allama-aijazfarruq
THANKS FOR VISITING
علامہ اعجاز فرخ





سب رنگ نہادہ ۔۔ شکیل عادل زادہ
ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچھا ہے

میں جانتا تو بہت پہلے۔سے تھا۔ برسوں سے، نہیں، صدیوں سے اور شاید ازل سے لیکن میں اُس کا نام نہیں جانتا تھا۔ وہ تو بس ایک چہرہ تھا خیال کی طرح نازک،راگنی کی طرح دل فریب، صبح کی پہلی کرن کی طرح دل آویز، نسیم سحر کی طرح سبک خرام،جھرنے کی طرح مترنم، آنکھوں میں خواب کی طرح اُترتی ہوئی اوروجود میں خوشبو کی طرح سماتی ہوئی۔ کبھی زندگی کی راہ میں جب تھکن اور آبلہ پای سے قدم دوبھر ہوجاتے تووہ یوں نمودارہوجاتی جیسے روشنی کا شہزادہ گزرنے کوہواوربال کھول کے راستے میں شام بیٹھ گئی ہو ،اور پھر رات کی تاریکی میں یوں چھپ جاتی جیسے طولِ شب میں سحرپوشیدہ ہو۔میں نے چہرہ دیکھا تھا،نقوش یاد نہیں۔یادوں سے گزرتے محسوس کیا،سراپا یاد نہیں۔مہک محسوس کی،خوشبو کا سراغ نہ ملا۔ روپ دیکھا تھا، رنگ کے لیے تشبیہ نہ مل سکی۔آواز سنی تھی لیکن سرگم میں وہُ سرنہ ملا۔قامت وخم کی زیبائی کے لئیے قوس وخط عاجز نظر آئے۔بھلاجس کی سمت نہ ہو،جہت نہ ہو،خدوخال نگاہ میں نہ سما سکے ہوں،خیال جس کی قامت زیبا کا احاطہ نہ کر سکا ہو۔جس کے لئے حرف وظرف کی اصطلاح متروک ہوجائے،اُس کی طرف اشارہ کیا ہو،اُس کا نام کیاہو۔شاید اسی کو حسن مکمل کہتے ہیں کہ جہاں تکلم سکوت میں اورخاموشی گویائی میں بدل جاتی ہے۔ میں توہوں ہی اس مزاج کے دشت کو دیکھتا ہوں تو گھر یاد آتا ہے اورگھرکودیکھتاہوں تو دشت کی تنہای یاد آتی ہے۔صحرا میں بگولوں کا رقص، سمندر میں تلاطم اور آتش فشاں کو لاوا اُگلتے دیکھتا ہوں تو مسکرا اٹھتا ہوں کہ جن سے اضطراب کی بے قراری نہ سنبھل سکی اُن سے غم ہجراں کیا سنبھل سکے گا۔ ایک دن یوں ہواکہ ہرطرف سناٹا ہی سناٹا تھا۔ہوا ساکت، فضاءُ چپ،سمندر پرسکون لیکن میرے اندر قیامت کا تلاطم تھا لگتا تھا میرے اندرکی کائنا ت درہم برہم ہورہی ہے اور سب کچھ بکھرنے والا ہے کسی نے چپکے سے سرگوشی کی،،کورا،،۔اُس کا نام کورا ہے۔میں نے اُسے آواز دی،،کورا،،۔وہ سامنے تھی لیکن پلک جھپکتے میں جھلک دکھا کر غائب ہو گئی۔میں نے مُڑکر دیکھا،ایک شخص کھڑا تھا۔میری ہی عمررہی ہوگی،لگتا تھاعشق کی جس آنچ میں وہ جل رہا ہے اُسکی تپش مجھ تک پھنچ رہی ہے۔رنگ سُرخی مائل گورا رہا ہوگا،لیکن زندگی کے جس سفرسے گذرکرآیا ہے اُس کی دھوپ چہرے کو کجلا گئی ہے۔۔نیم وا آنکھوں پرڈھلکے ڈھلکے سے غلاف،جیسے ان آنکھوں کوصدیوں سے نیند کا انتظار رہا ہو۔چہرے مُہرے سے متانت آشکار،شرافت کا وقار،پیشانی پر تجربے اور تفکر کی لکیریں،سکون ایسا کہ
بازیچۂ اطفال ہے دُنیامرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشہ مرے آگے
