ہم سخن فہم ہیں، غالبؔ کے طرفدار نہیں

آپ شاید میرے سن و سال کا خیال کرکے مجھ سے شکوہ سنج نہ ہوں کہ میں نے آپ بیتی بیان کرنے کا وعدہ کیا تھااور سنا رہا ہوں جگ بیتی۔ اپنے آپ کو کھوجنے کے لیے میں اپنی ذات میں بہت کھدائیاں کرتا رہا۔ نہاں خانوں کی قفل شکنی کی، بھول بھلیاں میں بھٹکتا رہا، صدیوں پرانے سانپ اپنے بل ڈال کر مجھے کستے رہے، لپٹتے رہے۔ میرے پیروں کو حشرات الارض نے اپنا رزق جانا۔ میری انگلیاں فگار تھیں، آنکھوں میں نیند نہیں تھی، بے خواب آنکھیں ، ٹوٹا ہوا بدن۔ تلاش بسیار کے بعد مجھے وہ خزانہ مل ہی گیا ، جس پر ایک زنگ آلود قفل تھا، جسے توڑ کر میں نے کانپتے ہاتھوں سے صندوق کھولا تو اس میں کچھ نہیں تھا۔ صرف ایک ’پَل‘ تھا اورایک مشت خاک۔ جس میں حیدرآباد کی سوندھی مٹی کے عطر کی وہ خوشبو تھی جسے ہوا آج تک نہ چرا سکی تھی نہ بکھیر سکی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ اس پل کو سمیٹ لوں اپنے آپ میں پھرسے سمولوں، لیکن اس پَل نے کہا: میں ایک لمحہ سے زائد ٹھہر نہیں سکتا وہ ایک لمحہ بھی شاید گزر گیا ہوگا ! میں صرف ایک پَل سہی لیکن ماضی سے کٹا ہوا نہیں رہ سکتا ۔ شاخ سے ٹوٹے ہوئے پتے کی طرح۔ برگِ آوارہ کی صورت۔ ہوا کے دوش پر کچھ دیر سفر تو کرلوں گا، بہت اونچائی تک، بہت بلندیوں پر لیکن ہوا تو منافق ہوتی ہے۔ صبح دم کلیوں کو چوم کر جگا دیتی ہے تو شام کو اپنے تیز ناخنوں سے پنکھڑیوں کو نوچ کر خاک بسر کر دیتی ہے۔ میں ہر دام موج میں مناجات بلب ہوں لیکن نہنگ کے ہاتھوں میں بھی تعویذ ہے، دیکھیئے کیا ہو! گذشتہ سطور میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ:
’’ جاگیردار اپنے کارندوں کو نہ صرف مالگزاری اور بٹائی کی وصولی پر مامور کر دیتے تھے بلکہ ان کے جابرانہ رویہ سے چشم پوشی بھی ان کا شعار تھا۔ رعایا بے بس ، مجبور اور عاجز تھی۔ لیکن ان کے لیے کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ نہ کوئی داد خواہ ہوا کرتا تھا اور نہ عدل رسی ہی کی کوئی صورت تھی۔ دنیا کو روٹی ، کپڑا، مکان، محل سراء، عیش و طرب ، شان و شوکت ، فرصت، نام نشان ، خطاب ، عزت، رفعت، زرو جواہر سے مالامال کرنے والا دہقان تو مقدر سے بھی شکوہ سنجی نہیں کر سکتا تھا۔ ان کی زبانیں فاقوں کے ذائقے اور پیٹ بھوک سے آشنا تھے۔ کسی شام کسی دہقان کی جھونپڑی سے دھواں نہ اٹھتا تو آدھے پیٹ گزارہ کرنے والا تو ساجھے دار ہوجا تا تھا لیکن زمینداروں کو ان مسائل سے کوئی تعلق نہ تھا۔ انہیں تو یہ زعم تھا کہ ’’ان کے بازو بھی مرے، قوتِ بازو بھی مری۔‘‘ میں تو نہ جانوں ہوں لیکن تاریکئ شب جانے ہے کہ کیسے یہ بھوک سے مارے ہوئے مریل دہقان مرمریں جسموں کو جنم دیتے تھے۔