے رنگ کی سوتی ساڑیاں خرید لیتی۔ میں کہتا کوئی اور اچھی ساڑی لے لو تو یہ کہہ کر مجھے لاجواب کردیتی کہ ان کپڑوں میں بری لگوں گی کیا؟ اور میں یہ سوچ کے رہ جاتا کہ وہ تو مجھے ہر رنگ میں اچھی لگتی تھی اور ہمیشہ نئی۔ کبھی میں پوچھتا تم کون ہو کوئی جل پری کہ کسی اور سیارے کی مخلوق تو ہنس کے کہتی اب جان کر کیا کروگے اب تو تمہاری ہوں۔ میں کہتا ’’تم کوئی جل پری ہو یا تمہارے اندر کوئی سنہری مچھلی ہے‘‘ تو وہ پوچھتی ’’تم کو گہرے پانی میں ڈوب کر جینا آتا ہے؟‘‘ میں کہتا’’ لوگ تو کنارے پر بھی ڈوب جاتے ہیں اور کچھ گہرے پانیوں میں بھی زندہ رہتے ہیں‘‘ تو وہ میرے سینے پر سر رکھ کر کہتی ’’گہرے سمندر میں آنکھیں بند کر کے تیرنا اور زندہ رہنا ہی زندگی کا راز ہے۔‘‘ کبھی کبھی لمحے دو لمحے کے لئے ڈولفن کی طرح ہوا میں اڑان بھری لیکن گہرے پانیوں کی بات کہاں اس میں ابدی زندگی ہے۔ روزانہ شام کو وہ میرے کپڑے اپنے ہاتھ سے استری پھیر کر کہتی کچھ دیر گھوم آؤ ہر مرد کولمبس ہوتا ہے ہر مرد سکندر، نئی زمین نہ دیکھ لے تو اندر سے بجھ جاتا ہے اور اپنے ہاتھ سے میری قمیص کے بٹن لگاتے لگاتے کسی بٹن کو ٹوٹنے کے قریب پاتی تو سوئی دھاگے سے پہنی ہوئی قمیص ہی پر بٹن ٹانک دیتی۔ اتنے برسوں میں کبھی سوئی مجھے نہیں چبھی، مگر اس کی انگلی میں چبھ جاتی اور میں انگلی تھام کر چوم لیتا تو کہتی ’’تم یوں ہی انگلی چوم لیتے، لیکن تم جانتے ہو کہ ذرا سی چبھن کے بعد انگلی کو چومنے کی لذت کچھ اور ہے۔ تم کو عورت کو خوش رکھنے کا فن آتا ہے۔‘‘ جب بچے تھوڑے بڑے ہو گئے تو کام پر جاتے ہوئے میری جیب میں پس انداز کئے ہوئے کچھ روپے ڈال دیتی اور کہتی ’’بچوں کے لئے کھلونے لیتے آنا۔ ان کو بچپن میں کھلونے نہیں ملیں گے تو یہ بڑے ہو کر انسانوں کو کھلونا سمجھ لیں گے۔ ہمارے بچوں کو انسان بننا ہے، سیاسی قائد نہیں۔ بچے بڑے ہوگئے شادیاں ہو گئیں۔ ایک دن میں اسے بازار لے گیا اور میں نے کہا ’’تم ہمیشہ اپنی مرضی سے اپنے کپڑے خریدتی ہو، آج میں اپنی مرضی سے خریدنا چاہتا ہوں‘‘ تو وہ پھر ہنس پڑی۔ میں نے کہا ’’رنگ تم پسند کرلو ساڑی میں پسند کروں گا‘‘ تو پہلی مرتبہ کہا’’ سفید رنگ سرخ بارڈر۔‘‘ میں نے سیلزمین سے کہا جو سب سے قیمتی ساڑی ہے نکال دو۔‘‘ اس نے کئی ساڑیاں سامنے رکھ دیں تو میں نے کھلتے ہوئے سرخ رنگ کا پلو اور بارڈر کی ساڑی پسند کی اور اس سے پوچھا ’’تمہیں پسند ہے نا؟‘‘ وہ پھر ہنس پڑی اور کہنے لگی‘‘ ہاں! سفید ابدی رنگ ہے لیکن عورت کے لئے سرخ کے ساتھ ہی کھلتا ہے۔ ‘‘جس شام اس نے وہ ساڑی پہنی اور بالوں میں موتیا کا گجرا اڑس لیا، مجھے لگا جیسے کچے دودھ میں کسی نے پھر سیندور گھول دیا ہے اور بڑی بڑی آنکھوں میں تاتاری ہرن جیسی کرنجی پتلیوں میں بجلیوں کا رقص ہے اور اس کے ہونٹ کانپ رہے ہیں اور ماتھے پر موتیوں کی طرح پسینے کی بوندیں ہیں۔ میں قریب پہنچا ہاتھ میں ہاتھ تھاما تو ہاتھ سرد ہو رہا تھا۔ میں نے گھبرا کر پوچھا ’’خیر تو ہے‘‘ تو ہنسنے لگی اور کہا’’ تم تو یونہی پریشان ہوجاتے ہو۔‘‘ پھر میری قمیص کی طرف دیکھ کر کہا’’ تمہارا بٹن ٹھیک کردوں ‘‘پھر سوئی دھاگا لیکر بٹن ٹانکتے ٹانکتے سسکی سی لی۔ میں نے دیکھا سوئی کی چبھن سے انگلی کی پور پر خون کی چھوٹی سی بوند ابھر آئی تھی۔ میں نے اسے سینے سے لگا کر جھک کر انگلی چوم لی تو اس نے دھیمے لہجے میں کہا ’’تم آخر وقت تک عورت کو خوش رکھنے کا فن جانتے ہو، گہرے پانیوں میں زندہ رہنا ہی زندگی ہے‘‘ اور یہ کہتے کہتے اس کی آواز ہمیشہ کے لئے بجھ گئی۔ بڑی دیرتک وہ خاموش رہا، پھر خود کلامی کے انداز میں کہنے لگا ’’میں جانتا ہوں میوزیم کی تصویر کی کہانی جھوٹی ہے، لیکن کبھی کبھی جھوٹ اچھا لگتا ہے۔ ‘‘میں چپ چاپ اس کے گھر سے نکل آیا، لیکن اب میں پابندی سے آرٹ گیلری میں جھانک لیا کرتا تھا اور اسے پاکر مجھے اطمینان ہوجاتا کہ وہ ٹھیک ہے۔ معمول کے مطابق ایک دن آرٹ گیلری پہنچا تو اسے نہ پاکر زمین میری پاؤں کے نیچے سے کھسک گئی۔ میں فوراً اس کے گھر پہنچا، باہر لوگ کھڑے تھے۔ میں مجمع کو چیرتا پھاڑتا اندر پہنچا تو میری نظر تصویر پر پڑی۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے اس میں زندگی لوٹ آئی ہو، لیکن جب میں نے تصویر کے نیچے میز پر دیکھا تو وہ اسی طرح اپنے ہاتھ پر سر رکھے ہوئے تھا، جیسے مجسمہ ساز۔ میں نے چھوکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ پتھر ہوچکا ہے، وہ پتھر جو موم تھا اور موم کے شہر کو دھوپ راس نہیں۔

موم کے شہر میں دھوپ