اے رے پیڑ تیرے کتنے پات

سچ بولنا پہلے بھی آسان نہ تھا ورنہ سقراط صرف اکیلا نہ ہوتا کہ جب اس کے ہاتھ میں زہر کا پیالہ تھما دیا گیا تھا تب بھی وہ بڑے صبر و تحمل کے ساتھ گھونٹ گھونٹ زہر پیتے ہوئے اپنے احباب اور شاگردوں سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہاتھا اور سچ بول بھی رہا تھا۔ جس زمین کی آبادی میں گھر برباد ہوئے اس زمین سے اپنے وجود کی توقیر میں اضافہ کرنے والے بھی کسی موقع پر مہر بہ لب ہوجاتے ہیں تو کم سے کم اتنا تو ہو کہ سچائی جب مخبروں میں گھر جائے تو علامتوں کے سپرد کردی جائے ورنہ جب تک نہنگ کے ہاتھوں میں تعویز دعا ہے سمندر کی تہہ میں صدفِ گہر بار کی بجائے کھوپڑیاں اور ڈھانچے ہی پائے جائیں گے۔ ابھی تو ہمارے بھی بزرگ سلامت ہیں جیسے ڈاکٹر حسن الدین احمد، نواب شاہ عالم خان، اورجناب سید تراب الھسن،آی۔اے۔ایس، اگر صرف نام ہی گنواتا رہوں تو سارا اصفحہ بھر جائے لیکن فہرست ادھوری رہ جائے، ان لوگوں نے حیدرآباد کی پرشکوہ تہذیب کو نہ صرف دیکھا ہے بلکہ یہ تہذیب ان میں آج بھی رچی بسی ہے۔ میں تو صرف ساٹھ،پینسٹھ برس پہلے کی بات کر رہا ہوں کہ جب ورنگل کا عمدہ سفید چاول سانبر ایک روپیہ کا دوسیر اور پچاس روپیہ کا پلہ (جو ایک سو بیس سیر ہوتا تھا) مرہٹواڑہ کا عمدہ بنسی گیہوں ایک روپیہ کا تین سیر۔ بیدر کا اصلی دوہری چوکڑی کا گھی روپیہ کا سیر بھر اور بکرے کا گوشت صبح بارہ آنے سیر اور دوپہر کے بعد بارہ گنذے یعنی آٹھ آنے سیر بکتا تھا۔ کرڑ کاتیل صرف اچار، بگھارے بیگن،ماہی خلیہ اور بگھار میں استعمال ہوتا، اگرچیکہ بناسپتی ڈالڈا بھی وجود میں آچکا تھا لیکن استعمال نہ ہونے کے برابر تھا۔ ایک تولہ سونے کی اشرفی 50 روپیہ میں اور چاندی دس آنے تولہ تھی۔ بھاجی ترکاری بیچنے والی تک نک چک سے درست تازہ سبزی کی طرح دھلی دھلائی ٹاٹ کے تھیلوں پر سبزیاں سجائے جب خریدار سے بھاؤ تاؤ کرتی تو خریدنے والے کی نظر کو تاڑ کر بھاؤ بتلاتی لیکن جب تولتی تو ترازو کے پلڑوں میں باٹ کا پلڑا اونچا ہوتا کہ جھکتا تول سستا مول اور اوھر سے ہری مرچ مسکرا کر تھیلی میں ڈال دیتی تو کوتمیر پودینے کی سوغات بھی ساتھ کردیتی۔ اور تو اور ناصرالدولہ کے دور کی پاڑ دن بھی آم اورسیتا پھل کے موسم میں چھکڑوں سے کھول کر شکر گٹھلی بیچتی تو دیتی چھ تھی اور گنتی پانچ تھی۔ میرے گھر سے قریب سہ پہر میں ایک سبزی بیچنے والی ساری سبزیاں سجائے اُس پر پانی کا چھینٹا دیدیتی تو گویا زمرد پر آب آجائے۔ کوئی پندرہ سولہ برس کا سن رہا ہوگا۔ سانولی سی تھی لیکن سورج ڈھلنے سے پہلے ہی سب کچھ بیچ کر ریزگاری ٹاٹ کی ایک پرت نیچے ڈال لیتی۔ شام ڈھلنے سے پہلے ایک لڑکا جو اس سے کچھ بڑا رہا ہوگا اس کے آگے آکر اُکڑوں بیٹھ جاتا، اس کو دیکھ کر اس کے چہرہ پر ڈوبتا ہوا سورج شفق بکھیر دیتا۔ منٹ دومنٹ میں نہ جانے کیا ہوتا وہ کچھ کہتا تو یہ شرما کر سرجھکا لیتی، یہ کچھ کہتی تو وہ ہنس پڑتا پھر ریزگاری پر جھپٹ کر مٹھی بھر ریزگاری لے کر بھاگ جاتا۔ جتنی دیر وہ دوڑتا ہوا مڑ مڑ کر پیچھے دیکھتا رہتا، یہ ہنستی رہتی۔ اسی کے سامنے ایک بزرگ شام کے وقتاپنے گھر کے چبوترے پر دری بچھائے بیٹھے رہتے اور تسبیح پھیرتے رہتے۔ ایک دن انہوں نے اس سے کہا کہ ”تو اس لڑکے کو چاہتی ہے۔ لیکن وہ ہر روز جھپٹ کر ریزگاری لے جاتا ہے۔ تو محنت کرتی ہے۔ گن کر تو دیا ہوتا“ تو بچی ہوئی ریزگاری کمر میں اڑس کر خالی تھیلے بانس کے ٹوکرے میں ڈال،سر پر اٹھا کر جاتے جاتے کہہ گئی“ میاں جس کو جی جان سے چاہا اسے گن کر کیا دینا“۔ میری عمر تو سات آٹھ برس کی تھی میں تو سمجھ نہ پایا، دو لمحوں کے لئے اس بزرگ نے آسمان کی طرف دیکھا پھر نہ جانے کیا سوجھی تسبیح چھوڑ کر جو گھر میں داخل ہوئے تو میں نے ان کو پھر کبھی چبوترے پر نہ دیکھا۔ گھروں کے اندر کی تہذیب ایسی کہ بزرگ گھر میں داخل ہونے سے پہلے دیوڑھی ہی میں اپنے مخصوص انداز میں کھنکار کر رک جاتے کہ گھر کی لڑکیاں بالیاں بہویں اپنے ڈوپٹے آنچل ٹھیک کر لیں اور سر ڈھانک لیں اور سب کے سلام لیتے ہوئے دعائیں نچھاور کرتے کرتے گھر میں داخل ہوتے۔ بچوں کے لئے کچھ نہ کچھ ساتھ میں ضرور ہوتا اور گھر بھر کے لئے موسم کا میوہ تو ہوتا ہی ہوتا۔ نواسے پوتے لڑکپن سے گزرکر مسیں بھیگنے کو آجاتے لیکن بیٹوں کی مجال نہ ہوتی کہ بوڑھے باپ سے اونچی آواز میں تو کجا آنکھ ملا کر بات کرلیں۔ بس وہ جو کہہ دیں وہی حرف آخر ہوتا۔میں غربت کا پالا مگر تہذیب کا پروردہ ہوں اور حیدرآباد کی تہذیب امیر غریب متوسط سب میں قدر مشترک تھی امراء کے دیوان خانے اگر ایرانی قالینوں سے مزین تو غریب کے گھر بوریے پر شطرنجی اور چہلواری کی سفیدچاندنی۔ وہاں بانات کے پردے تو یہاں ٹاٹ کا پردہ، وہاں ریشم پر زردوزی کی آب و تاب تو یہاں سوت پر کشیدہ کاری کی بوٹیویں کی بہار۔ مگر سب کے دل آنگن کی طرح کھلے اور سب کی منڈیروں پر شگون کے پرندے کہ دستر خوان آنگن کے جس گوشے میں جھٹکا جاتا وہاں پرندوں سے لے کر چیونٹیوں تک کو اپنا اپنا رزق مل جاتا۔ میرے گھر میں ایک بہت بڑی دقیانوسی الماری تھی اور تھی بھی شاید دقیانوس ہی کے زمانے کی، اوپر کے دو حصوں میں کچھ موٹی موٹی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ باقی حصوں میں کہیں پیتل کا چھوٹا سا سماور لیٹا ہوا کہیں یکے اور دیوارگیری، کسی کا حباب ٹوٹا ہوا تو کسی کی بتی غائب۔ ایک قلمدان جس کی دواتوں میں سوکھی روشنائی اور سیاہی کچھ پتی کے قلم اور کچھ پتلے بانس کے گول قلم۔ میری ماں مجھے کبھی اس الماری کے قریب بھی پھٹکنے نہ دیتی۔ گرمی کی ایک دوپہر میں جب میری ماں کی آنکھ جھپک گئی تو میں نے چپکے سے الماری کھولی اس میں شیشے کا ایک چھوٹا سا وزنی گولا سا رکھا تھا جو نیچے سے چپٹا تھا لیکن اندر سے رنگ جھلک رہے تھے۔ میں نے اسے ہاتھ میں لے کر زمین پر لٹو کی طرح گھمایا تو اس کے بکھرتے ہوئے رنگ مجھے اور اچھے لگے۔ نہیں معلوم کب میری ماں کی آنکھ کھل گئی، مجھے اس شیشے کے لٹو سے کھیلتے ہوئے دیکھا تو فوراً جھپٹ پڑی میرے ہاتھ سے لٹو چھین کر طمانچہ مار کر بری طرح برس پڑی پھر اسے الماری میں جوں کا توں رکھ کر مجھے بلک بلک کر روتا دیکھ سینے سے لگا کر خود رونے لگی۔ میری ماں بھی عجیب تھی مجھے کسی چیز کے لئے مچلتا دیکھتی تب بھی رو دیتی تھی۔ جب بہت غصے میں ہو تب بھی رو دیتی تھی۔ پھر رندہی ہوئی آواز میں مجھے سمجھانے لگی بیٹا یہ الماری تمہارے دادا کی ہے، اس میں انہوں نے جو چیزیں استعمال کی تھیں وہ رکھی ہیں تم جتنا اپنے ابو کو چاہتے ہو وہ بھی اپنے ابو کو اتنا ہی چاہتے ہیں، وہ نہیں رہے تو ان کی چیزوں کو سنبھال کر رکھا ہے کبھی کبھی اسے چھولیتے ہیں تو ان کو بہت سکون سا محسوس ہوتا ہے۔ جیسے تم اپنے ابو کے گلے میں جھول جاتے ہو تو تمہیں خوشی ہوتی ہے۔ اس دن سے پھر میں نے کبھی اس الماری کو نہیں چھیڑا۔ نہ جانے کیوں جب بھی اس کے سامنے سے گزرتا تو سرجھکا کے گزرتا جیسے کوئی اپنے بزرگ کے سامنے سے گزرتا ہے۔ جب میرا گھر بس گیا تو وہ الماری میرے گھر آگئی۔ کتابوں کو چھوڑ کر باقی چیزوں کو میں نے دودھیا لکڑی کے صندوق بنوا کر اس میں قرینے سے رکھ دیا اور جو کچھ کتابیں میرے پاس تھیں وہ میں نے اس الماری میں رکھ دئے۔ جب میرے بچے کھیلنے لگے تو میں دفتر جانے کے لئے بس کے بجائے پیدل چلا جاتا اور جو رقم مہینے بھر میں بچ جاتی اس میں کچھ روپیوں سے میں بچوں کے لئے کھلونے خریدلیتا۔ اور باقی رقم سے اتوار کو فٹ پاتھ پر بکنے والی پرانی کتابیں خریدلاتا۔ کبھی تنگ دستی ہوجاتی تو اتوار یونہی گزرنے والا ہوتا لیکن میری بیوی میرے چہرے کو ستا ہوا دیکھ کر پوچھتی ”آج باہر نہیں جاؤ گے کیا؟“ میں کہتا ”نہیں آج گھر پر ہی رہنا اچھا لگ رہا ہے“ وہ کہتی ”اٹھو تو سہی“ اور اپنے ہاتھ سے پریس کئے ہوئے کپڑے لے کر کھڑی ہوجاتی۔ میں لباس بدل لیتا تو دیکھتا کہ میری قمیض کی جیب میں اس نے کچھ روپئے جو گھر کے خرچ سے بچائے ہوئے ہوتے رکھ دئے ہیں“ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ میں خالی ہاتھ ہی لوٹ آتا تو وہ ہنستی ہوئی چھیڑتی ”لگتا ہے آج کوئی ملی نہیں“ میں تنگ کرتا ”ملی کیوں نہیں مگر کسی میں وہ بات کہاں جو تم میں ہے“ تو کنکھیوں سے میری طرف دیکھ کر کمرہ سے ایک دو کتابیں اور ایک سگریٹ کا پیکٹ اٹھالاتی اور کہتی کہ پچھلی کتابوں سے میں نے الگ کر لی تھیں، یہ سوچ کر کہ تم کو اس کے بغیر چین نہ آئے گا آخر کو میری سوتن ہے نا