‘‘ ایک طرف تو یہ طبقہ تھا، دوسری طرف ‘ جنگ، دولہ، امراء، مُلک اور ان سب سے ارفع و اعلیٰ جاہ تھے۔جن کی ہر صبح نویدِ عید تھی اور ہر شام اپنا رنگِ بہار رکھتی تھی۔ ان کے ایوانوں میں آسائشیں پلتی رہیں۔ ان کی پوشاکوں کے لیے کتنے ہی فن آشنا ‘ پیوند پوش ، اطلس و کمخواب بُنا کرتے تھے۔ قدرت کا بھی عجیب نظام ہے۔ انسان جب دوسرے انسان کی بزرگی چھین کر ظلم کا خوگر ہوجائے تو قدرت مظلوم اور پیروانِ مظلوم کو بصارت کے بجائے بصیرت سے مالامال کر دیتی ہے۔ امیر جگمگاتے فانوسوں کی روشنی میں بھی اپنے پرائے کی تمیز سے قا صر رہتا ہے۔ اس کی نگاہ تو نقاب پر رک جاتی ہے، وہ کبھی چہرہ آشنا نہیں ہوتا۔ جو شخص آئینے کے روبرو اپنا چہرہ نہ دیکھ پائے، نہ پہچان پائے، وہ بھلا چہرہ شناسی کیا جانے۔ غربت اور فلاکت کو تو ہر چیز روشن دکھائی دیتی ہے، جیسے رات کی تاریکی۔ ان دونوں طبقات کے درمیان ایک اور طبقہ بھی تھاجو گھن کی طرح پس رہا تھا۔ اسے تو سفید پوشی کا بھرم بھی رکھنا تھا۔ غیرت دستِ طلب دراز نہیں ہونے دیتی، مروت کو انکار کی مجال نہیں ۔ وضع داری کو نگاہ پھر جانے کی تاب نہیں۔ بھوک کو اظہار کی جرأت نہیں۔ شرافت کو طاقتِ گفتار نہیں۔ تاریکی کے اندیشوں میں گھرا ہوا اُجالوں کا آرزو مند ۔ یہ انسان ‘ کسے وکیل کرے ، کس سے منصفی چاہے۔ کبھی کوئی نقضِ امن نہیں ہوا ، کوئی بغاوت نہیں ہوئی، کوئی ہنگامہ آرائی نہیں ہوئی۔ لیکن یہ ضرور تھا کہ یہ لاوا بہہ نکلنا چاہتا تھا۔
حیدرآباد میں تعلیمی ترقی ہو چکی تھی۔ مدارس میں فارسی ، اردو ، انگریزی، حساب شاملِ نصاب ہو چکے تھے۔ اختیاری مضامین اس سے الگ تھے۔ 1895ء سے تعلیمی ترقی کا ایک اور باب کھلا۔ وہ طالبِ علم جو اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ جانے کے خواہشمند تھے، ان کو حکومت کی جانب سے تعلیمی خرچ فراہم کیا گیا۔ سب سے پہلے اس سہولت سے سرجنی نائیڈو نے استفادہ کیا۔ سروجنی دیوی 13فروری 1879ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد اگھور ناتھ چٹوپادھیائے نہ صرف ایک مایہ ناز ماہرِ تعلیم تھے بلکہ حیدرآباد کی معاشرتی اصلاحات کے لیے انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں ان کی خدمات یاد گار رہی ہیں۔ وہ نظام کالج کے پہلے پرنسپل بھی تھے۔ سروجنی دیوی نہایت ذہین تھیں۔ بارہ برس کی عمر میں انہوں نے مدراس یونیورسٹی کے تحت ہونے والے میٹرک امتحانات میں درجۂ اول میں کامیابی حاصل کی بلکہ امتیازی نشانات سے کامیابی درج کروائی۔ 13برس کی عمر میں انہوں نے 1300مصرعوں پر مشتمل طویل انگریزی نظم لکھی اور 14برس کی عمر میں ڈاکٹر دھنا راجولو نائیڈو کے عشقِ بلا خیز میں گرفتار ہوئیں۔ اگھورناتھ چٹوپادھیائے کے لیے یہ صورتِ حال تشویشناک تھی۔ ایک تو ڈاکٹر دھنا راجو لو کی عمر 24برس تھی اور ان کی پہلی بیوی کا انتقا ل بھی ہوچکا تھا۔ ایسے میں یہ جوڑی کوئی مناسب بھی نہیں تھی۔ انہوں نے سروجنی دیوی کے ان جذبات کو وقتی تصور کرکے انہیں باز رکھنے کی بہت کوشش کی لیکن ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔‘‘ نواب سرور الملک ‘ آصفِ سادس کے استاد تھے۔ اگھورناتھ چٹوپادھیائے سے بہت قریب بھی تھے۔ انہوں نے سرور الملک کو رازداں بنایا اور باہمی مشاورت سے یہ طے پایا کہ سروجنی دیوی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے کیمبرج یونیورسٹی لندن بھیج دیا جائے۔ سرور الملک کی سفارش پر آصفِ سادس نواب میر محبوب علی خان نے سروجنی دیوی کی بیرونی تعلیم کے اخراجات اور رہائش کے انتظام و انصرام کی منظوری دیتے ہوئے اپنے جیب خاص سے یہ رقم جاری فرمادی۔ برطانیہ میں سروجنی کے اساتذہ آرتھر سائمنس اور ایڈمنڈ گھوس نے ان کی شاعری سن کر یہ مشورہ دیا کہ گو ان کی شاعری بہت عمدہ ہے لیکن اس پر انگریزی ماحولیات کا گہرا اثر
ہے اور یہ ان کے مطالعہ کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ سروجنی دیوی اپنے ملک کی تہذیب ، ثقافت، معاشرہ کی مہک اور ہندوستانی جذبات کو اس شاعری میں سمو لیں تو ان کی شاعری لازوال ہو جائے گی۔ یہ بات سروجنی دیوی کے دل میں اتر گئی۔ تین سال وہ لندن میں مقیم رہیں لیکن ڈاکٹر وردھنا راجوسے ان کی وارفتگی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ شاعرانہ انداز میں لکھے ہوئے خطوط ان کے جذبات کی وارفتگی اور آتشِ شوق میں گیلی لکڑی کی طرح دھیمے دھیمے سلگتے رہنے کا پتا دیتے ہیں۔ آخر کا ر وہ واپس آگئیں اور آندھرا کی مشہور شخصیت کندکوری ویرا لنگم کے پاس پہنچ کر 1898 ء میں دونوں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ دونوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ وہ کسی مخصوص مذہب سے تعلق نہیں رکھتے ۔ اس طرح سے طبقہ واری بھید بھاؤ سے خود کو الگ کر لیا۔ سروجنی نائیڈو کی نظموں کا پہلا مجموعہ THE GOLDEN THRESHOLDکے نام سے 1916ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اس کی خوب خوب ستائش کی گئی ۔ بعد وہ بلبلِ ہند کہلائیں۔ نامپلی روڈ پر واقع ان کا مکان اسی مجموعہ کے نام سے موسوم ہے۔ حیدرآباد یونیورسٹی جب قائم ہوئی تو اس کا قیام دی گولڈن تھری شولڈ ہی میں عمل میں آیا۔ پروفیسر گیان چند جین اور پروفیسر مجاور حسین نے حیدرآباد میں یہیں سے درس و تدریس کا آغاز کیا۔ اب یہ یونیورسٹی گچی باؤلی میں واقع ہے۔ 1916ء ہی میں وہ تحریکِ آزادی میں شامل ہو گئیں اور1930ء میں وہ کانگریس کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوئیں۔ 1931ء میں گاندھی جی کے ساتھ گول میز کانفرنس میں شرکت کی۔ تحریکِ آزادی کے ضمن میں وہ دو مرتبہ گرفتار کی گئیں۔
