ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں

میں نہ آمریت کا وکیل ہوں نہ شاہی کا قصیدہ خواں۔ میں تو صرف انسان کی بزرگی کے اعتراف کا خواہاں ہوں۔ یہ بے انتظار بارشیں، دریاؤں کی روانی، سمندروں کی گہرائی، ستاروں کا شامیانہ، سبزے کی بساط ، پیڑ پودوں کی چوپال، نوا سنجئ طیور، آہوانِ صحراء کا رم، رقصِ طاؤس، فلک بوس برف پوشاک پہاڑیاں، یہ سب کچھ ہوں اور زمین پر انسان کے نقشِ قدم نہ ہوں، پکڈنڈیوں نے ابنِ آدم کی قدم بوسی نہ کی ہو،تب زمین کی ساری سج دھج تو اس برہن جیسی ہے جس کی جوانی اساڑھ کی چاندنی میں برفیلی پہاڑیوں سے اترکر ندی کے کنارے تھم سی جائے ہے کہ میرے حصے میں ملاح کے راگ کا رس تو نہیں ہے، شاید ڈوبتی ناؤ کی سسکیاں ہوں۔ حسد، رقابت، طلبِ جاہ واقتدار، ملک گیری، صنعت قدآوری، انا پسندی ، نشۂ فرمان روائی، خواہشِ نفس، پندارِ ذات، کر و فر اور ان سب سے زیادہ انسان کے سر کو اپنے قدموں پر جھکا نے کی خواہشِ برتری ، زمین پر خونریزی کا باعث ہوئی۔ یہ درست نہیں ہے کہ شاہی ہی میں یہ تمام عیوب پائے جاتے ہیں اور جمہوریت ان تمام عیوب سے پاک ہے۔ میرے خیال میں صرف طریقۂ کار کا فرق ہے۔ کبھی کبھی شاہی کو بھی انسان دوست دیکھا اور کبھی جمہوریت میں بھی وہ درندگی دیکھی جہاں مفاداتِ حاصلہ کی خاطر عیاری، مکاری، حیلہ سازی، ریاکا ری، طوطا چشمی اور خونِ انسانی کو مباح جانا گیا۔ کئی برس سے میرے احباب کا تقاضہ تھا کہ میں خود نوشت لکھوں لیکن میں اس پر آمادہ نہ تھا ۔ کسی ایسے شخص کی خاکہ نگاری جو حیات ہو ، ایک مشکل کام ہوتا ہے اس لیے کہ : خیالِ خاطرِ احباب چاہیئے ہر دم انیس ؔ ٹھیس نہ لگ جائے آنگینوں کو کا خدشہ ہر دم لگا رہتا ہے۔ بقول پر وفیسر مجاور حسین رضوی صاحب خود نوشت دراصل عہد نویسی کا دوسرا نام ہے۔ اس عہد نویسی میں ماضی سے تعلق قائم رکھنا اور حال کا دیانت دار تجزیہ ، اپنے ہاتھوں اپنی دار سجانے کے مترادف ہے۔ لیکن جو نہ لکھتا تو یہ الزام بھی میرے ہی سر تھا کہ سر بچا لائے ہو لیکن یہ زبان تو دیکھو کتنا ویران ہے تاحدِ نظر منظرِ دار! حتی الامکان یہ خود نوشت حقیقت بیانی ہی رہے گی۔ میں اپنے بد ترین نقاد کو بھی یہ موقع نہیں فراہم کرنا چاہتا کہ مجھ پر مصلحتِ دمشق اور منافقتِ کوفہ کا الزام عائد کر سکے۔ خاکِ طیبہ مری آنکھ کا سرمہ، خاکِ کربلا مرے رخ کا غازہ، دہلیزِ شاہِ نجف مرا تکیہ مرا بستر۔ کسی اور سے مجھے کیا غرض۔ ہاں ، سہو و نسیان ‘ آدمیت کا تقاضہ ہے سو کہیں بھول ہو جائے تو ’حق در بطنِ راوی و دروغ بر گردنِ ما‘۔ آصفِ سابع میر عثمان علی خان بھی انسان ہی تھے۔ کوئی فرشتہ نہیں تھے۔ میں یوں بھی کسی انسان کو فرشتہ ثابت کر کے اس کے شرفِ خلقتِ اور برتری کو گھٹانے کا قائل نہیں ہوں۔ میرعثمان علی خان کی ولادت29جمادی الثانی 1303ھ مطابق 5اپریل 1886ء ہے۔ آصفِ سادس نے اپنے اس فرزند کے لڑکپن ہی میں جو ہرِ حکمرانی دیکھ لئے تھے۔ اوائلِ عمرہی سے ان کی پوری توجہ اپنے والد کے طرزِ حکمرانی کے ساتھ ساتھ امراء کی ریشہ دوانیوں کو بھی نہ صرف بغور دیکھ رہی تھیں بلکہ ان کے تیز مشاہدے نے وقت کی سوئیوں کی رفتار کو بھی محسوس کر لیا تھا۔ ان کی تعلیم و تربیت کے لئے آقا سید علی شو ستری ، انگریزی تعلیم کے لیے Sir Burton Eagarton، جیسے ماہرین کو مامور کیا گیا۔ سر افسر الملک کمانڈر انچیف کی نگرانی میں نشانہ بازی، گھڑ سواری اور فوج کی باضابطہ تربیت بھی ان کے نصاب کا حصہ تھی۔ اس کے علاوہ میر عثمان علی خان کی اپج ، فطری صلاحیتوں ، امورِ جہانبانی میں غور و خوض، قوتِ فیصلہ کے پیشِ نظر میر محبوب علی خان کی ہدایت پر بابِ حکومت کی تمام اہم مسلیں ہر صبح نو عمر شہزادے کی خدمت میں بغرضِ ملا حظہ پیش کی جاتیں۔ رفتہ رفتہ ان امور میںآصفِ سادس مشورہ طلب بھی ہوتے تاکہ دیکھ سکیں کہ تربیت کے رنگ نے کتنا اثر قبول کیا۔ بہت جلد میر عثمان علی خان نے اپنے آپ کوسلطنت کی حکمرانی کے لیے اہل ثابت کر دیا اور امراء کواندرونی طور پر یہ بات سمجھ میں آ چکی تھی کہ حکمران کو ن ہوگا۔ اور شاہی محلات کی طرح‘ اقتدار کی رسہ کشی میں حیدرآباد بھی پیچھے نہیں تھا۔ محبوب علی خان کی ایک اور محل سردار بیگم یہ چاہتی تھیں کہ ان کے فرزند بصالت جاہ کو ولیعہد مقرر کیا جائے ۔ آصفِ سادس اس معاملے کو ٹالتے رہے۔ راج ہٹ اپنی جگہ۔ تِریا ہٹ اپنی جگہ۔ محبوب علی خان گھوڑوں کے شوقین تھے۔ اپنے ایک محل محبوب منشن کے قریب ہی ان کا ریس کورس بھی تھا۔ سردار بیگم بھی ریس میں دلچسپی رکھتی تھیں۔ ان کی پسند کے تربیت یافتہ گھوڑے بھی ریس اصطبل میں تھے۔ گھوڑ دوڑکے وقت وہ پسِ چلمن سے نظارہ کرتی تھیں۔ اُس دن شاہی اصطبل کے گھوڑوں کے ساتھ بیگم صاحبہ کے گھوڑے بھی ریس میں شریک تھے۔ میر محبوب علی خان نے بیگم صاحبہ سے دریافت کیا:’’آپ کس گھوڑے پر بازی لگانا چاہتی ہیں؟‘‘ ۔ بیگم صاحبہ نے کہا:’’ حضور بادشاہِ وقت ہیں۔ میں مقابل میں آؤں۔ یہ تاب، یہ مجال ، یہ طاقت نہیں مجھے!‘‘۔ آصفِ سادس نے کہا:’’ آپ نے بھی تو اپنی نگرانی میں تربیت کی ہے۔ ہم آپ کی تربیت کا رنگ دیکھنا چاہیں گے۔‘‘ بیگم صاحبہ خاموش ہو گئیں۔ آصفِ ساد س نے کہا:’’ کوئی عذر ہے آپ کو ؟‘‘ ۔ بیگم صاحبہ نے کہا:’’ ہاں! ہارجیت تو وقت وقت پر منحصر ہے، لیکن!‘‘ ۔ لیکن کیا ؟ ۔ آپ رک کیوں گئیں؟ کہیئے تو!‘‘ ۔ ’’ چھوڑیئے بھی ۔ میں تو آپ کی خوشی کو ہردم اپنی خوشی سمجھتی ہوں۔ حضور پر سب روشن ہے۔ ‘‘ ’’ یہ بھی تو ہماری خوشی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنی قسمت آزمائیں۔ ‘‘ آصفِ سادس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ میں تو یہ چاہتی تھی کہ آپ میری پسند کو اپنی پسند قرار دیں۔ شاہی اصطبل میں اور بھی گھوڑے ہوں گے۔ ان پر حضور کے الطاف و کرم بہتہیں۔ لیکن میرا گھوڑا اصیل ہے۔ بھلا اس کا کسی اور سے کیا مقابلہ ؟۔ ‘‘ آصفِ سادس کے ابرو کی کمانیں کھنچ گئیں۔ چند دقیقوں کی خاموشی کے بعد انہوں نے تالی بجائی۔ کنیز حاضر ہوئی تو فرمایا ۔’’ کوچوان سے کہو سواری لگائے۔‘‘ اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ بیگم صاحبہ نے کہا :’’ شاید میری بات سرکار کو گراں گذری ۔ میں نے تو یونہی ایک بات کہدی تھی۔ خطا ہو گئی ۔ ‘‘ آصفِ سادس بر آمد ہوئے اور کوچوان سے کہا:’’فلک نما چلو۔‘‘ وہ شاید شعبان المعظم کی آخری شام تھی۔ رمضان المبارک کے تین دن گذر گئے۔ وہ باہر بر آمد نہیں ہوئے۔ کسی کو شرفِ باریابی نہیں بخشا۔ امراء، مصاحبین، درباری، سب فکر مند تھے۔ چوتھی رمضان 1329ھ کو شام سے کچھ پہلے وہ بر آمد ے میں آرام کرسی پر تشریف فرما تھے۔ جھولتے ہوئے ذرا سا توازن جو بگڑا تو کرسی سے گر پڑے۔ نوکر چاکر ملازم سب دوڑے ، لے جا کر مسہری پر لٹایا گیا۔ طبیب طلب کئے گئے۔ ریذیڈنسی سے ڈاکٹر پہنچا لیکن وہ سفرِ آخرت پر روانہ ہو چکے تھے۔ شہر بھر میں منادی کروادی گئی کہ خلقِ خدا چارمینار کے پاس جمع ہو۔ مغرب کے بعد چار مینار کی پہلی منزل پر جہاں آج گھڑی نصب ہے، شِہاب جنگ بر آمد ہوئے۔ اپنے سرسے دستار پھینک کر اعلان کیا کہ شاہِ دکن ، مظفر الملک ، نواب میر محبوب علی خان آصفِ جاہ سادس ‘ خلد آشیاں ہوئے۔ خلقِ خدا یہ اعلان سن کر بلک اٹھی۔ لوگ اپنے محبوب بادشاہ کی فیاضیاں اور سلوک یاد کرکے زار و قطار رو پڑے ۔ اسی لمحے شِہاب جنگ نے دستار پہنی اور اعلان کر دیا کہ ولیعہد بہادرِ ریاستِ حیدرآباد نواب میر عثمان علی خان آصفِ سابع سریر آرائے ریاستِ حیدرآباد ہوئے۔ ساداتِ بارہہ کی طرح ‘ ہر حکومت میں ایسے کردار پائے جاتے ہیں کہ سازشوں اور شیرازہ بندیوں سے وہ اپنی مرضی کا حکمران مقرر کر کے اپنی منفعت حاصل کر سکیں۔ لیکن شِہاب جنگ نے ایسا کوئی موقعہ فراہم نہیں ہونے دیا۔ آصفِ ساد س کی تدفین مکہ مسجد کے صحن میں واقع ان کے آبائی مقبرے میں عمل میں آئی۔ نہیں معلوم یہ رعایا کی محبت تھی یا آصفِ سادس کی خدا رسی۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کسی کو سانپ ڈس لے تو کاٹے پر میر محبوب علی خان کی قبر کی مٹی لگا دینے سے زہر اترجاتا تھا۔ قبر کی مٹی تو اس وقت ممکن تھی جب یہ واقعہ شہر میں یا اطراف میں ہو۔ لیکن دور دراز کے علاقوں میں بھی یہ بات مشہور تھی کہ چٹکی بھر خاک کاٹے پر لگا کر میر محبوب علی خان کی دہائی دی جاتی اور دیکھتے دیکھتے وہ ٹھیک ہو جاتا ۔ میرے لڑکپن تک بھی ایسے کئی واقعات میری نظر سے گذرے ہیں۔ دروغ بر گردنِ راوی، آج کل سنتا ہوں کہ انسان سانپ کو ڈس لیتا ہے تو سانپ فریادی ہوتا ہے لیکن کسی کی دہائی نہیں دے پاتا۔ دہائی دینے سے پہلے سانپ مر جاتا ہے۔ خدا جانے کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ۔ آصفِ سادس کے انتقال کے ساتویں دن رسمِ تخت نشینی حسبِ سابق خلوتِ مبارک کے دربار ہال میں 10رمضان 1329ھ مطابق 18اگست 1911ء عمل میں آئی۔ 1912ء میں مہا راجہ سر کرشن پرشاد نے وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کی خواہش کی۔ نظام نے ان کی اس خواہش کی تکمیل تو کی لیکن پیشکارئ دربار کا عہدہ ان کے پاس برقرار رکھا۔ ان کی جگہ میر یوسف علی خان سالار جنگ سوم کو وزیرِ اعظم مقرر کیا۔ دو سال تک سر سالار جنگ سوم نے اپنے دادا سر سالار جنگ اول کی طرح اصلاحات کو فروغ دیا اور نظام کے ساتھ حیدرآباد کی ترقی کو ایک نئی جہت دینے میں مصروف رہے۔ 1914ء میں سر سالار جنگ صرف دو سال کی مدت کے بعد اس عہدہ سیمستعفی ہو گئے۔ ان کے بعد نظام نے فوراً کوئی تقرر نہیں کیا بلکہ راست عنانِ حکومت اپنے ہاتھ میں رکھی۔ انہوں نے اپنے والد نواب میر محبوب علی خان کی طرزِ حکمرانی، آئین ، فلاحی اور ترقیاتی کاموں کو بغور دیکھا تھا۔ ان کی حرکیاتی شخصیت نے حیدرآباد کو ایک نئی جہت دینے کی ٹھانی۔ چنانچہ ان کے عہد میں ہمہ جہتی ریاستی ترقی کی ماضی و حال میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ماضی کے اوراق میں وفا داری کے تئیں اپنی جان قربان کرنے والوں کی تو مثال مل جاتی ہے، لیکن آن اور آبرو نثار کرنے والوں کی مثال شاذ و نادر ہی پائی جاتی ہے۔ ایسی مثالیں غیر مشروط وفاداریوں میں شمار ہیں۔ شِہاب جنگ کا شمار ان ہی افراد میں ہے۔ وہ میر محبوب علی خان کے مشیر بھی تھے، ناظم الامور بھی،اور وزیرِ نظم و نسق بھی۔ شہاب جنگ کی دیوڑھی اور پرانی حویلی جو آصفِ سادس کی رہائش تھی، اس کے بیچ بس ایک دیوار حائل تھی۔ یوں کہ اِدھر برتن کھنکے تو پرانی حویلی کے مسرت محل میں اس کی کھنک سنائی دے۔ شہاب جنگ دن میں آصفِ سادس کے دربار میں ہوتے تو امورِ سلطنت کے لیے ان کا دربار رات میں سجتا۔ مسجدِ لشکر جنگ ، یاقوت پورہ کے قریب ان کی دیوڑھی واقع تھی۔ ان کا دربارِ شب دراصل ’’دربارِ دُربار‘‘ تھا۔ رات بھر سڑک پر میلا سا لگا رہتا ۔ خوانچہ فروش، کبابیئے، چائے کی دوکانیں، میووں کے ٹھیلے، عرضی نویس۔ ادھر گیس کے ہنڈیوں سے سڑک جگمگاتی رہتی تو اُدھر دیوڑھی کے اندار شبِ برات کا سماں ہوا کرتا تھا۔ ناظم، پیش کار، حاجب، خدمتگار، چوبدار، فراش، نقیب‘ قدم قدم پر قطار اندار قطار محل سرا کے پردے تک اور محل سرا میں مغلانیاں، اصیل، باندیاں، قلماقنیاں، جسولنیاں‘ سب کے سب گوش بر آواز ، تمام شب پہرہ بدلتے رہتے۔ پیشکار باری باری مسل پیش کرتا اور وہ احکام صادر کرتے۔ ادھر زبان سے لفظ ادا ہوا اور ادھر محرر نے دوات میں پتی کا قلم ڈبو کر خطِ دیوانی میں لکھ کر بخدمتِ عالی پیش کر دیا۔ ادھر دستخط ہوئی نہیں کہ مہر لگ کر فیصلہ ہو گیا اور پھر دوسری مسل پیش ہوئی۔ اس دوران اگر شہاب جنگ کی زبان سے صرف ایک لفظ ’’پانی‘‘ نکل گیا تو فوری خدمت گار نے آواز لگائی’’آبِ خاص پیش ہو‘‘ اور اس کے ساتھ ہی دوسرے خدمت گار نے سُر ملایا ۔ ’’ آبِ خاص پیش ہو‘‘ اور یہ صدا بلا وقفہ محل سرا کے پردے تک اور وہاں سے آبدار خانے تک سُر سے سُر ملائے پہنچتی اور پھر فوراً ہی ’’ آبِ خاص حاضر ہے‘‘ کا جوابی سُر اس وقت تک نہ ٹوٹتا جب تک پیشی کا ملازمِ خاص تعظیم میں کمر خمیدہ آبِ خاص خدمت میں نہ پیش کر دیتا ۔ آواز کے اس تسلسل میں اگر کہیں ثانیہ برابر کا فرق آجائے تو اس ملازم پر جرمانہ عائد ہوتا ، جسے محاسب فورا درج کرلیتا کہ اس تساہل پر کہیں اس پر بھی جرمانہ نہ عائد ہو جائے۔ شہاب جنگ کے دربار میں کسی ملازم کا تقرر ہوتا تو پروانۂ تقرر میں یافت دیکھ کر پھولا نہ سماتا۔ لیکن جرمانوں کی وضعات کے بعد جو تنخواہ ہاتھ آتی تو وہی ڈھاک کے تین پات۔ اس لیے حیدرآباد میں یہ مثل مشہور ہوئی کہ ’’خشخشی داڑھی سے صفائی بہتر ۔ شہاب جنگ کی نوکری سے گدائی بہتر‘‘۔ وہ دراصل ملازم کو چاق و چوبند دیکھنا چاہتے تھے اورانہیں تساہل گوارہ نہ تھا۔ اس کے باوجود بھی ملازمین کی ایک فوج ان کے دربار سے وابستہ تھی۔ کیا شاگرد پیشہ اور کیا کوتوالِ شہر۔ شہاب جنگ کے جرمانے سے کوئی بچا نہیں ۔ ایک مرتبہ کسی اہم مسئلہ میں شہاب جنگ نے نواب اکبرجنگ کوتوال کو مراسلہ روانہ کیا کہ وہ متعلقہ مسل کے ساتھ حاضر ہوں۔ کوتوال کو وقتِ مقررہ سے کچھ تاخیر ہوگئی۔ شہاب جنگ نے کوتوال پر دو روپیہ جرمانہ عائد کر دیا۔ کوتوال اس فکر میں کہ شہاب جنگ کے پاس شنوائی نہیں اور جرمانہ ادا کرے تو رسوائی ہے۔ اس نے آصفِ سادس کی خدمت میں حاضری دی اور خواستگار ہواکہ وہ خاندانِ آصفیہ کا پشتینی نمک خوار بھی ہے وفادار بھی۔ اس لیے درگذر کیاجائے۔ جب شہاب جنگ دربار میں حاضر ہوئے تو آصفِ سادس نے کہا: ’’ شہاب جنگ! کوتوال ہمارا نمک خوارہے، انسان بشر ہے، لغزش ہو گئی ہوگی۔ اس کے ساتھ رعایت سے کام لیا جائے۔‘‘ شہاب جنگ نے فی الفور عرض کیا :’’ حضورکا حکم سر آنکھوں پر ۔ ارشادِ مبارک کی تعمیل ہوگی۔ بھلا خانہ زا د کی یہ مجال کہ حکم سے سرتابی ہو ۔ خاطر جمع رکھیئے۔ لفظ بہ لفظ تعمیل ہوگی۔ اس کے بعد مسل منگواکر نئے احکام جاری کئے کہ حسب الحکم حضور پرنور بندگانِ عالی ’’حکمِ رعایت‘‘ کے پیشِ نظر کوتوالِ شہر کے جرمانہ میں ایک روپیہ کی رعایت دی جاتی ہے۔ کوتوال مبلغ ایک روپیہ جرمانہ فوراً خزانۂ عامرہ میں جمع کر کے رسید داخل کرے، ورنہ مستوجب حکم عدولی قرار پائے گا ۔ ‘‘ اس خیال سے کہ مزید کہیں اس پر دو آنے یا چار آنے کا جرمانہ عائد کر کے اسے بے تو قیر نہ کیا جائے کوتوال نے فوراً جرمانہ ادا کر دیا۔ آصفِ سادس بعض امراء کی ریشہ دوانیوں سے بھی واقف تھے لیکن انہیں ہم نوا کرنے کے فن سے بھی واقف تھے۔ وہ اختلاف برائے اختلاف اور اختلاف بر بنائے اصول کی تمیز بھی رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ مجلسِ امراء میں ریاست کے تمام امراء شریک ہوئے لیکن عین وقت پر محبوب علی پاشاہ کی طبیعت ناساز ہوگئی۔ انہوں نے اپنے با اعتماد مہتمم مولوی احمد حسین کو روانہ کیا کہ وہ اس مجلس میں جائیں اور امراء کی تمام تجاویز کو ضبطِ تحریر میں لاکر انہیں پیش کر دیں۔ مولوی احمد حسین جب مجلس امراء میں پہنچے اور آصفِ سادس کا فرمان سنایا تو شہاب جنگ نے انہیں بیٹھنے کو بھی نہیں کہا اور الٹے پاؤں واپس بھیج دیا۔ اپنی اس تذلیل کی تاب نہ لاکر مولوی احمد حسین نے آصفِ سادس کی خدمت میں حاضر ہوکر روتے ہوئے ساری روداد کہہ سنائی۔ یہ سن کر فرمان روائے دکن کی تیوری پر بل آگئے اور فوراً شہاب جنگ کو طلب کیا ۔ بڑے جلال اور غیض کے عالم میں شہاب جنگ سے کہا: ’’ تم سمجھتے کیا ہو؟ احمد حسین میرا فرستادہ تھا۔ یہ نہ بھولو کہ جس کے سرپر میری جوتی رکھ دی جاتی ہے، وہی مقتدر ہوتا ہے۔ہما ری عطا کردہ رعایتوں کا یہ مطلب نہیں کہ تم ہمارے فرستادہ کی توہین کر کے ہماری توہین کے مرتکب ہو سکتے ہو۔ ‘‘ جہاں پناہ کا غیض و غضب عروج پر تھا اور عجب نہیں تھا کہ وہ شہاب جنگ کے لیے کوئی سخت ترین سزا تجویز کر دیتے۔ لیکن فیصلہ کرنے سے پہلے انہوں نے نظامِ عدل گستری کے تئیں شہاب جنگ سے کہا : ’’ تمہیں اپنی صفائی میں کچھ عرض کرنا ہوتو عدلِ خسروی تمہیں اس حق سے محروم نہیں کرنا چاہتا ہے۔ تمہیں جو کچھ کہنا ہے ، بیان ہو۔‘‘ شہاب جنگ تعظیم میں جھک گئے ۔ اپنی دستار اور بگلوس اتار کر سر کو خم کیا اور پھر گویا ہوئے : ’’ حضور کا جاہ و جلا ل تاقیامِ شمس وقمر سلامت رہے۔ ظلِ ہما سایہ فگن رہے۔ رعایا فیض یاب ہوتی رہے۔ حدودِ مملکت شرق و غرب تک دراز ہو۔ حضور میری اس گستاخی کو معاف فرمائیں۔ سرکار کا یہ ارشاد بالکل درست ہے کہ جس کے سر پر سرکار کی جوتی ہو وہی مقتدر ہے، لیکن سرکار کی پاپوشِ مبارک کا ہر سر متحمل نہیں ہو سکتا۔ میری درخواست ہے کہ حضور اس بات پر مکرر غور فرمائیں کہ وہ امراء کا اجلاس تھا، امراء کی سازشیں اور ریشہ دوانیاں سرکار پر روشن ہیں۔ ناسازئ مزاج کی وجہ سے حضور انہیں امراء میں سے کسی کو فرستادہ قرار د یتے تب بھی باہمی چپقلش فتنہ ساماں ہوجاتی ، چہ جائیکہ کسی ملازم کو یہ امراء برداشت کرتے ۔ اسی کے پیش نظر غلام کو یہ جرات ہوئی کہ ایک ملازم کی خاطر ان ریشہ دوانیوں اور سازشوں کو فروغ نہیں دیا جا سکتا تھا۔ تا حکم ثانی فدوی درِ دولت کی دہلیز پر دست بستہ حاضر ہے۔ ‘‘ محبوب علی خان نے اس روداد کو نہایت تحمل سے سنا ، پھر اپنے گلے کے قیمتی مروارید کی مالا نکال کر شہاب جنگ کو نوازااور اپنے ہاتھ سے دوبارہ دستار پہنائی۔ وہی شہاب جنگ تھے، وہی امراء تھے، وہی ریشہ دوانیاں تھیں، وہی سازشیں تھیں ، لیکن بادشاہ بدل گیا تھا۔ آصفِ سادس کی جگہ آصف جاہِ سابع میر عثمان علی خان تخت نشین ہو چکے تھے۔ امرائے پائیگاہ کے لیے نواب میر عثمان علی خان پسندیدہ بادشاہ نہیں تھے۔ وہ تو ریاستِ حیدرآباد کے تخت پر کٹھ پتلی بادشاہ کو دیکھنا چاہتے تھے، تاکہ وہ اپنی من مانی کر سکیں۔ یہی وقت تھا کہ وہ کچھ کر گذریں تاکہ برطانوی حکومت کی نظر میں موجودہ بادشاہ نااہل ثابت ہو جائے ۔ نظامِ دکن ان سازشوں کی بو سونگھ چکے تھے۔ انہوں نے تخلیہ میں شہاب جنگ کو طلب کیا اور اس مسئلہ پر ان کی رائے جاننا چاہی۔ شہاب جنگ نے بہت سی برساتیں دیکھی تھیں۔ وہ ریاست کے سرد و گرم سے بھی واقف تھے اور امراء کے کس بل کا بھی انہیں خوب اندازہ تھا۔ انہوں نے آصفِ سابع سے کہا: ’’ حضور دانائے جہاں ہیں۔ عقل و فراست ترکیب و تدبیر سب کچھ سرکار پر روشن ہے۔ اس پشتینی غلام کی کیا مجال کہ سرکار کو مشورہ دے سکے۔ یہ تو میری خوش بختی ہے کہ حضور نے فدوی کو اس ضمن میں طلب کرنے کے قابل سمجھا ‘‘۔ کچھ رک کر انہوں نے کہا: ’’امرائے پائیگاہ حضورِ والا کی نظر میں سرخرو بھی رہنا چاہتے ہیں اور سازشوں میں بھی شریک رہتے ہیں۔ خلد آشیانی سرکار آصفِ سادس کی فراخ دلی ، رعایا پروری ، داد و دہش اور رکھ رکھا ؤ کی وجہ سے خزانے کی صورت حال سرکار سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اس صورت میں ان سے کھلی مخالفت شاید سودمند نہ ثابت ہو۔‘‘ ’’لیکن ان کو طرح بھی تو نہیں دی جا سکتی ، اس سے وہ نہ صرف اور دلیر ہو جائیں گے بلکہ شاید منظم بھی ہوجائیں ۔ ‘‘ نظام نے کہا۔ ’’ سرکار کے لیے لائقِ توجہ ہو تو فدوی کچھ عرض کرے۔ ‘‘ شہاب جنگ نے دست بستہ کہا۔ ’’کہو‘‘ ۔ نظام نے فرمایا۔ شہاب جنگ نے کہا: ’’ امراء ‘ بلند مرتبہ ، ذی حیثیت اور آبرومند ہوتے ہیں۔ ان کے لیے دولت ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ آن بان ، عزت‘ آبرو‘ ان کے لیے سب کچھ ہے۔ دولت سے زیادہ ، زندگی سے بڑھ کر ، جان سے زیادہ۔غلام آپ کے خاندان کا پشتینی نمک خوار ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ فدوی فدا بنامِ آصف جاہ ہے۔ حضور کی عنایات اور غلام نوازی کے سبب غیرت منداور ذی حیثیت ہوں۔ اگلی مرتبہ جب دربار مقرر ہو تو جانثار کچھ تاخیر سے حاضرِ دربار ہوگا۔ اس تاخیر پر حضور نہ صرف مجھ سے باز پرس فرمائیں بلکہ سرِعام سرزنش فرمادیں۔ غفران مآب آصفِ سادس کے مجھ پر جو الطاف و کرم تھے، سب پر عیاں ہیں ۔ امراء کو آپ کی طرزِ حکمرانی کا اندازہ ہو جائے گا۔ آئندہ کسی کی جرات نہ ہو گی کہ سازش تو کجا ، خواب میں بھی خود اپنے بے آبرو ہونے کا خود سامان کریں۔