یہ لکھنئو کی سرزمیں قسط
سفر نامہ لکھنئو

علامہ اعجاز فرخ
سفرنامۂ لکھنؤ
سفر ہے شرط (قسط نمبر 14)
اب عشق تماشہ مجھے دکھلائے ہے کچھ اور
نواب صاحب نے اسی شعر کو زیرِ لب پڑھا۔
انداز اپنا آئینے میں دیکھتے ہیں وہ
اور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو
پھر دیر تک خلا میں تکتے رہے۔
چہرے سے لگ رہا تھا تھا کسی بچھڑی ہوئی یاد نے نے گلے میں باہیں ڈال دی ہیں۔ پھر کوئی زخم ہرا ہو گیا۔ کوئی ٹانکہ ٹوٹ گیا۔ پھر یوں دیکھا کہ کوئی دیکھتا نہ ہو۔ یاد تو کلیجے سے ہوک کی طرح اٹھتی ہے۔ پھر اپنا آپ سنبھالا نہیں جاتا۔ آدمی ضبطِ غم کر کے دنیا سے بہت کچھ چھپا لیتا ہے۔ اپنے آپ سے بھی چھپائے رکھنے کی، بھلائے رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن یاد کبھی ایک موج بن کر اٹھتی ہے اور وجود میں تلاطم برپا کر دیتی ہے تو سب کچھ تہہ و بالا ہو جاتا ہے۔ آدمی جو ہوتا ہے وہ دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی شخصیت میں بڑی تہہ داریاں ہوتی ہیں۔ وقت کے تئیں کوئی پرت الٹ
جاتی ہے، تب اندر کا آدمی دکھائی دیتا ہے۔
نواب صاحب نے فرمایا:
”آپ نے جن خواتین کے نام گنوائے ہیں، یہ تاریخ کے ورق پر خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔ حیات بخشی بیگم تو ایک بادشاہ کی بیٹی تھیں، ایک بادشاہ کی بیوی اور ایک بادشاہ کی ماں۔ انہوں نے اپنے کمسن بیٹے کی تخت نشینی کے بعد بعد جس طرح عنانِ حکومت اپنے ہاتھ میں رکھی، وہ تو نظر آتی ہے لیکن جس طرح انہوں نے نے اورنگ زیب جیسے سخت گیر شہزادے سے آنکھیں چار کی ہیں، اس کی مثال کہیں اور نظر نہیں آتی۔ نور جہاں تو مہرالنساء تھی۔اُسے جہانگیر سے دور کر دینے کے لیے لیے کیا نہ جتن کیے گئے گئے، لیکن جب وہ تخت نشین ہوا تو اسے اپنی ملکہ بنا کے چھوڑا۔ یہ بات مشہور ہے کہ جب شہنشاہ جہانگیر دربار کیا کرتے تھے تو ملکہ عالیہ کی کرسی ان کے تخت کے بالکل عقب میں ہوتی تھی۔ اہم فیصلوں کے وقت وہ شہنشاہ معظم کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا کرتی تھیں۔ کئی رسم و رواج، پہناوے زیور، ذائقے انہی کے دور کی ایجاد ہیں۔ اکبر کے دور میں راجپوتانہ کی تہذیب اگر رسوخ حاصل کر چکی تھی تو جہانگیر کے دور میں ایرانی تہذیب دبے پاؤں چلی آئی۔ وقت کی کروٹیں دیکھیے کہ صفوی دور میں قندھار کے ایک معمولی مکان میں مرزا غیاث بیگ اور عصمت بیگم سے پیدا ہونے والی لڑکی جس کے ماں باپ افلاس اور فلاکت سے تنگ آ کر ترک وطن کر کے ہندوستان کا رخ کر رہے تھے اور اس شیرخوار کو راستے ہی میں چھوڑ دینے پر مجبور تھے۔ قافلہ والوں نے رحم کھا کر ساتھ لے لیا۔ لیکن قدرت نے کچھ اور مقدر کر دیا تھا۔ زہین تھی، ایجاد و اختراع اس کی طبیعت میں تھا۔ شہنشاہ کی بیسویں اور آخری بیگم بھی تھی اور ملکہ بھی۔ مغل تہذیب ہندوستانی اور ایرانی تہذیب سے مخلوط ہو چکی تھی۔ جہانگیر صرف ایک عاشق نہیں تھا۔ سپاہی بھی تھا، عدل گستر بھی، شاعر بھی، رند بلا نوش بھی اور احترام ماہ صیام میں ترک مئے نوشی بھی اس کا طریقہ تھا۔ اقتدار کے اپنے اصول اور اپنے طور طریقے ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں ماہ صیام کی آخری شام، شہنشاہ عالم پناہ نے حکم دیا کہ جمنا کے تٹ پر شاہی بجرا تیار ہو۔ شفق سوئے مغرب رنگ بکھیر رہی تھی۔ عالم پناہ کی سواری قلعے سے برآمد ہوئی دریا کے کنارے جلوس پہنچا۔ عالم پناہ نے ملکہ عالیہ کا ہاتھ بنفس نفیس خود تھاما۔ ملکہ بجرے میں سوار ہوئیں۔ شہنشاہ بھیملکہ کاہاتھ تھام کر سوار ہوئے۔ ہجر نصیب، عشق شب میں گرفتار آفتاب، صرف ایک جھلک پانے کے لیے تمام دن کا سفر تمام کر کے سوئے مغرب غروب ہوا چاہتا تھا۔ شب کو تڑپانے میں کیف تھا۔ آفتاب کو تڑپنے میں لذت۔ ماہ نو کے اہتمام میں شام نے کامدانی کا ستاروں بھرا دوپٹہ اوڑھا۔ ماہ نو نے اپنی جھلک دکھلائی۔ جہانگیر نے نورجہاں کے ہلال گریباں کو بہ چشم التفات دیکھا۔ حسن نے عشق کی گرمء نظر کی تاب نہ لا کر دوپٹہ سے ڈھانکنا چاہا۔
عشق نے شوق دید میں ہاتھ تھام لیا۔ دوپٹہ چھوٹ گیا۔ عشق نے کہا:
ہلال عید بر اوج فلک ہویدا شد
حسن نے مسکراتے ہوئے شرما کر کہا:
کلید میکدہ گم گشتہ بود پیدا شد
؎ نورجہاں نے آہستہ سے دستک دی۔ کنیز سر جھکائے حاضر ہوئی۔ نورجہاں کا اشارہ پا کر گردن جھکائے الٹے قدم واپس لوٹی۔ اور زرہ جواہرسے مرصع کشتی میں بلوری صراحی اور جام لیے حاضر ہوئی۔ کورنش بجا لا کر کشتی روبرو رکھ کر لوٹ گئی۔ جہانگیر نے نگاہ شوق سے جام و مینا کو دیکھا پھر نورجہاں کو۔ کہا:”صراحی بھی ہو پیمانہ بھی، ساقی بھی اور ہم پر ساقی کی نظر بھی۔ اس کے آگے تخت و تاج توکیا،
دولت ہفت اقلیم ہیچ ہے۔“
نورجہاں نے بصد نا ز صراحی اٹھائی۔ پیمانے کو لبریز کیا اور پیش کیا تو جہانگیر نے نورجہاں کے چہرے کو محبت سے دیکھتے ہوئے انکار کر دیا۔ پھر کہا:”ہم اپنے ہاتھ سے جام اٹھائیں، توبہ توبہ۔ ہماری توبہ ٹوٹ جائے گی۔ لیکن آپ کے ہاتھوں سے پیمانہ ہمارے پیاسے لبوں تک پہنچے تبالزام توبہ شکن پر آ جائے گا اور ہم صاف بری کر دیئے جائیں
گے۔“
نورجہاں نے کہا:
”صاحب عالم کی خاطر ہمیں یہ بھی منظور ہے۔“
اس کے بعد تو پھر
خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ تو میں رہا نہ تو تُو رہا، جو رہی سو بے خبری رہی
********************************************************
چائے پئیں گے آپ؟ ناشتے کے بعد بھی آپ نے چائے ملاحظہ نہیں فرمائی تھی۔ موسم میں بھی خنکی ہے۔ ہم کتب خانے میں WHITE JASMINE چائے سے شغف رکھتے ہیں۔ آپ پسند فرمائیں تو آرینج پیکو اور زعفران کی چائے بھی ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ میں نے کہا: ”آپ جو پسند فرمائیں۔“ نواب صاحب نے ملازم کو اشارہ کیا۔ کچھ ہی دیر میں خادم کشتی سنبھالے ہوئے اوساتھ میں وہی انتظار کش غلافی آنکھیں روبرو ہوئیں۔ سنہری گوٹ کی چینی سفید چائے دان سے سفید پیالوں میں ارغوانی رنگ کی چائے انڈیلتے ہوئے پوچھا: ”حضور! چینی کتنی پسند فرمائیں گے۔“
