سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں

کوئی فنکار اپنے ظاہر سے نہیں پہچانا جاسکتا، بلکہ حقیقی فنکار تو اس کے اندر کا چھپا ہوا وجود ہے، جو ہر لمحہ تخلیق کا مطالبہ کرتا ہے۔کسی بھی فنکار کو پرکھنے کی کسوٹی درحقیقت اس کا فن ہی ہے،جس کے وسیلے سے اندر کے فنکار کی پوشیدہ صلاحیتوں کاپتہ چلتاہے، لیکن فن کے نقاد کے لئے یہ کوئی آسان مرحلہ بھی نہیں ہے، اس لئے کہ احساس کی نازک پرت کو الٹ کر اس کی حسیت کو محسوس کرنے کے لئے کوئی سائنسی پیمانہ ایجاد نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی علم الحساب کا کلیہ کہ جس کی رو سے ناپ تول کر فن کی قامت و قیمت‘ اس کی کمیت وحجم کو پیش کیا جاسکے۔اس کے لے تو خود ایک بصیرت و آگہی کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس اندر کے فنکار کے ساتھ سفر کرسکے۔یہ سفر کبھی ایک لمحہ سے بھی کچھ کم میں صدیوں کی مسافت طے کرلیتا ہے اور کہیں اس کے اندر کی بھول بھلیوں میں گم ہوکر خود اپنے آپ کو کھودیتا ہے۔ ایک بلند پایہ فنکار کے لئے یہی ایک لازمی عنصر ہے کہ وہ اپنے اندر کے فنکار کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اپنے وجود کی پوری سا لمیت کے ساتھ تخلیق آمادہ ہو تو اس تخلیق کے لمحے میں فنکار کی سماعت بند ہوجاتی ہے۔وہ خارج سے بے نیاز ہوکر تخلیق کے لمحے میں فنکار کی سماعت بند ہوجاتی ہے۔وہ خارج سے بے نیاز ہوکر تخلیق کے کرب سے گزرتا ہے، لیکن اپنے شاہکار کی تکمیل اسے ایک ایسی آسودگی سے سرشار کردیتی ہے کہ ایک تخلیق کے بعد وہ خود نقاد بن کر ان خامیو کی نشاندہی کرتا ہوا اس سے بہتر تخلیق کے لئیاندرونی تیاری میں مصروف ہوجاتا ہے۔یہ وقفہ کوئی جمود کا وقفہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کی سیر ذات اور سیر کائنات کا وقفہ ہوتا ہے۔ایک حقیقی فنکار اپنے فن کی بلندی پر صلہ اور ستائش سے بے نیاز ہوجاتا ہے ، اس لئے کہ ستائش پر مسرت کا اظہار اور تقریض پر مایوسی کم ظرفی کی علامتہے۔ایک اعلی فنکار کو نہ صرف اپنے فن کا ادراک حاصل رہتا ہے، بلکہ اس کی ذاتی آسودگی ہی اس کی اعلی ترین ستائش ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شہرت پسند اپنی کم مائیگی کی وجہ سے اندھوں سے اپنے رقص کی داد پائیں، بہروں کو بھیرویں سنا کر ستائش حاصل کریں، پست بونوں کے درمیان کھڑے ہوکر اپنی قد آوری کا دعویٰ کریں، لیکن شہر دل کوئی نابیناؤں کا شہر نہں ہوتا،جہاں آئینے بیچ کر جذبوں کی تجارت کی جاسکے۔اظہار کے وسائل میں رنگ ، آواز ،نقاشی اور لفظ ترسیل وابلاغ کے اہم وسائل ہیں، لیکن الفاظ کا فنکار ایک ایسا نازک فنکار ہوتا ہے کہ وہ جذبوں کی تپش کے اعتبار سے الفاظ کا انتخاب کرسکے۔لفظ کے قالب میں خیال پیرہن گل میں خوشبو کی طرح کہ ہوا کلی کو چوم کر جگائے تو اس سے تو پردہ کرے کہ ہوا کی آوارگی اسے رسوا نہ کرپائے اور شبنم کی بوندے یوں خنکی کو جذب کرے کہ خود خوشبو کے بدن سے اٹھتی ہوئی لپیٹ نہاں بھی ہو عیا ں بھی ہو۔