اسے میں بھی راز رکھوں ، اسے تو بھی راز رکھنا

شہر صرف آبادی کی کثرت سے نہیں پہچانے جاتے بلکہ ذوقِ شہرنشینی، عمارتوں، تہذیب، طرزِ معاشرت، رسم، رواج، موسم، ذوقِ طعام، آرائش، زیبائش، لباس، زیور، تقاریب، تہوار، زبان، ادب، مروت، وضعداری، مہمان نوازی، ایثار، قربانی، دلبری، دلداری، حلم، جود، سخا، انسان دوستی، جیسے عناصر سے اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ حیدرآباد ان سب سے سواء دوست نوازی، محفلِ یاراں، کج کلاہی اور قناعت سے معمور تھا۔ محبت تو خیر اس کے خمیر میں تھی ہی۔ بھلا جو شہر محبت میں بسایا گیا ہو، محبت سے تعمیر کیا گیا ہو ، وہاں قاتل کو بھی شربت پلانے کی رسم مروج نہ ہوتو اُسے شہرِ محبت ہی کیوں کہا جائے۔ بس ایک کسر رہ گئی تھی کہ پہلی جنگِ آزادی سے قبل طرزِ تعلیم روایتی طرز میں مروج تھا۔ باقاعدہ اسکول کم کم ہی تھے۔ 1873ء میں سر سید احمد خان نے جدید تعلیم کا چراغ روشن کر دیا تھا۔ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج قائم ہو چکا تھا، یہ کالج الہ آباد یونیورسٹی سے ملحق تھا۔ 1878ء تک ریاستِ حیدرآباد میں 162مدارس قائم ہو چکے تھے۔ ان میں 105کا ذریعۂ تعلیم فارسی تھا اور باقی کنڑی اور مراٹھی میں تھے۔ اس کے بعد حیدرآباد میں نہ صرف تعلیم عام ہو چکی تھی بلکہ نوجوان اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ رانہ ہونے لگے۔

حیدرآباد کی تیزی سے ترقی پر ایک طائزانہ نظر ڈالی جائے تو پتہ ملتا ہے کہ حیدرآباد میں ڈاک و تار کا محکمہ 1856ء میں قائم ہو چکا تھا۔ 1869ء میں ریاستِ حیدرآباد کے ڈاک ٹکٹ اور عدالتی رسوم کا مطبع قائم ہوا۔ 1885ء میں ٹیلی گرام خدمات شروع کی گئیں۔ 1872ء میں شہر میں 16سرکاری مدارس کام کر رہے تھے۔ مدرسہ دار العلوم 1854ء میں قائم ہوا۔ حیدرآباد سیول انجینئرنگ کالج 1869ء میں قائم ہوا۔ چادر گھاٹ ہائی اسکول کی بنیاد 1876ء میں رکھی گئی۔ بعد میں یہ چادر گھاٹ کالج تک ترقی کر گیا۔ مدرسہ عالیہ 1879ء میں قائم کیا گیا۔ لاء اسکول 1889ء میں قائم ہوا۔ حیدرآباد پبلک اسکول کا 1913ء میں آغاز ہوا۔ تعلیمِ نسوان کے لیے محبوبیہ گرلز کالج 1882ء میں شروع کیا گیا۔ بلگرامی گرلس اسکول 1876ء میں قیام پایا، نامپلی مدرسۂ نسوان 1890ء میں ۔ اس کے علاوہ انگلش پبلک اسکول 1837ء، رومن کیتھولک اسکول 1835ء، سینٹ فرانسس اسکول 1850ء ، سینٹ میری1885ء، ولیم بارٹن اسکول 1916ء ، سٹینلی ہائی اسکول1895ء، محبوبیہ زنانہ کالج1907ء۔ دیہات میں پچھڑے طبقات کی تعلیم کے لیے 30 اسکول قائم کئے گئے۔

حیدرآباد کے تعلیمی نظام و نصاب کے لیے عماد الملک کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ کیننگ کالج، لکھنؤ میں عربی کے پروفیسر تھے۔ 1873میں وہ حیدرآباد آئے اور سالار جنگ کے شخصی معتمد قرار پائے۔ دس برس وہ اسی عہدے پر برقرار رہے۔ اس کے بعد وہ آصفِ سادس میر محبوب علی خان کے شخصی معتمد ہوئے۔ آصفِ سابع میر عثمان علی خان کے اتالیق قرارپا ئے۔ ساتھ ہی وہ ناظمِ تعلیمِ ریاستِ حیدرآباد مقرر ہوئے۔ حیدرآباد کی تعلیمی ترقی میں ان کا گراں قدر حصہ ہے۔ حیدرآباد میں نظام کالج کا قیام انہیں کا رہینِ منت ہے۔یہ کالج مدرسۂ عالیہ کو ملحق کرتے ہوئے 1887ء میں قائم کیا گیا۔ نواب فخر الملک نے موسم گرما میں قیام کے لیے ایک محل میر سرائےکے ایک پُر فضاء مقام پر تعمیر کیا تھا۔ ان کے صاحبزادوں کی تعلیم اسی محل میں ہوئی۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد انہوں نے یہ محل نظام کالج کو عطیہ پیش کر دیا۔ آج تک لاکھوں علم کے چراغ اسی درسگاہ میں روشن ہوئے۔ آج بھی نظام کالج اسی عمارت میں قائم ہے۔ اس کے پہلے پرنسپل سروجنی نائیڈو کے والد اگھور ناتھ چٹو پادھیائے تھے۔ یہ کالج مدراس یونیورسٹی سے ملحق تھا اور ایک خودمختار ادارہ رہا ہے۔ اس کالج سے فارغ التحصیل کچھ نامور شخصیتیں جو مجھے یاد رہ گئیں وہ سید عابد حسین سابق سفیرِ امریکہ، علی یاور جنگ، مشہور وکیل سبودھ مارکنڈیا، پروفیسر ایم ایم تقی خان، ہندوستانی فضائیہ کے ایئر چیف مارشل ادریس لطیف خان، قاضی زین العابدین، انابھیری پربھاکر راؤ، چندرا سدھارتا، جی ۔رام ریڈی، غلام احمد، سید محمدہادی، موہن کانڈا، راکیش شرما، سروجنی نائیڈو، پی وی نرسمہا راؤ، پروفیسر رتنا سوامی، امیش چندر آئی پی ایس، سیتا رام یچوری، فلم ڈائرکٹر شیام بنگل ، زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست، محمد اظہر الدین، اسد الدین اویسی ،اوربھی لوگ ہیں جن کی فہرست طویل ہے۔ سالار جنگ نے کبھی اپنی موت کو فراموش نہیں کیا۔ وہ جب بھی کبھی شہر سے باہر کسی طویل سفر میں ہوتے تو اپنے اسبابِ سفر میں کفن ضرور ساتھ رکھا کرتے۔ اپنے برطانیہ کے دورے پر بھی وہ اپنا کفن ساتھ لے گئے۔ انہیں رمل اور نجوم سے دلچسپی تھی۔ 8؍ فروری 1883ء کو اپنے دفتری کام سے فارغ ہوکر وہ اپنے محل کے سبزہ زار پر حقہ نوشی کر رہے تھے، انہوں نے اپنے ملازم سے کہا ۔ ’’ پنڈت موہن لال کو بلاؤ۔‘‘ پنڈت موہن لال حاضر ہوا تو کہا :’’ پنڈت جی! زائچہ کھینچ کر یہ تو بتلاؤ کہ آپ کے علم کے مطابق ہمارے ستارے کیا کہتے ہیں؟‘‘ ۔ پنڈت نے زائچہ کھینچ کر کہا۔’’ حضور! سب کُشل منگل ہے۔ کامیابی اور کامرانی قدم بوس ہے۔ دولت ، شہرت، عزت ، حشمت، شوکت، سطوت، ثروت، سب بامِ عروج پر ہے۔‘‘ سالار جنگ نے کہا: ’’ دیکھیں تو!‘‘ پنڈت نے زائچہ ملاحظہ کے لیے پیش کر دیا۔ سالار جنگ نے زائچہ دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا:’’ پنڈت جی! زندگی کا خانہ تو خالی ہے۔ ‘‘ پنڈت نے کئی تاویلات پیش کیں۔ ہزار ڈھنگ سے وضاحت کی۔ سالار جنگ مسکراتے رہے اور انعام دے کر پنڈت کو رخصت کر دیا۔ مرزا غالب کے پوتے سرور الملک مرزا آغا بیگ، میر محبوب علی خان کے استاد بھی تھے اور سالار جنگ کے مصاحب بھی۔ پنڈت دوڑا دوڑا آغا بیگ کے پاس پہنچا ، آغا بیگ اول شب ہی آرام فرما ہو چکے تھے۔ پنڈت نے کہلوایا کہ اسے نہایت ضروری کام ہے اور وہ ملنا چاہتا ہے۔ آغا بیگ برآمد ہوئے تو پنڈت نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ آغا بیگ نے برہمی سے کہا:’’ پنڈت! تم سٹھیاگئے ہو۔ اتنی سی بات کے لیے مجھے نیند سے جگایا۔ ‘‘ پنڈت نے کہا: ’’ حضورِ والا ! میں سمجھتا ہوں کہ مجھ سے زائچہ کھینچنے میں کوئی غلطی سرزد ہو گئی ہے۔ لیکن مجھے دیوان جی کی طبیعت مکدر ہوجانے سے شرمندگی ہے۔‘‘ آغا بیگ نے کہا: ’’اب تم جاؤ یہاں سے۔ موت و حیات تمہارے زائچوں کی رہینِ منت نہیں ہے۔ ‘‘ پنڈت چلا گیا۔ لیکن!