میرا تو ایک تن ہے اس کے سوتن ہیں پھر چائے کا کپ دے کر بیٹھ جاتی میں کتاب دیکھ رہا ہوتا تو ہاتھ سے کتاب چھین کر چھیڑتی ابھی تو کہہ رہے تھے ”جو بات مجھ میں ہے وہ کسی اور میں کہاں“ اور اب جو سامنے بیٹھی ہوں تویوں انجان سے ہو جیسے میرا وجود ہی نہیں“ اور جھوٹ موٹ روٹھ کر کتاب واپس ہاتھ میں تھما کر یہ کہتیہوئی چلی جاتی کہ ”تم کو تو تب قدر ہوگی جب میں نہ رہوں گی“ میں بگڑتا ”کیا اناپ شناپ جو منہ میں آیا کہتی چلی جاتی ہو“ تووہ کہتی”تم سگریٹ اور کتاب کے بغیر ہمیشہ ادھورے لگتے ہو۔ تم گھر پر نہیں بھی رہتے ہو تو یہ مہک مجھے احساس دلاتی رہتی ہے کہ تم میرے آس پاس ہی ہو“۔ میں کتاب بتلا کر پوچھتا ”اور تمہاری سوتن“ تو کہتی ”یہ تو میرا غرور ہے تمہیں میرا رکھ کر بھی مجھ سے چھینا ہے لیکن یہ ایک وقت کی میں ہر وقت کی، اب رہو اپنی البیلی کے ساتھ“ کہہ کر کام کاج میں مصروف ہوجاتی۔ ایک دن شاید وہ روٹی بنا رہی تھی میرے لڑکے نے کہا ”ممی اس الماری میں سے یہ پرانی کتابیں نکال دو۔ میں اس میں میرے نئے کھلونے سجادوں گا۔ اس نے لڑکے کو ایک نظر غور سے دیکھا پھر نہ جانے کہاں کھوگئی کہ توے پر روٹی جل گئی۔ پر اس نے اپنے ہاتھ سے بچوں کو دوسری روٹیاں نوالے بنابنا کر کھلائے اور جلی ہوئی روٹی خود کھانے بیٹھ گئی۔ دن بدل گئے میں نے بھی نوکری چھوڑ کر کاروبار شروع کردیا۔ اللہ نے برکت دی لڑکیاں ہاتھ پیلے کر کے اپنے اپنے گھر ڈولیوں میں رخصت ہوگئیں۔ میں نے مکان بنالیا، زندگی بھر جس گھر کا خواب وہ دیکھتی رہی میں نے ان خوابوں کو نہ صرف پڑھ لیا تھا بلکہ اس کے خدوخال بھی میرے لئے نہاں نہ تھے۔ میں نے مکان کے ہر گوشے کو اس کے خوابوں سے سجا کر اس کے حوالے کردیا۔ چھت میں نے کچھ اونچی ڈال دی تھی اس نے پوچھا ”چھت کیوںاونچی ڈال رہے ہو؟“ میں نے کہا ”تمہارا قد بھی تو اونچا ہے“ وہ پھر ہنس کر کہنے لگی ”کرتے اپنی ہو اور میرے سر ڈال دیتے ہو“ لڑکے جب کاروبار سے لگ گئے تو میری بیوی بڑے چاؤ اور ارمان سے بہویں بیاہ کر لائی اور ساری چابیاں حوالے کر کے یوں پرسکون ہوگئی جیسے ہر کام سے فراغت مل گئی۔ دو سال میں گود میں پوتا آگیا تو مجھے کچھ کمی سی محسوس ہونے لگی۔ وہ سارا وقت پوتے سے لگی رہتی۔ گھڑی دو گھڑی کے لئے کبھی کمرے میں آکر بیٹھ جاتی تو میں کہتا”تم تو مجھے بھول ہی گئیں۔ اب تو سب کچھ تمہارا پوتا ہی ہے“ تو وہ میرے ہی لہجے میں مجھ سے کہتی ”ارے اس میں وہ بات کہاں جو تم میں ہے۔ اور پھر سرہانے سے کتاب تھما کر کہتی ”میں نہیں تو کیا یہ میری سوتن تو ہے، اس سے دل بہلاؤ۔ میرا پوتا رو رہا ہے“۔ ایک رات اس کے سر میں شدید درد ہوا، کسی صورت سنبھلتی ہی نہ تھی۔ دواخانے میں شریک کروایا گیا تو پتہ چلا سر میں ٹیومر ہے اور اتنا بڑا ہے کہ دماغ میں کئی شاخیں پھوٹ چکی ہے۔ عارضی دواؤں سے دو چار دان کے لئے سنبھل گئی۔ مجھ سے ضد کرنے لگی ”گھر نہیں لے چلو گے کیا؟ میرا جی پوتے پوتی کو دیکھنے کرتا ہے“۔ ڈاکٹروں نے بھی کہہ دیا تھا بس اب زندگی کی لو بجھنے سے پہلے تیز ہوئی ہے۔ پوتے پوتی بچوں اور بہوؤں کو دیکھ کر مسکرائی پھر پلکیں موندھ لیں۔ دو چار گھنٹے کے بعد بھی نہ جاگی تو بچوں نے بہت آواز دی مگر اس نے جواب نہ دیا۔ آخر میں میں نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پکارا، اس کے ہونٹوں کو جنبش ہوئی اور دور سے آتی ہوئی آواز سنائی دی ”ہاں جی“ اور پھر وہ خاموش ہوگئی ہمیشہ کے لئے۔ اس بات کو تین سال بیت گئے۔ کچھ دن پہلے میری بہو میرے بیٹے سے کہہ رہی تھی۔یہ دقیانوسی الماری یہ کتابیں یہ کاٹھ کباڑ یہاں سے ہٹاتے کیوں نہیں، یہ میرا گھر ہے یا کسی کباڑی کی دوکان۔ ان کتابوں میں نہ جانے کتنے جراثیم ہوں گے۔ لگتا ہے ان کتابوں کو یرقان لاحق ہوگیا ہے۔ میں نے اپنے بچوں کو پاسچرائزڈ دودھ اور بسلیری کا پانی پلا کر پالا ہے۔ وہ مائکرو ویو OVEN کا پکا کھانا کھاتے ہیں۔ ان کو بڑے بڑے ڈاکٹرس سے ٹیکے دلوائے ہیں۔ وہ اچھے اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔اور تمہارے پا پا! ان کے کمرے سے دھواں گھر بھر میں پھیلتا ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہPassive Smoking کتنی خطرناک ہوتی ہے۔ اور جانے دن بھر کیا بڑبڑاتے رہتے ہیں۔ کل ہی کی بات ہے اپنی بیوی کی تصویر کے آگے کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے۔ اب یہ آواز نہ آئے گی نظر اب یہ چہرہ نہ سنائی دیگا تومری یاد سے آہستہ گزر ان کی صحیح جگہ تو کوئی ذہنی امراض کا دواخانہ ہے یا انہیں کسی Old Age Home میں بھیج دو۔ میرے بیٹے نے کہا”یہ کیسے ہوسکتا ہے یہ گھر انہوں نے بڑے چاؤ سے بنایا ہے۔ ساری زندگی ہمارے لئے تج دی۔“بہو نے کہا”تو کونسا احسان کیا؟ ہم بھی تو اپنے بچوں کے لئے ہی کر رہے ہیں۔ تم کو تو کچھ سجھائی ہی نہیں دیتا۔ بھلے بچوں کی اور میری ضرورتیں رہ جائیں ہم گرما کی چھٹیوں میں سیر پر نہ جائیں مگر تمہارے پاپا کی Rothmans سگریٹ آتی رہے گی۔ اگر تمہاری یہ ضد ہے تو ہم سب کو زہر دے دو پھر اپنے پایا کے ساتھ رہ لینا۔“ بہو تو یہ سب اپنے کمرے میں کہہ رہی تھی لیکن مجھے تو دیواروں کے پار بھی دکھائی دیتا ہے اور اتنا روشن جیسے رات کی سیاہی۔ بیٹے کے جانے کے بعد میں نے کباڑی کو بلوایا کتابیں الگ کرلیں، وہ سارا سامان جو میرے دادا کا لکڑی کے صندوق میں تھا اور الماری اسکے حوالے کر کے کہا جتنے پیسے مناسب سمجھتے ہو دیدو۔ جانے اس نے کتنے کاغذ کے ٹکڑے میرے ہاتھ پر رکھ دئے، میں نے جیب میں رکھ لئے اور اپنے پلنگ کی چادر میں ساری کتابیں باندھ کر اسے اپنی پشت پرلادے قبرستان پہنچا اور گورکن کے ہاتھ میں کباڑی کے دئے ہوئے کاغذوں میں کچھ کاغذ نکال کر اسے دے کرکہا مجھے ایک قبر کی جگہ دے دو۔ وہ حیرت سے مجھے تکتا رہا اس لئے کہ اس نے کسی لاش کے کندھوں پر لاش نہیں دیکھی تھی۔ گھر کی جھاڑو دیکر جب گورکن کی بیٹی باہر آئی تو اس کے چہرے کی خوشی مجھ سے چھپی نہ رہ سکی کہ جب کبھی کوئی میت آتی ہے تو اس کے گھر عید ہوجاتی ہے۔ کتابیں دفن کر کے میں گل فروش کی دوکان پر پہنچا اور اپنی جیب خالی کر کے گل فروش کی ہتھیلی پر رکھ کر کہا سارے کھلے پھول دے دو گلاب اور موتیا کے اس نے کہا آپ اتنے پھول کیا کریں گے۔ آپ نے جو رقم دی ہے اتنے کے پھول تو میری دوکان میں بھی نہیں۔ میں نے کہا جتنے چاہو دے دو مگر برابر برابر آدہے کردینا۔ گل فرش نے پھول سمیٹ کر ایک ٹوکرے میں ڈال دئیے اور کہنے لگا صاحب میں گل فروش ہوں لیکن کفِ گل فروش خوشبو کا سوداگر نہیں ہوتا۔ آپ اسے اپنے کندھے پر پڑی چادر کے نیچے رکھ دیں۔ خود ہی آدھے آدھے تقسیم ہوجائیں گے۔ میں نے آدھے پھول اپنی بیوی کی قبر پر اور آدھے کتابوں کی قبر پر چڑھائے اور جب واپس اپنے گھر کی طرف لوٹا تو اتنی سی دیر میں نہ جانے شہر بدل گیا تھا یا دہر بدل گیا جس دو راہے سے میرا گھر ایک اونچے مکان کی طرح دور سے بھی دکھائی دیتا تھا وہ اونچا مکان راستہ ہوگیا تھا اور دوسرے راستے پر بورڈ لگاتھا۔Old age home a few steps ahead۔ سرسید نے صرف انگریزی تعلیم پر توجہ دلوائی تھی تو مفتی نے کافر قرار دے دیا تھا۔ آج انگریزی تہذیب گھروں میں آگئی۔ ماں باپ گھروں سے نکالے جارہے ہیں، مگر مفتی چپ ہے اس لئے کہ سچ ہمیشہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ میں رات قبرستان میں ایک پیڑ کے نیچے یادوں کی چادر اوڑھ کر سوجاتا ہوں اور دن بھر اسی دوراہے پر چھڑی ٹیکے کھڑا رہتا ہوں۔ اپنے پوتے کے انتظار میں کہ کسی دن وہ ضرور آئے گا اور مجھ سے کہے گا دادا گھر چلو۔ الماری کی خالی جگہ اور آپ کی خالی آرام کرسی انتظار کر رہی ہے اور دادی کی تصویر بھی۔ مجھے دور سے کوئی مانوس آواز سنائی دے رہی تھی۔ رفتہ رفتہ آوازیں قریب آرہی تھیں۔ یکایک آواز بہت صاف اور شفاف ہوگئی میری بہو مجھے آواز دے رہی تھی۔ پاپا، پاپا، پاپا میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو میرے بیٹے بہویں پوتے پوتی سب گھیرے کھڑے تھے۔ میری کھلی آنکھیں دیکھ کر میری بہو مجھ سے لپٹ گئی اور رو کر پوچھنے لگی، پاپا آپ ٹھیک تو ہیں نا؟ میں نے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا”ہاں بیٹی مجھے کیا ہوا“ میری بہو بھی عجیب ہے بچوں پر غصہ کرتی ہے تب بھی رودیتی ہے۔ مجھے ذرا سی تکلیف ہوتی ہے تب بھی رو دیتی ہے۔ آخر کو وہ بھی ایک ماں ہے نا۔ ”اے رے پیڑ تیرے کتنے پات، حیدرآباد تیرے کتنے ہات“۔

اے رے پیڑ تیرے کتنے پات




***