کی مکمل شرح‘ مجھے ایسا لگا جیسے میں اس شخص کوپہچانتا ہوں ،اتنا قریب سے ،جتنا میں اپنے آپ کو پہچانتا ہوں۔خانماں آباد،دل برباد،خیال پرور،علم دوست،ذات میں تنہا،انجمن ساز،دوست گزیدہ،دشمن نواز،عشق طبع،حلم پوشاک،تدبرپیرہن،ادب قبا،سلوک مزاج،نرم خو،خوش گفتار،رمزآشنا،محرم حرف ولفظ،زرنگار،آتش رقم،شعلہ فشاں،شبنم بیاں،عہدنورد،صدیوں کا فرزند۔ مجھے دیکھ کراُس کے ہونٹوں پرتبسم کی لکیر سی اُبھری۔اُس نے پوچھا،،کسے ڈھونڈھ رہے ہو؟،،میں چپ رہا۔ پھر اُس نے کہا،،اُسے سب تلاش کرتے ہیں۔زندگی بھر۔ہرلمحہ،ہرپل‘وہ ایک چہرہ ہے،چہرہ جو نفس کا آئینہ ہے، کتاب زندگی کاسرورق ہے،،فکر،خیال،تصور،سیرسفر کا عکس ہے۔اندیشۂ سود وزیاں،حاصل و لاحاصل،پانے اور کھونے کا حساب ہے۔یہ حساب اتنا آسان بھی نہیں۔اُسے پاکرسب کچھ کھو دینے کی لذت،سب کچھ پاکر اُسے کھو دینے سے کہیں زیادہ ہے۔یہی نصاب جاں ہے،یہی حساب جاں ہے،لیکن قرض جاں کچھ اور ہے۔ادا کرتے کرتے زندگی بیت جاتی ہے،حساب جاں میں قرض کچھ اور بڑھ جاتا ہے۔جو چہرہ تمھیں دکھائی دے گیا،وہ ذوق نظر بھی ہے ،ذائقہ بھی۔جوآوازسُنای دے گئی وہ سماعت کا ذائقہ ہے،خوشبو تمھارے شامہ کا ذائقہ ہے اور لامسہ تمھارے مسام کاذائقہ۔ زائقہ تو بس زائقہ ہے ،تلخ و شیریں تو لذت نفس کی پسند و نا پسندکا دوسرا نام ہے۔یہ نہیں کہ صرف تم کو اُس چہرے کی تلاش ہے،خود اُس چہرے کو بھی ایک چہرے کی تلاش ہے۔وہ چہرہ مل جائے تواُسے روبرو کرنا۔آنکھیں فرط حیاسے جھک جائیں توسمجھوآئینہ روبرو ہے۔حقیقی آئینہ تو بس وہ چہرہ ہوتا ہے ،باقی تو سب فریب آئینہ ہے۔لوگ آئینہ دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے،اس لئے کہ آئینہ نقاب اندر نقاب چہرے دکھا دیتا ہے۔ آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا، لوگ اپنے آپ سے ڈر جاتے ہیں۔شیشوں کا آئینہ خانہ تو ہزار زاویوں سے ظاہر کو دکھا دیتا ہے،ظاہر پسندوں کے لئے۔ذوق زینت تو بھوکی بھکارن کو بھی ہے۔اُس کی جھولی میں بھی آئینے کے ٹکڑے مل جائیں گے۔باطن تو صرف اُس چہرے میں دکھائی دیتاہے جس کی تلاش عمربھر کی تلاش ہے۔کبھی بابر زماں خاں کو وہ چہرہ مل جائے تو اُس کا نام ،،کورا،، ہے ،اور کبھی اُس چہرے کواُس کی تلاش مل جائے تو اُسے جمشید عا لم خاں کہتے ہیں۔ایک ،،بازی گر ،، ہے اور ایک ،،امبربیل،،۔اب یہ تُم جانو کہ نام کیا ایک لفظ ہے،اشارہ ہے، علامت ہے،تشبیہ ہے،استعارہ ہے،آہنگ ہے،راگ ہے، رنگ ہے،موسیقی ہے،ترنم ہے،سُر ہے ،تال ہے،تصور ہے، خیال ہے،شعر ہے،تصویر ہے،خد ہے، خال ہے،بدن ہے ،روشنی ہے،کلی ہے، غنچہ ہے،پھول ہے،خار ہے،خوشبو ہے،کسک ہے،آرام ہے،آزارہے،مسرت ہے،تبسم ہے،ہنسی ہے،غم ہے،آہ ہے،آنسو ہے،گریہ ہے ،کرب ہے،اضطراب ہے،بیخودی ہے،مدہوشی ہے،کیف ہے،نشہ ہے،سرور ہے،تمناہے،یاس ہے،سرخوشی ہے،اُداسی ہے،آرزوئے وصال ہے ،تپش فراق ہے،یا یہ سب کچھ بھی نہیں ہے۔