آئینۂ ایام ۔ قسط ۹

وہ اک کلی کا تبسم، بہار کی تکمیل

میر عثمان علی خان آصف جاہ سابع ۔شخصیت اور عہد

(حصہ سوم)

بیسویں صدی کی تیسری دہائی کو ہندوستان بھر میں شعور کی بیدراری کا دور کہا جا سکتا ہے۔ جامعہ عثمانیہ اور علی گڑھ یونیورسٹی کے قیام نے افکار کو نئی روشنی اور نئی جہات سے روشناس کروایا۔ دیگر عوامل کے تجزیے میں یہ بات بھی پیش نظر ہے کہ 1917ء کے انقلابِ روس نے عالمی سطح پر سماجی ، معاشی اور معاشرتی تبدیلی کی راہیں کھول دیں۔ پہلی جنگ عظیم فاشزم کی رونمائی کر چکی تھی اور دوسری جنگ عظیم کے آثار رونما ہو رہے تھے، جب ادیبوں اور فنکاروں نے ایک غیر معمولی کارنامہ انجام دیا۔
پیرس کی ایک بین الاقوامی کانفرنس کے بعد جس میں سجاد ظہیر اور ملک راج آنند موجود تھے ، ایک خاکہ لندن میں تیار کیا گیا جس میں ترقی پسند تحریک کی بنیاد پڑ گئی۔ ہندوستان میں جب ہم خیال ادیب اس تحریک سے وابستہ ہوئے تو 1936ء میں پہلی کل ہند ترقی پسند تحریک کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت منشی پریم چند نے کی۔ پریم چند نے کہا:’’ہمیں حسن کا معیار تبدیل کرنا ہوگا۔ ابھی تک اس کا معیار اور امیرانہ اور عیش پرورانہ تھا ۔اور ہمارا فنکار امراء کے دامن سے وابستہ رہنا چاہتا تھا کہ انہیں کی قدردانی پر اس کی ہستی قائم تھی اور انہیں کی خواہشوں ، رنج، حسرتوں اور تمناؤں کی تشریح و تفسیر اس کے فن کا مقصد تھا۔ جس ادب سے ہمارا ذوق صحیح پیدا نہ ہو، روحانی اور ذہنی تسکین نہ ہو، ہم میں قوت و حرارت نہ پیدا ہو ، ہمارا جذبۂ حسن نہ جاگے، جو ہم میں سچا ارادہ اور مشکلات پر فتح پانے کا استقلال نہ پیدا کرے وہ آج ہمارے لیے بیکار ہے۔ اس پر ادب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔‘‘ منشی پریم چند کا یہ خطبہ ایک تاریخ ساز خطبہ تھا۔ جس کی گونج ہندوستان بھر میں سنائی دی۔ اور پھر حقیقی معنیٰ میں ادب وہی قرار پایا جو زندگی کے مسائل کا ترجمان ہو۔ آہستہ آہستہ اس تحریک میں ظلم ، بربریت، غلامی، سامراجی اقتدار کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے کی بات ہونے لگی۔ علی سردار جعفری نے ترقی پسند ادیب کو عوامی ملکیت قرار دیا۔ مولانا حسرت موہانء نے ایک تقریر میں اشتراکیت کی حمایت کی۔ رفتہ رفتہ فراقؔ گورکھپوری، احمد علی، محمودا لظفرنے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس کی شاخیں ہندوستان کے اہم شہروں میں قائم ہوئیں جس میں حیدرآباد بھی شامل تھا۔ 1938ء تک جو مشاہیر اس تحریک سے وابستہ ہو چکے تھے، ان میں مولوی عبد الحق، پنڈت رام نریش ترپاٹھی، فیض احمد فیضؔ ، حیات اللہ انصاری، احتشام حسین، وقار عظیم ، علی سردار جعفری، آنند نارائن ملا، پریم چند کے بیٹے امرت رائے، عبد العلیم ہی نہیں بلکہ پنڈت جواہر لال نہرو بھی شامل تھے۔ یہ تمام وہ لوگ ہیں جنہوں نے اشتراکیت کی کھل کر ستائش کی۔ یہ تو سب اپنی جگہ، لیکن رابندرناتھ ٹیگور کا یہ خیال میرے شعور میں گھر کر گیا کہ ’’ تخلیقی ادب کے لیے تنہائی جتنی مفید ہے اتنی ہی مضر بھی ہے۔سچ ہے کہ تنہائی میں ادیب اپنے نفس سے محو گفتگو ہوتا ہے۔ مطالعہ اور مشاہدے کا اصل رمز وہاں کھلتا ہے اور دہیان بٹانے کے لیے کوئی شور و شغب وہاں نہیں ہوتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سماج سے الگ تھلگ رہنے والا ادیب بنی نوعِ انسان سے آشنا نہیں ہو سکتا۔ بہت سے افراد سے مل کر جو تجربہ حاصل ہوتا ہے، الگ رہ کر ادیب اس سے محروم رہ جاتا ہے، یہ اس وقت
ممکن ہے جب ہم انسانیت کے غمگسار ہو جائیں۔ ادب اور انسانیت جب ایک دوسرے کے غم گسار ہوجائیں گے تو پتہ چلے گا کہ بیداری کا سُر کیا ہے اور زمانہ کس نغمے کو سننے کے لیے مضطرب ہے۔‘‘ یہ تھا وہ ماحول جو عثمانیہ یونیورسٹی میں پروان چڑھ رہا تھا، جس کی وجہ سے مخدوم محی الدین، احسن علی مرزا، میر حسن، اختر حسن، راج بہادر گوڑ، عابد علی خان، محبوب جگر، سلیمان اریب، مغنی تبسم، راشد آذر پیدا ہوئے۔ ایک طرف ان کی حریت پسندی ، آزادئ فکر، انسان دوستی، غریب شناسی، سرشاری ، نئے الفاظ ، جد ید لب و لہجہ کا بانکپن، سلیقۂ اظہار ، سادہ بیانی، بے شکن ترسیل، صاف و شفاف ابلاغ کے وسائل تھے۔ ان لوگوں کی شخصیت بے داغ تھی، دوسری طرف جاگیر دارانہ نظام، امراء کے طور طریقے، محلاتی ماحول، روایات پسندی، قدامت اسیری ، نشۂ حکمرانی، شان و شوکت، امارت، تفاخرِ ذات نے معاشرے کو فصیل بند رکھنے میں کو ئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ میرا لڑکپن انہیں پرچھائیوں کے رقص میں پرورش پا رہا تھا۔ یہ سب بوجھنے کا شعور تو نہیں پیدا ہوا تھا لیکن اس تضاد نے میری نفسیات اور شخصیت کی تشکیل میں ہمیشہ ہی دوراہے پر مجھے کھڑا کر دیا۔ یہ گرہ آج بھی مجھے کبھی کبھی پریشان کئے رہتی ہے۔
ریاستِ حیدرآباد میں آصف جاہِ سابع کے خلاف ایسی کوئی جد و جہد یا انقلابی سرگرمی تو شروع نہیں ہوئی تھی لیکن تعلیم یافتہ طبقے میں ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر سامراجی نظام کے خلاف ایک زیریں لہر ضرور پائی جاتی تھی۔ ابھی خیرہ سری شاید کچھ دور تھی۔ ایک طرف تو اشتراکیت اپنے پر تول رہی تھی۔ دوسری طرف نظام کا خیال یہ تھا کہ ذہانت دراصل تخلیق، اپج، قوتِ ایجاد کا دوسرا نام ہے۔ قسّامِ ازل نے اپنے عدل کے تئیں ہر ایک کو الگ صلاحیت سے نوازا ہے، ترقی سے کسی انسان کو روکا نہیں گیا۔ ہر شخص کو آزادی ہے کہ وہ اپنی طاقت اور صلاحیت کے اعتبار سے اپنا حصہ حاصل کرے۔ مساویانہ تقسیم دراصل ذہانت کی توہین ہے۔ جہاں صرف سر گنے جا سکتے ہوں اور عقل نہ دیکھی جائے تو وہ طریقہ قرینِ انصاف نہیں ہے۔
