راشد آزر...فن سے فنکار تک ایک سفر

راشد آزر کے فن اور شخصیت پر کچھ لکھنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔کسی فنکار کے وجود کی گہرائیوں تک پہنچنا ایک امر محال ہے ، اس لئے کہ تہہ در تہہ شخصیت کے نہاں خانے، ان کے اسرار اور پھر بند دروازے کو کھولنے والا حرف خفی میسر آئے تو کہیں جاکر اس شخصیت کے طلسم کدے کا ساتواں در کھلتا ہے۔ان تمام پیچ در پیچ راہوں اور راہداریوں میں ہزار ہزار شبوں کی بیداری اور تمام رات کہانی کہنے کا فن بھی چاہئے۔اس کے باوجود یہ کہ جس عنصر کے جوہر کی تلاش ہے وہ وجود کے زندان میں کہاں اسیر ہے اور اس کی رہائی کی کیا شرائط ہیں،ہنوز ایک راز سربستہ ہے۔فن سے فنکار تک کی رسائی کے اس ذوق سفر کی خاطر اُردو کے مشہور استاد ،نقاد اور شاعر پروفیسر مغنی تبسم نے’’نقد حیات‘‘ کے مقدمہ میں ایک راستے کی طرف نشاندہی تو کی ہے، لیکن یہ رہگزر کوئی صاف سپاٹ اور سیدھی نہیں ہے، بلکہ بہت ہی پرپیچ اور ناہموار خارزاروں سے ہوکر گزرتی ہے۔انہو ں نے ملاوجہی کی بتائی ہوئی عشق کی تین صورتیں بیان کی ہیں۔اول عشق سلامتی،دوم عشق ہلاکتی اور سوم عشق ملامتی۔جس کی وضاحت میں وہ رقمطراز ہیں کہ عشق علامتی وہ ہے کہ جہاں دونوں محبت کرنے والے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوں۔محبوب روبرو ہواور کوئی خو ف نہ ہو۔عشق ہلاکتی کی شرح انہوں نے یوں کی ہے کہ بقول ساحرؔ ’’میں ترستا رہوں تو غیر کی بانہوں میں رہے‘‘ عشق ملامتی کو وہ زن بازاری سے منسوب کرتے ہیں کہ رسوائی،رقابت،حسد،بے وفائی،بے مہری،التفات مصنوعی کے باوجودجہاں سب کچھ گوارہ ہو۔پھر بھی وہ اپنے اس عشق ملامتی میں ڈوب کر’’دن کی بیوہ رات کی دلہن‘‘ میں اس قدر محو ہوجائے کہ خارج کی تمام آوازوں سے بے نیاز اپنے دل کے نہاں خانوں میں ایک تصوراتی انجمن تمام عمر سجائے رکھے اور پھر اس کا بھی طالب ہو کہ’’اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہئے۔‘‘ پروفیسر مغنی تبسم نے ملا وجہی کی بیان کردہ تینوں صورتوں کے علاوہ ایک اور صورت کشیدکی ہے، جو کسی غیر شادی شدہ لڑکی سے ہوتا ہے، جسے انہوں نے اپنی اصطلاح میں’’عشق رفاقتی‘‘ کا نام دیا ہے۔اس کے بعد وہ رقمطراز ہیں کہ راشد آزر کی شاعری کا غالب عنصر اور بنیادی محرک عشق ہے۔ان کی وضع کردہ اس کلیہ سے انکار محال ہے، لیکن ا س سے اتفاق محال تر ہے۔اس لئے کہ اس کے بعد وضاحت اور ان گتھیوں کو حل کرنے کے لئے ایک وسیع ترین علم نفسیات کی مہارت ضروری ہے۔میری علمی بے بضاعتی اس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔خود مغنی صاحب ایک مستند استاد تھے۔ایک بلند پایہ شاعر کی حیثیت سے بھی’’مستند ہے ان کا فرمایا ہوا‘‘ لیکن ان کی دی ہوئی رعایتوں کے تئیں میری اس جرأت کو وہ یقیناًدر گزر فرماتے کہ ان کی تراشیدہ اصطلاح ’’عشق رفاقتی‘‘ سے کشید کرکے میں یہ کہہ سکوں کہ ایک قسم’’عشق توفیقی‘‘ بھی ہے۔یہاں میں لفظ عشق ‘‘ کو اگر محبت سے بدل لوں تو یہ قباحت بھی دور ہوجائے کہ یہ لفظ ،، عشق ،،دور کے بدلتے بدلتے کچھ سبک سا ہوگیا ہے۔ورنہ میرؔ کے دور میں تو بہت معتبر تھا کہ جہاں’’عشق میرؔ ایک بھاری پتھر ہے۔کب کسی ناتواں سے اٹھتا ہے‘ کی گرانی کاحامل تھا۔دراصل یہ عشق توفیقی جسے میں محبت سے تعبیر کررہا ہوں، اسے تلاشنے کی صورت یہی ہے کہ دُنیائے آب و گل سے جب یہ کرۂ وجود تخلیق پائے اور زمین پر آتے آتے جب دو نصف کروں میں تقسیم ہوجاتا ہے تو ہر دو نیم کرے پھر سے ایک دوسرے سے پیوست ہوکراپنے وجود کی سا لمیت چاہتے ہیں۔گردش زمان و مکان میں یہ کرے اپنی تلاش پیہم میں مصروف ومشغول رہتے ہیں۔کبھی ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ دونوں ذرا سے فاصلے سے بہت قریب سے گزر بھی جاتے ہیں۔ جس میں کبھی وقت او رکبھی حالات و حوادث کے فاصلوں کی وجہ سے یہ مل نہیں پاتے۔کبھی اسی ساخت اور قطر کا نصف کرہ اپنی چھبی دکھلاجاتا ہے تو یہ گمان گزرتا ہے کہ کہیں یہ وہ تو نہیں۔بہرحال اندر کے آدمی کی تلاش مسلسل سفر میں ہے۔کبھی کبھی کچھ بکھرے ہوئے سالمات کے ساتھ یہ پیوستگی ہو بھی جائے تو بکھرے ہوئے سالمات کی وجہ سے یہ قربت دور سے پیوستگی تو نظر آتی ہے،لیکن بہت قریب سے دیکھا جائے تو ان کے درمیان ایک ہلکی سی لکیر اور اس کا ناہموار خط ایک خوبصورت سمجھوتے کی شکل بن جاتے ہیں، جس کا طویل اتصال محبت کی خوش گمانی کی ایک صورت گری ہے۔کبھی آئینہ خانے میں عکس جمال اس فریب میں مبتلاء کردیتا ہے کہ فاصلے کا تعین نہیں ہوپاتا اور یہ کیفیت بھی گزر جاتی ہے کہ ’’بہت قریب جو آیا تھا اجنبی ہوجائے ‘‘ راشد آزر کی شاعری میں یہ دھوپ چھاؤں کی آنکھ مچولی کا پرتو خال خال بہت واضح دکھائی دیتا ہے۔ایک او رکیفیت کہ لڑکپن اور جوانی کے بیچ کا وہ لمحہ جب کچے رنگوں کو یہ احساس نہیں رہتا کہ دھوپ تو کجا اوس بھی رنگ پھیکے کردیتی ہے۔وہاں خوابوں کے رنگ بہت شرمیلے اور کچے ہوتے ہیں۔ملتی جلتی شباہتیں دیکھ کر’’جی اپنا مزہ چاہے جاں اپنی طلب چاہے‘‘ لیکن لڑکپن کی جھجک اظہار مدعا سے گھبرائے اور ادھر نودمیدہ کلی غنچہ بننے سے پہلے اپنی ایک پنکھڑی کو ہلکا سا خم دیئے ہوئے ہو اور دونوں اپنی پیاس کو سمیٹے آگے بڑھ جائیں تو یہ کسک عمر بھر یوں بھی رہ جاتی ہے کہ جیسے شاخ سے ٹوٹا ہوا پتہ تو ہوا کے دوش پر سفر کرلے، لیکن عمر بھر کے لئے شاخ پراپنا ہلکا سا نشان چھوڑ دے، جیسے زخم کے بھر جانے کے بعد کانشان، جورستاتو نہیں لیکن یاد کا دیا ضرور رشن رکھتا ہے۔ شیلی،کیٹس،ساحر،اختر شیرانی،راشد آزر،پروین شاکر،سب کے سب شب گزیدہ ہیں اور یہ کیفیت ان کے پاس کہیں بہت واضح اور کہیں پرچھائیاں سی، مگر دکھائی دے جاتی ہیں۔ساحرؔ نے ایک جگہ کہا ہے: اب نہ ان اونچے مکانوں میں قدم رکھوں گا
میں نے اک بار یہ پہلے بھی قسم کھائی تھی اسی سرمایہ و افلاس کے دو راہے پر زندگی پہلے بھی شرمائی تھی جھنجلائی تھی اور یہ عہد کیا تھا بصد ایں حال تباہ اب کبھی پیار بھرے گیت نہیں گاؤں گا کس نے چلمن سے پکارا بھی تو بڑھ جاؤں گا کوئی دروازہ کھلا بھی تو پلٹ آؤں گا پھر ترے کانپتے ہونٹوں کی فسوں کار ہنسی جال بنتی رہی بنتی رہی بنتی ہی رہی میں ہٹا تجھ سے مگر تو مری راہوں کے لئے پھول چنتی رہی چنتی رہی چنتی ہی رہی برف برسائی مرے ذہن و تصور نے مگر دل میں اک شعلہ بے نام سا لہرا ہی گیا تیری چپ چاپ نگاہوں کو سلگتے پاکر میری بے زارطبیعت کو بھی پیار آہی گیا مگر ایک موڑ پر ساحر نے کہا: ابھی روشن ہیں تری گرم شبستاں کے دیئے نیلگوں پردوں سے چھنتی ہیں شعائیں اب تک اجنبی بانہوں کے حلقے میں مچلتی ہوں گی تیرے مہکے ہوئے بالوں کی ردائیں اب تک شعر کی صورت میں خیال سے پیکر تراشی کی یہ صناعی ساحر کے پاس نہ صرف خوبصورت ہے، بلکہ خیال اور پیکر میں ہوبہو کی سی کیفیت پائی جاتی ہے ۔راشد آزر کے پاس ایک کیفیت کچھ یوں ملتی ہے: ہر ایک گام پہ میں تم کو یاد کرتا تھا مگر بتا نہ سکا تم سے پیار کرتا ہوں میں پوجتا ہوں تمہیں پھر بھی تم سے کہہ نہ سکا تمہاری شرم سے بوجھل نظر پہ مرتا ہوں جھلس گئے ہیں تمہاری سہاگ رات کے پھول بسی ہوئی ہے مگر اب بھی میرے دل کی فضاء مجھے گناہ محبت کی مل رہی تھی سزا اس پوری کیفیت کو کچھ یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ’’عجیب دکھ ہے عجیب غم ہے۔نہ شام اگر لائے غم کے سائے۔نہ درد تنہا جو شب جگائے۔اگر نہ یوں اس کی یاد آئے۔تو کیا یہ دل شاد ہوسکے گا۔خرابہ دل کا بری بلا ہے۔نہ کم ہوئی جس کی سائیں سائیں۔کبھی وہ چہرہ جو دیکھتا ہوں۔اداس تنہا دکھی دکھی سا۔کبھی کبھی دن کے وقت جیسے۔بجھا بجھا چاند آسماں پر۔تو سوچتا ہوں کہ اس کا غم میں ۔سمجھ بھی لوں گا تو کیا کروں گا۔وہ لمحہ ہوتا ہے کتنابھاری۔میں سوچتا ہوں کہ آگے بڑھ کر۔پکڑکے بازو کو اس سے کہہ دوں۔’’اب آؤ بھی ایسی بات کیا ہے‘‘ مگر کبھی ہوسکا نہ اتنا۔میں بن کے انجان اس سے خود سے۔گزر گیا ہوں نظر بچائے۔بچا کے اک دوسرے سے نظریں ۔گزر ہی جاتے ہیں بن بلائے۔بہت سے لمحات ایسے مل کر۔یہ عرصۂ ہجر بن گئے ہیں۔کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں۔پکڑ کے بازو سے کوئی مجھ کو کہے’’آزر آؤ تم کہا ں تھے۔تم ایک عرصہ سے گم کہاں تھے۔یہ حال کیا کرلیا ہے اپنا۔تو کیا یہ دل شاد ہوسکے گا۔یہی نہیں میں نے یہ بھی سوچا۔پکڑ کے بازو سے آدمی یہ کہہ اٹھتا ہے کہ: تجھ کو کھوکر جو کچھ پایا
تجھ کو پاکر کھوسکتا تھا اور وہ شاید اس طرح شکوہ سنج بھی ہو کہ: مکین چھین کے آزرؔ مکاں دیا مجھ کو مجھے تو اس سے یہ اُمید تھی کہ گھر دے گا جرس موت کے آگے زندگی کی سارنگی کی حیثیت کیا ہے۔وہ بھی ایک جبر ہے یہ بھی ایک جبر سا ہوجاتا ہے۔جس میں ایک بندھا ٹکا سا معمول ہے، نہ کوئی مدوجزر نہ کوئی زیر و بم، نہ کوئی کیف وکم نہ کوئی نغمہ نہ لَے۔روز و شب کا سلسلہ جیسے بہتے پانی کا تسلسل۔آفتاب شب کے سراغ میں سارا دن گزار کے تھکا ماندا غروب ہونے کو ہو اور رات اپنے گیسوئے برہم سنبھال چاندنی کی ردا سر پر ڈالے یوں نکلتی ہے کہ کبھی آفتاب کے آگے بے حجاب نہ ہوئی۔تب زندگی کو پتہ چلتا ہے کہ تمازت آفتاب یا ہجر و فراق شب کی ایک کیفیت ہے۔وقت تو رواں دواں ہے۔راشد آزر کے آنگن میں: وہی گل مہر کا پودا بڑے ہی چاؤ سے تم نے جسے بویا تھا اب بھی ہے اسی کی چھاؤں میں ہم بیٹھتے تھے کل اس پر اک پپیہا بے بسی سے پیہو پیہو کررہا تھا اکیلے میں کلیجہ شاید اس کا پھٹ رہاتھا تمہیں گھر سے گئے مدت ہوئی ہے جواں ہونے کو آیا اپنا بیٹا اتنے عرصے میں ہمارے گھر اب اکثر ایک لڑکی آتی جاتی ہے مرا آئینہ کہتا ہے کہ میری کنپٹی پر اب سیہ بالوں میں تھوڑی سی سفیدی مسکراتی ہے راشد آزر کی اس نظم میں پپیہا پیہو پیہو کررہا تھا۔اکیلے میں کلیجہ شاید اس کا پھٹ رہا تھا، ان کا سارا غم سمٹ آیا ہے۔نظم کے پیکر اور الفاظ میں یہ بات تو نہیں ملتی، لیکن یہ کیفیت اس میں نہاں بھی ہے اور عیاں بھی کہ: اسی گل مہر کی شاخیں جسے تم نے تراشا تھا
کہ اس میں پھر نئی کونپل نیا رس بور کی رت میں سمیٹے کبھی انجان بادل پھر ملن کے لائیں گے سپنے نئی شاخوں پہ بلبل چہچہاتی ہے وہ مجھ سے پوچھتی ہے تم کہاں ہو؟ اُسے میں کیا بتاؤں تم کہاں ہو! آزر تو مجسمہ ساز ہوتا ہے، مجسمہ سازی میں ہتھیلیاں لہولہان ہوجاتی ہیں اور آنکھیں پتھرا جاتی ہیں۔آزری بت تراشی تو ہے، لیکن راشد آزر نے کسی مجسمہ کو تراشا نہیں۔وہ تو پتھرمیں ازل سے موجود تھا۔راشد آزر نے اس پتھر کے صرف فاضل حصے الگ کردیئے ہیں تو وہ خود بخود داس میں سے نکھر کر نکل آیا۔ ایسی آزری بہت کم دیکھی ہے۔یہ سطور لکھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں راشد آزر کو شاید نہیں پڑھ رہا تھا، صرف آئینہ دیکھ رہا تھا اور پھر شاید: سنگ اٹھایا کہ سر یاد آیاََََََََ۔۔۔۔

راشد آزر...فن سے فنکار تک ایک سفر