لفظ بھی نہیں، نام بھی نہیں۔چہرہ ہے ،صرف چہرہ۔سب کچھ تحلیل ہو جائے تب بھی چہرہ باقی رہ جاتا ہے۔چہرہ خراج چاہتا ہے ،عمربھرکا خراج۔سوغات بھی دیتا ہے۔درد کی سوغات،فن کی سوغات،زندگی کی سوغات،بے حالی کی سوغات،بے نیازی کی سوغات‘زندگی اُس کے نام کردوپھر بھی قرض جاں باقی رہتا ہے۔ایک جھلک پانے کی تمناساری عمر کاخراج چاہتی ہے۔ وہ رُکا، ڈبیہ سے پان نکال کرمنہ میں رکھا۔داہنے گال میں،کچھ دیر خلاء میں تکتا رہا،پھر کہا،ہرشخص کی زندگی میں ،کورا، ہے۔ لینارڈو زندگی بھر اُس چہرے کو تلاش کرتا رہا،وہ اُسے مونا لیزا کی صورت میں ملا۔اسی طرح کبھی یہ چہرہ عذرا ہے،شیریں ہے،سوہنی ہے،جولیٹ ہے،لیلیٰ ہے۔جتنے فنکار ہیں سب کی آنکھوں میں کسی نہ کسی چہرے کی چھبی ہے،کسی نہ کسی چہرے کی پرچھائیاں ہیں۔بہزاد،مانی،مقبول فدا حسین‘ میرؔ،غالبؔ،آتشؔ،ولیؔ،ناسخؔ،جوشؔ،فراقؔ،فیضؔ،ساحرؔ،پریم چند، کرشن چندر،منٹو،راجندرسنگھ بیدی،احمد ندیم قاسمی،انتظارحسین،قاضی عبدالستار،پنڈت روی شنکر،اُستاد امجد علی خان،مہدی حسن،سب قرض جاں کے اسیر ہیں۔یہ کہہ کروہ رک گیا،کہیں کھوگیا۔محویت میں وہ مجھے بہت اچھا لگا۔جیسے کوئی فرشتہ،جیسے کوئی معصوم بچہ،جیسے نئی صبح کا طلوع ہوتا ہواسورج،جیسے امن کاسفید پرندہ،میرے دل میں اُس کے لئیے محبت بھی ابھری احترام بھی۔ میں نے نرمی سے پوچھا،، آپ کا نام؟،، کہا،،کیا چہرہ کافی نہیں،،پھر خود ہی کہا،،نام تو ہوتا ہی ہے۔یہ چہرے کوکھولنے کا حرف خفی ہے۔،، خود کلامی کے سے انداز میں کہا۔،،اب تو مجھے نام بھی یاد کرنا پڑتا ہے۔ہجرت نصیبوں کے گھر ہی نہیں بدلتے،سب کچھ بدل جاتا ہے۔ گھر،گلیاں،راستے،محلے،ہوا، پانی،ذائقہ ،لباس،زبان،ماحول،سونچ،برتاو،شناخت،وطن،نام بھی۔خود اپنا آپ بھی۔،،پھر کہا ۔ ’’دس مارچ ۱۹۳۸ء کی بات ہے،ابھی دوسری جنگ عظیم دور تھی۔ہندوستان کی آزادی ہنوز ایک خواب تھی۔میری ولادت مُراد آباد میں ہوئی۔ماں باپ نے میرا نام،محمد شکیل،رکھا۔اب تو شائد مجھے محمد شکیل کہہ کر آواز دینے والا بھی نہ ہو۔اب تو میں شکیل عادل زادہ ہوں۔یہی نام سرکاری کاغذات میں ہے،یہی زباں زد خاص و عام بھی،دوست احباب کبھی شکیل بھائی کہتے ہیں ،کبھی
شکیل۔،،وہ مُسکرائے پھر کہا،،بچپن کا چہرہ ماں باپ کادیا ہوا،جوانی کا چہرہ فیاض قدرت کی عطاء اوربڑھاپے کا چہرہ اپنی کمائی کا چہرہ ہوتا ہے۔بچپن کا نام رہا نہ چہرہ،ہاں مگر یادیں رہ گئیں۔خیال سے تیز رفتارشاید برق رفتاری بھی نہیں۔پلک جھپکنے میں شاید دیر لگے،خیال اُس سے بھی تیز رفتار ہوتا ہے۔اب بھی کبھی کبھی یادوں کی بارات نکلتی ہے تو چراغاں ساچراغاں ہو جاتا ہے۔