الفاظ کے فنکار کے لئے یہ انتخاب اس کی صلاحیت کے قرینے کا ثبوت ہے اور یہ فن کسی کشکول بدست کے بس کا نہیں، وہ تو صرف حسد ہی کرسکتا ہے، جب کہ اعلی فنکار محسودہوتا ہے حاسد نہیں ہوتا۔ مرزا محمد ہادی رسوا کا شمار بھی ایسے ہی اعلی فنکاروں میں ہے، ان کی زندگی کے نہاں خانوں کی سیر رسواؔ کے اندر کی کائنات کے کئی راز منکشف کرتی ہے۔سب سے عجیب بات تو یہ ہے کہ زندگی کے عرصے میں لگتا ہے کہ خود رسواؔ نے اپنے آپ کو تلاش کرنے میں ایک مدت طویل صرف کی ہے اور اس پر طرفہ ستم یہ بھی ہوا کہ زمانے کو مرزا محمد ہادی رسوا یاد بھی رہے تو ان کی ایک تخلیق امراؤ جان کی وجہ سے یاد رکھے گئے۔امراؤ جان۱۸۸۹ء کی اشاعت ہے۔اس وقت رسواء کا سن تقریباً۱۴ برس تھا۔میری نظر میں امراؤ جان اور، مرزا محمد ہادی رسوا کا آئینہ خانہ ہے۔جس میں لکھنؤ کے معاشرے اور اس کی تہذیب کا ہر عکس نہایت موزونیت کے ساتھ موجود ہے اور یہ اس وقت کا معاشرہ ہے، جب لکھنؤ کی تہذیب زوال آمادہ تھی۔کچھ برباد لکھنؤ کی پرچھائیاں،ناآسودہ جذبات کا تلاطم اور پھر رسوا کا انداز بیان ،ان سب عناصر کے قوام نے امراؤ جان کو اس حد تک دلکش نظر آئے کہ کوئی انجینئر فلسفی بھی ہو، یا کوئی فلسفی افسانہ نگار، داستان گویا شاعر بھی ہو، یا کوئی فنکار فلسفہ اور منطق کی مشکل کتابوں کا مترجم بھی ہو، یا یہی فلسفی مترجم اور انجینئر موسیقی کی راگ راگنیوں میں اتنا رسوخ پیدا کرے کہ نہ صرف ان کے نازک فرق کو محسوس کرسکے، بلکہ اس فرق کے ساتھ راگ ،راگنی،سرتال الاپ کو ضبط تحریر میں بھی لاسکے۔ان علامتوں کے ذریعہ ان کے درمیانی فرق کو نہ صرف واضح کیا جائے، بلکہ یہ کیف و کم محسوس کی حدود میں داخل ہو جائے۔چنانچہ مرزا محمدہادی رسواؔ کی زندگی میں نہ صرف یہ تمام شعبے ملتے ہیں، بلکہ جس شعبہ کو انہوں نے صرف چھولیا اسے مالا مال کردیا۔ پہلی جنگ آزادی کے تقریباً ایک سال رہے۔چنانچہ علمی ذوق رسوا کو ورثہ میں ملا۔ان کی والدہ کا سلسلہ ننھیالی اعتبار سے طبا طبائی ہے۔کم عمری ہی میں ماں کے آنچل کی چھاؤں سے محروم ہوئے تو پندرہ برس کی عمر میں سایہ پدری بھی سر سے اٹھ گیا۔گویا: گھر سے نکلے تو وہی دھوپ کھڑی تھی جامیؔ ہم نے سوچا تھا بہاروں نے بلایا ہوگا
جاگیر،جائیداد سب رشتہ داروں نے غصب کرلئے۔کچھ دن ننھیال میں رہے تو روکھی سوکھی بھی سوطعنوں کے ساتھ ملتی تھی۔رسوا کو یہ رسوائی گوارہ نہ تھی، سو لکھنؤ چلے آئے۔جوکچھ بچ رہا تھا اسے بیچ کر تعلیم حاصل کی۔اوائل عمری میں عربی،فارسی،ریاضی اور نجوم اپنے والد سے سیکھا تو شرح جامی کا درس اس وقت کے نامور استاد مولوی محمد یحییٰ سے حاصل کیا۔مولوی کمال الدین نے فلسفہ اور منطق میں طاق کیا۔لیکن انگریزی کے استاد خود مرزا محمد رسوا رہے۔انہوں نے یہ زبان خود سیکھی۔ویسے تو رسوا کو کسی بھی علم حاصل کرنے کی سوجھی تو جب تک اس میں رسوخ نہ حاصل کرلیا، اسی کے ہورہے۔لیکن انگریزی سیکھنے میں ان کی ایک غرض وغایت یہ بھی تھی کہ انہیں کیمیا سے بڑی دلچسپی تھی اور اس زمانے میں کیمیا کی کتابیں ہندوستان میں دستیاب نہیں تھیں۔