اسی رات سالار جنگ انتقال فرماگئے۔ ان کی موت کی وجہ ہیضہ بتلائی گئی۔ لیکن ان کی فرانسیسی گورنس مادام گائی گاود نے قسم کھا کر کہا کہ انہیں زہر دیا گیا تھا۔ حیدرآباد کا یہ فرزند کفن پوش ہو گیا۔ وہ ڈیرہ میر مومن میں آرام فرما ہیں۔ جس مٹی کی محبت اور آشفتہ سری میں انہوں نے سارے قرض اتار کر حیدرآباد کو سرخ رو کیا ، اسی مٹی نے انہیں اپنی آغوش میں بھر لیا۔ وہ بہت زیادہ تھک گئے تھے ناں، اس لیے! سالار جنگ نے حیدرآباد کو جس ترقی کی راہ پر گامزن کردیا تھا، وہ رکی نہیں۔ تشنگانِ علم کے لیے کئی کتب خانے قائم ہوئے۔ شنکر آچاریہ کتب خانہ 1872، آصفیہ کتب خانہ 1890، میں عماد الملک نے قائم کیا۔ بھارت گن وردھک کتب خانہ 1895، بلارام ریڈنگ روم 1896، بالا سرسوتی لائبریری 1895، سری کرشنا دیورائے بھاشا نیلیم 1901 میں قائم ہوئے۔ مریضوں کی شفا یابی کے ضمن میں حیدرآباد اپنے آغاز ہی سے ہندوستان بھر ہی کا نہیں بلکہ پورے ایشیا کا مرکز رہا ہے۔ چناں چہ قلی قطب شاہ نے چار مینار کے ساتھ ہی دارالشفاء کی بنیاد رکھی۔ یہ شفا خانہ دکنی، ہندوستانی، یونانی، ایرانی اور آرمینی طبیبوں کے ساتھ ساتھ طالبانِ طب کا تدریسی شفا خانہ رہا۔ یہ عمارت آج بھی باقی ہے اور اس محلہ کا نام ہی دار الشفاء ہے ۔ اس کے علاوہ حکیم نظام الدین کا دوا خانہ 1630میں قائم ہوا۔ حیدرآباد میڈیکل اسکول کا آغاز 1846ء میں ہوا۔ کنگ ایڈورڈ میموریل ہاسپیٹل 1851میں قائم ہوا۔ اس کا نام اب گاندھی ہاسپیٹل ہے۔ افضل گنج کا دواخانہ 1866میں قائم ہوا۔ وکٹوریہ زنانہ ہاسپیٹل 1889میں قائم ہوا۔ ایرہ گڈہ میں دماغی امراض کا دواخانہ 1897میں قائم کیا گیا۔ دو دواخانے امراضِ دق وسل کے دبیر پورہ اور اننت گِری میں قائم کئے گئے۔ امیر پیٹ کے قریب ہڈیوں کا دواخانہ نظامس آرتھوپیڈک ہاسپیٹل قائم کیا گیا۔ 1902میں سر رونالڈ راس نے حیدرآباد ہی میں ملیریا بخار کا جرثومہ دریافت کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ۔ یہ انافلیس مچھر صاحب کا نہیں بلکہ بیگم صاحبہ کا شاخسانہ ہے کہ کسی ندن پر مہمان ہوتی ہیں تو خالی ہاتھ میزبان کے گھر نہیں جایا کرتی ہیں۔ ملیریا کے جرثومہ کا تحفہ ساتھ لے جاتی ہیں۔ بس اتنی سی بات دریافت کرنے پر مسٹر رونالڈ نہ صرف سر کے خطاب سے نوازے گئے بلکہ انہیں نوبل پرائز سے بھی سرفراز کیا گیا۔ 1860میں بمبئی۔ مدراس ریلوے لائن کے لیے زمین کی منظوری دے دء گئی جوریاستِ حیدرآباد میں رائچور سے ہوکر گزرتی تھی۔ 