بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

زندگی کا تعلق سن و سال سے ہے نہ قد و قامت سے۔ اس کے لیے علم کی گہرائی، گیرائی، وسعتِ قلبی، ایثار ، قربانی ، جذبۂ عفو، درگذر، تحمل ، تجمل، اورپھراُن سیرتوں پر عمل ہے جو قضا ئے الٰہی پر راضی ہیں۔ بلاء میں صبر کرتے ہیں، امر کو تسلیم کرتے ہیں، اپنے رب کے سواء کسی کو معبود نہیں جانتے اور اس کے سواء کسی سے امداد طلب نہیں ہوتے۔ اس لیے کہ ان کو یہ عرفان حاصل رہتا ہے کہ وہی بے پناہوں کو پناہ دینے والا ہے ۔وہ دستِ پُر عطا رکھتے ہیں۔ کشکول بدست اور کاسہ بکف نہیں ہوتے۔ فقر کو نعمت جانتے ہیں۔ ان کی راتیں افکار و اذکار میں گذرتی ہیں اور ہر لمحہ عبادت سے مزین ہوتا ہے۔ ان سیرتوں کو پیشِ نظر رکھنے والے کے نفس پر ’’انا‘‘ کا اثر نہیں ہوتابلکہ وہ فنا فی الحق میں بقائے دائمی کا تمنائی ہوتا ہے۔ وہ منکسر المزاج ہونے کے باوصف حق گو اور تونگری کے باوجود اپنی خواہشوں اور ذات کی ضرورتوں کے حصار کو اتنا مختصر کر لیتا ہے کہ اس کے آگے تعیش ہیچ ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس جب نفس آلودۂ دنیا ہوجائے تو یہی بہتر ہے کہ انسان کو انسان ہی رکھا جائے تاکہ کم از کم اس کی بزرگی باقی رہ جائے۔ خوشامد ، چاپلوسی، موقع پرستی ، مصلحت ، منافقت اور جھوٹی پرستش اور زمین پر انسان کو خدا بنا کر تسلیم کرنے کی خو تو دوبارہ کاروبارِ لات و منات کو زندہ کرنے کے مماثل ہے۔ اس سے نفس شحیم تو ہو ہی جاتا ہے، ساتھ ہی طبع میں فرعونیت ، نمرودیت اور شدادیت بھی در آتی ہے۔ عموماً یہ روش آمرانہ سہی، لیکن آصفِ سابع میر عثمان علی خان کے دورِ شاہی میں ان کے اندر کے آدمی کی سادہ پسندی اورطبع میں خلقِ خداکا جذبۂ خدمت فزوں تر تھا۔ انہوں نے خدمتِ خلق کو اپنا فرضِ عین جانااور رعایا کی رفاہِ عام کے لیے کوئی گوشہ خالی نہیں رکھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی 1917ء میں قائم ہو چکی تھی۔ جامعہ کے لیے عارضی عمارت کی تلاش شروع ہوئی تو نظام نے کہا کہ اگر طلبہ کے لیے سہولت بخش ہو تو وہ اپنی رہائش کنگ کوٹھی خالی کر دینے کے لیے تیار ہیں۔ وہ کسی اور محل میں رہ لیں گے لیکن طلبہ کو حصولِ علم میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیئے۔ امراء اور مشیرانِ ریاست نے اس کے بجائے یہ تجویز پیش کی کہ مسرت منزل اور اس سے ملحقہ کشادہ عمارتیں کرایہ پر حاصل کرلی جائیں۔ چنانچہ عابد روڈ پر جہاں آج اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کی مرکزی عمارت قائم ہے، وہ اور اس سے ملحقہ عمارتوں میں عثمانیہ یونیورسٹی کا آغاز ہوا۔ اس میں پہلے سال 225 طلباء نے داخلہ لیا۔ آصفِ سابع نے ریاست کے دو مایہ ناز ماہرینِ تعمیرات نواب زین یار جنگ اور سید علی رضا کو مامور کیا کہ و ہ دنیا کے تمام یونیورسٹیز کے فنِ تعمیر کاجائزہ لیں تاکہ عثمانیہ یو نیورسٹی کی تعمیر فقید المثال ثابت ہوسکے۔ سر پیٹرک گیڈس ماہرِ ماحولیات نے 1400ایکر زمین پسند کی۔ نواب زین یار جنگ اور علی رضا خان نے اپنی رپورٹ میں جامعہ کے فنِ تعمیر پر تفصیلی رپورٹ میں بلجیم کے مشہور آرکیٹیکٹ ’جسپر‘ کی سفارش کی۔ 1933ء میں جسپر نے پورے ہندوستان کی سیاحت کی۔ خصوصیت کے ساتھ اس نے بہمنی، عادل شاہی، قطب
شاہی، مغلیہ ، غارہائے ایلورہ و اجنتا کے بغور مطالعہ کے بعد یونیورسٹی کی مرکزی عمارت آرٹس کالج کا نقشہ تیار کیا۔ تراشیدہ گرانائیٹ جودکن کی خاص علامت ہے ‘ تعمیر کے لیے منتخب کئے گئے۔ اس بات کا لحاظ رکھا گیا کہ پتھر ہم رنگ ہوں۔ اس ڈیزائن کی خصوصیت یہ تھی کہ یہ ہندو، مسلم، عرب، مراقشی ، مغلیہ طرزِ تعمیر کی نمائندگی کرتا تھا۔ 1933ء کے اواخر میں نظام نے اس کا سنگِ بنیاد رکھااور 1938ء میں اس کا افتتاح عمل میں آیا۔ جامعہ سے متعلق اور ملحق اقامت خانے، طعام خانہ، ڈاک خانہ، کتب خانہ ،خزانۂ برقی سب کچھ تعمیر ہو چکے تھے۔ طلبہ کی سہولت کے لیے یونیورسٹی سے قریب ریلوے اسٹیشن ’جامعہ عثمانیہ‘ قائم کیا گیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی کا طرۂ امتیاز یہ تھا کہ کسی بھی ہندوستانی جامعہ کا فارغ التحصیل اگر برطانوی یونیورسٹی میں داخلے کا خواہشمند ہوتا تو اسے اس یونیورسٹی کے انٹرنس ٹسٹ سے گذرنا ہوتاتھا، جبکہ عثمانیہ یونیورسٹی لے لیے ایسی کوئی ضرورت نہیں تھی، اسے راست داخلہ مل جایا کرتا تھا۔ شاید اسی کی وجہ یہ بھی رہی ہو کہ ملک کی دوسری یونیورسٹیز میں راست درس وتدریس اس سے ملحق کالجوں میں ہوا کرتی تھی۔ یونیورسٹی صرف سند عطا کرتی تھی۔ نظام نے جہاں تعلیمی ترقی پر پوری توجہ دی وہاں طلبہ سے بھی ان کی توقعات وابستہ تھیں۔ آرٹس کالج کی تعمیر پر انہوں نے اپنے خطابِ شاہانہ میں کہا: ’’ مجھے خوب یاد ہے کہ اب سے چار پانچ سال پہلے میں نے اس عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا تھا اور خدا کا شکر ہے کہ اس بنیاد پر یہ عالیشان عمارت قائم ہو گئی جو اپنی وضع کی خوبصورتی، شان اور عظمت میں غالباً ہندوستان بھر میں اپنی نظیر نہیں رکھتی اور جس طرح جامعہ عثمانیہ میرے عہدِ حکومت کا ایک اعلیٰ کارنامہ ہے، اسی طرح یہ عمارت بھی میرے عہد کی ایک شاندار یادگار ہے، جو صدیوں تک آئندہ نسلوں کو اس زمانے کی تہذیب و تمدن اور ذوقِ تعمیر کی یاد دلاتی رہے گی۔ لہٰذا اس عمارت کی تاسیس اور افتتاح دونوں یکساں میری مسرت کا باعث ہوے ہیں۔ اس جامعہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تعلیم اردو زبان کے ذریعہ دی جاتی ہے، جو ہندو مسلم اقوام کے میل جول اور آپس کے دوستانہ تعلقات سے پیدا ہوئی اور جو مساوی طور پر دونوں قوموں کی مشترکہ میراث ہے اور جو ہندوستان میں عام طورپر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ پس یہ امر موجبِ امتنان ہے کہ جامعہ عثمانیہ کے سبب اس زبان کو اتنا فروغ اور عروج حاصل ہوا کہ یہ علوم مشرقی اور مغربی سے مالامال ہوکر مشکل مطالب ادا کرنے اور اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دینے کے قابل ہوگئی۔ چنانچہ اس جامعہ میں تعلیم اور امتحانات اردو میں ہوتے ہیں تاہم اس کا معیار ہندوستان کی کسی یونیورسٹی سے کم نہیں۔ اب میں اس سلسلہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس عمارت کا طرزِ تعمیر بھی اردو زبان کی طرح اور ہندو اور مسلمان قوموں کی طرح سے مرکب ہے اور اس کے ستونوں اور دیوار کے نقش و نگار میں دونوں قوموں کی کاریگری اور ان کے تمدن و تہذیب کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس طرح یہ عمارت بھی ایک علامت ہے ،اس
باہمی میل جول اور باہمی دوستانہ مراسم اور خوشگوار تعلقات کی ، جو صدیوں سے میری ریاست کی مختلف قوموں میں چلے آتے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں کے باشندے ہمیشہ آپس میں شیر و شکر ہو کر رہے ہیں۔ ایسے تعلقات کو قائم رکھنا میں اپنی اور اپنی رعیت نوازی کا فرض سمجھتا ہوں۔ پس جامعہ عثمانیہ ریاستِ حیدرآباد کی بہترین روایات کی حامل اور یہاں کی اعلیٰ ثقافت کا نمونہ ہونا چاہیئے۔ اسے لازم ہے کہ فراخ دلی اور طلبہ کی باہمی محبت اور اتحاد کو اپنا مطمحِ نظر بنائے کہ اس میں ملک کی فلاح و بہبود مضمرہے۔ القصہ میں اس موقعہ پر جامعہ کے عہدیداروں اور اساتذہ کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ ایک طرف اساتذہ اور طلباء میں اور دوسری طرف مختلف اقوام اور مذاہب کے طالب علموں میں باہم دگر خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم رکھیں کہ یہ فرائض ان کی کارگذاری میں داخل ہے اور آخر میں میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ چونکہ یہ ایک اقامتی جامعہ ہے اس لیے یہاں اساتذہ اور طلباء کو ایک جگہ سکونت رکھنی چاہیئے، تاکہ ان دونوں میں ارتباط پیدا ہو کر علمی ، اخلاقی، معاشرتی فضاء پیدا ہو، جو کہ ہر جامعہ کے بہترین خصائل میں ہے۔ اس لیے مجھے امید ہے کہ طلباء اور اساتذہ کے لیے جامعہ کے حدود کے اندر اقامت کا انتظام کیا جائے گا۔ اب میں طبقۂ طلبہ جامعہ سے مخاطب ہوکر ان کے اڈرس کے جواب میں چند الفاظ کہنا چاہتا ہوں جو یہ ہیں: یعنی میں تمہارا اڈرس سن کر بہت مسرور ہوا اور تمہارے جذباتِ وفاداری کی قدر کرتا ہوں۔ تم نے میری تصویر اپنی انجمنِ اتحاد میں آویزاں کرنے کی جو خواہش کی ہے، اس کی میں خوشی سے اجازت دیتا ہوں اور تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ یہ تمہاری طالب علمی کا زمانہ ہے، اس کو غنیمت جانو۔ یعنی اس وقت جو سہولتیں تمہارے لیے مہیا کی گئی ہیں، مثلاً لائق اساتذہ، نفیس اقامت خانے، کتابوں سے معمور کتب خانے، جدید آلات سے لیس تجربہ خانے، اور وسیع بازی گاہیں، ان سے پورا پورا استفادہ کروکہ یہ سب سامان تمہاری ہی ترقی کے واسطے فر اہم کیا گیا ہے۔ المختصر جو کچھ علم و کمال و نیک کردار تم حاصل کر سکتے ہو اس کا یہی وقت ہے، یعنی آئندہ زندگی کی کشمکش میں پھر یہ موقع نہیں ہاتھ آئے گا۔ تم کو نہ صرف امتحانوں کے لیے بلکہ مشکل مراحل طئے کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیئے اور تم کویہ بھی یاد رہے کہ ملک اور مالک کی خدمت کرنا آسان نہیں ہے۔ اقامتی یونیورسٹی کا سب سے بڑا فائدہ اس کی اجتماعی زندگی میں ہے۔ لہٰذا ہمیں فراخ دلی ، باہمی میل جول، وسعتِ نظر اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ رعایت اور مروت کا برتاؤ ضروری ہے کیوں کہ یہ ایک شریفانہ جوہر ہے ‘ جو انسان کے کردار کو اعلیٰ بناتا ہے بایں وصف اگر کردار اعلیٰ نہ بن سکے تو محض کتابوں کا پڑھنا فعلِ عبث ہے۔ پس یہ جاننا چاہیئے کہ شریفانہ خصائل کا حاصل کرنا کتابی تعلیم سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور یہ یونیورسٹی کی تعلیم اور اجتماعی زندگی کا سب سے اعلیٰ مقصد ہے، جس سے کسی ذی فہم کو انکار نہیں ہو سکتا۔ الحاصل اس کالج کی تعمیر پر اظہارِ خوشنودی کرتے ہوئے تمام کارکنوں اور ان عہدیداروں (زین یار جنگ، علی رضا اور جیسپر) کی کارگذاری کی قدر کرتا ہوں جنہوں نے اس تعمیر کا اہتمام کیا ہے اور موجودہ صدرِ اعظم سر اکبر حیدری ، جن کی مسلسل کاوشوں کو اس یونیورسٹی کے قیام اور انتظام میں خاص دخل رہا ہے، ان کی بیش بہا خدمات کی بھی دل سے قدر کرتا ہوں۔ آخر میں دعا ہے کہ خلاقِ علم و فضل رب العالمین اس جامعہ کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطا کرے اور مدتِ مدید تک میرا ملک اس کے فیض سے بہرہ اندوز ہوتا رہے۔‘‘ دلی تو خیر عالم میں انتخاب ہے، اس شہر نے تو ہزار ہزار رنگ دیکھے۔ ہزار ہزار تہذیبوں نے یہاں پڑاؤ کیا۔ شہر نشینی کے ذوق نے اسے آراستہ بھی کیا۔ ادب ، تہذیب، مروت، وضعداری، مہمان نوازی، سلیقہ ، زبان، پہناوا، محفلِ یاراں، شب بیداریاں، وارداتِ حسن و عشق، شعر وادب ، محاورے، ضرب الامثال، کہہ مکرنیاں، ذوقِ طعام، چٹخارے، سب کچھ اپنی مثال آپ رہے۔ اسے دیکھ لکھنؤ بھی آن بان کا شہر کہلایا۔ نزاکت، لطافت، سلیقہ، طرزِ معاشرت، بولی ٹھولی، شعر گوئی، مزاج داری، تکلف، سجاوٹ، بناوٹ، بھلا کونسی بات ایسی رہی ہوگی جس میں لکھنؤ نہ بسا ہوگا۔ میں تو سیلانی آدمی ہوں۔ ملک ملک، شہر شہر،گاؤں گاؤں گھومتا رہا ہوں۔ میں تو کہوں ہر خطۂ زمین کا الگ رنگ ہے۔ الگ مزاج ہے۔ تازگی الگ، شگفتگی الگ، مہک الگ، حسن الگ ، ناز و ادا الگ، موسم الگ، ذائقہ الگ، ذوق الگ۔ مجھے تو سوہنی کے گھڑے کی مٹی بھی اچھی لگے ہے۔ شیریں کی شمیمِ پیرہن بھی۔ میں تو کہوں ہوں ‘ قیس دیوانہ ہے ، صحراء میں رہے یا نہ رہے۔ شہر حیدرآباد بھی محبت میں بسا یا گیا، محبت سے بسایا گیا۔ اسے آرزوؤں کے رنگ اور تمناؤں کی اٹھان ملی ۔ ویسے حیدرآباد میں نہ تو حسنِ کشمیر تھا ‘ نہ زلفِ بنگال کا جادو۔ نہ صبحِ بنارسکی سفیدی، نہ شام اودھ کا سرمہ ۔ لیکن گورے اور سانولے رنگ کا امتزاج تو مقابل کو چپ لگا دیتا ہے۔ اور حسن کی صحیح تعریف ہی یہ ہے کہ مقابل کو چپ لگ جائے۔ مہمانوں کے لیے حیدرآباد ہمیشہ سے کشادہ دامن رہا۔ معتدل موسم کی وجہ سے یہاں کے باشندوں کے مزاج میں بھی اعتدال رہا۔ بس ایک ہوا تھی جو غارت گرِ ہوش وحواس تھی۔ جانے کس میخانہ بدن، صراحی بدوش، جام بکف نے اپنے وجود کو ہوا کے سپرد کردیا تھاکہ کمبخت جسے چھو گئی اسے مخمور کردیا اور جو کسی کو لمحہ دو لمحے کے لیے اپنی بانہوں میں بھر لیا تو ایسے تر دامن کر گئی کہ گویا آخر شب جام چھلک پڑا ہو۔ اور یہی قطرے کردار کے ضامن نکلے ۔ ذرا حیدرآباد کی ہوا کی شوخی تو دیکھیئے کہ سب کے لیے تو خم پر خم لنڈہا گئی لیکن دھیرے سے شیخ جی کوجو چھو کر نکل گئی تو ہاتھ سے تسبیح چھوٹ گئی۔ اُن کو اپنے گریبان ، آستین ، دامن کی کب خبر تھی۔ دوسروں کی تردامنی پر معترض ہوئے تو اس تردامنی پر بھی حیدرآبادیوں کو یہ ناز رہا کہ’’دامن نچوڑدیں تو فرشتے وضو کریں‘‘۔ بس یہی سادگی و پُرکاری تھی جو ملک ملک کے باشندوں کے لیے پُر کشش ثابت ہوئی۔ حیدرآباد میں ہر قوم اور ہر مذہب کے لوگ بستے تھے۔ عرب ، ایرانی، تورانی، آرمینی، افغانی، روہیلے،پٹھان، مغل، سید ، چاؤش، حیدرآباد سب کے لیے جائے پناہ تھی۔ 1857ء کے بعد دہلی اور لکھنؤ جو اجڑے تو بیشتر نے حیدرآباد کا رخ کیا۔ خاطرخواہ ملازمتیں ملیں، مصاحبتِ شاہ نے خطاب ، منصب، نالکی، پالکی، تام جھام، اسپ سواروں، نوبت ، نقارہ، فیل ، چتر سے نوازا۔حیدرآباد‘ رنگ رنگ کے پھولوں سے گلدستے کی طرح سج گیا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر بلدی سہولتوں میں توسیع پیشِ نظر ہوئی تو سر ویشویشورایاانجینیئر کی خدمات حاصل کی گئیں۔ سب
سے پہلے تو بے لگام رودِ موسیٰ پر 1920ء میں ڈیم تعمیر کیا گیا۔ 1927ء میں رودِ عیسیٰ پر حمایت ساگر کی تعمیر مکمل ہوئی۔ شہر میں آب رسانی کی سہولت فراہم کی گئی۔ گھر گھر پانی کے نل نصب کئے گئے جو شب و روز پانی فراہم کرتے،جانے کونسی نہرکوثر سے آملی تھیکہ جو دقکا مریض بھی دو گھونٹ پی لے تو زرد پتے کی مانند چہرہ پھول کی مانند کھل اُٹھے پھر ساری عمردوا دارو کی ضرورت ہی نہ پیش آئے ۔ شہر تو وسیے بھی بنامِ حیدر‘ آباد تھا۔ لوگوں کے دل بھی منور تھے۔ معصوم بے ریا چہرے، اس پر مستزاد ، جب راستوں پر برقی قمقمے روشن ہوئے تو بلندی سے ایسا لگتا تھاجیسے کسی الھڑ دوشیزہ نے اپنے آنچل میں جگنو جمع کر لیئے ہوں، آنچل جو چھوٹا تو جگنو گئے بکھر اور لگے رم جھم رم جھم کرنے۔ نظام نے مقدور بھر کوشش کی کہ ریاست کی بھرپور ترقی ہو اور انہوں نے ریاست کی ترقی کوِ بامِ عروج پر پہنچایا ۔ اس پر برطانوی ریزنڈنٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ حیدرآباد سہولتوں کے اعتبار سے کسی بھی مغربی ملک سے پیچھے نہیں ہے۔ اس آراستگی کے بعد بھی ایسے باغبان کے ہاتھ تراش کر ’’یومِ نجات‘‘ منانا ، باغبان دشمنی میں تھا یا گلشن دشمنی میں ؟ اور آزادی کس سے حاصل کی گئی؟ وہی جس نے عیش و عشرت کے بجائے خود کو رعایا کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اور ’یہ جنگ ہے جنگِ آزادی ‘ کا نعرہ بلند کرنے والوں نے نظام سے آزادی حاصل کرکے کیا کچھ پالیا۔ کیا زمین سے بھوک مٹ گئی، کیا سب کا تن ڈھک گیا؟ کیا آج عثمانیہ اور گاندہی ہسپتال میں بے گور و کفن لاشیں اپنی قبر و کفن کے انتظار میں قطار میں نہیں رکھی ہیں؟ ۔ کیا آج مردہ خانوں کا محافظ چند روپیوں کے عوض نعش نہیں فروخت کر رہا ہے؟ ۔ کیا آج بھی کوئی شہزادی سے زیادہ خوبصورت پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر اپنی مٹھی میں چندروپیے دبائے شب کے آخری حصوں میں گھر میں چپکے سے واپس داخل نہیں ہوتی کہ شب گناہوں کی پردہ پوش ہے۔ انضمامِ حیدرآباد کے بعد جب وزیرِ اعظمِ ہندوستان پنڈت جواہر لال نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد ؔ وزیرِ تعلیم ‘ حیدرآباد تشریف لائے تھے تو نظام اپنی صرفِ خاص یا پرائیوی پرس (privy purse)کے تعلق سے کچھ نہیں کہا۔ کوئی درخواست نہیں، کوئی یادداشت نہیں، کوئی گذارش نہیں۔ مگر اتنا ضرور ہوا کہ انہوں نے وزیرِ اعظم اور وزیرِ تعلیم سے یہ خواہش کی کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام کو انہوں نے کاہشِ جاں بنائے رکھا اور یہ ملک کی واحد جامعہ ہے جو طالب علموں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم و تدریس کا اہتمام و انصرام رکھتی ہے۔ اس جامعہ کے کردار کو باقی رکھا جائے جو اگر کسی وجہ سے وہ اردومیں ذریعۂ تعلیم کو پسند نہ کریں تو کسی بھی ہندوستانی زبان میں انصرام کریں۔ میں مولانا ابوالکلام آزاد کی صلاحیتوں کا معترف ہوں۔ وہ بے مثال خطیب تھے۔ اعلیٰ درجے کے ادیب تھے۔ بلند پایہ صحافی تھے۔ مفسرِ قرآن تھے۔ عالمِ دین تھے۔ علم الکلام کے ماہر تھے۔ اصولِ فقہ پر انہیں عبور حاصل تھا۔ سیرتِ سرکار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ازبر تھی۔احادیث بیانی اُن کاشعار تھا۔مستدرک حاکم اُنکی نوک زبان پرتھی،کنزالعمال اُن کیلئے آب رواں تھی،صحیح بخاری وصحیح مسلم اُن کا ورد رہیں،مسندامام احمدابن حنبل اُن کا وظیفہ تھا،مشکوٰۃ شریف اُن کی رگ وپے میں سمائی ہوئی تھی۔حافظہ اُنکا قوی تھا۔ عالی مرتبہ شاعر تھے۔ مجاہدِ آزادی تھے۔ ملک کی حکمران جماعت کے صدر تھے۔ سب کچھ تسلیم ، لیکن کیا وہ اتنے ہی بے اثر وزیرِ تھے کہ ایک جامعہ کو برباد ہونے سے نہ بچا سکے ،یا پھر دنیا کی عظیم المرتبت جمہوریت میں کسی اقلیت کا نمائندہ وزارتی عہدہ پر ہو تو اس کی حیثیت صر ف کٹھ پتلی کی رہ جاتی ہے انضمامِ حیدرآباد کے ٹھیک پچاس سال بعدیا یوں کہیئے کہ جشنِ زرین کے موقعہ پر اسی حیدرآباد میں‘ مولانا آزاد کی خدمات کو یاد رکھتے ہوئے حکومتِ ہندوستان نے ’’مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی‘‘ قائم کی جو اردو زبان میں طالب علموں کی تدریس کے فرائض انجام دیتی ہے۔ اس جامعہ کے انتظام و انصرام‘ دیانت، صداقت، اصول پسندی، لحاظِ قانون کے چرچے تو آئے دن اخباروں کی شہ سرخیوں میں ہیں۔ جو غلط سمجھوں ہوں تو صحافت پر حرف آئے ہے۔ جو صحیح سمجھوں ہوں تو دل نہ مانے ہے۔ میں نہ فردوسیؔ ہوں نہ حفیظؔ جالندھری، ورنہ تو اس جامعہ کی تعریف میں شاہنامہ نہ سہی ، جمہورنامہ کچھ اُس سے طویل لکھا جا سکتا۔ امارتِ جامعہ سلامت رہے۔ تو پھر جس کو ’’میاں ‘‘ چاہے ، وہی سہاگن کہلاوے۔ میں تو صرف اتنا جاننا چاہوں ہوں کہ اس جامعہ کا کوئی دارالترجمہ تو ہوگاجہاں علوم و فنون کی وضعِ اصطلاحات کا عمل جاری ہوگا۔ اتنی ساری مہربانیوں اور نامہربانیوں کے بعد کوئی اتنا تو بتلائے کہ یہ خوش انتظامی کیا مولانا ابوالکلام آزاد کے لیے کوئی خراج ہے یا یہی جمہوریت کا صحیح عکس ہے۔ میں کندۂ ناتراش کیا جانوں ، یہ تو اہلِ دانش کے کھیل ہیں۔ ؂ بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

***