ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا

نظامِ حیدرآباد کی ظاہری وضع قطع ، لباس ، طرزِ زندگی ، غذا،اور سادگی کو دیکھ کر الفاظ سے مرقع کشی کرنے والوں نے انہیں کنجوس، بخیل، زرپرست، آئینِ جہانبانی سے ناواقف ثابت کرنے میں کوئی دقیقہ فرگذاشت نہیں رکھا۔ اس صف میں جوش ؔ ملیح آبادی، ہوشؔ بلگرامی (ہوشیار جنگ)، نریندر لوتھر سب ایک نظر آتے ہیں۔ نریندر لوتھر نے تو خیر روایتوں پر تکیہ کر کے لکھا لیکن جوشؔ نے بھی ’یادوں کی برات‘ میں کچھ ایسی ہی منظر نگاری کی ہے۔ رہی بات ہوشؔ بلگرامی کی سو آپ کچھ تو ’مشاہدات‘ میں ملاحظہ فرماچکے ہیں، باقی آپ کبھی مجھ سے بھی سن لیں گے۔ کسی بھی شہر کی علم دوستی کا اندازہ اس شہر کے کتب خانوں اور ذوقِ کتب بینی سے لگایا جا سکتا ہے۔ تشنگانِ علم کے لیے تو کتاب ایک کائنات ہے۔ کبھی کبھی ساری زندگی کے مشاہدات اور تجربات دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور ایک کتاب انسان کی زندگی بدل دیتی ہے۔ رخِ حیات کو تبدیل کر دیتی ہے۔ زندگی بھر کا تخیل و تفکر ، آباء و اجداد کے اختیار کردہ روایات و رسوم ، طرزِ عبادت، خداؤں کی پرستش ، سب کچھ شک کے دھندلکوں میں گم ہو جاتا ہے۔ اور انسان صرف ایک کتاب سے ایک مختصر سا جملہ کہ ’’ تسبیح و حمد کر اپنے رب کی اور ہوجا ساجدین میں سے‘‘ ۔ اتنی عبادت کر کہ تجھے موت آ جائے یا یقین۔ تب انسان اپنے وجود میں ایک روشنی سی محسوس کرتا ہے۔ وہ دولتِ یقین سے مالامال ہوجاتا ہے۔ کتاب انسان کی ماہیت کو بدل دیتی ہے۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ جسم کی چھ حالتیں ہیں۔ جسم کی حیات، جسم کی موت، جسم کی نیند اور جسم کی بیداری، جسم کی بیماری اور جسم کی صحت۔ کچھ یہی صورت نفس کی بھی ہے۔ نفس کی حیات علم ہے اور نفس کی موت جہل ہے۔ نفس کی نیند غفلت ہے ۔ نفس کی بیداری انتباہ ہے۔ آخری صورت یہ ہے کہ نفس کی بیماری شک ہے اور نفس کی صحت مندی یقین ہے۔ آپ کے تو روزانہ مطالعہ میں وہ کتاب ہے جس کا تعارف ہی یوں ہے کہ ’’یہ (وہ) کتاب ہے جس میں کوئی شک ہی نہیں ہے۔ اور جو تقوی گزاروں کی ہدایت کے لیے ہے۔‘‘ وہ لوگ جو کسی کے ظاہر کو دیکھ کر اپنی رائے قائم کر لیتے ہیں ‘ وہ دراصل اپنی بصارت کا تعارف کرواتے ہیں۔ نظام کو بھی انہوں نے اپنی نظر سے دیکھا ۔ کبھی کبھی مجھے میر عثمان علی خان آصفِ سابع کی ذات کے نہاں خانوں کی ایک جھلک سی دکھائی دے جاتی ہے تب مجھ پر حیرت کے کئی باب کھلتے ہیں کہ جس کو دنیا بخیل اور کنجوس کہتی ہے ، اس کی پیمائش کے پیمانے کیا ہیں؟