سروجنی نائیڈو اپنی غیر متعصب روش اور طرزِ سلوک کے لیے بہت مشہور رہی ہیں۔ وہ حیدرآبادی تھیں اور حیدرآباد اُن کے رگ و پے میں بسا تھا۔ وہ مسلمانوں میں بھی برابر کی مقبول رہی ہیں۔ نواب بہادر یار جنگ نے ہمیشہ ان کی ستائش کی ا ور ان کو سراہا ۔ وہ نہایت حاضر جواب اور بذلہ سنج خاتون تھیں۔ ایک مرتبہ آصفِ سابع نے انہیں چائے پر طلب کیا ۔ ساری کا آنچل سرپر ڈالے خالص حیدرآبادی انداز میں سلام کرکے کھڑی رہیں تو نظام نے کہا:’’بیٹھو!‘‘ ۔ ملازم نے چائے اور لوازات سے میز سجادی تو چائے نوشی کے دوران نظام نے سرجنی نائیڈو سے پوچھا: ’’ تم نے غفران مکان آصفِ سادس کا بھی دور دیکھا ہے اور میرا بھی، یہ بتلاؤ کہ تمہاری نظر میں دونوں میں کیا فرق ہے؟‘‘ ۔ سروجنی نائیڈو نے بلا وقفہ ترکی بہ ترکی جواب دیا:’’ وہ صاحبِ دل تھے ، آپ صاحبِ عقل ہیں۔‘‘ اس طرح انہوں نے میر محبوب علی خان آصفِ سادس کو دلدار اور میر عثمان علی خان آصفِ سابع کو سردار قرار دیا۔ نظامِ دکن ان کے اس جواب سے بے حد خوش ہوئے اور زانو پر ہاتھ مار کر داد دیتے ہوئے فرمایا: ’’ خوب کہا ، خوب کہا ، خوب کہا ۔‘‘ اور حقیقت بھی یہی تھی کہ عقل و دانش ، تدبر اور آئینِ حکمرانی میں آصف جاہ سابع نے جو انداز اختیار کیے تھے، ان کی وجہ سے ریاست کی حقیقی معنی میں ترقی بھی ہوئی۔ سرجنی نائیڈو جیسی بے باک خاتون شاذ و نادر ہی پائی جاتی ہیں۔ وہ گاندھی جی پر بھی بھپتی کسنے سے باز نہیں آتی تھیں۔ گاندھی جی ریل کے تیسرے درجہ میں سفر کرتے تھے اور دہلی میں خاکروبوں کے محلے میں قیام کرتے تھے۔ اس پر سروجنی نائیڈو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ :’’ گاندھی جی شاید یہ بات نہیں جانتے کہ انہیں غربت میں بسر کرنے کی قوم کو کیا قیمت ادا کرنی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر محی الدین زورؔ سے میرے والد کے گہرے مراسم تھے۔ وہ اکثر ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔ زورؔ صاحب ہی کی بدولت میں حیدرآباد سے روشناس ہو سکا۔ میری
عمر کو ئی چھ سال رہی ہوگی ۔ زورؔ صاحب تشریف لائے ۔ میرے والد اور زورؔ صاحب سروجنی نائیڈو کے تعلق سے بات کر رہے تھے۔ زور ؔ صاحب نے کہا: ’’ بھائی! کل شام سروجنی کی طبیعت خراب ہوئی۔ ان کے معالج نے نیند کی گولی دے کر کہا کہ اب وہ آرام سے سو سکیں گی۔ سروجنی نے چہکا رتے ہوئے کہا :’’ مجھے امید ہے یہ آخری نیند نہیں ہوگی۔ ‘‘ بلبل تھی ناں۔ آخر وقت تک چہکارتی رہی۔ لیکن پھر وہ اس نیند کے بعد کبھی جاگی نہیں۔ بہت بعد مجھے پتا چلا کہ وہ 2مارچ 1949ء کی شام تھی جب وہ گذر گئیں۔ سلاطینِ دکن ‘ خواہ وہ قطب شاہی ہوں یا آصف جاہی ، ان کو یہ ادراک حاصل تھا کہ شاہی فقط کر و فر سے قائم نہیں رہ سکتی، بلکہ اپنی دھڑکن کو رعایا کی دھڑکن سے ہم آہنگ کرنے سے قائم رہتی ہے۔ آصفِ ساد س میر محبوب علی خان نے کبھی زمین پر حکومت ہی نہیں کی۔ وہ دلوں کے حکمران تھے۔ وہ رعایا سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ بادشاہ کا بھیس بدل کر رعایا کی احوال پرسی الف لیلوی داستانوں کا ایک حصہ سہی ، لیکن حیدرآباد کی تو تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ میر محبوب علی خان اکثر نہایت معمولی لباس بدل کر یا پھر بقول بناکر فقیروں کا ہم بھیس غالب خود اپنا اور اہلِ دول کا حال پوچھا کرتے تھے۔ وہ آج تک محبوب علی پاشا ہ ہی کہلاتے ہیں اور ہر کسی کے محبوب ہیں۔ ان کی فیاضی اور دادرسی کے کئی واقعات مشہور ہیں جن کو میں نے اپنی کتاب’’مرقعِ حیدرآباد ‘‘ میں تفصیل سے لکھا ہے۔
1908ء میں رودِ موسیٰ کی طغیانی نے ہزاروں کو بے گھر کر دیا۔ سینکڑوں لوگ لقمۂ اجل ہوئے۔ مشہور شاعر امجد حیدرآبادی خانماں بربادہوئے۔ والدہ ، بیوی، بیٹی کو نظروں کے سامنے غرقاب ہوتے دیکھا۔ محبوب علی پاشاہ ‘ کرتا پاپاجامہ پیروں میں سلیپر پہنے رعایا کے درمیان پہنچ گئے۔ اپنے غمخوار کو روبرو پاکر رعایا بلک اٹھی۔ سرکار! میں لُٹ گیا۔ حضور ! میرا گھر بار سب بہہ گیا۔ مائی باپ! میرے سرپہ سائبان نہیں ۔ محبوب علی خان سب کو دلاسہ دیتے رہے اور کہا:’’ آپ مت گھبرائیے ، اس مشکل وقت میں آپ کا یہ خادم حاضر ہے۔حالات درست ہونے تک آپ غریب خانے میں قیام فرما رہیں۔ وہ بھی آپ ہی کا گھر ہے ۔ ‘‘ یہ کہہ کر مہاراجہ کشن پرشاد کو دیکھا اور حکم جاری فرمایا:’’ ہمارے سارے محل رعایا کے لیے کھول دیئے جائیں۔ چار مطبخ فی الفور قائم کئے جائیں ، جن میں دو مسلمانوں کے لیے ہوں اور دو ہندوؤں کے لیے۔ آرام کا مناسب خیال رکھا جائے۔ طبیبوں کو احکام جاری کئے جائیں کہ تاحکم ثانی قیام خانے میں شب و روز موجود رہیں۔ شب و روزکے کسی بھی لمحے ہم اپنی رعایا پرسی کے لیے حاضر ہوں گے۔ کسی قسم کی کوتاہی یا تغافل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘ مہاراجہ نے عرض کیا: ’’ بندہ پرور ! لفظ بہ لفظ تعمیل ہوگی۔سارے انتظامات کی نگرانی غلام خود کرے گا۔ ‘‘ دراصل وہ شاہی کا دور تھا ناں۔ مطلق العنانی کا دور ، جو صادر ہو واجب التعمیل تھا۔ کوئی آج کا ترقی یافتہ جمہوری دور تھوڑی تھا، کہ وزیرِ اعلیٰ پہلے کیبنٹ کمیٹی طلب کرے، پھر حزبِ اختلاف سے رائے لے، ٹیلیویژن پر احوال جانے، اور بہت ہوا تو خانگی طیارے میں یوں سیرِ سیلاب کرے جیسے موسمِ گل میں، چلتے ہوں تو چمن کوچلیئے ، سنتے ہیں کہ بہاراں ہے، اس کے بعد تو پھر : ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں ستارروں کے آگے جہاں اور بھی ہیں!