میں نے کہا: ”صرف ایک“
اس نے دھاگہ لگی مصری کی چھوٹی ڈلی میری پیالی میں ڈبو دی۔ پھر دو لمحوں میں چٹکی سے دھاگہ الگ کر لیا۔ نواب صاحب کی خدمت میں چائے رکھ کر وہ ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔ نمکین پستوں کی پلیٹ آگے بڑھا کرمجھ سے کہا:”بیگم صاحبہ نے فرمایا ہے کہ آپ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔“ میں نے دو دانے دہن میں رکھ کر نواب صاحب کو دیکھا تو فرمایا: ”ایران کے ہیں۔ بیگم صاحبہ زیارات کے لیے تشریف لے گئی تھیں، وہاں نوش فرمایا، ساتھ بھی لیتی آئیں۔ تبرکا تقسیم بھی کیا۔ اب جو بھی ایران جاتا ہے، ان سے زعفران، پستے اور سیاہ زیرہ بطور خاص منگواتی ہیں۔“ میں نے چائے کی چسکی لی تو مشام جاں تازہ چنبیلی کی خوشبو سے معطر ہو گئی۔ نواب صاحب نے فرمایا: ”اس چائے کے ساتھ دھاگے دار مصری کی ڈلی کا جوڑ ہے۔ شکر اس کا ذائقہ خراب کر
دیتی ہے۔“
چائے کے دوران نواب صاحب نے کہا:
”ارجمند بانو جو بعد میں ممتاز محل کہلائی، خان آصف کی دختر تھی۔ شاہجہاں کے ذوق تعمیر میں اس کا بڑا کردار رہا ہے۔ شاہجہاں نے اور بھی شادیاں کی ہیں لیکن اسیر ارجمند بانو ہی کی زلف گرہ گیر کا رہا۔ رہی بات تاج محل کی توجب شہنشاہ بھی ہو، عشق بھی اور دولت بھی.....تب کہیں جا کے کوئی تاج محل بنتا ہے“ شاہجہاں کے پاس عشق بھی تھا اور دولت بھی، لیکن اس کی آنکھوں میں خواب نہیں تھا۔ تاج محل کے معمار شیرازی کی آنکھوں میں خواب تھا، عشق بھی۔ دونوں فراق تپیدہ اور ہجر نصیب تھے۔ عیسٰی شیرازی،شاہ جہاں کی آنکھوں کو خواب کی روشنی دے دی۔ کہانیوں میں لکھا ہے، پونم کی رات جب چودھویں کا چاند تاج محل پر چاندنی نچھاور کر دیتا ہے، تو آج بھی جمنا کے کنارے دو بدن ہاتھ میں ہاتھ ڈالے، ایک دوسرے میں ضم دکھائی دیتے ہیں۔ خدا جانے وہم ہے یا حقیقت لیکن شیرازی کا عشق
بھی فنا نہیں ہوا۔
دوسروں کو تو رہنے دیجیے کہ ان خواتین نے تہذیب کے فروغ میں حصہ ادا کیا ہوگا تو وہ ایک مشت خاک کے برابر نہیں۔ ان کو محلاتی سازشوں، طرفداریوں، لباس، تراش، خراش، جواہرات، اور سیم و زر سے فرصت کب رہی۔ البتہ زیب النساء مخفی کا شعری ذوق بھی بلند ہے، خیال نازک اور قبائے بندش چست ہے۔ وہ حرماں نصیب ادب کی وجہ سے یاد رکھی گئی اور یاد رکھی جائے گی۔ اودھ کی خواتین میں نواب بیگم اور بہو بیگم کو عوام نے تو یاد رکھا لیکن مؤرخین نے ان کا بہت کم تذکرہ کیا ہے۔ تاریخ فرح بخش نے قدرے اعتدال سے بہو بیگم کا ذکر کیا
ہے۔
شاید آپ کو یہ خیال گزرے کہ فیض آباد، لکھنؤ سے حیدرآباد، دلی، آگرہ اور مغل دور میں کیوں پہنچ گیا؟۔ لیکن میری گفتگو سیاق و سباق چاہتی ہے۔ ان تہذیبوں کے بغیر لکھنؤ کی تہذیب اور تعمیر اور ادب کو سمجھنا مشکل ہے۔ لکھنؤ میں جس طرزِ شہر نشینی کی بنیاد پڑی، کیا اس میں ایسے قوت بخش عناصر تھے جو حیدرآباد یا دلی کی تہذیبی صورت گری میں ابھر کر صدیوں تلک اپنا نقش چھوڑ گئے۔ میں نے اپنے لہجے میں مقدور بھر ملمع کاری اور مرصع گوئی کو ترک کیا ہے۔ لکھنؤ کی تہذیب میں ظاہر پر زیادہ زور ملتا ہے۔ اسی میں ہمارے اجداد مبتلا رہے اور کسی حد تک ہم بھی شامل ہیں۔ مجھے اعتراف ہے کہ یہ ہمارے گزشتہ دور کی یادگار ہے۔ لیکن ہر دور کی گزشتہ تہذیب میں عصر نو کے رجحانات شامل ہوتے ہیں اور اس سے تہذیب و ثقافت کے لیے رنگ ابھر آتے ہیں۔ لکھنؤی تہذیب و معاشرت کے ہر شعبے میں ملمع کاری کو جزوِ لازم قرار دیا گیا تھا۔ یہ نہ حیدرآبادی تہذیب کا اثر ہے نہ دہلی کی مغل تہذیب کا بلکہ ایرانی تہذیب کا اثر ہے۔ ایرانی لب و لہجے میں شائستہ گوئی کے ساتھ مقابل کو خوش کرنے اور خوش دیکھنے کے سارے لوازمات موجود تھے۔ برہان الملک ایرانی نژاد تھے لیکن اس وقت فیض آباد میں یہ تہذیب نہ پنپ سکی۔ شاید اس میں یہ بھی بات رہی ہو کہ تہذیب دو چار دن میں نہیں تشکیل پاتی۔ بلکہ اسے تہہ نشیں ہو کر سنورنے میں مدت درکار ہوتی ہے۔ اس کے ضابطے اپنے آپ تشکیل پاتے ہیں بنائے نہیں جاتے۔ اس مدت دراز میں مختلف عناصر کی آویزش اور آمیزش کئی صورتوں کو بناتی اور بگاڑتی رہتی ہے۔ تب کہیں کوئی مرقع وجود میں آتا ہے۔ کوئی صورت نمودار ہوتی ہے۔ جیسے شاعری میں صرف صنعت کاری راس نہیں آتی، اسی طرح تہذیب میں بھی ایسی کوششیں دیرپا نہیں ثابت ہوتیں کہ تہذیب کے آہستہ خرام قانون کو تبدیل کر لیا جائے جو اگر ایسی کوشش کی جائے جو اکثر دیکھنے میں بھی آتی ہے تو ملمع چڑھ جاتا ہے۔ لیکن ان کی دمک چمک عارضی ہوتی ہے۔ اس میں استقدام کا فقدان ہوتا ہے۔ نواب صاحب رکے۔ میز کی دراز کھول کر پائپ نکالا۔ اس میں پرنس ہنری تمباکو کا خمیرہ بھر کر چاندی کی سلائی سے دبایا۔ پٹرو ل کے لائٹر سے جلا کر دو چار گہرے کش لئے اور اس دھویں کے مرغولوں میں کھو سے گئے۔ کچھ دیر توقف کے بعد فرمایا: ”اگر آپ صرف لکھنؤ کے بازار اور یہاں کے آثار و عمارات دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ میں دکھلا دوں گا۔ اگر آپ واقعی اس کی تہذیب میں دلچسپی رکھتے ہیں تو کچھ دور آپ کو اس راہ پُر خار سے گزرنا ہوگا۔ جب تک تاریخ کی رہگزر سے آپ نہیں گزریں گے، تہذیب کی نقاب کشائی ممکن نہیں ہے۔ میں اس بات کو سمجھتا ہوں کہ آپ کے سن و سال میں یہ راہ دشوار گزار ضرور ہے۔ کچھ تو میری بھی تمنا ہے کہ یہ سرمایہ اگلی نسل کے سپرد کر دوں۔ آپ جیسا ذہین فرد اس کے کچھ عناصر کو شاید اپنی شخصیت میں شامل کر لے یا پھر اسے دوسروں کے حوالے کر دے۔“ میں نے کہا:”میں بڑی توجہ اور دلچسپی سے سن رہا ہوں۔ اس کے بغیر دیوار و در میرے لیے لب کشائی نہیں کریں گے اور نہ کھنڈر اپنے سنگ بستہ راز منکشف کریں گے۔“ نواب صاحب کی آنکھوں میں ایک چمک سی لہرائی۔ فرمایا:”فیض آباد اور لکھنؤ میں یہ صورت پیش آئی کہ یہاں سب کچھ دہلی سے آیا تھا۔ یہاں افراد اور طرزِ معاشرت بھی اپنے جلو میں تمام لوازمات سمیٹ لائے تھے۔ یہاں کے حالات کی بنیاد پر عشرت، تعیش اور مذہبیت کا اضافہ ہوا۔ ایک نئی طرزِ معاشرت کی خواہش نے طرزِ حیات میں ایسے رخ پیدا کئے جن میں نمود کاری، اظہارِ ذات، اظہارِ تفوق کے ساتھ صنعتِ قدآوری رسوخ پا گئی۔ ملمع دیکھنے والے کی نظر کو خیرہ ضرور کرتا ہے لیکن اپنی ذات میں اصل سے واقف بھی رہتاہے۔ اور صاحبِ نظر سے شرمندہ بھی۔ لکھنؤ میں زبان کے کچھ خارجی امتیازات، لباس کی کچھظاہری تراش خراش، نشست و برخواست کے کچھ مرصع آداب کے سوا کوئی ایسی چیز نہ پیدا ہو سکی جس سے اس تہذیب کو دوام حاصل ہو سکتا۔ اس لیے آپ نے اپنی نو عمری کے باوجود اس کو محسوس کر لیا۔ ویسے اس کی ظاہری دلکشی اور دلفریبی بھی اس لائق ہے کہ ایک دور اس سے
مملو رہا ہے۔“
عبد الحلیم شرر کے اعتبار سے لکھنوی تہذیب کا پیکر مغلیہ عہد سے زیادہ نفیس اور شاندار تھا۔ اس حد تک لطیف اور ترقی یافتہ تھا کہ تہذیب کی روح اس میں سمٹ آئی تھی۔ لیکن جس کو حقیقی انداز شہر نشینی کہیے، وہ تو فیض آباد سے شروع ہوئی۔ نواب برہان الملک اور صفدر جنگ کے دور کی تہذیب اس کی بنیاد ضرور قرار پائی لیکن اس کا ارتقاء نواب شجاع الدولہ سے ہوا۔ صفدر جنگ کے گزر جانے کے بعد فیض آباد پھر ویران ہو گیا۔ ان کے صاحبزادے نے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی اپنا قیام لکھنؤ منتقل کر دیا۔ سال میں دو تین راتیں وہ فیض آباد میں ضرور بسر کیا کرتے تھے لیکن 1764ء میں انگریزوں کے ہاتھوں بکسر میں انہیں شکست نصیب ہوئی۔ کمال نے سرو سامانی میں فیض آباد آئے۔ جو کچھ ساز و سامان تھا، اسے راتوں رات سمیٹ کر چل پڑے۔ لکھنؤ میں بھی جو کچھ ہاتھ آیا، لے کر نکل پڑے۔ تاکہ روہیل کھنڈ میں جا کر پناہ لے سکیں۔ اس جنگ کے نو مہینے بعد اس شرط پر کہ وہ اودھ کی آمدنی کا تیس فیصد انگریزوں کو ادا کریں گے، صلح ہو گئی۔ اسی دوران فرخ آباد میں احمد بنگش سے ملاقات ہوئی۔ یہ ایک بہادر سردار تھا۔ تجربہ کار، بڑے بڑے شجاع بھی، اس کا لوہا
مانتے تھے۔
احمد بنگش نے کہا:”میری دو نصیحتوں کو فراموش نہ کریں۔ پہلی بات تو یہ گرہ بند کر لیجیے کہ کبھی نہ مغلوں پر بھروسہ کریں اور نہ ان کے ملازمین پر۔ اپنے خواجہ سراؤں سے کام لیا کریں۔ دوسری اہم بات یہ کہ اپنا مرکز حکمرانی فیض آباد ہی قرار
دیں۔ لکھنؤ میں سکونت ترک کر دیجیے۔“
صلح کے بعد شجاع الدولہ فوراً فیض آباد منتقل ہو گئے۔ شجاع الدولہ جری تھے، جواں مرد تھے، حوصلہ مند تھے، خوش انتظام تھے۔ تعمیر کے شوقین تھے۔ حکومت کے لیے ان کی صلاحیتیں سازگار تھیں لیکن حسن و جمال ان کی کمزوری تھی۔ کوئی چاند ہو سر آسماں، نواب صاحب جب تک اسے آنگن میں نہ اتار لائیں، قرار نہیں پاتے تھے۔ فیض آباد میں ڈیرے داری طوائفوں نے اپنے ڈیرے ڈال دیئے اور مہہ جبینوں کا جھرمٹ فیض آباد اتر آیا۔ ایک مرتبہ نواب صاحب کی سواری کا جلوس گزر رہا تھا، کہیں سے کوئی سر یوں پھوٹا جیسے زمینوں کی محبت میں آسمان سے شوخ ستارہ ٹوٹے۔ ہر تان دیپک تھی۔ ایک شعلہ تھا جو لپکا چاہتا تھا۔
اب عشق تماشہ مجھے دکھلائے ہے کچھ اور
کہتا ہوں کچھ اور، منہ سے نکل جائے ہے کچھ اور