خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

کسی انسان کی اپنی کوئی کہانی نہیں ہوتی‘ اس کے اطراف کے کرداروں سے مل کر یہ کہانی تشکیل پاتی ہے۔ جس کہانی کو فرضی کہا جاتا ہے‘ یہ مفروضہ بھی نفس کی تخلیق ہے اور دنیا کے کسی نہ کسی گوشے کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ نفس اعتدال پر ہو تو اس کے اطراف کی کہانیاں بھی شفاف‘ مخلص اور بے ریا ہوتی ہیں‘ لیکن نفس ریاکار ہو تو کہانیاں بھی عیار اور ریاکار ہو جاتی ہیں۔ خواہش نفس مائل بہ اقتدار ہو تو ایک سطح پر پہنچ کر وہ انسان سے انسان کی بزرگی و برتری چھین کر یہ چاہتا ہے کہ انسان اس کی پرستش کرے اور اگر کسی انسان نے اس کی پرستش کی بجائے پرسش کرلی تو اس کے اندر کا آدمی بدحواس ہوکر جب اپنا گریبان چاک کرلے تو صرف بدن ہی کے داغ نہیں داغدار نفس بھی آشکار ہو جاتا ہے‘ اس لئے کہ اس کا پندار انا کسی کو خاطر میں نہیں لاتا اور یہ نفس ذہانتوں کا قاتل بن جاتا ہے۔ یہ نفس خود کا تو محاسبہ نہیں کرتا‘ لیکن اپنے حلقہ بگوش دائرہ میں دوسروں کی کردار کشی سے معاشرہ کو بکھیر کر اسے مائل بہ زوال کردیتا ہے۔ اس کا علامتی چہرہ اس کے حقیقی چہرہ سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ آئینے سے اتنا خوفزدہ ہوتا ہے کہ شفاف پانی میں اپنا عکس بھی دیکھنے سے گھبراتا ہے۔اس کی تو خواہش ہی یہ ہوتی ہے کہ اندھے اس کے رقص کی تعریف کریں‘ بہرے اس کی راگ و الاپ پر سر دُھنیں‘ گونگے اس کی خطابت کی داد دیں اور بونے اسے قدآور تسلیم کریں۔ اگر یہی خبط قیادتوں اور حکمرانوں میں پایا جائے تو پھر ۔۔۔: بوئے گل نالۂ دل دودِ چراغِ محفل جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا ooo
میں نے اپنے کسی مضمون میں ایک جملہ لکھا تھا کہ ’’کسی نے دریا سے پوچھا کہ وہ سمندر کے سپرد ہونے سے پہلے‘ اتنے حصوں میں کیوں تقسیم ہو جاتا ہے؟ تو اس نے کہا کہ کیا تم نے قوموں کو نہیں دیکھا‘ جو اپنے زوال سے پہلے انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں‘‘۔ دریا کا مکالمہ ایک خوبصورت علامت ہے‘ لیکن حکمتِ قیادت اور حکمرانی میں اگر برداشت کی تاب و تواں نہ ہو اور محاسبہ کو توہین سمجھے تو یہ فرد انسانیت کی کسوٹی پر بھی شاید ہی کھرا ثابت ہوسکے؟۔ محبوب علی پاشاہ کی شخصیت میں میں ذوق خوش پوشی و خود بینی تو تھا‘ لیکن نفس غریب پرور‘ ہمدرد‘ صداقت پسند اور عدل سے قریب تھا۔ وہ شاہی کے مزاج کروفر کی بجائے امور انتظامی سے واقفیت تو حاصل کرتے‘ لیکن مداخلت ان کے مزاج میں نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ روادار بادشاہوں میں ان کا نام تاریخ کے صفحہ اول پر درج ہے۔ شہاب جنگ ان کے مشیر بھی تھے اور ناظم الامور بھی۔ شہاب جنگ کی ڈیوڑھی اور پرانی حویلی جو محبوب علی پاشاہ کی رہائش تھی‘ اس کے بیچ بس ایک دیوار حائل تھی۔ یوں کہ ادھر برتن کھنکے تو پرانی حویلی کے مسرت محل میں اس کی کھنک سنائی دے۔ شہاب جنگ دن میں آصف سادس کے دربار میں ہوتے تو امور سلطنت کے لئے ان کا دربار رات میں سجتا۔ مسجد لشکر جنگ کے قریب جہاں اب سورج ٹاکیز کی بند عمارت ہے‘ وہاں کبھی شہاب جنگ کی ڈیوڑھی ہوا کرتی تھی۔ اُن کا دربارِ شب دراصل دربارِ دُربار تھا۔ مصاحب‘ ناظم‘ پیشکار‘ حاجب‘ خدمت گار‘ چوبدار‘ فراش‘ قدم قدم پر قطار باندھے‘ نقیب ان کی قطار محل سرا کے پردے تک اور وہاں سے مغلانیاں‘ اصیل‘ باندیاں‘ ملازمائیں محل سرا کے اندر تک گوش برآواز تمام شب پہرے بدلتے کھڑے ہوتے۔ افق پر صبح کاذب کے آثار نمایاں ہوتے تو دربار کی برخاستگی کا بھی اعلان ہوتا۔ شب بھر ڈیوڑھی کے باہر خوانچہ فروش‘ کبابیے‘ چائے کی دوکانیں‘ غرض ایک میلہ سا لگا رہتا گیس کے ہنڈولوں سے ساری سڑک جگمگاتی رہتی اور شہاب جنگ کے دربار کی آن بان کا اندازہ گزرنے والوں کو بھی ہو جاتا۔ شہاب جنگ کے اجلاس پر باری باری پیشکار امثلہ پیش کرتا رہتا اور وہ احکام صادر فرماتے۔ ادھر زبان سے جملہ ادا ہوا اور کاتب نے قلم کی پتی دوات میں ڈبوکر خط دیوانی میں لکھ کر بخدمت عالی پیش کردیا۔ ادھر دستخط ہوئی نہیں کہ مہر لگ کر فیصلہ ہو گیا اور پھر دوسری مثل پیش ہوئی۔ اس دوران اگر شہاب جنگ کی زبان سے صرف ایک لفظ ’’پانی‘‘ نکل گیا تو فوری خدمت گار نے آواز دی ’’آب خاص پیش ہو‘‘ اور اس کے ساتھ ہی دوسرے خدمت گار نے سُر ملایا ’’آب خاص پیش ہو‘‘ اور یہ صدا بلاوقفہ محل سرا کے پردے تک اور وہاں سے توشہ خانے تک پہنچتی اور پھر فوراً ہی ’’آب خاص حاضر ہے‘‘ کی آواز کا تسلسل اس وقت تک نہ ٹوٹتا‘ جب تک کہ آب خاص‘ پیشی کا خدمت گار تعظیم میں کمر خم کئے خدمت میں پیش نہ کردیتا۔ آواز کے اس تسلسل میں اگر کہیں فرق آجاتا تو فوراً اس ملازم پر جرمانہ عائد ہوتا‘ جسے محاسب فی الفور درج کرلیتا کہ کہیں اس تساہل پر خود اس پر بھی جرمانہ نہ عائد کردیا جائے۔ شہاب جنگ کے دربار میں کسی ملازم کا تقرر ہوتا تو پروانۂ تقرر میں یافت دیکھ کر وہ پھولا نہ سماتا‘ لیکن جرمانوں کی وضعات کے بعد جو تنخواہ ہاتھ میں آتی تو وہی ڈھاک کے تین پات۔ اسی لئے حیدرآباد میں یہ مثل مشہور ہوئی کہ ’’خشخشی داڑھی سے صفائی بہتر ‘ شہاب جنگ کی نوکری سے گدائی بہتر‘‘۔ بات دراصلیوں تھی کہ وہ ملازم کو چاق و چوبند دیکھنا چاہتے تھے اور تساہل انھیں گوارہ نہ تھا۔ اس کے باوجود بھی ملازمین کی ایک فوج ان کے دربار سے وابستہ تھی کہ: جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟ ooo
ایک مرتبہ محبوب علی پاشاہ کی محل سرا میں کوئی خاتون علیل ہوئیں۔ شہاب جنگ کے دربار کی شب بیداری اور غل غپاڑے سے ان کو خلل ہوتا تھا۔ محبوب علی پاشاہ نے شہاب جنگ سے کہا کہ ان کی شب کی مصروفیت اور آوازوں سے مریض کو خلل ہوتا ہے۔ وہ چند دن کے لئے کہیں اور نقل مقام کرلیں۔ شہاب جنگ نے دست بستہ عرض کی کہ سرکار کو تو اللہ نے کئی محل اور محل سرائیں عطا فرمائی ہیں‘ فدوی کے پاس تو بس یہی ایک جھونپڑی ہے۔ میرے نقل مقام سے فدوی کے لئے زمین تنگ ہو جائے اور حضور پر یہ الزام آئے گا کہ نمک خوار در بہ در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ حسن طلب اور حسن بیان سے متاثر ہوکر محبوب علی پاشاہ مسکرا اٹھے اور شہاب جنگ کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ ایک مرتبہ کوتوال شہر کی کسی لغزش پر شہاب جنگ نے دو روپے جرمانہ عائد کردیا۔کوتوال اس فکر میں کہ جرمانہ ادا کرے تو رسوائی ہے اور شہاب جنگ کے پاس شنوائی نہیں۔ اس نے آصف سادس کی خدمت میں حاضری دی اور سفارش کا خواستگار ہوا کہ وہ خاندان آصفیہ کا پشتینی نمک خوار بھی ہے‘ وفادار بھی‘ اس لئے اسے درگزر رکھا جائے۔ جب شہاب جنگ دربار میں حاضر ہوئے تو محبوب علی خاں نے کہا ’’شہاب جنگ‘ کوتوال ہمارا پشتینی نمک خوار ہے‘ وفادار ہے‘ انسان بشر ہے لغزش ہو گئی ہوگی‘ اس کے ساتھ رعایت سے کام لیا جائے‘‘۔ شہاب جنگ نے فی الفور عرضکیا کہ ’’سرکار کا حکم سر آنکھوں پر‘ حضور کے ارشاد مبارک کی تعمیل ہوگی۔ بھلا خانہ زاد کی یہ مجال کہ سرکار کے حکم سے سرتابی ہو۔ خاطر جمع رکھئے‘ لفظ بہ لفظ تعمیل ہوگی‘‘ اور اس کے فوراً بعد مسل منگواکر نئے احکام جاری کئے کہ ’’حسب الحکم حضور پرنور بندگان عالی ’’حکم رعایت‘‘ کے پیش نظر کوتوال شہر کے جرمانے میں ایک روپیہ کی رعایت دی جاتی ہے۔ کوتوال مبلغ ایک روپیہ جرمانہ فوراً ادا کرے‘ ورنہ مستوجب حکم عدولی قرار پائے گا‘‘۔ کوتوال نے اس خیال سے کہ مزید کہیں اس پر دو آنے یا چار آنے کا جرمانہ عائد کرکے اسے بے توقیر نہ کردیا جائے‘ اُس نے فوراً جرمانہ ادا کردیا۔ محبوب علی پاشاہ بعض امراء کی ریشہ دوانیوں سے واقف تھے۔ ان کو یہ ملکہ حاصل تھا کہ وہ اپنے مخالف کو بھی ہمنوا کرلیتے تھے اور جہاں مشوروں میں شامل رکھتے‘ وہیں اختلاف رائے پر زیادہ توجہ دیتے اور اس بات کو تلاش کرتے کہ اختلاف بربنائے اختلاف ہے یا اختلاف کسی اصولی بنیاد پر ہے۔ چنانچہ دونوں صورتوں میں وہ اپنی صلاحیت سے اس پر قابو پالیتے۔ اسی طرح امراء کی ایک مجلس مشاورت منعقد ہوئی۔ مجلس امراء میں ریاست کے تمام امراء شریک ہوئے‘ لیکن عین وقت پر محبوب علی پاشاہ کا مزاج ناساز ہو گیا۔ انھوں نے اپنے بااعتماد مہتمم مولوی احمد حسین صاحب سے کہا کہ وہ اس مجلس میں جائیں اور امراء کی پیش کردہ تمام تجاویز کو ضبط تحریر میں لاکر انھیں پیش کریں‘ تاکہ وہ اس پر مناسب کارروائی کے احکام صادر کرسکیں۔ مولوی احمد حسین جب اس مجلس امراء میں پہنچے اور آصف جاہ سادس کا یہ حکم سنایا تو شہاب جنگ نے انھیں بیٹھنے بھی نہ دیا اور فی الفور انھیں واپس جانے کے لئے کہہ دیا۔ مولوی احمد حسین چیں بہ جبیں ہوئے اور اس تذلیل کی تاب نہ لاکر محبوب علی پاشاہ کی خدمت میں حاضری دی اور روتے ہوئے ساری روداد سنائی۔ فرمانروائے دکن آصف جاہ سادس نواب میر محبوب علی خاں کے مزاج شاہی پر بل آگئے‘ فوراً شہاب جنگ کو طلب کیا۔ بڑے جلال اور گرجدار آواز میں شہاب جنگ سے مخاطب ہوکر کہا ’’تم سمجھتے کیا ہو‘ احمد حسین میرفرستادہ تھا۔ شہاب جنگ اس بات کو نہ بھولو کہ میری جوتی جس کے سرپر ہوتی ہے‘ وہی مملکت کا مقتدر ہوتا ہے۔ ہماری عطا کردہ رعایتوں کا یہ مطلب نہیں کہ تم ہمارے فرستادہ کی توہین کرکے‘ ہماری توہین کے مرتکب ہو سکتے ہو‘‘۔ بادشاہ کا غیظ و غضب عروج پر تھا اور عجب نہیں تھا کہ وہ فی الفور شہاب جنگ کے لئے کوئی سخت فیصلہ کردیتے‘ لیکن فیصلہ کرنے سے پہلے نظام عدل کے پیش نظر انھوں نے شہاب جنگ سے کہا ’’اگر تمھیں اپنی صفائی میں کچھ عرض کرنا ہو تو عدل خسروی تمھیں اس حق سے محروم نہیں کرنا چاہتا‘‘۔ شہاب جنگ تعظیماً جھکے‘ اپنی دستار اتارکر سر کو خم کیا اور پھر گویا ہوئے ’’حضور والا کا فرمایا ہوا ایک ایک لفظ حق و صداقت پر مبنی ہے۔ حضور کا جاہ و جلال سلامت رہے‘ رعایا فیضیاب ہوتی رہے‘ سلطنت کے گوشہ گوشہ میں سرکار کا فیض جاری ہے اور نسلوں تک باقی رہے۔ حضور میری اس گستاخی کو معاف فرمائیں کہ آپ کا یہ فرمان بالکل درست ہے کہ جس کے سرپر سرکار کی جوتی ہو وہی مقتدر ہے‘ لیکن سرکار کی پاپوش مبارک کا ہر سر متحمل نہیں ہو سکتا‘ اس کے لئے فدوی کا سر حاضر ہے۔ میری درخواست ہے کہ حضور اس بات پر مکرر غور فرمائیں کہ وہ امراء کا اجلاس تھا‘ امراء کی سازشیں اور ریشہ دوانیاں حضور پر روشن ہیں‘ حضور پرنور کی ناسازی مزاج کی وجہ سے حضور انھیں امراء میں کسی کو فرستادہ قرار دیتے تب بھی باہمی چپقلش فتنہ ساماں ہو جاتی‘ چہ جائیکہ کسی ملازم کو یہ امراء برداشت کریں‘ اسی کے پیش نظر غلام کی یہ جرأت ہوئی کہ ایک ملازم کی خاطر ان ریشہ دوانیوں‘ بدگمانیوں اور سازشوں کو فروغ نہیں دیا جا سکتا تھا۔ تاحکم ثانی فدوی در دولت پر حاضر ہے‘‘۔ محبوب علی خاں نے اس پوری روداد کو تحمل سے سنا اور اپنے گلے کی مالا نکال کر شہاب جنگ کو نوازا اور اپنے دست مبارک سے دوبارہ دستار انھیں پہنائی۔
مولوی محمد علی صاحب نے جو ایک قلندر مزاج بزرگ تھے‘ میرے والد کے ہم عمر رہے ہوں گے‘ انھوں نے اپنے والد کے حوالے سے یہ روایت مجھ سے بیان کی تھی۔ محبوب علی پاشاہ جواکثر شب میں اپنی رعایا کا حال پوچھنے سادہ لباس میں شہر گشت کیا کرتے۔ پنچ محلہ کے قریب دیکھا کہ ایک بھڑ بھونجہ کوئی چوبیس پچیس برس کا توانا تندرست‘ چنے‘ مرمرے بھون رہا ہے۔ بازو میں اس کی بیوی بھونے ہوئے چنے سے خستہ الگ کر رہی ہے۔ روشن آگ سے چہرہ گلنار جیسے شاخ سے ابھی ٹوٹا ہوا قندھار کا انار۔ رنگت کے سانولے پن میں وہ کیفیت کہ جیسے تپے ہوئے سونے میں ذرا سے تانبے کی آمیزش وحشی ہرنی جیسی آنکھیں۔ سخت محنت سے بازو سڈول‘ بدن کے قوس و خم ایسے کہ گوشت پوست نہیں پتھر میں ترشے ہوں‘ ستواں ناک میں کیل آگ کی روشنی میں دمک دمک جائے‘ ماتھے پر محنت کے پسینے کی بوندیں جن سے حیدرآباد موتیوں کا شہر کہلائے‘ وہاں رکے۔ بھڑ بھونجہ پہچان گیا۔ دونوں ہاتھ جوڑکر کھڑا ہو گیا اور وہ کمبخت کبھی ایک ٹک اپنے شوہر کو دیکھے اور ایک ٹک بادشاہ کو‘ پر پہیلی نہ بوجھ پائے۔ اس نے معصومیت سے بادشاہ سے پوچھا کیا چاہئے؟ تو بادشاہ نے کہا چنے‘ اور رومال بڑھا دیا۔ اس نے پوچھاکتنے ؟تو انھوں نے کہا ایک پیسے کے۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے خستہ چنے رومال میں ڈال کر مٹھی بھر اور ڈال دےئے تو شوہر نے ٹھوکا دے کر کہا ’’کھڑی ہو جا‘ کیا بک بک کر رہی ہے۔ یہ بادشاہ سلامت ہیں‘‘۔ وہ گھبراکر کھڑی ہو گئی‘ آنچل سرپر ڈال پرنام کرکے کہا ’’سرکار! ہم کو ماپھی دے دو‘ ہم نے بھگوان کے اوتار کو نہیں پہچانا‘‘۔ محبوب علی پاشاہ کچھ دیر اسے دیکھتے رہے‘ پھر اس کے شوہر کی طرف اشارہ کرکے پوچھا اچھا یہ بتلا کہ ’’یہ اچھا کہ میں اچھا‘‘۔ وہ باؤلی نہ سوچی نہ سمجھی‘ جھٹ سے کہہ بیٹھی ’’ان داتا آپ سب کے‘ یہ فقط میرا‘‘۔ نہ جانے محبوب علی پاشاہ پر کیا گزری‘ اس کے آنچل میں مٹھیوں سے اشرفیاں ڈال کر لوٹے تو شاہانہ مسہری پر رات گزارنے والے بادشاہ نے بورےئے پر یوں بے آرام رات گزاری کہ چٹائی کے نشان پیٹھ پر اتر آئے اور یہی کہتے گزری ’’سب کا ہونا اور ہے‘ صرف ایک کا ہونا اور‘‘۔ کہتے ہیں کہ ان کی کئیراتیں اسی طرح گزر جاتیں۔ فیاض قدرت نے انھیں کن کن چیزوں سے نوازا تھا یہ تو خدا جانے‘ لیکن ایک عرصہ تک اگر کسی کو سانپ بچھو کاٹ لے تو وہ محبوب علی خاں کی قبر کی مٹی کاٹے پر لگا لیتا تھا اور بڑی بوڑھیاں تو صرف دُہائی دے دیتیں توکہتے ہیں کہ زہر اثر نہ کرتا۔ مارگزیدہ کا زہر تو اُن کے نام کی دہائی سے اُترتے سنا ہے‘ لیکن مردم گزیدہ کے زہر کا تریاق آج تک نہ دریافت ہو سکا۔ اب یہ خبر نہیں کہ سانپ کا زہر شدید ہوتا ہے‘ یا انسان کا کاٹا پانی نہیں مانگتا۔ وہ زمانہ بھی سچا تھا‘ لوگوں کے دل بھی نورانی تھے‘ دعاء کے لئے اٹھے ہوئے ہاتھ خالی نہ لوٹائے جاتے۔ اب تو دعاء کے لئے اٹھنے والے ہاتھوں میں بھی زنجیریں ڈال دی جاتی ہیں ہیں کہ کوئی دعاء بھی نہ مانگے کہ دعاء کا حق بھی اسی کو ہے‘ جس کے پاس دولت ہے‘ اقتدار ہے اور جس کو یہ ہنر آتا ہے کہ انسان سے اس کی بزرگی چھین کر اپنے پیر چھونے پر کیسے آمادہ کریں‘ اس لئے کہ دنیا کا ہر نشہ پھیکا‘ دست بوسی اور پا بوسی کا جو نشہ ہے‘ وہ انسان کو خدا ہونے کی جھوٹی مسرت سے سرشار کردیتا ہے۔ محبوب علی خاں انسان تھے‘ انسان دوست تھے‘ انسانوں کے قدر داں تھے۔ انھوں نے انسانوں کو جواہرات سے قیمتی سمجھا اور جیکب ڈائمنڈ کو پیپرویٹ سے زیادہ قیمتی نہیں سمجھا۔ اب نہ شہاب جنگ ہیں‘ نہ محبوب علی پاشاہ‘ صرف یادیں رہ گئی ہیں‘ نہ جانے کب وقت کی گرد ان کو بھی اپنے دامن میں سمیٹ لے۔ شہ نشینوں کو چھوڑ سب لحد میں سو گئے‘ لیکن: لحد میں سوئے ہیں چھوڑا ہے شہ نشینوں کو قضاء کہاں سے کہاں لے گئی مکینوں کو

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں