علی باقر... نیلم‘ تیرے کتنے رنگ

مجھے اس اظہار میں کوئی عار نہیں کہ جب نوجوانی لڑکپن کی دہلیز پار کرکے جوانی کی دہلیز پر دستک دیتی ہے تو زندگی کا کم کم مشاہدہ صرف خواب کی صورت آنکھوں میں اترتا ہے۔یہ عمر احمد ندیم قاسمی،فیض احمد فیض،قرۃ العین حیدر کے بجائے شمع، بیسویں صدی کے مطالعہ میں آسودگی محسوس کرتی ہے۔اسی دوران گہری نیند میں چاند کی کرن کے ساتھ خواب کی صورت نیم و دریچہ سے دل کے دروازے پر دستک سی دے جاتا ہے وہ بعد میں ساحر لدھیانوی،مخدوم محی الدین،کرشن چندر اور علی باقر کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔غالباً۱۹۶۱ء کی بات ہے میں ایرفورس میں ٹریننگ لے رہا تھا کہ علی باقر لندن کی ایک کہانی بلاعنوان شائع ہوئی اور قارئین کو اس کانام تجویز کرنا تھا۔کہانی میں اگر وہ کیفیت کہ جو کہی جائے وہ پڑھی نہ جائے اور جو نہ کہی جائے وہ پڑھی جائے تو عنوان خود ذہن میں اپنی جگہ پیداکرلیتاہے۔

علی باقر ولادت کے اعتبار سے اٹاوہ کے ہیں۔ہندوستان‘ جب آزاد ہوا تب ان کی عمر دس سال تھی اور ان کے پورے خاندان نے بجائے سر حد پار ہجرت کے حیدرآباد منتقل ہونا پسند کیا۔یہیں ان کی فوقانیہ تک تعلیم چادر گھاٹ ہائی اسکول میں ہوئی جہاں صدق جائسی جیسی شخصیت موجود تھی۔پھر سٹی کالج سے انٹرمیڈیٹ اور جامعہ عثمانیہ سے ایم اے کیا اور۱۹۶۰ء میں آکسفورڈ میں تعلیم کے لئے لندن چلے گئے۔ ہجرتوں کے سلسلے انسان کوہوا کے دوش پرایک ایسے پتے کی طرح لئے لئے پھرتے ہیں جو ابھی ابھی شاخ سے ٹوٹا ہوا ور ابھی پیڑ سے اس کی علیحدگی کا زخم ہرا ہو۔علی باقر کے افسانہ نگاری کے دور کا آغاز بھی اسی لمحہ ہوا۔ان کے آگے ماحول کے تقاضے ابھی بے نسب تھے اور مغرب کی داخلی اور خارجی کشمکش کے راز ابھی سربستہ تھے لیکن ایک بات جو ان کے تمام افسانوں میں بہت واضح دکھائی دیتی ہے وہ عورت کانفسیاتی مشاہدہ اور مطالعہ ہے جو اکثر ان کے افسانوں کا محور ہے۔شاید اسکی ایک وجہ یہ بھی رہی ہو کہ پدرانہ نظام کے تفوق میں عورت کی حیثیت صرف مرد کی تفریح کے سوا کچھ نہ قرار پائی اور قبل اسلام لڑکیوں کو زندہ دفن کردینے کی رسم تاریخ کا ایک سیاہ باب رہا۔آج کے ترقی یافتہ دور میں ستی کی رسم تو بند ہوگئی لیکن لڑکی کی پیدائش سے پہلے ہی اسے ماں کی کوکھ میں دفن کردیا جاتا ہے کہ روشنی کی ایک کرن اور سانس کی ایک مہک سے بھی محروم رہے۔علی باقر آکسفورڈ میں

نفسیات کے طالب علم رہے۔اس لئے فرائڈ کے شعور تحت الشعور۔انا اور فوق الانا کے فلسفہ نے ان کے افسانوں کی تشکیل میں ایک بہت نمایاں کردار اداکیا ہے لیکن کچھ اس طرح کے لندن کی برفباری میں بھی کسی نازک ہاتھ کا لمس آتشدان کے قریب کی آسودگی اور کیف سے سرشار ہو۔علی باقر نے عورت کو روایتیاصطلاحات کی روشنی میں نہیں دیکھا جہاں وہ بے وفا‘ ہرجائی‘ سفاک ‘خود غرض‘ مکار‘کینہ پرور‘ حاسد اور کمزور ہو بلکہ اس کے بالکل برعکس اس کی نزاکت میں نرم ریشم کے لچھوں کی لچک اور بے پناہ قوت برداشت کو سمت اورجہت کی حدود سے نکال کر عالمگیر حیثیت عطا کی ہے۔اسے چھوکر دیکھا ہے۔فرانسواس کی نیلی آنکھوں کی نیل جیسی گہرائی میں ڈوب کر تشنگی کی حد ت کو بھی محسوس کیا ہے۔کسی بھی ملک میں جنگ کے بعد اور پھر طویل جنگوں کے بعد جب مرد ہوس اقتدار اور مملکتوں کی توسیع کے جنون کی نذر ہوجاتے ہیں تو اس میں مملکتوں کی سرحدیں ہی نہیں بلکہ گھروں کی چار دیواریاں بھی ٹوٹ جاتی ہے۔اسی کیفیت میں جہاں عورت سے زندگی کا ہر رشتہ صرف ایک فرد کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے تو اپنی ذاتی ضروریات کی تکمیل کے لئے اسے لمحہ لمحہ صلیب سے گزرنا ہوتا ہے جہاں مصلوب اپنے ہاتھوں اور پیروں میں میخ ٹھکوانے کے بعدبھی دوسروں کو خوش رکھنے اور روتوں کو ہنسادینے کا ظرف رکھتا ہو۔علی باقر کی کہانیوں میں عورت کی ایک ایسی زندگی کا خوبصورت عکس ہے جو مشرق و مغرب کے امتیاز کے بغیر دل کی دھڑکن کو نہ صرف سننے سمجھنے سے آراستہ ہے بلکہ محسوس کرنے سے بھی آشنا ہے‘ اس میں مکمل وفاداری‘ایثار‘قربانی‘صبر‘ضبط‘عہد وپیمان اور اس کو چاہنے کی آخری حد سے گزرجانے کی صلاحیت اور ہمت کا فقدان نہیں ملتا۔ علی باقر کے مختلف افسانوں سے دو چار جملوں کی یہ سوغات علی باقر کے فن کے ادراک کے لئے سمت معین کرتے ہیں جہاں وہ شراب اور شہد افسانے کے دوران اس منزل سے گزرتے ہیں۔

