راس بھی دو دن زمانے کی ہوا آئی تو کیا!

کسی بھی فنکار کے فن کو پرکھنے سے پہلے اس فنکار کے اندر کے آدمی کی پہچان ضروری ہے،تاکہ اس کی شدت احساس کا پیمانہ،قوت متخیلہ، پرواز فکر اور ترسیل وابلاغ کے وسیلے کے پس منظر میں اسکے فن کو پرکھا جاسکے۔خود ساختہ اصولوں اور پیمانوں پر اور یکساں میزان پر فن کی اقدار کو متعین کرنا نہ صرف فنکار سے ناانصافی ہے،بلکہ فن کی بھی توہین ہے۔جوش کو بلاشبہ بیسویں صدی کا بڑا شاعر تسلیم کیا گیا،لیکن اسی شدت کے ساتھ وہ نزاعی شخصیت بھی بنے رہے اور اس پورے نزاع میں اگر جوش کی شخصیت شریک رہی ہے تو اس میں ان کے ناقدین نے بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے۔مزاج کی تندی،پندارانا،خود آگاہی میں جوش ملیح آبادی اور مرزا یگانہ دونوں کا اپنا یکساں اور منفرد انداز رہا ہے، لیکن اس افتادطبع کے باوجود دونوں کے میلانات شاعری اور مشاہدے کے زاویے بھی الگ الگ ہیں۔دونوں کی نجی زندگیوں میں بھی فرق ہے اور فکر و فن کے انداز میں فرق تو لفظیات کے قالب بھی الگ ہیں۔اس مضمون میں دونوں کا تقابلی جائزہ مقصود نہیں ،اس لئے کہ چند ایک عناصر جو دونوں میں مشترک ہیں، ان ہی عناصر کی وجہ سے یہ شخصیتیں ہدف بنتی رہی ہیں۔مرزا یگانہ کو تو چھوڑیئے ان کے کوائف اور میلانات کے لئے ایک گہرا نفسیاتی تجزیہ ضروری ہے، لیکن جوش ملیح آبادی پر بھی خاطر خواہ تحقیقی کام نہ ہوسکا اور اگر ہوا بھی تو جو کچھ سطور میں نظر آیا اسی کو بنیاد بناکر جو لکھا گیا وہی منظر عام پر ہے۔حالانکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ سطور سے زیادہ بین السطور اور سب سے زیادہ جوش کی شخصیت کا نفسیاتی مطالعہ کیا جاتا۔ان کا لڑکپن،اٹھان،میلانات ذاتی،رجحانات فکری، تعلیم،تربیت،احباب،ماحول،آرزوؤں کی دھیمی آنچ،جس کی تپش ان کے لہجے میں صاف دکھائی دیتی ہے۔ان کے الفاظ کے قبیلے ان کی شاعری میں آواز وں کا دروبست اور سب سے زیادہ جوش کی سیمابی کیفیت جو تنقید کی حدت کی کتنی تاب لاسکتی ہے، اس کے بغیر جوش کا مطالعہ نہ صرف سرسری ہے، بلکہ ورق گردانی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔جوش کی شاعری ہو کہ نثر، اپنے قاری سے اس بات کی متمنی ہے کہ اس میں کم از کم آہنگ کو فرہنگ بنانے کا شعور موجود ہو اور وہ آواز کے زیر و بم سے جو لغت ترتیب پاتی ہے، اس کے گنجینہ معانی کا ادراک رکھتا ہو۔خود جوش نے اپنے بچپن کے تعلق سے لکھا ہے’’کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ میں بچپن میں کیا تھا، شعلہ تھا کہ شبنم ،حدید تھا کہ حریر،خار تھا کہ برگ گل،خنجر تھا کہ ہلال،یہ تو تھا جوش کا لڑکپن۔ان کی نوجوانی، جوانی اور بقیہ زندگی آپ یادوں کی برات میں ملاحظہ فرمالیں، لیکن۱۹۶۱ء کی بات ہے، میں ایرفورس میں تقرری امتحانات کے لئے مدراس میں تھا۔شاید ہفتہ بھر کا قیام رہاہو۔اسی دوران نیو کالج مدراس میں مشاعرہ تھا۔جوش بھی اس میں مدعو تھے۔انہوں نے دو نظمیں سنائیں اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ایک نظم’’کیا گلبدنی گلبدنی گلبدنی ہے‘‘ تو آپ حیدرآباد اسٹینلی اسکول والے مشاعرے میں سن چکے ہیں اور آل انڈیا ریڈیو سے اب بھی گاہے گاہے نشر ہوجاتی ہے، لیکن دوسری نظم جو انہوں نے سنائی پھر اس کے بعد کبھی سننے کونہ ملی۔اس کے ایک بندے سے جوش کی زندگی کے ایک ورق کی دھندلی سی تصویر ابھرتی ہے،جس میں فکر کی قوس قزح اور چست قباؤں میں لفظ ایسے کہ کچی نیند کے خمار میں ایک انگڑائی سے یوں بند قبا ٹوٹ پڑے کہ زیر تعمیر تاج محل کا نقشہ نگاہوں میں پھر جائے اور وہ بندیوں تھا: کلی کو غرق سوز و ساز کرجاتا ہے جب بھونرا نیاز عاشقاں کو ناز کرجاتا ہے جب بھونرا خموشی کو لطیف آواز کرجاتا ہے جب بھونرا کلی کو چوم کر پرواز کرجاتا ہے جب بھونرا اور اسکے بعد جب تادیر ٹہنی تھر تھراتی ہے مجھے بے ساختہ اپنی جوانی یاد آتی ہے
اس بند میں جو کچھ ہے وہ ’’سب کچھ‘‘ ہے۔اچھی شاعری کی شرح حسن شاعری کو گہنادیتی ہے۔یہ تو وجود میں یوں بس جاتی ہے جیسے مشک نافہ ‘چھپی رہے تو آبرو، ظاہر ہوجائے تو اوروں کے مشام جاں کو معطر کرے اور خود کو رسوا سربازار کردے۔ اب جب کہ نہ مصر ہے نہ مصر کا بازار‘ کوئی سوت کا تنے والی بھی یوسف کے خریداروں میں نہ ہو تو نہ حسن یوسف ہی انگشت تراش ہے ،نہ تاثیر زلیخائی باقی رہی۔جہاں فنکار کی حیثیت صرف اتنی ہو کہ اس نے مجسمہ سازی میں ہتھیلیاں لہولہان کی ہوں مجسمہ کے قوس و خم کو ابھارنے میں پتھر پرہر چوٹ کا زخم خود کھایا ہو اور ناقدین کا فن کے تعلق سے صرف یہ اظہار خیال کہ مجسمہ تو چٹان میں موجود تھا، سنگ تراش نے تو صرف فاضل حصوں کو چھانٹ کر الگ کردیا، اس میں فن کیا ہے او رکیسا فنکار تو وہاں سارا ادب صرف ’’لا۲ =م+ک‘‘ ہوکر رہ جاتا ہے۔اس امر کو تسلیم کرنے میں کوئی جھجک نہیں ہے کہ اس الجبرائی ادب میں جوش تو کیا میر و غالب وانیس کی بھی کوئی جگہ نہیں رہ جاتی اور سچ پوچھئے تو ان نقادوں کے آگے کسی فنکار کا تذکرہ بھی توہین سے کم نہیں، اس لئے کہ کوئی انسان احساس سے عاری نہیں ہوتا اور جو فنکار کے احساس کو محسوس کرکے اس کا احترام نہ کرے وہ انسان نہیں ہوتا۔ جوش پر کچھ لکھنے اور کہنے کا حق تو صرف اسی کو حاصل ہے، جس سے سناٹے گفتگو کریں اور صوتیات کی نغمہ سرائی میں نئے راگ راگنیوں کے ہجر و فراق کی کسک کا احساس ہو تو وصال کی سرشاری کے بعد سانس کے زیر و بم اپنی عمر کا حساب یوں گنوائے کہ کوئی لمحہ چھوٹ نہ پائے۔یہ سب کچھ نہ سہی تو کم از کم اتنا تو ہو کہ جوش پر قلم فرسائی یا لب کشائی کرنے والا آہنگ اور ارتباط باہم سے واقف ہو۔جوش کو قادر الکلام کہنا جوش کی توہین ہے، ہاں نادرالکلام کہنا’’فکر ہر کس بقدر ہمت اوست‘‘ والی کیفیت ہے۔یہ درست ہے کہ جوش پر تحقیقی کام کم ہوا‘ حقیقت تو یہ ہے کہ سرے سے ہوا ہی نہیں اور سچ پوچھئے تو کرتا بھی کون، یہاں تو کیفیت یہ ہے کہ: واعظ تنگ نظر نے مجھے کافر سمجھا اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں
جوش کی فن شناسی کے لئے جس وسیع النظری کی ضرورت ہے یا تو وہ ابھی دیدہ وروں میں پیدا نہیں ہوئی یا پھر کبھی شاید خال خال موجود رہی ہو اور اب عنقاء ہو۔جوش کو قدرت نے جتنا حساس طبع خلق کیا اتناہی طرحدار لہجہ اور قدرت بیان بھی دی۔خود جوش کے انداز سخن میں زبان کا حلیہ تلاش کیجئے تو سراپا سولہ سترہ برس کا سن، مرادوں کی راتیں،جوانی کے دن،چھلاسی کمر،صراحی دار گردن،کسمسا تا بدن،آنچل ناہموار،رخسار کی کندنی کاغذی جلد،جلد کے نیچے سے جھلکتا گلابی رنگ،ستواں ناک،سجل نقشہ،دمکتی پیشانی اور اس پو بولتا قثقہ،نکلتا قد،چٹختا پنڈا،سرخ آنکھوں سے وہ اٹھی رنگین گھٹائیں،لانبی نکیلی پلکوں میں وہ کجری کے کٹتے بول،سرمے کے سرے پر کجلائی سی دھنک،سانسوں کے تلاطم میں جوانی کی کوک،بکھری زلفوں میں جھولتی ہوئی برکھا کی راتیں،ہیرے کے باریک قلم سے ترشے ہوئے لب اور اس میں تمنا کے ہزار ہزار طلسم۔زبان کے قوس و خم ایسے کہ ساغر کے خطوں میں خم اور صہبا سے تکلم میں بھنور پڑنے لگیں۔سی دھنک،سانسوں کے تلاطم میں جوانی کی کوک،بکھری زلفوں میں جھولتی ہوئی برکھا کی راتیں،ہیرے کے باریک قلم سے ترشے ہوئے لب اور اس میں تمنا کے ہزار ہزار طلسم۔زبان کے قوس و خم ایسے کہ ساغر کے خطوں میں خم اور صہبا سے تکلم میں بھنور پڑنے لگیں۔ جوش کا تعلق جاگیر دارطبقہ سے تھا،لیکن ان کے اندر کا شاعر ا س کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا، جس کے نتیجے میں اپنے جس عزیز کو بھی یہ ذمہ داری تفویض کی ان میں سے کسی نے جوش کے ساتھ ایمانداری کا مظاہرہ نہیں کیا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جس سواری کی عنان سوار کے ہاتھ میں نہ ہو اس کا انجام تو یہی ہوتا ہے۔جوش بھی ’’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب‘‘ میں کے مصداق رہے۔سرخی شفق سے ان کے اندر کا شاعر سونا سمیٹتا رہا اور ان کے منتظم چاندی بٹورتے رہے اور جوش اس بات پر خوش بھی تھے کہ چاندی تو چاندی ہے، میرے حصے میں تو ہر سحر سونا بکھیرتی ہے کہ ان کی بیگم اشرف النساء نے انھیں ٹھوکا دے کر کہا کہ کچھ خیر خبر بھی ہے کہ آخر بچوں کا کیا ہوگا۔جوش نے کہا کہ’’اب انتظام میں خود دیکھوں گا‘‘ تو بیگم نے چٹخ کر کہا تم سے اگر یہ ہوسکتا تو رونا کیاتھا۔شاید یہیں سے وقت نے کروٹ لی،جہاں جوش کا سفر قصر امارت سے حصیر ملازمت کی طرف شروع ہوا۔جوش نے یادوں کی بارات میں اپنے حیدرآباد آنے کے تعلق سے ایک خواب کا تذکرہ کیا ہے۔جوش کی شخصیت اور اس خواب پر تبصرے کے بجائے میں اپنی رائے محفوظ رکھتے ہوئے صرف اتنا کہوں گا کہ حیدرآباد کے بزرگ شاعر حضرت خواجہ شوق نے کہا ہے کہ: نظر کرم کی نہیں دیکھتی لباسوں کو خلوص نیت سائل تلاش کرتی ہے
چنانچہ ۱۹۲۴ء کے اوائل میں جوش حیدرآباد آئے ۔ہر چند کہ انھیں خوف دامن گیر تھا کہ ان کے پاس کوئی اعلی تعلیمی اسناد نہیں ہیں، مگر کوئی کشش انہیں حیدرآباد کی طرف کھینچ رہی تھی۔سفر حیدرآباد میں ان کے ساتھ علامہ اقبال، عبدالماجد دریا آبادی اور سلیمان ندوی کے سفارشی خطوط بھی تھے۔ان خطوط کے ساتھ وہ مہاراجہ کشن پرشاد تک پہنچے۔مہاراجہ نے ان کی قدر افزائی تو کی،لیکن تنہائی میں ان سے یہ کہہ دیا کہ وہ آصف سابع کے معتوب ہوچکے ہیں،اس کے باوجود وہ سر اکبر حیدری کے ذریعہ آصف سابع تک ان کی پزیرائی اور ملازمت کا بندوبست کردیں گے۔مہاراجہ نے اسی وقت سر اکبر حیدری کے نام ایک مکتوب اور ساتھ ہی ٹیلیفون کے ذریعہ بات کرکے حتی الامکان جوش کی مدد کی۔جوش جب سر راس مسعود کے ہمراہ اکبر حیدری سے ملاقات کے لئے گئے تو انہوں نے دو دن بعد آنے کے لئے کہا اور جب دوبارہ جوش سر راس مسعود کے ہمرا ہ پہنچے تو اکبر حیدری نے وہ قطعات تہنیت جو اکبر حیدری کو سر کا خطاب ملنے پر مختلف شعراء نے کہے تھے دکھلاکر جوش سے بھی ایک قطعہ لکھنے کی فرمائش کی۔جوش کا چہرہ سرخ ہوگیا تو اکبر حیدری نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ جووہ اتنے سنجیدہ ہوگئے ہیں، تو جوش نے اکبر حیدری کو اتنا سخت جملہ کہا کہ وہ انتہائی توہین آمیز ہوگیا۔سر اکبر حیدری اور سر راس مسعود تو دوسرے کمرے میں اٹھ کر چلے گئے اور جوش اپنے گیسٹ ہاؤس کو روانہ ہوگئے۔نواب مہدی یار جنگ اورامین جنگ سے ملاقات مہاراجہ کے پاس ہوچکی تھی۔مہدی یار جنگ جوش کے قدر دانوں میں تھے، وہ جوش کو اپنے والد عماد الملک کے پاس لے جانے کے لئے آئے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ عماد الملک نے کبھی کوئی سفارش نہیں کی،حتی کہ خود مہدی یار جنگ جب کیمبرج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوکر آئے تو عماد الملک نے ان کی بھی سفارش سے انکار کردیا تھا۔بہرحال جب مہدی یار جنگ جوش کو عماد الملک کے پاس لے کر پہنچے تو جوش نے دیکھا کہ ایک اَسّی پچاسی سال کی بزرگ شخصیت پائیں باغ میں آرام کرسی پر نیم دراز ہیں۔چہرے پر تدبر علمی اور فراست کا دبدبہ ہے۔جب مہدی یار جنگ نے تعارف کروایا کہ یہ جوش ملیح آبادی ہیں اور بہت اچھے شاعر ہیں تو عماد الملک کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں ابھرا،لیکن جب مہدی یار جنگ نے بتلایا کہ یہ فقیر محمد گویا کے پوتے ہیں تو عماد الملک کرسی پر سیدھے ہوگئے اور کہا کہ شمالی ہندوستان میں کون ہے جو فقیر محمد گویا اور ان کی داد و دہش سے واقف نہیں۔پھر جوش سے خواہش کی کہ وہ کچھ شعر سنائیں۔جوش نے مسدس کے چند بند سنائے تو خوب داد دی کہ’’اس عمر میں کلام وروانی خدا کی شان،پانی میں آگ، آگ میں پانی خدا کی شان، اور پھر فوراً مہدی یار جنگ سے کہا مہدی اندر سے کاغذ قلم لاؤ اور فوراً امین جنگ کے نام خط دے کر مہدی یار جنگ سے کہا کہ امین جنگ سے کہنا کہفوراً آصف سابع کی خدمت میں جوش کو باریاب کروادیں۔جوش جب نظام کی خدمت میں باریاب ہوئے اور احوال پیش کیا تو نظام نے افسوس کے ساتھ کہا کہ اَودھ اُجڑ گیا،شرفاء در بہ در ہوگئے ،ورنہ آدھے مسلمانوں کو اودھ اور آدھے مسلمانوں کو حیدرآباد سنبھال لیتا اور جب حیدرآباد رُخ کرنے کی وجہ پوچھی تو جوش چپ ہوگئے۔نظام نے اپنی پاٹ دار آواز میں کہا’’بولو، بولتے کیوں نہیں۔‘‘ تو مہدی یار جنگ جو اس خواب کو جوش سے سن چکے تھے دست بستہ عرض کی کہ اجازت ہو تو فدوی عرض کرے۔نظام نے کہا کہ’’بیان ہو‘‘ جب مہدی یار جنگ خواب بیان کرچکے تو نظام دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر جھک گئے اور پھر جوش کی درخواست پر دارالترجمہ میں مترجم انگریزی ادب کے عہدہ پر تقرر ہوگیا اور وہ ڈھائی سو روپیہ ماہانہ مشاہرہ پر تقرر پاگئے۔علی حیدر نظم طبا طبائی کی سبکدوشی پر ناظر ادب کے عہدہ کے لئے پانچ امید وار تھے جو آغا محمد حسین،مرزا ہادی رسوا،عبداللہ عمادی،شبیر حسن خاں جوش اور محمد علی شاہ تھے ،لیکن جامعہ عثمانیہ کی مجلس اعلی کے اراکین سر نظامت جنگ ،حیدرنواز جنگ ،ضیا یار جنگ،مرزایار جنگ، مسعود جنگ نے اکبر یار جنگ کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے جوش کی بحیثیت ناظر ادب سفارش کی اور۱۴؍ستمبر۱۹۲۶ کو پانچ سو روپیہ ماہوار پر انہوں نے ناظر ادب کا جائزہ حاصل کرلیا۔جوش نے دارالترجمہ سے وابستگی کے اعتراف میں کہا ہے کہ اس نے مجھے بے حد علمی فائدہ پہنچایا۔علامہ عمادی،علامہ طبا طبائی اور مرزا محمد ہادی رسوا کے فیض صحبت نے مجھ بے سواد کو اپنے جہل پر مطلع کیا او رمجھے ذوق مطالعہ پر مامور کیا۔ حیدرآباد،جوش کے وجود کا ایک حصہ بن چکا تھا۔وہ رقمطراز ہیں کہ’’حیدرآباد کا علمی ماحول ،موسمی اعتدال،مجلسی ابھار،تہذیبی نکھار،رامش ورنگ میں ڈوبی شامیں،پہاڑوں پر تھرکتی صحبیں،شبستانوں میں ناچتی گاتی راتیں،یاران دل نشین کی ترنگیں،اٹھتی جوانیوں کی امنگیں،باغ عام کی لچکتی ڈالیاں،عثمان ساگر کی گنگناتی متوالیاں،میلے ٹھیلے،پریوں کے ریلے،وہ شاہزادہ معظم جاہ کا دربار،گویا مصر کا بازار،وہ پریاں قطار اندر قطار،وہ جھمکے وہ چندن ہار، وہ پازیبوں کی جھنکار، وہ طوفاں گیسو ور خسار، وہ گیتوں کی ہلکی ہلکی پھوار، وہ کھنکتے در و دیوار‘ غرض مرتے دم تک جوش کو حیدرآباد نے اپنا اسیر رکھا۔ حیدرآباد سے اخراج کی وجہ جوش نے یہ بیان کی ہے کہ انہوں نے ایک نظم غلط بخشی جاگیر داروں اور وزیروں کے اجتماع میں سنائی تھی ،جو آداب شاہی کے خلاف سمجھی گئی۔جوش کے مطابق ان سے اس نظم پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا، جس سے انہوں نے انکار کردیا اور جوش کو اندرون پندرہ یوم شہر چھوڑ دینے کے احکام صادر کردیئے گئے،لیکن جوش کے پاس زادراہ کے لئے کوئی رقم نہ تھی۔گیارہ دن گزر جانے کے بعد آغا جانی نائب کوتوال جو جوش کے دوست تھے، وہ جوش کو سر اکبر حیدری کے پاس لئے گئے اور پانچ ہزار روپیہ بطور قرض منظور کئے گئے، جو ان کے وظیفہ ایک سوروپیہ کلدار سے قابل وضعات قرار پائے۔ڈاکٹر داؤد اشرف کی تحقیق کے مطابق فرمان یوں ہے: ’’اس شخص کو اگرچہ بیشتر متنبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے اعمال کو درست کرلے،ورنہ اس کی علیحدگی عمل میں آئے گی۔مگر افسوس اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلا، بلکہ سابقہ حالات ایک حد تک ابھی باقی ہیں۔لہٰذا مناسب ہوگا کہ جس مدت کے لئے وہ یہاں ملازم تھا، اس حساب سے کچھ ماہوار بطور رعایت اس کے نام جاری کرکے اس کو کہہ دیا جائے کہ وہ دو ہفتوں میں یہاں سے خاموشی سے وطن چلا جائے اور بغیر اجازت پھر یہاں آنے کا قصد نہ کرے۔‘‘جوش حیدرآباد میں تقریباً دس برس رہے اور ان کی مدت ملازمت ۹ سال ۷ مہینے۲۸ دن بنتی ہے۔درحقیقت جوش کو حکومت سے جو رقم ملی تھی وہ ایک ہزار روپیہ تھی نہ کہ پانچ ہزار ۔جوش نے اپنے مرتبے اور حکومت حیدرآباد کی فیاضی کے اعتراف میں اس کو پانچ ہزار لکھا ہے اور جہاں تک جوش کے معافی نہ چاہنے کی ضد کا تعلق ہے ‘دراصل جوش کے پندارانا نے اس کے اظہار سے ان کو روکا ہے، ورنہ’’جشن بہاراں‘‘ کی اشاعت پر باز پرس کے جواب میں جوش نے تحریراً فدویانہ معافی چاہی ہے، جو آرکائیوز کے ریکارڈ میں موجودہے۔ دراصل جوش کے اخراج کی وجہ یہ سب کچھ بھی نہیں ہے،بلکہ صدق جائسی کے مطابق امک جنگ اور ڈھمک جنگ میں سے ایک کی فتنہ گری اور نظام کے کان بھرنے کا نتیجہ بھی ہے۔اصل سوال تو اس راز کا ہے، جس نے جوش کو شہر بدر کروایا۔اب جب کہ نہ آصفسابع ہیں نہ جوش، نہ امک جنگ نہ ڈھمک جنگ ، راز بھی زیر زمین دفن ہوچکا تو اس کو فاش کرنے کا فائدہ کیا ہے۔ حالانکہ پنڈت نہرو نے جوش کو بہت روکا،بہت سمجھایا،مولانا آزاد نے پوری کوشش کرلی، مگر جوش پاکستان سدھار گئے۔وہ آج بھی ہندوستان میں پاکستان سے زیادہ مقبول ہیں، مگر پاکستان جاکر جوش کو کیا ملا، یہ جوش جانیں یا خدا جانے۔ہاں ان کی ڈستی ہوئی تنہائی کبھی سرحد پار کرکے اِدھر آجاتی ہے تو کبھی ان کے اجداد کی قبروں پر اور کبھی حیدرآباد کی گلیوں میں خود کو تلاش کرتی ہے کہ جوش کی تنہائی بھی اب تنہا ہے: راس اول تو نہ آئے گی زمانے کی ہوا راس بھی دو دن زمانے کی ہوا آئی تو کیا

راس بھی دو دن زمانے کی ہوا آئی تو کیا!