ابھی تو مرکزی حکومت کو اطلاع دینا ہے۔ امداد طلب ہونا ہے، مرکزی وزراء کا فضائی دورہ ہے، وزراء کی آؤ بھگت ہے، ملی بھگت ہے۔ تباہی کے نام پر چندہ جمع کرنے والوں کے لیے نویدِ عید ہے۔ یہ سب کچھ نہ ہو تو جمہوریت کیسی ؟ ۔ خزانے سے بجٹ کے جاری ہونے کا جریدۂ خصوصی بھی تو چاہیئے۔ پھر امدادی کام کے لیے کمیٹیاں تشکیل پائیں۔ دو کیلوگرام چاول اور آدھا کیلو گرام دال کی تھیلیوں پر قائدین کی تصویر ٰیں چھپ جائیں تب اُس میں یہ اناج بھرا جائے۔ رعایا کی آہ و فغاں اپنی جگہ، جمہوریت اپنی جگہ۔ آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہونے تک! کبھی کڑکپن میں ایک کہانی پڑھی تھی، آپ نے بھی پڑھی ہوگی۔ کسی قبرستان میں گورکن اپنی بیٹی کے ساتھ کام کرتا تھا۔ بس وہ اور اس کی سات آٹھ برس کی بیٹی۔ کبھی کوئی قبر پہ گل افشانی یا فاتحہ خوانی کے لیے آ جاتا تو نان ‘ قلیہ اسے بھی مل جاتا۔ جو نہ ہوا تو آنہ دوآنے مرنے والے کے نام پر خیرات مل جاتی۔ کنویں سے سینچ کر ڈول بھر پانی قبر پر چھڑکاؤ کر دیتا تو فاتحہ پڑھنے والے کو دم بھر قرار آ جاتا تھا کہ شبنمِ نو رستہ کی چادر تو صبح و مسا ء ہے ہی، یہ تھوڑی سی سوغات اور سہی۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کسی کا گذر نہ ہوتا تو باپ بیٹی پر فاقے بھی گزر جاتے۔ پھر کوئی اطلاع آتی کہ تدفین کے لیے میت آنے والی ہے۔ دونوں کے چہرے پر خوشی سی پھوٹ پڑتی۔ لڑکی آنچل کو کمر کے گرد کس ‘ اڑس کر جلدی جلدی گھر کی صفائی میں مصروف ہو جاتی۔ کئی دن کے بجھے ہوئے چولہے سے راکھ نکال ، برتن مانجھ کر چمکا دیا کرتی ۔ پھر کنویں سے مٹکے میں پانی بھر کر جھم جھم کرتا کٹورا صحنک پر الٹا رکھ دیتی ۔ جھونپڑی یوں چمک اٹھتی گویا حویلی میں عید امڈ آئی ہو۔ دنیا تو ہے ہی اسی کا نام ، کسی کے گھر ماتم ، کسی کے گھر شہنائی۔ باپ بیمار ہوا تو دوا دارو تو دور، کئی دن سے کھیل تک اُڑ کر منہ میں نہ پہنچی۔ وہ رات دن باپ کے سرہانے بیٹھی رہی۔ پرندوں کی بولیاں سن کر وہ چونکی۔ پو پھٹنے کو تھی ، ادھر شمع جھملا رہی تھی۔ اس نے غور سے شمع کی لو کو دیکھا۔ جھملاتے جھملاتے شمع کی لو تیز ہوئی۔ باپ کی اوپر کی سانس بھی چڑھنے لگی۔ پھر نہ جانے کیا ہوا ، دونوں بجھ گئے۔ شمع بھی ، باپ کی زندگی کی لو بھی۔ شاید یہی کچھ ہوتا ہے، چراغ اور زندگی کی لو ، سفر کے آخری لمحے میں جست کرتی ہے۔ اس کے چہرے پر وہی مسرت تھی رونق تھی جو میت کی اطلاع پر پھوٹ پڑتی تھی۔ وہ اٹھی ، ایک ہاتھ سے بال درست کئے ، ٹوٹے ہوئے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا ، خوشی سے چمک رہا تھا۔ اب اسے بھوک بھی نہیں محسوس ہورہی تھی۔ اس نے ہمیشہ کی طرح آنچل کس کر لپیٹا اور کمر میں اڑس کر گھر کی صفائی میں مصروف ہوگئی۔ عادت سی پڑگئی تھی ناں۔ پھر جانے کیا سوچ کر ایک میلی سی چادر باپ پر ڈال کر دروازے کے باہر بیٹھ گئی۔
میری خطا معاف فرمائیے۔ مجذوب صفت، قلندر مزاج آدمی ہوں۔ جانے کیوں چندہ جمع کرنے والے اداروں کی عید کا تذکرہ کرتے کرتے یہ کہانی سنا بیٹھا۔ زلزلے، سیلاب، سونامی، طغیانی، تو آفاتِ سماوی ہیں۔ کہیں ماتم ، کہیں شہنائی تو دستورِ زمانہ ہے ہی۔ 11اگست 1911ء مطابق 4رمضان 1329ھ آصفِ سادس اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ اس وقت تک ریاستِ حیدرآباد ایک خوشحال اور ترقی پذیر ریاست میں تبدیل ہو چکی تھی۔ ان کے انتقال کے ساتویں دن میر عثمان علی خان آصفِ سابع کی تخت نشینی خلوت مبارک کے دربار ہال میں 10رمضان 1329ھ مطابق 18ستمبر 1911ء کو عمل میں آئی۔ انہوں نے اپنے والد میر محبوب علی خان کے طرزِ حکمرانی کو بغور دیکھا تھا۔ ان کی نظر میں بھی فلاحی اور ترقیاتی کام تھے۔ ان کی حرکیاتی شخصیت نے حیدرآباد کو ایک نئی جہت دینے کی ٹھانی۔ چناں چہ سب سے پہلے نظام نے ریاست میں تعلیمی ترقی پر توجہ دی۔ ہر محلہ میں پرائمری ، مڈل اسکول اور ہائی اسکول قائم کئے ، جنہیں مدرسۂ تحتانیہ ، وسطانیہ اور فوقانیہ کہا جاتا تھا۔ تحتانیہ مدارس کی فیس 3پیسے ، وسطانیہ کی چار آنے یعنی 25پیسے اور فوقانیہ کی آٹھ آنے یعنی50پیسے مقرر تھی، لیکن صدر مدرس کو یہ اختیار تھا کہ اولیائے طلبہ کی ماہانہ آمدنی کی کے پیش نظر وہ فیس معاف کردے یا نصف فیس قرار دے۔ اس کے علاوہ جن طلبہ کی فیس معاف کردی جاتی یا نصف کردی جاتی انہیں ہر سال نصابی کتب اور کاپیاں بھی مفت تقسیم کردی جاتی تھیں۔ آصفِ سابع کا سب سے بڑ اکارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تخت نشینی کے چھٹے سال عثمانیہ یونیورسٹی قائم کی۔ عموماً یہ خیال پایا جاتا ہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی سے پہلے علی گڑھ یونیورسٹی قائم ہو چکی تھی لیکن میں یہ عرض کروں کہ علی گڑھ یونیورسٹی 1920ء میں قائم ہوئی، جب کہ عثمانیہ یونیورسٹی 1917ء میں قائم ہو چکی تھی بلکہ اس کا پہلا جلسۂ تقسیمِ اسناد بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام سے پہلے ہو چکا تھا۔ نظام نے علی گڑھ یونیورسٹی ، شانتی نکیتن اور بنارس ہندو یونیورسٹی کو دل کھول کر عطیے دیئے۔ عثمانیہ یونیورسٹی ہندوستان کی پہلی جامعہ ہے جس نے انگریزی زبان کی بجائے ہندوستانی زبان میں طرزِ تعلیم کو مروج کیا۔ ارد و‘ میر محبوب علی خان آصفِ سادس کے دورِ حکومت میں سرکاری زبان کا درجہ حاصل کر چکی تھی، لیکن آصفِ سابع کے دور میں جامعاتی تعلیم کے درجہ تک ترقی کر گئی۔علی گڑھ اور جامعہ عثمانیہ دونوں 1400ایکر زمین پر قائم ہوئے۔ عثمانیہ یونیورسٹی کی تعمیر میں 36لاکھ روپیئے خرچ ہوئے لیکن اس سے زیادہ رقم دارلاترجمہ پر خرچ کی گئی۔ تمام علوم و فنون کی اصطلاحات کا ترجمہ اردو میں کیا گیا۔ فزکس :علمِ طبعیات، کیمسٹری: علمِ کیمیاء ، بیالوجی: علمِ حیاتیات، بوٹنی: علمِ نباتات ، زوالوجی: علمِ حیوانات، فزیالوجی: علمِ بدن ، میاتھمیٹکس: علمِ ریاضی، جیومٹری : علم الہندسہ ،کمپوزٹ میاتھس : اعلیٰ ریاضی، نیچر اسٹڈی : مطالعۂ قدرت۔آرکیمڈس پرنسپل: اصولِ آرشمیدس، لاز آف نیوٹن: کلیاتِ نیوٹن، ٹائم اینڈ ڈسٹنس : وقت اور فاصلہ ، ریلیٹیو ڈینسٹی :کثافتِ اضافی، ٹرائنگل : مثلث، اسکوئر: مربع، ریکٹینگل: مستطیل۔ غرض کہاں تک لکھوں۔
اسی اردو میڈیم میں سب کچھ پڑھ کر زین یار جنگ جیسے انجینیئر، ڈاکٹر عبد المنان جیسے ڈاکٹر ، ڈاکٹر محی الدین زور ؔ جیسے محقق ، حبیب الرحمن ، ہاشم علی اختر جیسے ماہرینِ تعلیم ، شاہد صدیقی اور مخدوم محی الدین جیسے شاعر، میرحسن ، رائے محبوب نارائن جیسے انشاء پرداز، عابد علی خان ، محبوب حسین جگر جیسے صحافی پیدا ہوئے۔ دار الترجمہ میں مولوی عبد الحق، علی حیدر نظم طباطبائی، ضامن کنتوری، مولانا مناظر احسن گیلانی، مرزا محمد ہادی رسواؔ ، جوش ؔ ملیح آبادی جیسی شخصیتیں ہمہ تن تراجم میں مصروف رہے۔ میں نے تو شاہی میں صرف پانچ چھ برس گذارے ہیں ، باقی تو ساری عمر جمہوریت ہی میں گذری۔ میں شاہ پرست نہیں ہوں لیکن ہم سخن فہم ہیں ، غالبؔ کے طرفدار نہیں۔

ہم سخن فہم ہیں، غالبؔ کے طرفدار نہیں

***