’’ڈرائی مارٹینی ماوام کے لئے ‘‘ میں تو نہیں پیوں گا آج توتمہیں صرف دیکھ لینا ہی کافی ہے۔میں نے کبھی فرانسیسی شراب کو نیلے لباس میں رقص کرتے نہیں دیکھا۔ ’’فرانسواس ہنس پڑی۔یکایک سنجیدہ ہوکر کہنے لگی’’تم اتنی اچھی باتیں نہ کرونہیں تو مجھے جرمنی واپس لوٹتے دُکھ ہوگا۔‘ میں نے گلاس اس کے ہاتھ سے لے کر میز پر رکھ دیا۔آؤ رقص کریں اس بہانے تمہارا مہکتا بدن میرے قریب تو آسکتا ہے۔مجھے یہ خوشبو بہت پسند ہے۔ ‘‘تم عورت کا دل خوش کرنے کا گرجانتے ہو۔یہ میری پسندیدہ خوشبو ہے۔ماگراف’’

تمہیں تو نہ خوشبو لگانے کی ضرورت ہے نہ سرخ مارٹینی کی بس کسی کو تمہیں دیکھ لینے دو اور وہ فریفتہ ہوجائیں گے۔ ‘‘ وعدہ کرو تم جرمنی ضرور آؤ گے۔ ‘‘ کیا یہ ضروری ہے فرانسواس‘ اب جب موسیقی رکے گی میں تمہیں ہال میں لیجاؤں گا۔مہمانوں کے ہجوم میں تم مجھے ڈھونڈ ھ نہ پاؤ گی۔میں تمہیں الوداع بھی نہیں کہوں گا۔ہم نے کوئی مستقبل کے منصوبے نہیں بنائے ایک دوسرے پر جان دینے کی قسمیں نہیں کھائیں بلکہ اس بات پر خوش ہونا کہ ہم تم ملے تھے مگر خلوص کی پوری گہرائی کے ساتھ۔ علی باقر نے محبت کی انتہاء کو وصال کے لمحاتی کیفیت کے حصار سے نکال کر فراق کی بیکراں وسعتوں میں ضم کردیا۔مجھے ان کا مختصر افسانہ’’بخار‘‘ بہت پسند ہے۔جس میں ایک باپ اپنی بیوی کے گزر جانے کے بعد اپنی اکلوتی بیٹی کی بڑے ناز ونعم سے پرورش کرتا ہے۔ایک شام اسے نزلہ اور بخارمیں دیکھ کر باپ نے بڑی محبت سے کہا مجھے پتہ ہے کہ تم روز شام کو اپنے آفس کے ایک دوست کے ساتھ دیر گئے تک باہر گھومتی ہو۔اگر وہ تمہیں پسند ہے تو اسے گھر لایا کرو۔اس کی بیٹی بہت خوش ہوگئی مگر اب وہ خود شام کو اکیلا باہر گھومتا رہتا۔شہر کی سنسان سڑکوں پر تنہا اور اداس، اسے نزلہ اور بخار کی شکایت رہنے لگی۔مگر بوڑھی عمر میں نزلہ ہوجانا ایسا ہی عام ہے جیسے نوجوانی میں محبت۔بوڑھوں کی صحت کی خرابی کا راز جو ان آنکھیں نہیں ڈھونڈ پاتیں۔اکیلے گھومتے ہوئے ہر شام اسے اپنی بیوی بہت یاد آتی۔بخار انسان کو خواہ مخواہ جذباتی بنادیتا ہے۔ عالمی اُردو کانفرنس کے ضمن میں ر سمی تقاریب کے سلسلہ میں ایک شام’’افسانہ‘‘ منعقد کی تھی۔اس تقریب میں آندھراپردیش اُردو اکیڈیمی نے ان افسانوں کے مجموعے لندن کے رات دن کو انعام اول کا مستحق قرار دیتے ہوئے چیک ان کے حوالے کیا۔جس پر ایک مشہورافسانہ نگار نے اپنے تاثر کا اظہاریوں کیا کہ اُردو اکیڈیمی فٹ پاتھ پر چلنے والوں کو بھی انعام اول عطا کردیتی ہے۔میرے خیال میں علی باقر کو اب تک جتنے لوگوں نے خراج تحسین پیش کیا اس میں یہ خراج سب سے اعلیٰ ترین خراج ہے کہ حسد صرف کمال ہنر کے ارتقا سے کیا جاتا ہے اور حاسد ہنر بے ہنری میں یکتا ے روزگار ہوتا ہے۔

علی باقر... نیلم‘ تیرے کتنے رنگ