وہ یہ کتابیں لندن سے منگوایا کرتے تھے اور ا س کی خاطر انہوں نے انگریزی سیکھی۔۱۹۸۵ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فلسفہ میں بی اے کرنے کے بعد یکایک رسوا کو نہ جانے کیا سوجھی کہ رڑ کی کے انجینئر نگ کالج میں اوورسیئر کا امتحان کامیاب کیا اور ریلوے میں بحیثیت سرویر ملاز م ہوئے۔کوئٹہ کی ریلوے لائن اسکے درمیانی ریلوے اسٹیشن کے نقشے ریلوے لائن کے پیچ وخم رسوا نے اس وقتT Odoliteکے ذریعہ اس نزاکت اور اہتمام سے قائم کئے تھے کہ جہاں موڑ آتے وہاں علم ریاضی میںTrignometryکے ضابطوں کی روشنی میں انہوں نے ریل کی رفتار مقرر کرکے ریلوے لائن میںSuperelevationقائم کئے۔وہ اگر اس فن کو جاری رکھتے تو نہ جانے اور کیا کر گزرتے۔ریل میں ایک سفر کے دوران مرزا ہادی نے محسوس کیا کہ ریل کی رفتار جب یکساں رہتی ہے تو ریل کے پہیوں کی پٹریوں پر آواز ایک مخصوصRhythmپیدا کرتی ہے،جس میں موسیقیت پائی جاتی ہے۔اس ذرا سی اپج نے مرزا ہادی رسوا کو فن موسیقی کی طرف راغب کیا تو انہوں نے تقریباً تین سوراگ اور راگنیوں پر عبور حاصل کیا اور اس پرطرفہ یہ بھی کہ انگریزی موسیقی کےNotationsکی طرح ہندوستانی موسیقی کےNotationsتیار کئے،جو آج بھی موسیقاروں کے اسٹینڈ پر آویزاں نظر آتے ہیں۔کوئٹہ میں مرزا ہادی کا ایک مکان تھا‘ اسے فروخت کرکے لکھنؤ چلے آئے تو کرسچن کالج لکھنؤ میں فارسی کے استاد مقرر ہوئے۔ویسے استاد تو فارسی کے مقرر ہوئے،لیکن علمی استعداد کا عالم یہ تھا کہ تاریخ، منطق ،فلسفہ،ریاضی،نفسیات،جس موضوع پر گفتگو کرتے نہ صرف طلبہ بلکہ بڑے بڑے اساتذہ رشک کیا کرتے۔ایک شاعری چھوٹ رہی تھی، سو مرزا محمد ہادی اسی کے عشق میں رسواؔ ہوئے۔زبان تو یوں بھی جو کہہ دیا سو لغت بنی، لیکن رسوانے عروس سخن کو یوں سنوارا کہ فصاحت کا جھومر،طلاقت کا نوسرہار،بلاغت کے کنگن،معنی آفرینی کے بازوبند،محاوروں کی چوڑیاں،تراکیب کی انگشتریاں، صنائع کی پازیب اور تشبیہات کے نورتن کی نتھ اسے زیب دے گئے۔اس پر مستزادیہ کہ ابتداء میں مرثیہ کے مشہور شاعر مرزا دبیر سے اصلاح لی،لیکن خود مرزا دبیر نے ان کے رنگ سخن کو دیکھ کرانھیں محمد جعفر اوج کے سپرد کیا تو ان سے مشورہ سخن بھی شامل رہا۔ رسوا کی طبیعت میں بے نیازی بہت زیادہ تھی۔کالج میں ملازمت کے دوران بھی ان کی غیر حاضریاں اکثر ہوجایا کرتیں، لیکن رسواؔ اس امر سے بے نیاز ہوکر کہ تنخواہ کیا ملے گی اور گزر بسر کیسے ہوگی، وہ اپنے کتب خانے میں گم اور مطالعے میں غرق رہا کرتے تھے۔یہ بات شاید افسانوی محسوس ہو، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک مرتبہ درون خانہ سے رسوا کو رونے کی آوازیں سنائی دیں۔دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ بچہ دنیا سے گزر گیا ۔اپنے ایک دوست کو کچھ روپے دے کر تدفین کا انتظام کروایا اور خود مطالعہ میں غرق ہوگئے۔یہ ان کے فنافی العلم ہونے کی علامت ہے۔رسوابہت زیادہ نازک مزاج تھے۔ان کی طبع حباب کی سی تھی۔مزاج میں تلون ایسا کہ کبھی نسیم سحری چھوجائے تو تاب نہ لاکر ٹوٹ جائیں تو کبھی نکہت باد بہاری سے خفا۔