میری اپنی محدود معلوما ت کے مطابق ہندوستان میں مدرسے کا آغاز 1175عیسوی سے 1206عیسوی کے درمیان پایا جاتا ہے۔ غالباً وہ 1191عیسوی تھی کہ محمد غوری نے اجمیر کی فتح کے بعد وہاں مدرسے کی بنیاد رکھی لیکن وثوق کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ قطب الدین ایبک کے دورِ حکومت میں سینکڑوں مساجد میں درس و تدریس کا اہتمام کیا گیا۔ اسی اثناء میں صوفیائے کرام کی خانقاہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ میں تو کہوں خانقاہوں نے علم کے ساتھ ساتھ عرفان کا بھی سبق دیا۔ 1210ء سے 1235ء کے دوران شمس الدین التمش نے متعدد مدرسے دہلی اور بدایون میں قائم کئے۔ خلجی اور تغلق کے دور میں علماء اور صوفیائے کرام کی بڑی توقیر کی گئی۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ سے حضرت نظام الدین اولیاءؒ تک، حضرت نظام الدین اولیاء ؒ سے حضرت چراغِ دہلی ؒ تک اور وہاں سے حضرت بندہ نواز گیسو دراز تک ،پھر ان سے حضرت شاہ راجو قتال حسینی تک، تسلسل کے ساتھ امن و امان ، سلوک، ریاض، خدمتِ خلق، شاہی میں فقیری اور فقیری میں شاہی کی ایک مسلسل تاریخ ہے، اسی درمیان کہیں ’’ہنوز دلی دور است‘‘ والی روایت بھی زندہ نظر آجاتی ہے۔ مغل فرمان روا تو تھے ہی علم دوست اور ادب نواز ۔ وہ فن شناس بھی تھے، قدردان بھی۔ انہوں نے تو علماء فضلاء، شعراء ، ادباء کی خوب خوب سرپرستی کی ۔ مغل شہنشاہ بابر کا کتب خانہ ایک خزانے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اورنگ زیب کے دور تک آتے آتے سائنس کی روشنی بھی پھیلنے لگی تھی۔ انگریزوں کے دورِ حکومت میں انگریزی کو فروغ حاصل ہوا۔ فارسی کو نظر انداز کیا جانے لگا۔ مفتی اور قاضی کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ اوقاف میں مداخلت شروع ہو گئی۔ انگریزی پڑھنے کی عام اجازت نہیں تھی۔ ابھی سرسید احمد خان کا محمڈن اینگلو اورینٹل کالج دور تھا۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی نے 1867میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی کہ علومِ جدیدہ کے حصول کا انصرام ہو سکے۔ اس کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلماء 1896میں لکھنؤ میں قائم ہوا ۔ یہ سرسری تاریخ آپ کی نظر میں رہے۔
سن 1916ء ماہ جولائی اکیسویں تاریخ کو مولوی محمد احمد صاحب‘ دارالعلوم دیوبند کے مکمل احوال لکھتے ہوئے نظامِ دکن سے طالبِ امداد ہوئے۔ نظام نے فی الفور ایک ہزار روپیہ ماہانہ مدرسہ کے لیے اور پانچ سو روپیہ منتظم کے لیے جاری کئے۔ میرے پاس 1916 میں سونے کی قیمت کے اعداد و شمار نہیں ہیں لیکن 1925سے تاحال ہر سال سونے کی قیمت کا جدول موجود ہے۔ اس کی روشنی میں آپ اس رقم کا آج کی رقم سے موازنہ کر سکتے ہیں۔ 1925میں سونے کی قیمت 18روپیئے 12آنے فی تولہ تھی۔ اس حساب سے یہ رقم آج چوبیس لاکھ روپیہ ماہانہ قرار پاتی ہے۔ نواب عماد الملک نے 1916میں انجمن ترقی اردو کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے نظام سے گذارش کی کہ اس کی سرپرستی قبول فرمائیں۔ نظام نے اسے بخوشی قبول کرتے ہوئے سالانہ 5000روپیہ 21اگست 1916کو منظور کئے۔ یہ رقم آج اسی لاکھ روپیہ قرار پاتی ہے۔ 20فروری 1938سے یہ رقم 45000روپیہ سالانہ کردی گئی جو آج تقریباً چھ کروڑ چھتر لاکھ روپیہ سالانہ قرار پاتی ہے۔ سیرت النبی کی تدوین میں ہمیشہ نظام پیش پیش رہے۔ علامہ شبلی نعمانی نے اپنی زندگی کے آخری سال سیرت کی تدوین کے لیے کر دیئے تھے۔ ان کی حیات وفا نہ کر سکی۔ ان کے شاگردِ عزیز مولانا سید سلیمان ندوی نے دو جلدوں کی اشاعت تو کروادی اور اپنے استاد کے باقی ماندہ کام کو پورا کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور باقی جلدیں انہیں کی تدوین ہے۔ نظامِ دکن نے دو سو روپیہ کلدار ماہوار مستقل طور پر منظور کر دیئے تھے جو 23سال تک جاری رہے۔ 1920کے قریب دار المصنفین کی سیاسی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ برطانوی حکومت نے نظام سے خواہش کی کہ دارالمصنفین چونکہ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئی ہے، اس لیے انہیں امداد دینا ان کی سرگرمیوں میں امداد کے مترادف تصور ہو سکتا ہے۔ اس لیے امداد مسدود کردی جائے۔ نظام نے اپنے فرمان میں لکھا کہ ’’ریزیڈنسی کو اطلاع دی جائے کہ ہماری امداد صرف پیغمبرِ اکرم کی سوانح کی تالیف و تصنیف کے لیے ہے، اس کا سیاسی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ امداد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہ کام جاری رہے گا۔ امداد کی مسدودی سے آصفِ سابع کا وقار متاثر ہوگااور عوام میں غلط پیام پہنچے گا ۔ اس لیے امداد نہیں مسدود کی جا سکتی۔‘‘ وہ برطانوی دورتھا۔ اس کے باوجود نظام نے بڑی جرات اور پامردی کے ساتھ سیرت کو حکومت پر برتر جان کر ٹکا سا جواب دے دیا۔ آج جمہوری دور ہے لیکن ماتحت حکومتیں مرکز کی ناراضگی کے خدشے سے ایسا کوئی اقدام کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتی کہ اقتدارِ اعلیٰ کی جبین شکن آلود نہ ہو جائے۔
پونا کے بھنڈارکر انسٹیٹیوٹ نے مہابھارت کی اشاعت اور طلباء کے لیے اعانت کی گذارش کی۔ نظام نے گیسٹ ہاؤز کی تعمیر کے لیے پچیس ہزار روپیہ اور مہا بھارت کی اشاعت کے لیے دس ہزار روپیہ منظور کیا۔ یہ امداد ستمبر 1932ء میں دی گئی جو آج پینتالیس لاکھ پینسٹھ ہزار روپیہ کے لگ بھگ ہے۔ فردوسی ؔ کے طرز پر حفیظؔ جالندھری نے برسوں محبت کی لیکن وہ دو جلدوں سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ تیسری جلد کی تخلیق و اشاعت کے لیے نظام کا دستِ تعاون آگے بڑھا۔ چنانچہ حفیظ ؔ جالندھری رقم طراز ہیں کہ اگر ریاستِ حیدرآباد کی معارف پروری شامل نہ ہوتی تو آج یہ جلدیں تکمیل بہ پا سکتی تھیں۔ حفیظؔ جالندھری کو 1937ء سے دو فرمان کے ذریعہ ماہانہ 300روپیہ کلدار چھ سال تک جاری کئے گئے۔ اس سال سونے کی قیمت 30روپیہ کلدار تھی یعنی دس تولہ ماہانہ کے حساب سے چھ سال کی رقم محسوب کی جائے تو شاید محمود غزنوی کے اونٹوں پر لادی ہوئی وہ رقم کم پڑجائے جو فردوسی ؔ کے جنازے کے برابر سے گذر رہی تھی۔ مولوی عبد الحلیم شررؔ آصفِ سادس کے دور میں حیدرآباد میں ملازمت کر چکے تھے۔ پھر وہ واپس چلے گئے۔ آصفِ سابع نے دس فروری 1918ء کو ایک مکتوب میں دریافت فرمایا کہ اگر آصفِ سابع کی سوانح حیات کے لیے ان سے کہا جائے تو کیا وہ یہ خدمت انجام دیں گے؟ و نیز اس کے لیے ان کی ماہانہ یافت کیا ہوگی؟ شررؔ مالی مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔ یہ اعزاز ان کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ تھا۔ ان کی یافت 500روپیہ ماہانہ قرار پائی۔ تمام سرکاری دفاتر کو ہدایت دی گئی کہ وہ عبد الحلیم شررؔ سے تعاون کریں ۔ انہیں مناسب عملہ فراہم کیا گیا۔ چار پانچ مہینے بعد عبد الحلیم شررؔ نے آقائے ولی نعمت سے گذارش کی کہ وہ سوانحِ اعلیٰ حضرت ’’شوکتِ عثمانیہ‘‘ کی تصنیف میں مصروف ہیں لیکن خارجاً مسموع ہوا ہے کہ ان سے تاریخِ اسلام لکھوائی جائے۔ حضورِ والا کی یہی مرضی ہو تو وہ یہ دونوں خدمات انجام دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ نظام نے فوراً حکم صادر فرمایا کہ عبدالحلیم شررؔ کو ان کا ماہانہ مشاہرہ لکھنؤ روانہ کر دیا جائے گا۔ تاریخِ اسلام کے آگے شوکتِ عثمانیہ کو فوقیت نہیں حاصل ہو سکتی۔ عبد الحلیم شررؔ کا تقرر دو سال کے لیے ہوا لیکن وہ یہ کام چار سال دو ماہ میں مکمل کر پائے۔ آصفِ سابع نے انہیں پچیس ہزار روپیہ جاری کرنے کے احکام جاری کئے۔ یہ رقم 1924میں ادا کی گئی۔ مولوی عبد الحلیم شررؔ کا انتقال 24دسمبر 1926کو ہوا۔ نظام نے بغیر کسی درخواست کے از خود تاحیات ان کی بیوہ کی پرورش کے لیے 100روپیہ کلدار وظیفہ مقرر کر دیا۔ ابھی فرہنگِ آصفیہ باقی ہے۔ آصف اللغات باقی ہے۔ فرہنگِ نظام باقی ہے۔ مولوی عبد الحق کی ارد ولغت باقی ہے۔ ممتاز مصنفین کے لیے بغرضِ تالیف و تصنیف تا حیات وظائف کا تذکرہ باقی ہے۔ جاپانی طرزِ تعلیم کے لیے سر راس مسعود کا دورۂ جاپان لکھنا ہے۔ بین الاقوامی کتاب اجنتا کی اشاعت باقی ہے۔ ابھی بیت المقدس کی تعمیری کام میں حیدرآباد کا حصہ باقی ہے۔ برطانیہ کے کئی اداروں کو حیدرآباد کی امداد باقی ہے۔ یہ سب کچھ لکھوں تو یہ رقم اربوں تک پہنچ جائے گی۔ حسینۂ شب کی زلفیں دراز ہوکر کمر سے نیچے آ پہنچی ہیں۔ نیند پلکوں کی مسہری پر انگڑائی لیا چاہتی ہے۔ میں حیدرآباد کے خیالوں میں گم سوچ رہا ہوں ۔ ایک شخص کو جس کے بدن پر بوسیدہ شیروانی ، سوتی کرتا پاجامہ، سرپر اونی ترکی ٹوپی جس میں سوراخ ہیں، ہاتھ میں بید کی عصاء ، نحیف و نزار ، لیکن جس کی آنکھوں میں رقصِ شرر اور آواز میں بجلیوں کی کڑک ، چہرے پر دبدبہ ، چتون میں وقار۔ جس کے شب و روز کا یہ عالم کہ صبح ایک پیالی چائے او ر بسکٹ کا ناشتہ۔ دوپہر میں کھانے کی میز انواع و اقسام کے کھانے سے سجی ہوئی ، میز کے برابر ایک اور میز پر اوپر تلے پلیٹیں رکھی ہوئی، اپنے دسترخوان سے کوئی نہ کوئی ذائقہ ایک پلیٹ میں رکھتے ہوئے نام بنام بھجواتے ہوئے اور خود دو چپاتیاں ، ایک کباب ، ایک چمچہ چاول کا خشکہ اور قورمہ۔ یہ تھے ہز اگزالٹیڈ ہائی نس سلطان العلوم ، فتح جنگ ، نظامِ دکن میر عثمان علی خان آصف جاہ سابع۔
موسم سرما کی آمد آمد تھی۔ کئی برسوں اوڑہا ہوا کمبل دیکھ کر اپنے ملازم خاص حسین خان سے کہا۔ ’’ معلوم کرو ’لال املی کا کمبل ‘ کتنے کا ہے۔‘‘ اس نے دریافت کر کے کہا۔’’جی حضور! تیس روپیہ کا۔ ‘‘ کچھ دیر توقف فرمایا ، پھر کہا ’’رہنے دو۔ اس سال چل جائے گا۔ بھلا یخ کو یخ کیا...؟‘‘ دو چار دن بعد خبر ملی کہ ڈاکٹر واگھرے گذر گئے۔ خبر سن کر کچھ دیر خاموش رہے۔ پیشی کے مہتمم سے کہا۔’’ ڈاکٹر و اگھرے کی اہلیہ کو تاحیات دو سو روپیہ وظیفہ جاری کیا جائے۔ ‘‘ سرشام تک مضمحل رہے۔ رات کو بخار آ گیا۔ شخصی معالج ڈاکٹر سید عبد المنان کو بلوایا گیا۔ منان صاحب نے انجکشن دینا چاہا تو کہا ’’رہنے دو۔‘‘ پھر کہا۔’’ بیٹھو چائے پی لو! ‘‘ دوسرے دن بخار بہت بڑھ گیا۔ غشی طاری رہنے لگی ۔ رات کے کوئی نو بجے کنگ کوٹھی کے باہر سے بینڈ کی ہلکی ہلکی سی آواز آرہی تھی۔ چونک کر پوچھا۔’’ یہ آواز کیسی ہے؟‘‘۔ حسین خان نے کہا۔ ’’حضور! شاید کوئی شادی کی بارات ہے۔‘‘ چپ رہے، پھر کہا۔’’ نہیں ۔ ماتمی دھن بج رہی ہے۔ یہ کسی عیسائی کا جنازہ ہے۔ معلوم کرو کہ مرنے والا غریب تھا یا متوسط طبقے کا؟‘‘۔ پتہ چلا کہ غریب عیسائی کی میت تھی۔ فرمایا۔ ’’ معتمدِ پیشی حاضر ہو!‘‘۔ معتمدِ پیشی دست بستہ کھڑا رہا۔ کچھ دیر بعد دوبارہ آنکھیں کھولیں۔ تنفس تیز ہو چکا تھا۔ فرمایا۔’’ عیسائی کی بیوہ کو تاحیات وظیفہ مبلغ سو روپیہ جاری ہو۔‘‘ اس کے بعد آنکھیں بند کرلیں۔ چڑھتی ہوئی سانسوں کا تموج تھم چکا تھا۔ ڈاکٹر منان نے نبض دیکھی۔ چہرے کو سید ھا رکھا اور وہی کمبل شانوں تک ڈال دیا۔ دیرتک ہونٹوں پرآسودہ ابدی تبسم کی لکیر دیکھتے رہے اور رو پڑے۔ بوڑھا کھوسٹ، کنجوس، بخیل، خود پرست، زر پرست، آمر، ضدی ، مطلق العنان ، مصاحب پسند ۔ یہی کہتی رہی دنیا ۔ لیکن دمِ آخر وہ یہ کہہ کر گذر گئے : دائم آباد رہے گی دنیا!! ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا !

ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا

***