کہ میرے ناز تو بس کوزہ گر اٹھاتا ہے

ہم نے تو اس نابینا حکیم کو نہیں دیکھا جو نبض تھام کر نسخہ تجویز کردیتے تھے اور مریض کو شفا ء ہوجاتی تھی۔ ان کے تعلق سے تو افسانوی انداز کی روایتیں بھی مشہور ہیں کہ کسی خاتون کی نبض انگلیوں سے تھام کر نہیں دیکھی بلکہ قابلہ خاتون مریض کی کلائی میں دھاگہ باندھ دیتی تھی اور وہ کلائی میں بندھی ڈور کو تان کر مریض کی سانس کی ڈور سے یوں جوڑ لیتے تھے جیسے زندگی کی ڈور ان کی تاثیر مسیحائی سے پیوست ہوگئی ہو۔ یوں حکیم اجمل خاں کی طب اور حکمت کے بھی بہت سے واقعات مشہور ہیں۔ یہ تو خیر وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنی ہر سانس کو وقف کردیا تھا اور نسخہ پر ھوالشافی لکھ کر خاک پڑیا میں باندھ دیتے تھے تو اکسیر ہوجاتی تھی۔ لیکن میرے بچپن میں بھی بچوں کا ڈاکٹر یا حکیم کوئی علحدہ نہیں ہوتا تھا بلکہ گھر کی بڑی بوڑہیاں نوزائیدہ بچے سے لے کر لڑکپن تک ہر مرض کا علاج خود کر لیتی تھیں۔ کائفل۔ گائے روغن‘ نیلگری کا تیل، تلسی کے پتے، برگ صدف تو گھر گھر ہوتا تھا۔ سینکڑوں ٹوٹکے ان گھر بیٹھنے والیوں کو یاد تھے محلے میں کسی بچے کی ہنسلی مونڈہا چڑھا دیا، کسی کی گردن بل کھائی تو لٹکا کر ٹھیک کر دیا‘ کسی کی کمر میں لچک آگئی تو مال کنگنی کا تیل لگاتیں تو مریض کے گھر سے تھوڑئ منگاتی تھیں سب اللہ کے واسطے ہوتا تھا۔ محلے کے بچے دن دن بھر پڑوسیوں کے ہاں کھیلتے رہتے، کھاتے پیتے مزے اڑاتے۔ ناند میں بھیگتی شکر گٹھلیوں کو شوق سے چوس کر تمام کر دیتے تو کیا مجال جو کسی کی پیشانی پر کوئی بل آجائے الٹے کھیلنے میں کہیں چوٹ آگئی تو پڑوسن اپنے بچے کی طرح ہلدی چونا لگا کر کالی ماش بھلاؤں کا صدقہ اتار کر چٹ چٹ اپنی انگلیوں سے بلائیں لے لیتی تھی کہ کوکھ دوسرے کی سہی مامتا تو اپنی ہے۔ جب سے مائیں لوریاں دینا بھول گئی ہیں خود ماؤں کی آنکھوں میں بھی بانجھ پن جھلکنے لگا ہے۔ بھلا کریچ میں پلنے والے گوشت کے لوتھڑوں کو کیا معلوم کہ لوری کس کو کہتے ہیں۔ میر حسن، شاہد صدیقی، رائے محبوب نارائن یہ اگلے لوگ جیتے ہوتے تو موتی برساتے۔ میں ٹہرازبان کا پھوہڑ ان کا سا طرز بیان کہاں سے لاؤں۔ اگلے تو گئے بس اب پر چھائیاں رہ گئی ہیں۔ شاید ان پرچھائیوں کو بھی اندھیرے نگل جائیں گے تب ہم جیسے ننگ اسلاف بھی شاید یاد رکھے جائیں۔ قناعت توکل و ضعداری یہ لفظ تو صرف لغات میں رہ گئے بھلا ان کا زندگی میں کیا دخل۔ روپے اور دولت کو جب سرمایہ کاری کی راہ دکھائی گئی تو اب آگے آگے ضرورتیں ہیں اور پیچھے پیچھے ضرورت مند‘ ریت کے ٹیلے اور سراب کا سا معاملہ ہے۔ جب تک انسا ن ہانپتا کانپتا منزل کو پہنچتا ہے منزل پھر کوسوں دور ہوجاتی ہے۔ بس ایک ابدی پیاس مقدر ہے۔ ہمارے لڑکپن میں کسی پر ہاؤ ہاؤ کا بھوت سوار نہ تھا قارون کی طرح دولت اندوزی کا ہنر سیاستدانوں نے بھی نہیں سیکھا تھا۔ ہاں خواب دکھانے کی ہنر مندی ان کے خون میں رچی بسی تھی۔ انسانوں میں انسانیت اتنی سمائی ہوئی تھی کہ روکھی سوکھی کھاکے کوری صراحی کا ٹھنڈا پانی پینا اور چین کی نیند سونا ہر ایک کو عزیز ہوتا۔ دکھ بیماری تو اس زمانے میں بھی تھی۔ میرے پڑوس میں حکیم محمد اعظم صاحب کا مطب تھا۔ سفید ریش، نورانی چہرہ، پیشانی پر سجدوں کا نشان۔ وہ گجردم اپنے مطب میں آبیٹھتے ۔ابھی رات سورج کے سامنے بے حجابی کے خوف سے روپوش ہوا چاہتی کہ ان کے مطب میں ہاون دستوں کی کھرل شروع ہوجاتی۔ سفوف کی پوڑیاں، روغنی مٹی کی کلیا میں معجون ‘ جوارش، خمیرہ نہ کوئی لیباریٹری نہ تجربہ گاہ نہ خوردبین نہ مشینیں۔ بہت ہوا تو قار ورہ دیکھ لیا بس ایک نظر تھی جو آرپار دیکھتی اور پھر دوات میں پتی کا قلم ڈبو کر پہلے ھوالشافی لکھا نیچے خط شکستہ میں ایک دو لفظ لکھ کر خوراک مقرر کردی۔ دو دن بعد دیکھئے زرد چہرہ پھول کی طرح کھلاہوا۔ آنہ دو آنے کسی نے دے دےئے تو سارے دن کے مطب میں بس ریزگاری ہاتھ رہی مگر دعاؤں سے مالا مال یوں اٹھے کہ دعائیں سمیٹنے ہاتھ کافی نہ ہوئے تو دعائیں دامن سے لپٹ کر رہ گئیں۔
فرنگیوں کا دور تھا سر سید نے نئے چراغ جلائے تھے۔ ضوفشانی دکن تک آپہنچی جامعہ عثمانیہ کے دامن میں بھی طب مغرب نے جگہ پائی۔ طب یونانی کی جگہ آہستہ آہستہ ہومیوپیتھی طرز علاج بھی رواج پانے لگا مگر انسان دوستی اور مریض سے ہمدردی دونوں جگہ قدر مشترک رہی۔ بات دراصل طریقہ علاج کی نہ تھی مخلص جذبوں کی تھی۔ یونیورسٹی نے بھی ڈاکٹر بنکٹ چندر۔ عبدالمنان، آرآر سکسینہ، عبدالباری، مصطفیٰ علی زیدی، احمد علی زیدی، ابوالحسن صدیقی، شانتا بائی، مسکرینس،
کرلوسکر جیسے مایہ ناز فرزند پیدا کئے۔ ان سب کے مطب پر بے پناہ ہجوم ہوا کرتا تھا۔ پلیگ کی وبا چلی تو بستیاں خالی ہوتی چلیں مگر ڈاکٹر اپنا بیگ لئے ایک گھر سے دوسرے گھر میں طاعون کا علاج کرتے پھرتے رہے۔ ڈاکٹر مصطفیٰ علی زیدی اور آرآرسکسینہ کے مطب پر ہجوم کا عالم یہ ہوتا کہ ایک پیر پر کھڑے ہونے کو جگہ نہ ہوتی۔ ڈاکٹر عبدالمنان صاحب کا شمار بہت زیادہ قابل ڈاکٹروں میں ہوتا تھا وہ شاہی طبیب بھی تھے۔ ان کے نام کے آگے ڈگریوں کی قطار صف باندھے کھڑی رہتی۔ ایم بی بی ایس عثمانیہ، ایم آر سی پی لندن، ایم آر سی پی ایڈنبرا، ڈی ٹی ایم ایچ لندن اور نہ جانے کیا کیا۔ جب میری شادی ہوئی تو میری عمر 21 برس تھی اور میں ایر فورس میں ہواؤں کے دوش پر تھا۔ شادی کے لئے صرف دس دن کی رخصت ملی اس وقت مجھے احساس ہوا کہ دس دن تو ایک پل سے بھی کچھ کم ہوتے ہیں۔ اور یہ احساس بھی اس وقت ہوا جب 28 دن گذرچکے تھے۔ میری آنکھوں میں کورٹ مارشل کا منظر پھرنے لگا تو امید کی ایک کرن مجھے منان صاحب کی صورت میں نظر آئی۔ میں ڈاکٹر صاحب کے پاس پہنچا اور تکلیف بتلائی کہ سینے میں بائیں طرف درد ہوتا ہے کبھی کبھی یہ درد ہاتھ تک پھیل جاتا ہے۔ ایک وحشت سی وحشت ہے۔ بھوک قطعاً نہیں لگ رہی ہے۔ دل بیٹھا بیٹھا سا لگ رہا ہے۔ میں سب کچھ کہتا رہا اور انہوں نے صرف نگاہ غلط انداز مجھ پر ڈالی اور پوچھا کیا کرتے ہو میں نے کہا ایر فورس میں ہواؤں کے دوش پر اڑتا ہوں تو فوراً قلم اٹھا کر لیٹر ہیڈ پر نہ جانے کسی بیماری کا نام لکھ کر اگلے تین دن بعد کی تاریخ تک کامیڈیکل سرٹیفکٹ لکھ کر کہہ دیا کہ بیماری ایک مہینے سے زیادہ نہیں رہنی چاہےئے۔ تمہاری بیماری گھر پر محفوظ رہے گی جب چاہو آکر گلے لگا لینا اب پھر سے نوکری پر سدھارو۔ میں دنگ رہ گیا کہ میں نے تو یہ تذکرہ تک نہیں کیا تھا۔ میں نے فیس پوچھی تو کہا کہ تمہاری بیماری کے بالوں میں موتیا کا گجرا سجا دینا۔
منان صاحب کی سادگی کا عالم یہ تھا کہ اگر کوئی مریض فیس دیتا تو یوں گردن جھکا لیتے جیسے فیس لے کر شرمسار ہو رہے ہوں اور کثرت سے غرباء کے لئے نہ صرف دوائیں بلکہ غذا کے لئے بھی اپنی گرہ سے کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کر دیتے۔ حکیم محمد اعظم ہوں یا محمود الرحمٰن ڈاکٹر منان صاحب ہوں یا مصطفیٰ علی زیدی صاحب ان سب میں ایک قدر مشترک تھی کہ یہ لوگ کبھی مریض کا علاج نہیں کرتے تھے بلکہ مرض کا علاج کرتے تھے‘ ان کے پیش نظربلکتی انسانیت تھی اور یہ لوگ انسان پہلے تھے پھر طبیب اور ڈاکٹر سچ پوچھئے تو اس زمانے میں الگ الگ مرض کے الگ الگ ماہرین بھی نہیں تھے۔ نہ اتنی بیماریاں تھیں نہ دوائیں۔ ہوا، پانی، اناج، سبزی، ترکاری، تیل، گھی، کسی میں ملاوٹ نہیں۔ آج ڈھونڈنے پر زہر بھی اصلی نہیں ملتا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد نہ جانے کدھر سے دق اور سل، کا مرض ریاست میں داخل ہوا۔ نظام نے دبیر پورہ میں فوراً اسکا علحدہ دواخانہ قائم کروایا اور خوشگوار آب و ہوا کے ساتھ وقارآباد کے قریب اننت گری کی خوبصورت پہاڑیوں پر سینٹوریم بھی بنایا ۔خوش انتظامی کا عالم یہ تھا کہ اچھا بھلا آدمی بیمار ہونے کی تمنا نہ کرے تو کم از کم بحیثیت تیمار دار رہنے کی آرزو کرے دوائیں اور عمدہ غذائیں سرکار کی طرف سے سربراہ ہوتی تھیں اور وہ لوگ جو گھر ہی پر علاج کو ترجیح دیتے ان کے لئے رعایتی قیمت پر پینسلین آٹھ آنے میں مل جاتی تھی اور ساتھ میں نسخہ کے ساتھ PAS مفت دی جاتی تھی۔ خلیجی ممالک میں تیل کے کنویں کیا ابل پڑے تعلیم کے نور کو دولت کی چکا چوند نے مدھم کردیا جو پوسٹ گریجویٹ تھے وہ تو چند سو روپئے مہینے میں پاتے اور انٹرمیڈیٹ کامیاب بھائی کا بینک ڈرافٹ ہر ماہ ہزاروں روپیوں کا آجاتا تو ایک ہی گھر میں امیری غریبی کی دھوپ چھاؤں آرزووں اور حسرتوں کے بیچ کی سرحدیں بھی بنتی گئیں۔ بچپن تو بچپن ہے بجلی سے چلنے والے کھلونے دیکھ کرمچل جاتا تو باپ مفلسی کی وجہ سے رات دیر گئے گھر آنے کے بہانے ڈھونڈتا اور اس وقت لوٹتا جب کھلونے کے خواب دیکھتے دیکھتے بچہ فرش ہی پر سوجاتا۔ غالباً 1981ء کی بات ہے اٹل بہاری واجپائی وزیر خارجہ بنے تو انہوں نے سب کو پاسپورٹ تھما دیا کوئی نوجوان گھر میں نہ رہا جن کے گھر بیٹے نہ تھے اور مفلسی میں بیٹیوں کے سر کا آنچل بھی پھٹا تھا وہاں بوڑھے گدھ اپنے ہوس زدہ پنجوں میں معصوم چڑیوں کو لہو لہان کر کے انہیں پیڑوں کے نیچے پھینک کر اڑ گئے جن پیڑوں پر ان کے گھونسلے تھے اور بچپن میں ان کی ماں انھیں اپنے ہاتھ سے دو دو نوالے کھلا کر خود بھوکی سو گئی تھی۔ حرام حلال سمجھانے والوں نے شاید کبھی نہیں سوچا کہ چڑھی ہوئی ندی کی طغیانی کچی مٹی کے کمزور بند سے نہیں رکتی بلکہ اپنے اطراف کی زمینوں کو بھی لے ڈوبتی ہے یہ غلط نہیں کہ تاریخ اپنے کو دہراتی ہے نظام سقہ کی ایک دن کی حکمرانی ایک مہینے کے لئے آندھراپردیش میں بھی آئی تھی۔ بس اس عرصہ میں ہر چمڑے کا سکہ اشرفی برابر جو ہوا تو عبادت گاہیں تجارتی منڈیاں بن گئیں۔ نئے نئے فنون کے کالجس نے تعلیمی اداروں کو اشرفیوں کی ٹکسال بنا دیا ۔ لاکھوں روپئے کے ڈونیشن اور اتنا ہی تعلیم پر خرچ سرمایہ کاری تو منافع چاہتی ہے سوڈگریاں تو خریدی جاسکتی تھیں کہ انسانوں کے بس میں تھیں مگر دست شفانہ مل سکا کہ وہ تو مقدر سے ملتا سے اور تقدیریں لکھنے والا قلم تاجروں کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ تاجروں کے ہاتھ میں تو اپنا نام لکھنے والا قلم بھی نہیں۔ ویسے بھی عالیشان بنگلے جن کی آرائش و زیبائش کے ساتھ موسم کا اثر بھی گھر کے اندر نہ پہنچے وہ ٹھنڈا جہنم بن گئے۔ قیمتی موٹر کاریں شخصیت میں تمکنت پیدا کرنے کیلئے گردنوں کی نسوں کو طنابوں کی طرح کھینچ دیں تو پھر دردِ دل سوز جگر خدمت خلق ان بے معنی الفاظ کی کوئی قیمت تو نہیں ہوتی۔ تکلف بر طرف۔ میری آج تک یہ سمجھمیں نہ آیا کہ آخر بہی خواہان ملت کو کیا پڑی ہے کہ وہ ’’سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے‘‘ کے مصداق گھلے جارہے ہیں کبھی ایمسیٹ کی کوچنگ، کبھی فوج میں داخلوں کی تیاری، کبھی امتحانات سے پہلے گائیڈس کی مفت سربراہی، کبھی اردو کی ترقی کا غم، اچھے بھلے کاروباری لوگ ہیں چٹپٹی خبریں شائع کریں سنسنی پیدا کریں، مرچ مصالحہ لگا کر جھوٹی سچی خبریں بنائیں۔ ہُن بر سے گاہُن ‘ملت کا درد آپ کو کیوں ہو یہ کام تو سیاستدانوں کا ہے جنہوں نے غریبوں، ناداروں، بیماروں، کمزوروں کو برسوں سے خواب دکھائے ہیں اور ان ہمدردان ملت کو شاید یہ نہیں معلوم کہ غریب صرف خواب دیکھ کر ہی زندہ رہتا ہے اس کا کھانا پینا، رہنا، گھر مکان تعلیم روزی روزگار سب خواب سے جڑی ہے اس کے لئے بیٹی کی شادی اور بیٹے کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا سب خواب ہے اس کے لئے تو بیمار کا علاج بھی خواب ہے اس لئے کہ اب ڈاکٹر رہے کہاں؟ اپنڈس کے آپریشن کے بہانے اگر گردہ نکال لیا جائے یا مریض کے معائنہ کے بہانے اس کی توہین جبری ہوجائے تو غریب تو صرف صبر کرسکتا ہے اور موت پر شکرادا کرسکتا ہے کہ باقی پسماندگان کی روٹی تو مل سکے گی۔ لیباریٹریوں اور دواؤں کی قیمت نہ اس کی گرہ میں ہے نہ تقدیر میں۔ مگرمجھے شاید ابھی امید سحر باقی ہے۔ کسی تقریب میں کسی وزیر سے ہاتھ ملاتے وقت میں اپنی کرسی سے کھڑا بھی نہیں ہوتا اور پھر حساب سود و زیاں میں یہ محاسبہ کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ مجھے عجیب سا معلوم ہوتا ہے مانا کہ ہم نے ڈاکٹر عبدالمنان، ڈاکٹر بنکٹ چندر، ڈاکٹر بہادر خاں، ڈاکٹر آرآر سکسینہ جیسے طبیب کھودئیے لیکن سوپر اسپیشلٹی ہاسپٹلس میں Ventilators میں سانس لیتی ہوئی میتیں‘ جب تک جیب میں آخری روپیہ ہے دیکھنے کو تو مل گیا۔ مانا کہ ہم میں ڈاکٹر حفیظ قتیل، ڈاکٹر زینت ساجدہ، ڈاکٹر عبداللطیف، ڈاکٹر ہاشم علی اختر جیسے اساتذہ نہ رہے مگر میمورنڈم اور مارکس تو خریدا جاسکتا ہے۔ تو میرے احباب مجھ سے ہمیشہ یہی کہتے ہیں جس طرح رزق میں کوتاہی کا شکوہ خالق کے بجائے اپنے ناقص اور ناتراشیدہ نظام سے ہونا چاہےئے اسی طرح علم کے نور کو ہر خاص و عام تک پہنچنا چاہےئے اور نہ پھنچے تو اس کا محاسبہ علم کے سوداگروں سے کیا جانا چاہےئے جنہوں نے عبادت کو تجارت بنادیا ہے۔ تاکہ ہم کھلی ہوا میں سانس تو لے سکیں اور پھر جب گھر کا آنگن بڑا ہوجائے تو میرے بچوں کے ہم عمر سب ہمارے اپنے بچے ہیں۔ جو ان بچوں کو اپنا نہیں سمجھتا وہ اپنے بچوں کا بھی کچھ نہیں لگتا۔ وہ تو ایک فرعون ہے ذہانتوں کا قاتل بچوں کا قاتل لیکن جب ان بچوں کا حوصلہ میں نے غور سے دیکھا تو ہر چہرہ پر لکھا تھا۔ میں نرم مٹی ہوں تم روند کرگزر جاو کہ میرے ناز تو بس کوزہ گر اٹھاتا ہے

کہ میرے ناز تو بس کوزہ گر اٹھاتا ہے