عکسوں کے درمیان کوئی آئینہ نہ تھا

امجد اسلام امجد کے لئے چند سطور لکھنا بھی ایک مشکل کام ہے۔ بھلا جس شخص پر احمد ندیم قاسمی، فیض احمد فیض، فتح محمد ملک، فرمان فتح پوری، مشتاق احمد یوسفی، پروین شاکر، جمیل الدین عالی، افتخار عارف، مجتبیٰ حسین، سب اہل قلم اور ایسے ایسے اہل قلم کہ ان کے قلم سے حرف ومعانی کا ساتواں در کھلتا‘ ہو لکھ چکے ہوں۔ اس امجد اسلام امجد پر مجھ جیسے ادب نا آشنا کی تحریر کسی اضافہ کا باعث نہیں بن سکتی ویسے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو صرف اس خاطر کہ امجد کو اگر ایک خط بھی لکھ دیا جائے تو اس کے دل کی وسعتیں پذیرائی کی کشادگی رکھتی ہیں۔ خط لکھا اور امجد نے ان کے خط کو بھی احسان کا درجہ دے کر التفات دوستاں میں شامل کرلیا۔ ان میں کچھ پردہنشینوں کے بھی نام آتے ہیں جن کے نخوت سے بھر پور کردار ان کو فنکار کی صف میں باوصف نہیں کرتے۔ امجد اسلام امجد بہ یک وقت شاعر بھی ہے۔ ڈرامہ نگار بھی، نثر نگار بھی جن کی مطبوعہ کتابوں کی تعداد 45 ہے اور ابھی دس کتابیں زیر طبع ہیں جن کو ستارہ امتیاز سے لے کر آخری ایوارڈ سمیت چودہ ایوارڈ حاصل ہوئے اور پندرہواں ایوارڈ شاید یا تو ابھی طئے نہیں پایا ہے یا اس لائق نہیں کہ امجد تک پہنچ سکے۔ جس زمانے میں حیدرآباد میں PTV پر پابندی نہیں تھی اس وقت PTV سے وارث، سمندر جیسے سیریل روزانہ ٹیلی کاسٹ ہوتے تھے جن کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پاکستان میں تو سڑکوں پر ٹریفک ایک چوتھائی رہ جاتی تھی لیکن ہندوستان میں بھی اس ٹیلی کاسٹ کے دوران گھر کے کام کاج سب معطل ہوجاتے تھے۔ اہل زبان مکالموں کا نوجوان اداکاری کا اور خواتین کا تو پوچھنا کیا ہے وہ تو ساس بھی کبھی بہو تھی، کہانی گھر گھر کی،دیا اور باتی یا کسوٹی جیسے سیریل پربھی چارچار سال سے فریفتہ ہیں۔ سمندر تو پھر واقعی سمندر تھا اور ان کا مشہورسیریل وارث چینی زبان میں ڈب ہو کر چائنیز ٹی وی نیشنل نیٹ ورک پر ٹیلی کاسٹ ہوا۔ کہاوت مشہور ہے کہ جس نے اصفہان نہیں دیکھا اس نے نصف جہاں نہیں دیکھا لیکن ایک قول یہ بھی ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوا۔ آغا حشر کاشمیری، آغا شورش کاشمیری سے امجد اسلام امجد تک تمام معتبر حوالے اس ادبی کسوٹی پر پورے اترتے ہیں کہ اردو کا چاہنے والا اس گہوارہ ادب سے لاتعلق نہیں رہ سکتا اور اگر ایسا ہو تو اس کی ولادت میں شبہ محض خامہ فرسائی سہی لیکن اس شہر کی عظمت کا اعتراف ضرور ہے۔ مکان مکینوں سے پہچانے جاتے ہیں کہ آج بھی احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین، منیر نیازی، امجد اسلام امجد کا نام اس کی شہر رونق کو باقی رکھے ہوئے ہے۔ امجد اسلام امجد نے زمین پر تو صرف سات دہائیاں گزاری ہیں لیکن ان کا ذہنی اور تخلیقی سفر سات صدیوں کا سفر ہے۔ 4 ؍ اگست 1944ء کو ولادت ہوئی۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ 23؍ مارچ 1975ء کو وہ فردوس مکین ہوئے یا فردوس ان کے آنگن میں اتر آئی۔ اب تو ان کی بیگم فردوس امجد کہلاتی ہیں۔ اردو سے امتیاز کے ساتھ ایم اے کیا۔ لفظ امتیاز تو ان کے ساتھ تعلیم سے ستارہ امتیاز تک ساتھ ساتھ سفر کرتا رہا ہے اور آج بھی ان کے فنون خواہ شاعری ہو ڈرامہ نگاری نثر ہو کہ عربی شاعری کا اردو میں ترجمہ امتیاز ان کے وجود کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ ان کے ظاہر کو کیا دیکھوں کہ بچپن کا چہرہ ماں باپ کا عکس جوانی کا چہرہ قدرت کا عطیہ اور بڑھاپے کا چہرہ اس کی کمائی کا چہرہ ہوتا ہے جس کی ہر لکیر میں اس کا باطن جھلکتا ہے۔ اس اعتبار سے امجد اسلام امجد کا مزاج جیو اور جینے دو۔ ان کے خون کا رنگ ابھی سفید نہیں ہوا، ان کی کمزوری بنا پرکھے کسی پر اعتماد کرلینا‘ ان کا آئیڈیل کچھ ایسی صفات جن کا بہ یک وقت کسی فرد واحد میں یکجا ہونا ممکن نہیں‘ ان کا دشمن وہ شخص جو زندگی کے ارتقاء پر یقین نہیں رکھتا۔ ان کی ناپسندیدگی حسد اور حاسد دونوں سے ہے۔ وہ ہر اس شخص کی قدر کرتے ہیں‘ جو محنت کی عظمت پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اجتناب کرتے ہیں اس محبت سے جہاں انسان کا مرتبہ اس سے زیادہ اہم ہو وہ روپڑتے ہیں موت کے سامنے انسان کی بے بسی پر، ان کو نفرت ہے بھروسے کو ٹھیس پہنچانے والے سے، وہ دوستوں کے بغیر رہ نہیں سکتے۔ وہ خوفزدہ رہتے ہیں تخلیق عمل کے جمود سے، ان کے خواب دھنک کے رنگوں کی طرح شوخ اور پائیدار ‘وہ سوچتے ہیں کہ وہ اتنا زیادہ کیوں سوچتے ہیں۔ وہ اقرار کرتے ہیں اس قوت کی عظمت کا جس نے آنکھوں کو خواب اور آنسو دئے ہیں۔ ان کا معیار حسن وہ حسن ہے جسے دیکھو تو چپ لگ جائے۔ ان کے پاس ادب کا مقصد زندگی کو بہتر طریقے سے سمجھنا ہے۔ ان کے اندیشے گوناگوں ہیں۔ ان کے پاس دل کی اہمیت یہ ہے کہ سینے میں رکھتے ہوئے بھی لیا دیا جاسکتا ہے، ان کی خواہش ہے کہ کاش وہ اپنے آپ کو سمجھ سکیں۔ امجد کی شاعری میں استعار ے خواب، چھاؤں، عکس، سائے، سفر کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ یہ استعارے زندگی کی سجی ہوئی انجمن کو خواب اور تنہائی میں جاگتی آنکھوں کے خواب میں بدل دیتے ہیں لیکن کچھ اس احتیاط سے کہ زندگی کی گریز پائی بے سمت اور بے جہت نہیں بلکہ ارتقا پذیر ہو۔ امجد کے پاس محبت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ان کے پاس ندی کے دونوں کنارے پل سے مربوط کئے جاسکتے ہیں۔ فاصلے سمیٹے جاسکتے ہیں، تلخیاں شیرینی میں بدل سکتی ہیں لیکن محبت مادی طرز فکر سے یکسر مختلف ہے۔ محبت تو شبنم اورگل کو وجود میں لانے والے کی یاد سے آباد ہے۔ بعض اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اعلیٰ درجے کے شاعر اور رموز فن کے آشنا سخنور بھی اپنی معصوم شاعری کو مصائب کی تحویل میں دے دیتے ہیں جن سے اخلاق کے اقدار پر ناگوار اثر محسوس ہوتا ہے، یہ کیفیت صرف تخلیق کی راہ میں سدراہ نہیں بلکہ اس کی دشمن بھی بن جاتی ہے۔ اس سنگ راہ سے کوئی چشمہ نہیں پھوٹتا بلکہ کبھی کبھی تخلیقی سوتے ہمیشہ کے لئے بند ہوجاتے ہیں۔ اصولوں سے سمجھوتہ نہ کرنے کا ادعا تو افتخار ذات کے تئیں اکثر کو کرتے سنا۔ لیکن امجد نے اس پر ایک سوالیہ نشان لگا کر فکر کے لئے کچھ نئی راہیں کھول دی ہیں۔ مثلاً گزرتے لمحو مجھے بتاؤ کہ زندگی کا اصول کیا ہے؟ تمام چیزیں اگر حقیقت میں ایک ہیں، تو پھول کیوں ہیں۔ ببول کیا ہے! یا پھر