میں بڑے وثوق سے یہ بات کہہ سکتا ہوں نظامِ دکن انگریزوں کے دوست نہیں تھے۔ برطانوی سامراج ان کی مجبوری ہو چکی تھی ۔ ان کے پاس ان کی اپنی فوج نہیں تھی، جو انگریزوں سے مقابلہ کر سکے۔ حیدرآباد جو ایک جڑواں شہر ہے، اس کا نصف جو سکندر آباد کہلاتا ہے، وہ انگریزوں کی فوج چھاؤنی تھی۔ ریاست کے وزیرِ اعظم کے تقرر کے لیے برطانوی ریذڈنٹ سے منظوری ضروری تھی۔ دارالمصنفین کوامداد مسدود کر دینے کی سفارش کو مسترد کر دینے کے بعد انگریزوں کا رویہ اور سخت ہو گیا۔ نظام خود مختار ضرور تھے لیکن وہ کوئی فرمان مشاورتی کونسل کی سفارش کے بغیر جاری نہیں کیا کرتے تھے۔ اس کے باوجود انگریزوں نے ریاست کے مالی امور کے لیے مسٹر غلام محمد کو ریاستِ حیدرآباد میں متعین کر دیا۔ اس وقت صرف حیدرآباد ہی وہ واحد ریاست تھی جہاں عوام سے محاصل نہیں وصول کئے جاتے تھے، جب کہ سارے ملک میں عوام پر محاصل عائد کر دیئے گئے تھے۔ ہندوستان بھر کے تاجر حیدرآباد میں تجارت کو ترجیح دیتے تھے، کہ وہ محفوظ بھی تھے اور محاصل سے بھی آزاد تھے۔ اس سے انگریزوں کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا تھا۔ مسٹرغلام محمد نے ریاست کا بجٹ پیش کیا جو پہلی مرتبہ 84لاکھ کا خسارہ بجٹ تھا۔ اس کی پابجائی کے لیے انہوں نے عوام پر انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی۔ نظام کا یہ خیال تھا کہ اس قسم کے محاصل‘ صرف ریاست کی ترقی کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ اس سے پیداوار کی شرح کم ہوجائے گی۔ یہ دراصل ذہانت پر تحدید کے مترادف ہوگی۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ پیداوار دراصل ذہانت کے صحیح استعمال کا نتیجہ ہے۔ صارف دراصل اس پیداوار سے استفادہ کے لیے روپیہ دے رہا ہے ، اس زرِ مبادلہ پر محصول نامناسب ہے۔ انہوں نے انکم ٹیکس عائد کرنے سے انکار کر دیا۔ مسٹر غلام محمد نے جب یہ دریافت کیا کہ موازنہ کو متوازن کرنے کے لیے کیا ترقیاتی کام روک دیئے جائیں گے؟ اور کیا اس سے ریاست کی ترقی متاثر نہیں ہوگی ۔ نظام نے کہا کہ ریاست کی ترقی کسی قیمت پر نہیں روکی جانی چاہیئے۔ وہ اس خسارہ کی رقم اپنے صرفِ خاص سے ادا کر دیں گے، لیکن عوام پر محاصل کا بوجھ عائد کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ نظام کا یہ جوابی جملہ ’’طمانچہ بر رخسارِ برطانیہ‘‘ ثابت ہوا۔ لیکن خود ان کے نمائندے مسٹر غلام محمد‘ نظام کے ہم نوا ہوگئے بلکہ ان کے دل میں نظام کی عزت بڑھ گئی۔ مسٹر غلام محمد کو اندازہ ہوگیا کہ حیدرآباد صرف ایک ریاست نہیں بلکہ ایک سلطنت ہے جو ایشیاء اور یوروپ کے بہت سے ملکوں سے بڑی ہے‘ جس کا رقبہ 84000مربع میل اور جس کی آبادی ایک کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ تھی۔ ریاست کا اپنا سکہ ، اپنے ڈاک ٹکٹ، اپنی ریلوے، اپنا مواصلاتی نظام تھا، جو اگر کمی تھی تو فضائی سروس کی، سو مسٹر غلام محمد نے ٹاٹا سے بات چیت کر کے حیدرآباد میں فضائی خدمات کا بھی آغاز کروادیا۔ اس فضائی سروس کا نام دکن ایرویز تھا جس کی پروازیں مدراس، بنگلور، اور دہلی کو حیدرآباد سے مربوط کرتی تھیں۔
میں پہلے بھی اس موقف کی وضاحت کر چکا ہوں کہ میں شاہی کا طرفدار نہیں ہوں ،لیکن میں اپنے بدترین نقاد کو بھی یہ موقع فراہم نہیں کرنا چاہتا کہ وہ دانستہ یا غیر دانستہ کوئی تاثر اپنے آپ میں قائم کرلے۔اسلئے کہ بیشترحیدر آباد کے ضمن میں بہت ساری غلط فہمیاں گھر کر گئیں اور کسی نے اس کی صراحت ضروری نہیں سمجھی۔یہ کیوں ہوا ؟ کیسے ہوا ؟کس لئیے حیدرآبادکو الزام دیکر اُسے ملزم کے کٹھرے میں تنھا چھوڑ دیا گیا ،یہ بہر حال ایک موضوع ہے جس پر میں اگلے صفحات میں کچھ کہ پاؤں گا۔فی الوقت تو میں صرف یہ کہنا چاہوں ہوں کہ جمہوریت نے تو محاصل کی بھر مار کر رکھی ہے۔پیدائش پرمحصول،طبی سہولت پر محصول،علاج پر محصول،دوا پر محصول،اناج پر محصول،روشنی پر محصول،پانی پر محصول،زمین پر محصول،مکان پر محصول،خرید پر محصول،فروخت پر محصول،سفر پر محصول،خدمات پر محصول،سواری پر محصول،پیداوار پر محصول،تعلیم پر محصول،کتب خانے پر محصول،آمدنی پر محصول،ایندہن پر محصول،غذا پر محصول۔ مرزا اسد اللہ خان غالب نہ ہوئے کہ فرما گئے تھے،،موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں،، اُن سے معذرت طلبی ،حکومت نے تو موت پر بھی محصول عائد کر رکھا ہے ۔ پیرو مرشد حضرت بہادر شاہ ظفر شکوہ سنج تھے کہ ،،دوگززمین بھی نہ ملی کوئے یار میں،،آج ہوتے تو پتہ چلتا کہ جمہوریت میں دو گز زمین بھی صرٖ ف اُ سکا مقدر ہے جس کا سیاست سے کوئی نہ کوئی تعلق ہے۔وہ تو خیر ہوئی کہ رنگون میں سہی قبر تو ہے! یہاں ہوتے تو قبر کا بھی باقی رہنا دشوار تھا ۔جو حضور عالم پناہ تک میری عرض پھنچ جائے تو کہوں ورنہ کیوں کہوں۔ گلے گلے پانی !جو کہوں ہوں سو سچ کہوں ہوں۔ انگریز کوئی آپ کا مقبرہ تو نہ بنواتے۔کوئی نہ کوئی سیاسی رہنما آپکی مزار مبارک پر ہمہ منزلہ عمارت کھڑی کرکے اُس پر ،،بہادر شاہ ظفر کامپلکس کا چمکتا ہوا سائن بورڈ لگا کرآپکا نام روشن کرتا۔آجکل اسی کو نام روشن کرنا کہتے ہیں ۔آجکی اولادیں اسی طرح اپنے باپ دادا کا نام روشن کر رہی ہیں ، بلکہ عوامی املاک کو اپنے اور اپنے باپ دادا کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔ اُسوقت آپکو قدر ہوتی مرزا غالب کی جو فرما گئے، ہوے ہم جو مر کے رسوا،ہوے کیوں نہ غرق دریا ۔۔۔۔نہ کہیں جنازہ اُٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
عالم پناہ! مجھ گستاخ کی خطا معاف فرمائیں۔آپ شہنشاہ تھے صرف شہنشاہ۔کوئی جامع مسجد کے شاہی امام تھوڑی تھے کہ جمہوریت آپ کی آوبھگت کرتی اور آپ کے ارشاد پر ہندوستان کے تیس کروڑ مسلمانوں کی تقدیر کا فیصلہ کیا جاتا کہ ،،مستند ہے اُن کا فرمایا ہوا،،۔ شھنشاہ معظم میرے جن بچے کولھو میں نہ پھروانے او رجاں بخشی کاوعدہ فرمائیں تو عرض کروں آپ تو تاریخ پارینہ کا ایک ورق ہیں ۔کہنہ روایات کے اسیر ،سلطانی طور طریقوں کے پابند،دست پُر عطا کے حامل ،آپ اور آپکے اجداد میں دور رسی ،دور اندیشی اور دور بینی کا فقدان تھا۔خلد آشیانی غفران مآب حضرت شہاب الدین شاہجہاں اگر تخت طاؤس چھوڑ کر جامع مسجد کی امامت فرماتے تو آج اُن کی نسلوں میں اقتدار باقی رہتا۔ آپکو اور آپکے اجداد کو اس بات کا ادراک ہی نہیں تھا کہ جامع مسجد کا دو رکعت کا امام آ پکی شھنشاہی سے برتر اور افضل ہے۔ بھلا آپ سے اعلیٰحضرت شاہی امام کا کیا مقابلہ! آپ فرسودہ نظام کے اسیرمردہ شاہی کے گرفتار ،وہ عصر حاضر کے علمبردار،جمہوریت کے مزاج سے واقف،وزیر آعظم کے تیور آشنا۔ مجھے اس اعتراف میں کوئی جھجھک نہیں کہ گذشتہ حیدرآباد کی بازیافت میں نواب چھتاری کی خودنوشت سوانح ’’یادِ ایام‘‘ اور فرحت اللہ بیگ کی ’’میری داستان‘‘ سے بہت مدد ملی۔ یہ لمحات میری خودنوشت کے جزو نہ بن سکتے اگر یہ کتابیں میری مشکل حل کر نے کے لیے دستیاب نہ ہوتیں۔ مرزا فرحت اللہ بیگ نے حیدرآباد میں تقریباً چالیس برس مختلف عدالتی عہدوں پر اپنی خدمات انجام دیں۔ انگریزوں نے نظام کو رسوا کرنے کے لیے یکے بعد دیگر ے تین کمیشن قائم کئے۔ ان کے صدور تو الگ الگ تھے لیکن مرزا فرحت اللہ بیگ ہر کمیشن کے معتمد رہے۔ ریاستِ حیدرآباد میں سب سے زیادہ جاگیرات امرائے پائیگاہ کو عطا کی گئیں۔ ان جاگیرات کے محاصل اور دیگر آمدنی ، امرائے پائگاہ میں تقسیم ہوتا تھا اور یہ بہت رئیس طبقہ تھا۔ صرفِ خاص ‘ حکمرانِ ریاست کی ذاتی ملکیت تھی۔ صرفِ خاص کے بعض علاقے بغرضِ انتظام امرائے پائگاہ کی تحویل میں تھے اور بارہ فیصد حقِ انتظام کی وضعات کے بعد یہ آمدنی سرکاری خزانے میں داخل کی جانی چاہیئے تھی۔ مارائے پائگاہ نے اس کی تکمیل نہیں کی اور عرصۂ دراز تک اس کو اپنے قبض و تصرف میں رکھا۔ کمیشن کو یہ تصفیہ کرنا تھا کہ جو علاقے بغرضِ انتظام تفویض کئے گئے تھے، وہ واپس کر دیئے جائیں اور ساتھ میں بارہ فیصد حق انتظام وضعات کرکے بقیہ رقم سرکاری خزانے میں داخل کر دی جائے۔ اس کمیشن کے صدر نواب فخر نواز جنگ ، جیون یار جنگ اور جبار جنگ اس کے اراکین تھے۔ یہ کمیشن اس رپورٹ کے ساتھ برخواست ہو گیا کہ اس ضمن میں مزید تحقیقات ہو نی چاہیئے۔ دوسرا کمیشن سر گلاسی کی صدارت میں قائم ہوا۔ آنریبل سید نبی اللہ اور جسٹس فیض طیب جی اس کے اراکین قرار پائے۔ اس کمیشن میں سررانش بہاری گھوش پائیگا ہ کے وکیل تھے اورصرفِ خاص کی پیروی عبد اللہ یوسف علی کر رہے تھے۔مسٹرگھوش مقابل کی بات کو توجہ سے سنتے تھے ۔ بظاہر متفق نظر آتے تھے لیکن اپنے دلائل سے بالآخر فریقِ مقابل کو قائل کر لیا کرتے تھے۔ البتہ قانونی مسائل میں وہ اپنی لیاقت کا ثبوت دینے میں ہر حربہ استعمال کرنے کو روا سمجھتے تھے۔ مرزا فرحت اللہ بیگ رقم طراز ہیں کہ ایک دفعہ جسٹس فیض طیب جی کسی قانونی مسئلہ پر مسٹر گھوش سے الجھنے لگے۔ پہلے تو مسٹر گھوش سکون سے سب کچھ سنتے رہے، جب انہوں نے بحث ختم کی تومسٹر گھوش نے کہا: ’’ جنابِ والا ! دنیا کا بھی کیا رنگ ہے۔ ایک زمانہ وہ تھا کہ فیض طیب جی کے والد بدرالدین طیب جی مجھ سے قانون پڑھا کرتے تھے۔ آج ان کے بیٹے مجھے قانون کی تفہیم دے رہے ہیں۔‘‘ فرحت اللہ بیگ کی نظر میں ہندوستان سر رانش بہاری گھوش کا جواب پیدا نہ کر سکا۔
دوسرے کمیشن کے دوران نظام نے مسٹر گھوش کو چائے پر مدعو کیا۔ لیکن وہ ان کے پاس نہیں جانا چاہتے تھے، جب فرحت اللہ بیگ نے اصرار کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ سینکڑوں رئیسوں سے مل کر تھک چکے ہیں۔ اور وہ ان کے تعلق سے کوئی اچھی رائے نہیں رکھتے ۔ وہ نظام سے مل کر اپنا وقت نہیں ضائع کرنا چاہتے ۔ فرحت اللہ بیگ کے اصرار پر وہ بادلِ ناخواستہ رضامند ہوئے۔ دو دن بعد جب وہ دفتر پہنچے تو گھوش بابو کے چپراسی نے فرحت اللہ بیگ کو اطلاع دی کہ گھوش بابو نے انہیں سلام کہا ہے ۔ فرحت اللہ بیگ جب ان کے کمرے پہنچے تو گھوش بابو نے انہیں دیکھتے ہی ان کا شکریہ ادا کیا کہ اور کہاں؟ اگر میں کل نواب صاحب آصف سابع کے پاس نہ جاتا تو مجھے تمام عمر اس کا افسوس رہتا۔ بیگ صاحب کے تفصیلات دریافت کرنے پر انہوں نے کہا: جب میری موٹر پردے کے پاس پہنچی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہوا دار رکھا ہوا ہے اور نواب صاحب کے معتمد میرے انتظار میں کھڑے ہیں، وہ مجھے کہنے لگے کہ سرکار کو معلوم ہے کہ آپ کو چلنے میں دقت ہوتی ہے ، اس لیے یہ ہوادار آپ کے لیے بھیجا ہے ۔ آپ اس میں سوار ہوجائیں۔ میں سوار ہو گیا ۔ بس پردے کی دوسری طرف تھوڑی دور گیا ہونگاکہ دیکھا ایک شخص نہایت سادہ لباس میں کھڑا ہے۔ اس نے آتے ہی میرے ہوا دار پر ہاتھ رکھا اور مجھ سے باتیں کرنے لگا۔ میں نے پوچھا :’’ہر اگزالٹیڈ ہائی نس کہاں ہیں؟ ۔ اس نے نہایت نیچی آواز میں کہا کہ میں ہی ہوں۔ مسٹر سکریٹری ! یقین مانیئے ، اگر وہ شخص سونے کا بنا ہو ا ہوتا اور سرتا پا جواہرات میں غرق ہوتا تب بھی مجھ پر اتنا اثر نہ ہوتا جتنا ہز اگزالٹیڈ ہائی نس نظام کے سادہ لباس اور ’میں ہی ہوں ‘‘ کا ہوا۔ میں نے ہوا دار کو رکوا کر اترنا چاہا ۔ مگر انہوں نے یہ کہہ کر روک دیا ، آپ مریض ہیں، آپ کو تعظیم کے لیے تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد برآمدے کے سامنے ہوا دار رکھا گیا۔ انہوں نے خود سہارا دے کر مجھے اتارا اور اسی طرح سہارا دیتے ہوئے ملاقات کے کمرے میں لئے گئے۔ میں نے سوچا ،یہ تو دیکھو کہ اس سادگی کے ساتھ ان میں لیاقت بھی ہے یا نہیں ؟۔ میں نے ہر موضوع پر ان سے گفتگو کی اور یقین دلاتا ہوں کہ ہر موضوع پر انہیں واقفیت ہی نہیں بلکہ عبور حاصل ہے۔ معلوم نہیں وہ اتنی معلومات پر کیسے حاوی ہوگئے!۔ مجھے ڈر تھا کہ شاید اس مقدمے کے تعلق سے وہ مجھ سے کچھ کہیں گے لیکن اس بارے میں ایک لفظ بھی ان کی زبان سے ادا نہ ہوا۔ اور اس وجہ سے مرے دل میں ان کی وقعت اور بڑھ گئی۔ آج مجھے معلوم ہوا کہ ایک رئیس کو کیساہونا چاہیئے۔ ‘‘ فرحت اللہ بیگ نے کہا: ’’چلیئے ، ایک ایسے رئیس سے ملاقات ہوگئی جس کی یاد کچھ دنوں تک تو آپ کے دل میں رہے گی۔ ‘‘ مسٹر گھوش نے کہا:’’کچھ دنوں! مرتے دم تک۔‘‘ اس کمیشن کی رپورٹ بھی حکومتِ برطانیہ کے حسبِ مرضی نہ حاصل ہو سکی اس لیے 5سال بعد تیسرا کمیشن قائم کیا گیا۔ حیدرآبادی ریذیڈنٹ بارٹن یہ چاہتا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ میں کم از کم ایک فقرہ ایسا لکھا جائے جو نظام کے خلاف پڑ جائے اور برطانوی حکومت کو دست رسی کا موقع مل جائے۔ برطانوی حکومت کا یہ ادعا تھا کہ آصفِ سابع ‘امرائے پا ئیگاہ بلکہ رعایا کو بھی تباہ کردینے کے درپے ہیں اور اس کا سدِ باب صرف برطانوی حکومت ہی کر سکتی ہے۔ اس کمیشن کا صد ر مسٹر ایچ .ڈی.سی. ریلے کو مقرر کیا گیا۔ مسٹر ریلے
مدراس ہائی کورٹ کے نہ صرف جج تھے بلکہ بارٹن کے ہم زلف بھی تھے۔ شروع میں تو بارٹن نے مسٹر ریلے کو طویل خط لکھے لیکن ان کو اطمینان نہیں ہوا ۔ بالآخر انہوں نے یہ خط لکھا کہ وہ ایک اہم ملاقات کے لیے مسٹر ریلے سے ملنے آ رہے ہیں۔ مسٹر ریلے نے یہ خط مرزا فرحت اللہ بیگ کے حوالے کیا اور کہا کہ آخر وہ کونسا اہم معاملہ ہے جس پر وہ راست گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ مرزا صاحب نے کہا:’’ جنابِ عالی! انسان جب سیاسی زندگی کو اپنا لیتا ہے تو وہ بھول جاتا ہے وہ اپنی مقصد براری کے لیے کس کو استعمال کر رہا ہے۔ شاید وہ پائگاہ کمیشن کے ضمن میں اپنا کوئی عندیہ ظاہر کرنا چاہتے ہوں، لیکن انہیں یہ سوچنا چاہیئے کہ کیا وہ اپنے سیاسی عزائم کے لیے عدلیہ کے جج کو استعمال کریں گے۔ کیا کوئی ہائی کورٹ کا جج ایسا کوئی کام کر سکتا ہے، جو قرینِ انصاف نہ ہو۔ ؟‘‘۔ مسٹر ریلے نے کہا :’’ ہرگز نہیں !،، دوسرے دن ریذڈنٹ بارٹن ملنے آیا۔ اور کوئی ڈھائی تین گھنٹے تخلیہ میں ملاقات ہوئی۔ اس کے جانے کے بعد مسٹر ریلے نے فرحت اللہ بیگ کو بلواکر کہا: ’’ مسٹر سکریٹری! آپ کا قیاس بالکل درست تھا۔ وہ رپورٹ میں ایک خاص بات لکھوانا چاہتے تھے۔ لیکن میں نے ان کو صاف جواب دے دیا کہ اگر آصفِ سابع تمام پائیگاہ کو اپنے انصرام میں نہ لے لیتے تو یہ سب برباد ہوجاتے۔ اُمرائے پا ئیگاہ ہی کو نہیں بلکہ ان کی آنے والی نسلوں کو بھی نظام کا شکر گذار ہو نا چاہیئے۔
کمیشن کے دوران مسٹر ریلے کے چپراسی نے ان کے کمرے میں آکر کہا :’’ صاحب نے سلام کہا ہے‘‘۔ فرحت اللہ بیگ گئے تو مسٹر ریلے نے ایک چھوٹا سا کاغذ ان کے حوالے کر کے کہا :’’ مسٹر سکریٹری ! میرے پاس کسی عثمان علی نے بھیجا ہے۔ اس کا آدمی سر ہو رہا ہے کہ رسید میں خود اپنے دستخط سے دوں۔‘‘ مرزا صاحب نے خط پڑھا ۔ لکھا تھا : ’’ میرے بعض حالات اور خیالات کے تحت میں نے تم کو اب تک نہیں بلایا تھا، لیکن اب میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تمہارے جانے سے پہلے تم کو کم از کم ایک لنچ پر بلاؤں۔ اس لیے کل دوپہر آکر میرے ساتھ لنچ کھاؤ۔‘‘ عثمان علی۔ ۔ کاغذ پر نہ کوئی مونوگرام تھا نہ کاغذ ہی عمدہ تھا۔ معمولی سے کاغذ پر یہ تحریر تھی لیکن اندازِ تحریر دیکھ کر مرزا صاحب سمجھ گئے کہ یہ خط آصفِ سابع کا ہے۔ باہر جا کر دیکھا تو چوبدار کھڑا ہے۔ اسی وقت دستخط کرکے رسید روانہ کر دی گئی ۔
دوسرے دن مسٹر ریلے لنچ پر گئے اور واپس آئے اور بہت خوش خوش واپس آئے۔ آصفِ سابع کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا ایسا شریف النفس انسان اوراتنا باخبر رئیس میرے دیکھنے میں نہیں آیا اور یہی وجہ ہے کہ رعایا ان پر جان چھڑکتی تھی۔ مرزا صاحب نے پوچھا : ’’انہوں نے کمیشن کا کوئی ذکر چھیڑا؟۔‘‘ ریلے نے کہا: ’’ کمیشن کا اور وہ ذکر کریں۔ کیا اُ ن جیسے شخص سے ایسی رکیک حرکت کی توقع کی جا سکتی ہے۔ وہ مجھے تمام عمر یاد رہیں گے اور خاص طور پر ان کے ہونٹوں پر تبسم کی وہ لکیر۔‘‘ یہ کہہ کر مسٹر ریلے دیر خلاء میں کچھ تکتے رہے جیسے وہ اس تبسم کی شرح تلاش کر رہے ہوں۔ لیکن بھلا تبسم کی بھی کوئی شرح ممکن ہے۔ تبسم آسودگی بھی،تبسم اطمینان بھی، تبسم ہتھیار بھی، تبسم اعلانِ فتح بھی، تبسم کے ہزار ہزارمعنی۔ ہزار ہزار رنگ۔ ہزار ہزار شرح۔ لیکن میں سوچتا ہوں بہار اپنی ساری جلوہ سامانیوں کے باوجود محتاج ہے کلی کے تبسم کی ۔ ع وہ اک کلی کا تبسم ، بہار کی تکمیل !!

***