معصوم بچپن،لڑتا جھگڑتابچپن،مٹی میں اٹا ہوا بچپن‘ماں کی آغوش میں مچلتا ہوا بچپن،ضد کرتا ہوا بچپن،روٹھتا منتا بچپن،شرارتوں پر پٹتا ہوا بچپن،سیپارہ رٹتا ھوا بچپن۔سونچتے تو سب ہیں کہ سب کچھ تج کر بچپن میں لو ٹ جائیں ،لیکن وقت کی سوئی ایک ہی سمت میں گردش کرنا جانتی ہے۔نہ تھم سکتی ہے نہ لوٹ سکتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں کہاں کہاں قیامت برپا ہوئی یہ الگ بات ہے۔لیکن ہمارے گھر کے آنگن میں تو گویا قیامت آکر ٹہر گئی۔۱۹۴۴ء میں ابا گزر گئے۔میرے نانا ،محمد شریف صاحب ،تھے بھی نہایت شریف انسان۔یہ وہ دور تھا جہاں شرافت اپنے پورے مفہوم کے ساتھ تھی۔اُس دور میں تو پھٹی چٹائی پرراحت بھی تھی سکون بھی تھا۔ شرافتوں کا مفہوم، دوستی، غریب پروری،اعزہ نوازی،مروت ،سلوک،اخلاق،تہذیب،خبرگیری،پاس ولحاظ،سب کچھ تھا۔آج کی طرح سجے ہوے گھر اورجامہ زیبی ،نہ شرافت تھی نہ امارت وہ تو صرف سلیقہ تھا جو غریب امیر دونوں مین مشترک تھا۔ نانا نے ماں اور ہم تینوں بہن بھائیوں کو اپنی کفالت میں لے لیا۔مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا،کہ میں ابا کے ساتھ مشاعروں میں جایا کرتا تھا۔اُسی زمانے میں ،میں نے جگرؔمرادآبادی کو بھی دیکھا تھا۔اُن کا گھرلال باغ میں تھا اور یہ ہمارے محلہ رفعت پورہ سے متصل تھا۔مشاعروں میں تو اُن کی کیفیت ہی کچھ اور ہوتی تھی۔ابا سے اُ ن کی اچھی دوستی تھی۔گہرا سانولا رنگ تھا۔زلفیں گردن تک،لیکن چہرہ مہرہ پر کشش تھا۔رئیس امروہوی،کوکب صاحب اور میرے والد میں بہت گہری چھنتی تھی۔ان تینوں نے ایک رسالہ نکالا تھا ،،مسافر،،۔ جس دن ابا کا انتقال ہوا،تدفین کے بعد کوکب صاحب نے ایک چیخ ماری اور ہمیشہ کیلئے ذہنی توازن کھو بیتھے۔ میں یہ سب کچھ دیکھتا رہا،یوں میں ایک ہی لمحے میں اپنا بچپن کھو بیٹھا۔نانا نے مجھے مدرسہ قاسمیہ میں حفظ قرآن کیلئے بٹھلا دیا۔مار تو میں نے کھائی۔زندگی میں چوٹیں بھی بہت لگیں،لیکن زندگی نے سکھایا بہت کچھ ۔ نہیں معلوم یادوں کی حرارت تھی یاجذبات کی آنچ۔،شکیل عادل زادہ کے چہرے پر پیاس کی سی کیفیت دکھای دی۔میں نے صراحی سے مٹی کے آ بخورے میں پانی بھرکراُنھیں پیش کیا۔اُنھوں نے دونوں ہاتھوں سے کٹورا تھام لیا،دو گھونٹ لے کر دیر تک پانی کو تکتے رہے پھر تپتے ہوے صحرا کو دیکھا اور کہا،،آپ کے پاس میرا حرف خفی بھی ہے اور اپناجام سفال بھی،جن کے پاس جام سفال ہو ،اُن سے کچھ کہنا کیا دکھلانا کیا۔جن کے پاس جام جم کی توقیر نہ ہو وہ اپنے جام سفال میں سب کچھ دیکھ لیتے ہیں،ماضی بھی حال بھی اور پھر یہ بھی کہ!
ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچھا ہے ا       اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ویڈیو کے لئے لنک کلک کیجئیے




***