ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں

آصف جاہ سابع کے مزاج میں ایک عجیب تلوّن تھا۔ وہ بیک وقت سخت مزاج بھی تھے اور رحم دل بھی۔ ان کی نفسیات کے مطالعہ کے لیے باریک بینی چاہیئے۔ وہ ایک تعلیم یافتہ مہذب شخص تھے۔ ان کی تربیت اور اٹھان میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی تھی۔ اوائلِ عمری ہی سے امورِ جہانبانی اور طرزِ حکمرانی ان کی نگاہ میں تھی۔ وہ اپنی سلطنت اور رعایا کی فلاح و بہبود کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے تھے۔ دیوانی اور صرفخاص کے محکمے الگ الگ ہو چکے تھے۔ صرفِ خاص کی آمدنی تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپیہ سالانہ تھی۔ لیکن میر محبوب علی خان آصفِ سادس کی داد ودہش کے نتیجے میں صرف چھ سو روپیہ خزانۂ عامرہ میں تھا۔ امرائے پائیگاہ کی جاگیروں کوصرف’زرخیر‘کہنا ان کی متاعِ حقیقی کا اندازہ لگانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ زرخیز ‘ کے معنی ہی یہ تھے کہ وہ جاگیرات سونا اُگلنے والی تھیں اور وافر خزانے امراء کی مِلک تھے۔ نظامِ دکن نے لباسِ شاہانہ کا بھی استعمال کیا ہے۔ لیکن کم کم ہی استعمال کیا ہے۔ البتہ ایامِ شباب میں آمرانہ لباس پہنتے بھی تھے اور خوش پوش بھی تھے۔ میری نظر میں آصفِ سادس سے زیادہ خوش پوش اور جامہ زیب بادشاہ کم از کم آصف جاہوں میں نہیں گذرا۔ پرانی حویلی میں آج بھی ان کی طویل دو منزلہ ، دو رویہ ملبوسات کی الماری دیکھنے والوں کو دیدۂ حیراں کئے دیتی ہے۔ کلکتہ ، بمبئی اور حیدرآباد میں ان کے خیاط سال بھر ان کے لیے ملبوس تیار کرتے رہتے تھے۔ آصفِ سادس نے کبھی استعمال کیا ہوا لباس ، موزے، جرابیں، رومال ، توال دوبارہ استعمال نہیں کئے۔ باپ کا یہ وصف بیٹے میں تو نہیں آیا لیکن پوتے معظم جاہ شجیع میں یہ اوصاف ہو بہو پائے جاتے ہیں۔ میر عثمان علی خان بھی مشرقی اور مغربی دونوں لباسوں کے دلدادہ تھے لیکن وہ مغربی ملبوس پر بھی اپنا تاج جو دستار اور طرہ ہوا کرتا تھا، ضرور پہنا کرتے تھے۔ انہیں برہنہ سر شاذ و نادر ہی دیکھا گیا۔ شاید یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو کہ شمال کی طرح ’’اچکن‘‘ حیدرآباد میں مروج نہیں رہی۔ شیروانی سالار جنگ اول کی اختراع ہے۔ اچکن تو شاید ہی اب شمالی ہندوستان میں یا دلی میں رائج ہو لیکن ’شیروانی‘ نہ صرف ہندوستان بھر میں رواج پاگئی بلکہ اسے ہندوستان کے قومی لباس کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد، سروے پلّی رادھا کرشنن، ڈاکٹر ذاکر حسین، گیانی ذیل سنگھ، ڈاکٹر شنکر دیال شرما، پنڈت جواہر لال نہرو، لال بہادر شاستری و غیرہ سب نے شیروانی ہی استعمال کی۔ آج کا میں کہہ نہیں سکتا کہ کون کیا پہنتا ہے؟ جہاں ظاہر و باطن میں تضاد ہو ، وہاں لباس اور عریانی میں فرق بھی کیا رہ جاتا ہے۔ آصفِ سابع کی مذہبی تعلیم ، درس و تدریس نواب فضیلت جنگ بانئ جامعہ نظامیہ نے دی۔ علم و ادب ، منطق ، فلسفہ، نواب عماد الملک نے پڑھایا۔ دونوں اساتذہ نے تعلیم میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں رکھا۔ مذہبی تعلیم، فقہ حنفی طریقہ سے دی گئی۔ حیدرآباد ‘ خانقاہی نظام کے زیرِ اثر تھا۔ تصوف کا رنگ گہرا تھا۔ یہاں کبھی شیعہ سنی کا جھگڑا نہیں رہا۔ محرم ، شیعہ ، سنی ، ہندو ، کائستھ، سب ہی نہایت احترام سے منایا کرتے تھے۔ حضرت عینی شاہ اور حضرت شاہ خاموش کے پاس عشرہ محرم کی مجالس منعقد ہوا کرتی تھیں اور یہ دونوں بزرگ واقعات کربلا بیان کیا کرتے تھے۔ آصفِ سابع نے دو نوں مسالک کا احترام کیا ۔ وہ نمازِجمعہ باغِ عام کی مسجد میں حنفی طریقے سے ادا کیا کرتے تھے اور اہلِ بیت سے گہری عقیدت بھی رکھتے تھے۔ نریندر لوتھرنے Hyderabad - a Biographyمیں نظام کی جز رسی ، قناعت پسند ی ، حصولِ نذر پر تنقید کرتے ہوئے ہدف بنایا ہے۔ لیکن بیشتر مقامات پر غیر جانبدارانہ رویہ بھی اختیار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ایک مرتبہ نظام نماز کے لیے تشریف لا ئے تو مسجد میں خطاب کے دوران خطیب نے سرِ منبر نظام کی تعریف میں قصیدہ خوانی شروع کی ۔ نظام نے فوراً ٹوک دیا اور فرمایا کہ یہ منبرِ رسولؐ ہے۔ یہاں سے انسانوں کی تعریف اور قصیدے نہیں بیان ہونے چاہیئے۔ ایک اور موقعہ پر نظام کو مسجد میں پہنچنے میں کچھ تاخیر ہو گئی۔ ان کی آمد پر خطیب نے خطبہ روکا ، پہلے تو نظام نے خطبہ جاری رکھنے کا اشارہ کیا۔ بعد میں خطیب کو بلا کر کہا :’’ اللہ کے دربار میں شاہ و گدا ایک ہیں۔ ‘‘ مجالسِ عزاء میں شریک ہوتے تو سیاہ شیروانی زیبِ تن ہوتی اور نذر نیاز تبرک جو کچھ بھی پیش کیا جاتا‘ وہیں تناول فرمایا کرتے تھے، جیسے ان مجالس و محافل کا دستور تھا۔ مذہبی علماء کا وہ بہت احترام کیا کرتے تھے۔ آصفِ سابع کو فنِ موسیقی سے بھی دلچسپی تھی۔ ان کی پتلی پتلی انگلیوں کی وجہ سے طبلہ بجانے میں مہارت حاصل تھی۔ وہ اس فن کا مظاہرہ نہیں کیا کرتے تھے لیکن کبھی کبھار اپنے قریبی افراد کے ساتھ محبوب منشن چلے جاتے اور وہاں محفل آراستہ ہوتی۔ آصفِ سابع کی حرم سراء کے تعلق سے بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ کسی نے ان کی تعداد سینکڑوں میں درج کی ۔ ہوش بلگرامی نے 70سے زیادہ بتلائی ہے۔ ایف . ڈی . کراکا نے 42بتلائی ہے۔ خانہ زادوں کی بیان کردہ روایات کچھ اور ہیں۔ میں تو صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ کس صدی میں ، کس ملک میں، کس بادشاہ ، امیر ، حکمران، فرمانروا، صاحبِ اقتدار ، ذی حیثیت کے پاس حرم سرائیں نہیں رہیں؟ ۔ قبائلی سردار، نواب، امراء، جاگیر دار، زردار، کس نے یہ کھیل نہیں کھیلا؟ آشرموں میں کیا کچھ نہیں ہوااور ہو رہا ہے؟ قحبہ خانے کس نے آباد کئے؟ ۔ طوائف ، زنِ بازاری، ڈیرے دار، رنڈی ، خانگی، رکھیل، خواص، داشتہ ، پیشہ ور، کوٹھا، مجرا، بیسوا، نتھ اترائی یہ لفظ کیسے وجود میں آئے؟۔ آج دہشت گرد جس طرح قتلِ عام کرکے لڑکیوں اور عورتوں کی جبری توہین کر رہے ہیں اور بازاروں میں انہیں ارزاں داموں بیچ رہے ہیں، کیا یہ سب کچھ تاریخ کا ایک ورق نہیں ہے؟۔ آج تو جمہوریت کا دور ہے۔ ترقی کا دور ہے۔ روشن خیالی کا دور ہے۔ آج تو عورت کی تکریم کے چرچے ہیں۔ کیا آج صنفِ نازک کو بربریت سے نجات مل گئی۔ میں نے اپنے قلم کی عنان کھینچ رکھی ہے۔ مجھے روشنائی کی حرمت کا خیال ہے۔ میں اس سے زیادہ نہیں لکھنا چاہتا، اس لیے الفاظ کی نگرانی کر رہا ہوں۔ کوئی عورت اپنی مرضی سے اپنے پاؤں چل کر یہ راہ نہیں اختیار کرتی۔ اسے مجبور کیا جاتا ہے۔ اسے ایک جنس تصور کیا جاتا ہے۔ کبھی اسے زمین میں زندہ دفن کر دیا جاتا ہے ، کبھی اس سے خواب چھینے جاتے ہیں۔ کبھی اسے مسل دیا جاتا ہے، کبھی گلا گھونٹ دیا جاتا ہے اور کبھی اسے ماں کی کوکھ ہی میں سزائے موت دے کر اُسے سورج کی پہلی کرن سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔ کس کو دوشی سمجھئے اور کوئی کس کو دوش لگائے۔؟ شاہی ہو یا جمہوریت ، نذر اور نذرانوں کی ریت اور حصولِ منفعت کا ذریعہ تو رہی ہے۔ اور آج بھی بفضلہ قائم ہے۔ اسی کو تو آج کل بھگوان کی کرپا، فضلِ ربی اور God's Giftکہا جاتا ہے۔ ذریعۂ خوش حالی بھی سمجھا جاتا ہے۔ باعثِ خیر و برکت بھی ہے۔ اسی سے تو سب کچھ خریدا جا سکتا ہے۔ زمینیں ، جائیداد، نام، نشان، شہرت، عزت، شہرت، آسائش، آرام، راحت، عیش، نشاط، انسان، عقلیں، گئی ۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف تقاریب کے بہانے امراء، نوابین، جاگیر دار اور معززین سے نذریں وصول کرنے کو سود مند جانا اور یہ رقم ریاستی ترقی میں صرف ہوتی رہی۔ شاید دولت کے انجماد کو ختم کرنے کا بھی ایک وسیلہ رہا ہے۔ اس لیے کہ نظام کے دورِ حکومت میں اور تو سارے محکمے تھے لیکن انکم ٹیکس کا رواج نہیں تھا۔ میر عثمان علی خان اس سلسلے میں ایک ذہین فرد تھے۔ انہوں نے بعض نو دولتیوں اور خواہشمندانِ خطاب کو جنگ اور یار جنگ کے خطاب سے بھی سرفراز کیا اور خوب خوب نذر بٹوری۔ میں نے ایسے کئی خطاب یافتہ دیکھے ہیں کہ جن کو دربارِ عثمانی سے خطاب تو ملے لیکن خطاب انہیں زیب نہ دے سکا۔ ان کے کردار سے ہمیشہ نسب نامہ جھلکتا رہا۔ اُن کی عادتیں ، خصلت اور افتادِ طبع پتہ دیتی رہی کہ وہ کس تھیلی سے برآمد ہوئے ہیں۔ اورنگ زیب عالمگیر کے تعلق سے یہ روایت تواتر کے ساتھ سنی جاتی رہی ہے کہ اس کے شخصی مطبخ میں کوئی باورچی مشکل ہی سے ٹکتا تھا۔ بڑی تلاش کے بعد ایک طباخ اورنگ زیب کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ اس پر صرف ایک ہی شرط عائد کی گئی کہ وہ ایک سال تک خود سے ملازمت ترک نہیں کرے گا۔ ایک تو ضرورت مند ، اس پر طرفہ شہنشاہ عالم پناہ کے شخصی مطبخ کی ذمہ داری۔’ بلّی کے بھاگوں چھیکہ ٹوٹا‘والی بات تھی۔ پہلے دن اس نے دست بستہ شہنشاہ سلامت سے دریافت کیا کہ وہ خاصہ کیا ملاحظہ فرمانا پسند فرمائیں گے؟۔ اورنگ زیب نے ایک لفظ کہا:’کھچڑی‘۔ اس نے بڑی تندہی کے ساتھ کھچڑی تیار کرنے میں اپنا سارا تجربہ صرف کیا۔ جب تک عالم پناہ خاصہ ملاحظہ فرماتے رہے، یہ دست بستہ کھڑا رہا۔ اورنگ زیب نے سر جھکا کر کھچڑی تناول فرمائی۔ دوسرے دن طباخ نے پھر دریافت کیا کہ وہ کیا ملاحظہ فرمانا پسند کریں گے۔ عالم پناہ نے فرمایا :’کھچڑی‘۔ کئی دن تک جب عالم پناہ کھچڑی ملاحظہ فرماتے رہے ، نہ انعام ،نہ اکرام۔ نہ داد ، نہ ستائش۔نہ تعریف ، نہ واہ۔ طباخ نے ایک دن کھچڑی میں نمک ہی نہیں ڈالا کہ شاید عالم پناہ اسے تنخواہ دے کر رخصت کر دیں گے۔ ظلِ الٰہی نے ایک لفظ کہے بغیر خاصہ ملاحظہ فرمایا، اور بس۔ دوسرے دن اس نے کھچڑی میں نمک اتنا زیادہ ڈال دیا کہ دہن میں رکھتے ہی زبان کٹ جائے۔ اورنگ زیب نے ایک نظر طباخ کو دیکھا ، صرف اتنا کہا کہ:’’ کوئی ایک عادت بنا لو، روز بروز عادت نہ بدلا کرو۔‘‘ یہ کہہ کر خاصہ ملاحظہ فرمانے میں مصروف ہو گئے۔ باورچی بکھر گیا، رونے لگاتو اورنگ زیب نے وجہ دریافت کی۔ اس نے کہا ظلِ الٰہی ! میری بیٹیاں ناکتخدا ہیں۔ میں تو نانِ شبینہ کو محتاج تھا۔ حضور کے مطبخ کی ملازمت ملی تو سوچا ، انعام و اکرام سے نوازا جاؤں گا۔ دن بدل جائیں گے ، لڑکیوں کے ہاتھ پیلے کر دوں گاتو سبک دوش ہو جاؤں گا۔ میں نے حضور کو تکلیف پہنچائی۔ ‘‘ یہ کہہ کر پھوٹ پڑا ۔ اورنگ زیب نے کہا: کل دوگنی سے زیادہ کھچڑی تیار کر لینا۔ ‘‘ اور دسترخوان سے اٹھ گئے۔ دوسرے دن جب خاصہ چنا جا چکا تو حکم دیا کہ گیارہ خوان کھچڑی نام بنام وزیر اعظم، سپہ سالارِ فوج، میر بخشی اور دیگر امراء کے پاس روانہ کئے جائیں کہ عالمگیر نے اپنے دستِ مبارک سے خاصہ بھجوایا ہے۔ جب خوان واپس آئے تو رکابیاں اشرفیوں اور مہروں سے بھری ہوئی تھیں۔ اونگ زیب نے طباخ کو عطا کرتے ہوئے صرف اتنا پوچھا:’بس یا اور کچھ؟‘۔ اس روایت کی میں نے تحقیق نہیں کی ، اس لیے کہ میں اس کی ضرورت نہیں محسوس کرتا۔ فراش‘ میر محبوب علی خان آصفِ سادس کی خوابگاہ میں صفائی کر رہا تھا۔ ایش ٹرے صاف کرتے کرتے اس کی نظر سگریٹ ہولڈر پر پڑی۔ سونے کا سگریٹ ہولڈر اور اس میں ہیرا جڑا ہوا۔ ہیرے میں بھی عجب کشش ہوتی ہے۔ بظاہر پتھر سہی، لیکن انسان کو سحر میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ہاتھ میں سگریٹ ہولڈر تھامے وہ مبہوت کھڑا ہیرے کو تک رہا تھا۔ اسے خبر ہی نہیں ہوئی کہ کب بادشاہ سلامت کب خوابگاہ میں داخل ہوئے اور کب سے اسے دیکھ رہے ہیں۔ یکایک و ہ چونکا، آصفِ سادس کو دیکھ کر اس کے ہاتھ سے سگریٹ ہولڈر چھوٹ گیا۔سراسیمگی کے عالم میں اس سے کچھ کہا نہ گیا۔ منہ سے صرف اتنا نکلا: ’’ظلِ الٰہی ! میں صرف دیکھ رہا تھا۔ میں صرف اسے دیکھ رہا تھا ، سرکار!۔ میری نیت میں کوئی کھوٹ نہیں تھا غریب پرور! ۔ اسے میں جانتا ہو ں یا خدا جانتا ہے۔ ‘‘ آصفِ سادس نے کہا:’’ تم نے ہمیں ظلِ الٰہی کہا؟۔ ‘ ’جی، بندہ پرور!۔ آپ ظلِ الٰہی ہیں ، روشن ضمیر ہیں۔‘ ’اگر ہم ظلِ الٰہی ہیں تو کیا صرف خدا جانتا ہے؟ ہم نہیں جانتے؟ ۔ ‘ فراش گنگ ہو گیا۔ پھر فرمایا:’ تم اس میں کیا دیکھ رہے تھے؟‘ اس نے عرض کیا: ’ کچھ نہیں غریب پرور! بس ایسے ہی بے ساختہ ہاتھ لگ گیا تھا۔ سو میں نے اٹھا لیا۔ میری خطا معاف فرمائیں سرکار !‘ آصفِ ساد س نے کہا :’’جس خداوندِ قدوس نے وہ ہمیں عطا فرمایا تھا، اسی نے اب یہ تجھے بخش دیا ہے۔ اٹھا لے اسے ، اب یہ تیرا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ خواب بگاہ سے باہر نکل گئے۔ کئی مہینوں بعد فراش نے بمبئی میں اسے بیچنا چاہا۔ اس کی ظاہری حالت اور اس قیمتی ہولڈر کو دیکھ کر جوہری نے اس کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپیہ کلدار آنکی۔ لیکن آصفِ ساد س کا مونو گرام دیکھ کر اس نے اسے پولس کے حوالے کر دیا۔ کوتوال نے تفتیش کے بعد بذریعۂ تار جب حکومتِ حیدرآباد سے ربط پیدا کیا تو تیسرے دن جوابی تار آیا کہ وہ سگریٹ ہولڈر آصفِ سادس نے اسے بخش دیا تھا۔ اب یہ اسی کی ملکیت ہے۔ یہ روایت میرے والد کے دوست نے بیان کی تھی۔ بعد کو یہ میرے مطالعہ میں بھی آئی۔ میری ایک کرم فرماراجہ دھن راج گیر جی کی صاحبزادی راجکماری اندرا دھن راج گیر جی ہیں۔ نہایت خوش ذوق اور وضع دار خاتون ہیں۔ انگریزی میں شعر کہتی ہیں۔ ان کی کئی تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان کا ذکر تو میں آگے کہیں کروں گا ، لیکن اعلیٰ حضرت آصفِ سابع سے انہیں ایک خاص لگاؤ رہا ہے۔ اپنے ایک مضمون "The King and I"میں وہ رقم طراز ہیں کہ ان کی عمرکوئی 13؍ برس رہی ہوگی اور نومبر میں جاڑے کا موسم ، جسے دکن میں گلابی جاڑا کہا جاتا ہے، اپنے شباب پر تھا۔ راجکماری جب اپنے گھوڑے پر صبح کی سیر کر چکیں تو انہیں اطلاع دی گئی کہ دن میں ٹھیک گیارہ بجے ان کے والد ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ وہ کچھ ٹھٹکیں کہ ایسا صرف اس وقت ہوتا تھا جب کسی غلطی پر ٹوکنا ہوتا یا سرزنش کی نوبت آتی۔ بہر حال جب وہ اپنے والد کے رو برو ہوئیں تو انہوں نے حسبِ عادت ان کے دونوں رخسار چومے۔ طلائی پاندان سے گلوری دہن میں رکھ کر ان کے والد نے کہا کہ کل ٹھیک گیارہ بجے اعلیٰ حضرت سے ملاقات کرنی ہے، تم تینوں بچے ، یعنی اندرا اور ان کے دونوں بھائی وقت پر تیار رہیں۔ راجکماری اندرا بھی کمسن تھیں، ساڑی نہیں پہنتی تھیں، لیکن آدابِ شاہی کے تئیں انہیں روایتی ملبوس میں پیش ہونا تھا۔ ان کی والدہ نے اپنے ملبوسات سے کھلتے ہوئے زرد رنگ کی فرانسسی شفان ساڑی کا انتخاب کیا اور اس کے بعد اپنے بلا اس کے بعد لارڈ ماؤنٹ بٹن کے آمد تک جب بھی راجکماری اندرا اپنے والد کے ساتھ کبھی سرکاری تقریب میں شریک ہوتی تھیں تو نظام اپنے خصوصی مہمانوں سے ان کا تعارف کرواتے ہوئے کہتے تھے: ’’ اسے جب میں نے پہلی بار دیکھا تھا تو یہ اتنی سی تھی۔‘‘ حضورِ نظام سے پہلی ملاقات اور دیرینہ روابط کے بعد راجکماری اندرا کا تجزیہ یہ تھاکہ میں نے پہلی مرتبہ جب نظام کو دیکھا تو حیرت میں پڑ گئی کہ کیا یہ وہی شخص ہے جس کی تصویر میں دیکھتی رہی ہوں۔ ان کی آواز پاٹ دار اور لہجہ تحکمانہ تھا، لیکن میرے لیے ان کے لہجے میں شفقت تھی۔ دنیا کے متمول ترین انسان کو اتنے سادہ لباس اور سادہ طرزِ زندگی میں دیکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ ان کی ظاہری قامت تو جو تھی سو تھی، لیکن انسانوں کے درمیان وہ ایک بلند قامت شخصیت تھے۔ ان کی آنکھوں کی مخصوص چمک ان کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ جس سے مقابل کو نظر ملانے میں تأمل ہوتا تھا۔ ان کی زندگی اتنی سادہ تھی کہ پہلی ملاقات کے دوران انہوں نے ایک مرتبہ تالی بجائی۔ دوسرے ہی لمحے ان کی صاحبزادی شہزادی پاشا ایک معمولی چینی کی پیالی میں چائے لے کر آئیں۔ نظام کثرت سے سگریٹ پیا کرتے تھے اور وہ بھی حیدرآباد کی ہی بنی ہوئی چارمینار سگریٹ۔ آصف جاہ سادس میرمحبوب علی خان کو شکار کا بہت شوق تھا۔ ان کے شکار کی بہت سی تصویریں میرے البم میں موجود ہیں۔ آصفِ سابع کو شکار کا شوق نہیں تھا ، لیکن نشانہ بازی میں باپ بیٹے ایک دوسرے سے پیچھے بھی نہیں تھے۔ چار آنے کا سکہ جس کا قطر کوئی پون انچ ہوتا تھا، اچھال کر فضاء میں نشانہ لگانا دونوں کا شوق و شغل تھا۔ ایک دفعہ میر محبوب علی خان گذر رہے تھے، انہوں نے نو عمر شہزادے عثمان علی خان کو زمین پر کچھ تلاش کرتے دیکھ کر دریافت کیا کہ شہزادہ کیا تلاش کر رہا ہے۔ مقربین نے کہا:’’ حضور! شہزادے کا نشانہ چوک گیا ہو گا، وہ زمین پر سکہ تلاش کر رہے ہیں۔محبوب علی خان نے فوراً حکم دیا کہ سکوں کی تھیلیاں شہزادے کے پاس روانہ کردی جائیں۔ تھیلیاں تو پہنچ گئیں، تھیلیا ں اپنی جگہ ، طبیعت اپنی جگہ ۔ اکثر ناشتے کے بعد آصفِ سابع نذری باغ میں چہل قدمی کیا کرتے تھے۔ اس وقت ان کے ساتھ مہتمم میز خانہ، موٹر خانہ، توشک خانہ، گاڑی خانہ، جلو میں ہوا کرتے ۔ اور وہ خانگی احکام جاری کرتے ، ساتھ ہی خانساماں کو خاصہ کی تفصیلات بھی بیان کرتے۔ ایک دن چلتے چلتے ان کی نظر رک گئی۔ کوئی چیز زمین پر چمک رہی تھی، مہتمم میز خانہ نے نظر کا زاویہ پہچان کر آگے بڑھ کے اٹھالیا، پھر ہتھیلی پر رکھ کر کہا:’’ سرکار ! دوآنی کا سکہ ہے۔ ‘‘ نظام نے کہا: ’’کیا کہا؟ ۔ یہ دو آنی ہے؟ جا اور بازار سے اس کے بھونے ہوئے خستہ چنے لے آ۔‘‘ جب چنے آچکے تو نظام نے اس میں سے دوچار دانے منہ میں ڈالے اور تعریف فرماتے ہوئے کہا:’’کیا خوب! اللہ نے کن کن نعمتوں سے اپنی مخلوق کو نوازا ہے۔ لیکن یہ انسان ان نعمتوں کا شکر نہیں ادا کرتا۔ ‘‘ اس کے بعد فرمایا:’’ خوان پیش ہو۔ ‘‘ ایک ایک پلیٹ میں مٹھی بھر چنے ڈالتے جاتے اور نام بنام امراء اور نوابین ، دولہ اور جنگ کے نام لیتے جاتے ۔ بالآخر سارے چنے ختم ہوگئے ، جب یہ خوان میزخانے کی بگھیوں میں امراء و نوابین کی ڈیوڑھیوں تک پہنچے تو حاجب نے کہلوایا : ’’ سرکار کے میز خانے سے خاصہ آیا ہے۔ ‘‘ نواب صاحب برآمد ہوئے ۔ احترام سے خوان سر پر رکھ کر درونِ خانہ تشریف لے گئے اور دوبارہ خوان کس کر روانہ کیا۔جب سارے خوان واپس آئے اور کھولے گئے ، بطورِ نذرانہ اشرفیاں اور چاندی کے سکے جمع ہو چکے تھے ۔ اشرفیوں اور چاندی کے سکوں کے ڈھیر کو دیکھ کر نظام کی آنکھوں میں چمک آئی۔ مہتمم میز خانہ کو مخاطب کرکے کہا: ’’دیکھا دوآنی کس کو کہتے ہیں؟ ‘‘۔ پھر ارشاد فرمایا: ’’یہ ساری رقم سرور نگر کے یتیم خانے میں تقیسم کردی جائے۔‘‘ ٍ شاید کسی اور ریاست میں بھی تقسیمِ زر کا یہ نظام رہا ہو، لیکن میری نظر میں نہیں ہے۔

ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں

***