1863میں اسے واڑی ۔شولا پور سے حیدرآباد تک مربوط کر دیا گیا۔ نظام اسٹیٹ ریلوے کے نام سے اس کا آغاز ہوا۔ نواب تہوّر جنگ کی دعوت پر جب میر انیسؔ مرحوم حیدرآباد تشریف لائے تھے تو وہ لکھنؤ سے گلبرگہ تک بذریعۂ ریل آئے تھے، وہاں سے حیدرآباد تک کا سفر انہوں نے بذریعۂ شکرام طے کیا تھا۔ اس وقت حیدرآباد سے ریلوے لائن تو ڈالی جا چکی تھی، لیکن کارکرد نہیں ہوئی تھی۔ حیدرّباد کے عدالتی نظام کے تعلق سے خامہ فرسائی کروں تو آپ کہیں کہ حیدرآباد کے ضمن میں قصیدہ گوئی میراشعار ہے۔ میری چھوڑییے۔ آغا حیدر حسن صاحب اپنی کتاب ’’حیدرآباد کی سیر ‘‘ میں رقم طراز ہیں کہ :’’ یہاں کے فیصلے ملکوں ملکوں مشہورہیں اوربطورِ نظیر پیش کئے جاتے ہیں۔ ان فیصلوں کو اگر کوفی و شامی بھی سن لیں تو اپنے دل میں ظلم کا خیال بھی نہ لاویں۔‘‘ یوں حیدرآباد میں عدالتِ دیوانی، عدالتِ فوجداری، عدالتِ اطرافِ بلدہ، دارالقضاۃ۔ اور ان سب سے بالا عدالت العالیہ تھی۔ قانو ن کی عمل آوری، عدل وانصاف کی خاطر عدالت آزاد تھی۔ حکومت یا انتظامیہ عدالتی امور میں مداخلت کا اختیار نہیں رکھتا تھا۔ فیصلے جلد سے جلد کئے جاتے تھے اور پیشِ نظر یہ ہوتا تھا کہ انصاف میں تاخیر دراصل ناانصافی کے مترادف ہے۔ کوئی آج کا دور تھوڑی تھا کہ فرد کا مقدمہ بیٹے بلکہ پوتے کے بڑھاپے تک زیرِ دوران ہو۔ بے قصور ناکردہ گناہ کی پاداش میں قید میں گزار دے اور مجرم دن دھاڑے آزاد گھومتا رہے کہ اسے سیاستدانوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ ایک مقدمہ کے ضمن میں عدالت نے دیوانِ ریاست سالار جنگ کے نام سمن جاری کیا۔ وہ خود عدالت میں حاضر ہوئے اوراپنا بیان قلمبند کروایا ۔ جیکب ڈائمنڈ کے سلسلے میں کلکتہ کی عدالت میں میر محبوب علی خان آصفِ سادس کے خلاف ہیرے کا تاجر فریاد رس ہوا۔عدالت نے کمیشن قائم کیا۔ بادشاہِ وقت نے اپنا بیان قلمبند کروایا۔ اس واقعہ کی تفصیل میری کتاب مرقعِ حیدرآباد میں موجود ہے۔ رشوت ستانی کے خلاف حیدرآباد کے قوانین بہت سخت تھے۔ عدالت کے ایک اعلیٰ ترین عہدیدار کو رشوت ستانی کے جرم میں دو سال قید کی سزا دی گئی۔ دو ججوں کو معزول کر دیا گیا۔ دروغ بر گردنِ راوی، حال ہی میں اخباروں میں یہ خبر گشت کرتی دکھا ئی دی کہ کسی جج صاحب کے لاکر سے کئی کروڑ روپیہ برآمد ہوا۔ خدا کرے کہ یہ خبر جھوٹ ہو۔ جھوٹ سمجھتا ہوں تو خبر رسانی پر حرف آئے ہے اور سچ سمجھوں تو عدالت سے بھروسہ اٹھا جائے ہے۔ گویم مشکل ،نہ گویم مشکل ۔ ٹک ٹک دیدم ، دم نہ کشیدم۔ حیدرآباد میں 1910میں بجلی گھر تعمیر ہوا۔ حسین ساگر کے کنارے برقی کی تیاری ہوئی۔ 1913میں شہر مختلف علاقوں میں برقی کی سربراہی کا آغاز ہوا۔ 1930میں حیدرآباد ہندوستان بھر میں The Best Electrified Cityہونے کا اعزاز پا چکا تھا۔ جب کہ شہر مدراس اگر چیکہ برطانوی حکومت کے زیرِ نگرانی تھا لیکن 1927تک برقی سے محروم رہا۔

ابھی تو میں نے بیسویں صدی کے رخسار پر جھولتی ہوئی لٹ کو چھیڑا ہے۔ ابھی گیسوئے مشکبار بکھریں گے۔ ابھی حیدرآباد کو بہت کچھ سنورنا ہے۔ ابھی رودِ موسیٰ کی طغیانی د یکھنی ہے۔ ابھی حسین ساگر ، عثمان ساگر، حمایت ساگر، علی ساگر ، نظام ساگر کی مدھ ماتیوں کے جلوؤں کی تابانی باقی ہے۔ ابھی عثمانیہ یونیورسٹی کی اٹھتی ہوئی امنگیں ہیں۔ ابھی صحبتِ یاراں کی نشستیں باقی ہیں۔ ابھی امراء کے روزوشب دیکھنے ہیں۔ ابھی کج کلاہوں کے تیور کا نظارہ کرنا ہے۔ ابھی ایک انقلاب پس انقلاب دیکھنا ہے۔ مری چشمِ گنہ گار نے تو وہ منظر بھی محفوظ کر رکھا ہے جہاں جاگیردار اپنے کارندوں کو نہ صرف مالگزاری اور بٹائی کی وصولی پر مامور کر دیتے تھے بلکہ ان کے جابرانہ رویہ سے چشم پوشی بھی ان کا شعار تھا۔ رعایا بے بس ، مجبور اور عاجز تھی۔ لیکن ان کے لیے کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ نہ داد خواہ ہوا کرتا تھا اور نہ عدل رسی ہی کی کوئی صورت تھی۔ دنیا کو روٹی ، کپڑا، مکان، محل سراء، عیش و طرب ، شان و شوکت ، فرصت، نام نشان ، خطاب ، عزت، رفعت، زرو جواہر سے مالا مال کرنے والا دہقان تو مقدر سے بھی شکوہ سنجی نہیں کر سکتا تھا۔ ان کی زبانیں فاقوں کے ذائقے اور پیٹ بھوک سے آشنا تھے۔ کسی شام کسی دہقان کی جھونپڑی سے دھواں نہ اٹھتا تو آدھے پیٹ گزارہ کرنے والا تو ساجھے دار ہوجا تا تھا لیکن زمینداروں کو ان مسائل سے کوئی تعلق نہ تھا۔ انہیں تو یہ زعم تھا کہ ’’ان کے بازو بھی مرے، قوتِ بازو بھی مری۔‘‘ میں تو نہ جانوں ہوں لیکن تاریکئ شب جانے ہے کہ کیسے یہ بھوک سے مارے ہوئے مریل دہقان مرمریں جسموں کو جنم دیتے تھے۔ ہر انقلاب کے پیچھے ایک راز ہے۔ اس سربستہ راز کو کھولتا ہوں تو کئی چہرے نقاب اندر نقاب دکھائی دیتے ہیں۔ آپ سے ’’آئینۂ ایام ‘‘ کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ میرا تو یہ حال ہے کہ شبِ وعدہ کہہ گئی ہے، شبِ غم دراز رکھنا اسے میں بھی راز رکھوں ، اسے تو بھی راز رکھنا

اسے میں بھی راز رکھوں ، اسے تو بھی راز رکھنا

***