‘‘ ’’ شہاب جنگ! ‘‘نظام نے تپیدہ لہجہ میں کہا :’’ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ فردوس مکانی آپ پر کتنا اعتماد کیا کرتے تھے۔ اور ان کا آپ کے ساتھ کیا سلوک تھا۔ کوئی اور راہ نکالی جائے گی۔‘‘ شہاب جنگ نے کہا:’’ حضور ! صرف جان کی قربانی ہی قربانی نہیں ہوتی۔ وہ تو ایک معمولی سی بات ہے۔ سلطنت کی بقاء اور رعایا کی فلاح وصلاح کے لیے یہ غلام کا حقیر سا نذرانہ ہے۔ اسے قبول فرما کر غلام کو سرفراز فرمائیں۔ گر قبول افتد زہے عزّ و شرف۔ ‘‘ دربار کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا۔ وقتِ مقررہ سے پہلے حاضرینِ دربار اپنی اپنی نشستوں پر تھے۔ منادی نے صدا دی:’’ جنبش مکن ، نگاہ رو برو، ہوش و خرد پیش بارگاہ رہے۔ ظلِ سبحانی ، فرمانروائے سلطنتِ آصفیہ ، حاکم از مہر تابہ ماہی ، مظفر الملک ، فتح جنگ، سلطان العلوم ، نظامِ دکن، نواب میر عثمان علی خان آصف جاہ سابع جلوہ افروزِ دربار ہورہے ہیں۔ ‘‘ اہلِ دربار کھڑے ہو گئے ۔ جھک کر تعظیم کی ۔ نظام جلوس فرما ہوئے۔ یمین السلطنت مہا راجہ کشن پر شاد نے بہ اجازتِ شاہ روداد پیش کی ۔ نظام نے فرمایا :’’ ممالکِ محروسہ میں نظم و ضبط کی صورت حال بیان ہو۔‘‘ مہاراجہ نے کہا: ’’ سرکار! آج شہاب جنگ دربار میں حاضر نہیں ہوئے۔‘‘ نظام نے دریافت کیا: ’’ کوئی عذر؟ ‘‘ ۔ مہاراجہ خاموش ہوگئے۔ نظام کے ابرو پر بل آگئے۔ تھوڑی سی تاخیر ہوئی اور شہاب جنگ داخلِ دربار ہوئے۔ نظام نے کڑک کر پوچھا: ’’ شہاب جنگ ! کیا تم آدابِ دربار سے واقف نہیں ہو؟‘‘۔ شہاب جنگ نے کہا: ’’ سرکار! فدوی غفران مکان اعلیٰ حضرت کے دور سے ہی دربارِ شاہی سے وابستہ رہا ہے۔ ‘‘ ان کے لہجے میں ہلکی سی جرات آزمائی تھی۔ اہلِ دربار نے چونک کے شہاب جنگ کو دیکھا۔ یکایک نظام گرج اٹھے: ’’ گستاخ، زبان دراز، نمک حرام، تیری یہ مجال کہ ہمارے آگے آواز بلند ہو ۔ نکل دربار سے!‘‘ ۔ پھر یمین السلطنت سے مخاطب ہو کر کہا: ’’ نکال باہر کیاجائے۔ ہم اس صورت حرام کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے۔ ‘‘ شہاب جنگ نے ڈبڈبائی آنکھوں سے ایک نظر دربار پر ڈالی ، کورنش بجا لا کر چوبِ تخت کو چوما اور سلام کرتے ہوئے الٹے پاؤں دربار سے باہر نکل گئے۔ بگھی میں سوار ہو کر کوچوان سے کہا کہ پردے کھینچ دیئے جائیں ۔ دیوڑھی میں داخل ہوئے تو پھر کسی نے شہاب جنگ کو نہیں دیکھا۔ ان کی وصیت تھی کہ انتقال کے بعد میت کا دیدار نہ کروایا جائے۔ وصیت کی تکمیل کی گئی۔ کنجِ لحد میں ہمیشہ کے لیے منہ چھپا لیا۔ آپ چاہیں تو اسے شہاب جنگ کی غیرت مندی کہہ لیجیے۔ چاہے ایثار کہیں یا اسے نظامِ دکن کی گربہ کشتنی کہہ لیجیئے۔ لیکن اس کے بعد سلطنت کے کسی امیر کو سر اٹھانے کی ہمت و حوصلہ نہیں ہوا۔ ۔

ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں

***