لیکن اسی رسوا کو دُنیا نے حوادث کے طوفان سے بھی ٹکراتے دیکھا۔بس مزاج کی بات تھی جو سماگئی۔سنگ و چنگ کا یہ آہنگ نہ دیکھا نہ سنا۔وہ ہر فن میں اعلیٰ درجہ کے فنکار تھے، اس لئے منتقم نہ ہوئے۔قوت برداشت ختم ہوگئی تو خودپر اتنے برہم ہوئے کہ اپنے ہاتھوں اپنے ہی آنسوؤں کا سوتا خشک کردیا۔ان کی غیور طبیعت کی وجہ سے وہ ذراسی ٹھیس بھی نہ برداشت کرپاتے اور یوں محفل سے اٹھ جاتے جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے۔ رسوا نے زندگی آئینہ خانہ سجانے میں صرف کی، ان کے آئینہ خانے کا عیب یہ تھا کہ وہ مقابل کے چہرے کی نقاب اتار دیتاتھا اور حقیقی چہرہ دکھائی دیتا۔آئینہ اور پتھر کا تو ہمیشہ سے ساتھ ہے، ٹوٹ نہ جائے تو آئینہ کیا اور نہ برسے تو پتھر کیسا؟ لیکن سنگ بدست یہ نہیں جانتا کہ آئینہ ٹوٹ کر فنا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ہر ٹکڑاخود مکمل آئینہ بن جاتا ہے۔پہلے آئینے میں ایک چہرہ دکھائی دیتا تھا تو بکھرے ہوئے آئینوں میں ہزار زاویوں سے ہزار چہرے دکھائی دیتے ہیں۔یہی پتھر کی شکست اور آئینہ کی فتح ہے۔شاید اسی لئے اقبال نے بھی کہا تھا کہ: نہ بچا کے تو رکھ اسے، ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر، ہے نگاہ آئینہ ساز میں شاید یہی وجہ تھی کہ رسوا کے پندار کا آئینہ تو ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر تا رہا، لیکن ان کے خیال کے آئینہ پر کوئی لکیر بھی نہ آسکی اور نہ اس کو کبھی زنگ لگا۔ان کی صلاحیتوں نے کبھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔اپنی شعری اور نثری تخلیقات بیشتر انہوں نے کاسہ بدست قطاروں میں بانٹ دیں اور ان ہی سے پتھر بھی کھائے۔کبھی کبھی اپنی ضرورت کے تئیں انہوں نے انگریزی ناولوں کے ترجمے ناشرین کو ارزاں داموں بیچ دیئے اور پھر گھر پھونک کر تماشہ دیکھنے بیٹھ گئے۔انگریزی ناولوں کے تراجم میں جاسوسی ناولوں کے ترجموں کا سہرا رسوا کے سر جاتا ہے۔خونی مصور، بہرام کی رہائی،خونی شہزادہ اور دیگر کئی ترجمے مشہور ہوئے۔بعد میں تیرتھ رام فیروزپوری اور مظہر الحق علوی نے بھی اس روش کو اپنایا۔ ۶۰ سال کی عمر میں رسوا کرسچن کالج لکھنؤ سے سبکدوش ہوئے، لیکن ہنوز ذوق سفر جاری تھا۔حیدرآباد میں دارالترجمہ کے قیام کے بعد مولانا عبدالماجد دریابادی بھی مترجمین میں شامل تھے، لیکن ایک سال بعد انہوں نے یہ ملازمت چھوڑ دی۔ا ن کی جگہ پر کرنے کے لئے اخبارات میں اشتہار شائع کئے گئے۔رسوا نے بھی اپنی درخواست کے ساتھ تراجم منسلک کئے اور ناظم دارالترجمہ نے رائے ظاہر کی کہ پروفیسر مرزا محمد ہادی چوں کہ مشہور نثر نگار، اعلی پایہ کے انشاء پرداز اور شاعر ہیں۔علاوہ امیں فلسفہ کے بی اے بھی ہیں، ان کا تقرر ہر حیثیت سے مفید ہوگا۔یہ تحریک۱۳؍جولائی۱۹۱۹ء کو آصف سابع کے حضور پیش ہوئی ۔علائم سے پتہ چلتا ہے کہ رسوا کو تین سو روپیہ ماہوار پر تامل تھا،اس لئے وہ چار سو روپیہ ماہوار کے خواہش مند تھے۔