تمام ہاتھوں میں آئینے ہیں تو کون کس سے چھپا ہوا ہے اگر سمندر کی حد ہے ساحل تو کون آنکھوں میں پھیلتا ہے کسے خبر ہے بدلتی رُت نے پرانے پتوں سے کیا کہا ہے یہ کون بادل سے جاکے پوچھے کہ اتنے موسم کہاں رہا ہے امجد نئی نسلوں کے ان شاعروں میں سے ہیں جن کی جدت پسندی خوف، احساس کمتری، تصنع اور بے ضرورت اور بے معنی علامتوں سے یکسر عاری ہے۔ وہ اپنے شعری وسیلوں میں زندگی کے سمندر کو تختوں سے پاٹنے کے بجائے زمان و مکان کی ساری جہتوں کو اکائی تصور کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی شاعری فطرت کا ایک سیل رواں ہے جو آج کی اس اردو شاعری سے الگ ہے جو ایک منصوبہ بندی کے تحت ہورہی ہے۔ امجد فکر و فن کے مرحلے میں پردہ کے بھی قائل نظر نہیں آتے بلکہ وہ ظلم اور تاریکی کے خلاف نبرد آزما رہے وہ نیکی اور بدی کے درمیان غیر جانبدار نہیں بلکہ خیر کے ہمیشہ طرفدار اور مکمل حمایت پر آمادہ رہے ہیں جس کی وجہ سے امجد کے پاس احتجاج صرف ایک لفظ نہیں بلکہ مظلوم کی طرف سے ظالم کے حق میں ایک کار گر ہتھیار بن جاتا ہے۔ امجد کی شاعری میں ایجاز و اطناب۔ تراکیب اور تخیل میں ایک عجیب بانکپن ہے کہ مثلاً یہ میرے لفظوں کے شاہزارے یہ میری آواز کے مسافر یا پھر
مکان ایسے کھڑے ہیں جیسے گزرنے والوں پہ ہنس رہے ہیں جس طرح جھیل میں ایک کنکر ارتعاش پیدا کرتا ہے یا بے انتظار بارشیں دریاؤں کو روانی دے دیتی ہیں یا پھریخ بستہ ہوائیں نشہ میں مخمور ہوجاتی ہیں اور پھولوں کے بدن خوشبو کے پیرہن پہن لیتے ہیں تو ایک کیف آور ہوا کی آواز امجد کے یہ شعر گنگناتی ہے۔ پت جھڑ کی دہلیز پہ بکھرے بے چہرہ پتوں کی صورت ہم کو ساتھ لئے پھرتی ہے تیری یاد کی تیز ہوا آنکھوں کا رنگ، بات کا لہجہ بدل گیا وہ شخص ایک شام میں کتنا بدل گیا! جب اپنے اپنے حال پہ ہم تم نہ رہ سکے تو کیا ہوا جو ہم سے زمانہ بدل گیا حیرت سے سارے لفظ اسے دیکھتے رہے باتوں میں اپنی بات کو کیسا بدل گیا
شاید وفا کے کھیل سے اکتا گیا تھا وہ منزل کے پاس آکے جو رستہ بدل گیا منظر کا رنگ اصل میں سایا تھا رنگ کا جس نے اسے جدھر سے بھی دیکھا بدل گیا ہر اک صدا جو ہمیں بازگشت لگتی ہے نجانے ہم ہیں دوبارا کہ یہ دوبارا ہے! عجب اصول ہیں اس کاروبار دنیا کے کسی کا قرض کسی اور نے اتارا ہے نجانے کب تھا! کہاں تھا! مگر یہ لگتا ہے یہ وقت پہلے بھی ہم نے کبھی گزارا ہے یہ دو کنارے تو دریا کے ہوگئے ہم تم! مگر وہ کون ہے جو تیسرا کنارا ہے! ہر پل دھیان میں بسنے والے لوگ افسانے ہوجاتے ہیں آنکھیں بوڑھی ہوجاتی ہیں خواب پرانے ہوجاتے ہیں ساری بات تعلق والی جذبوں کی سچائی تک ہے میل دلوں میں آجائے تو گھر ویرانے ہوجاتے ہیں دنیا کے اس شور نے امجد کیا کیا ہم سے چھین لیا ہے خود سے بات کئے بھی اب تو کئی زمانے ہوجاتے ہیں

عکسوں کے درمیان کوئی آئینہ نہ تھا