چنانچہ رسوا کا تقرر چار سو روپیہ ماہوار پر یوں قرار پایا کہ تین سوروپیہ تنخواہ اور سو روپیہ پرسنل الاؤنس کے طور پر ادا کئے جائیں ونیز ان کی قابلیت کی بنیاد پر عمر اور ملکی صداقت نامہ سے استثناء بھی دیا گیا اور یوں مزار رسوا ۱۸؍ اگست۱۹۱۹ء کو رجوع بکار ہوئے۔دارالترجمہ میں عبداللہ عمادی ،علی حیدر نظم طباطبائی،مرزا محمد ہادی رسوا، جوش ملیح آبادی کے علاوہ مولوی عبدالحق بھی جامعہ عثمانیہ سے وابستہ رہے۔۱۹۱۷ء میں وہ دارالترجمہ کے نگران بھی مقرر کئے گئے۔رسوا کو دو مرتبہ ناظر ادب کی حیثیت سے ترقی کے مواقع میسر آئے۔ایک مرتبہ جب علی حیدر نظم طبا طبائی وظیفہ پر سبکدوش ہوئے، لیکن نظام نے ان کو اپنے فرمان کے ذریعہ پھر سے بحال کیا۔دوسری مرتبہ جب وہ قطعاً سبکدوش ہوئے تو اس وقت جوش ملیح آبادی کے نام کی سفارش ہوئی۔ہر چند کہ رسوا کو ان پر تفوق حاصل تھا، لیکن وہ علمی کام جو رسوا انجام دے رہے تھے، اس کی تکمیل کے لئے ان کی یافت میں تو اضافہ کردیا گیا ،لیکن عہدہ مترجم درجہ اول کی حیثیت سے برقرار رہا۔جوش،رسوا کے انتقال کے بعد بھی تین برس ناظرادب برقرار رہے‘جب تک کہ انہوں نے حیدرآباد سے کوچ نہیں کیا۔ وطن کی یاد کس کو نہیں آتی کبھی بچپن کی معصوم شرارتوں کی یاد، کبھی اپنوں کا پرایا سلوک،کبھی محرومیاں،کبھی اداس اداس سی خوشیاں،کبھی میلوں میں حسرت سے کھلونوں کو تکنا اور عیدکو و الدین کی قبروں پرفاتحہ خوانی۔کبھی جوانی کی جولانیاں،کبھی بند آنکھوں کے جاگتے خواب اور کبھی غنودہ کنج میں آرزوؤں کے رنگ، ان سب نے رسوا کا مسلسل تعاقب کیا۔وہ کتابوں میں خود کو بہلاتے رہے۔جانے کس کا غم تھا اور کیسا غم تھا کہ رسوا جیسا سخت جان بھی ایک بار شعر کے پیکر میں بلک اٹھا۔ان کا یہ شعراتنا ہی عزیز ہے، جتنا میرا اپنا وجود، اور وہ شعر یہ ہے: تم جدائی میں بہت یاد آئے
موت تم سے بھی سوا یاد آئی رسواؔ کی علمی عظمتوں کے اعتراف کے لئے یہی کافی ہے کہ جامعہ عثمانیہ میں فلسفہ اور منطق کے پروفیسر جب رخصت پر ہوا کرتے تو مرزا محمد ہادی ان کی جگہ درس و تدریس کے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔اس کے علاوہ وضع اصطلاحات کی کمیٹی میں بھی رسواؔ بحیثیت رکن شامل تھے۔دارالترجمہ میں اپنی خدمات کے عرصہ میں مرزا محمد ہادی رسوا نے تقریباً دس قیمتی کتابوں کا ترجمہ کیا، جس میں سے نو کتابیں جامعہ عثمانیہ کے دارالطبع سے شائع ہوئیں اور آج بھی آرکائیوز میں محفوظ ہیں۔ ان اشاعتوں میں مفتاح المنطق حصہ اول اور حصہ دوم از W.D. Joseph ۱۹۲۳میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی۔یہ ترجمہ انگریزی سے کیا گیا۔۱۹۲۵ء میں شہاب الدین سہروردی کی کتاب حکمت الاشراق کا عربی سے ترجمہ کیا، وہ شائع ہوا۔۱۹۲۷ء میں ولیم میک زوگل کی معاشرتی نفسیات، ۱۹۲۹، میں آکیسے کی مفتاح الفلسفہ، ٹی جے بوٹر کی تاریخ فلسفۂ اسلام، جی ایف اسٹنوٹ کی مبادی علمبعد۱۸۵۸ء مرزا محمد ہادی رسوا کی سن ولادت ہے۔ان کے والد مرزا محمد تقی آصف الدولہ کی فوج میں اعلی عہدہ دار

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں