allama-aijazfarruq
THANKS FOR VISITING
علامہ اعجاز فرخ




کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
اسٹیفن ہاکنگ کا خط علامہ اعجاز فرخ کے نام

(تیسری قسط)

کہتے ہیں خوشگوار زندگی کے لیے میاں بیوی کا ہم خیال ہونا ضروری ہے۔ لیکن جین یکسر مجھ سے مختلف تھی۔ وہ آرٹس کی طالبہ تھی اور میرا سارا رجحان سائنس کی طرف تھا۔ وہ شیکسپیئر، رابرٹ براوننگ اور برنارڈ شا ہ کی دلدادہ تھی۔ دوسری طرف میں گیلیلو، آئزک نیوٹن اور آئن اسٹائن کا پرستار تھا۔ اس کے باوجود ہم دونوں میں گہری محبت تھی۔ میں اسے اس کلیے کی روشنی میں دیکھتا تھا کہ منفی اور مثبت قطب ایک دوسر ے میں کشش رکھتے ہیں جب کہ یکساں قطب ایک دوسرے کے قریب نہیں ہو پاتے۔ جب اس نے مجھ سے اظہارِ محبت کیا، وہ جانتی تھی کہ میں موٹر نیوران کے عارضہ سے دوچار ہوں۔ اس کے باوجود وہ یہی کہتی رہی”تو کیا ہوا؟۔ دو سال ہی سہی ہم ساتھ تو رہ سکیں گے۔“ اس نے میرے والد سے ملاقات کی اور ان سے اس محبت کا اظہارکیا۔ میرے والد نے دریافت کیا کہ کیا وہ میری صحت کے تعلق سے جانتی ہے۔ اس نے کہا ”ہاں، میں جانتی ہوں۔ اسٹیفن نے مجھ سے کوئی بات نہیں چھپائی۔“ میرے والدین نے اجازت دے دی۔ ہم ایک ہو گئے۔
میں نے اپنے Ph.Dکے لیے خود کو آمادہ تو کر لیا تھا لیکن ہنوز میرے ذہن میں کوئی موضوع نہیں تھا۔ ایک دن میں ایک ایسے پروفیسر کی کلاس میں شریک تھا جو BIG BANG AND BLACK HOLE پر گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے لیکچر کے دوران یہ کہہ دیا کہ BIG BANGاس کائنات کا نقطہئ آغاز ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے یہ خیال ہوا کہ یہی وقت کا پہلا لمحہ ہے۔ میں نے اس لمحہ کو اپنی گرفت میں لے لیااور پھر آئین اسٹائین کا نظریہئ اضافت گرہیں کھولنے لگا۔ آپ یقینا اس امر سے اتفاق کریں گے ”نظریہئ اضافت کے بغیر زندگی میں کسی مدت کا تعین مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔“ میں چوں کہ آواگون یا REBIRTHمیں یقین نہیں رکھتا بلکہ معاف فرمائیے میں آپ کی طرح ”حیات بعد الموت“کے فلسفے کا بھی قائل نہیں ہوں۔ اس لیے میں صرف موجودہ زندگی ہی کی بات کرتا ہوں۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے۔ ممکن ہے آپ مجھے مادیت پسند کہہ لیں، دہریہ کہہ لیں، لیکن غور فرمائیے کہ جب ہم ”عمر“ کہتے ہیں تو یہ پیدائش اور موت کے درمیان کا وقفہ ہے۔ پیدائش کا وقت ہی نقطہئ آغاز یا وقت ِ آغاز ہے۔ اسی طرح طالبعلمی، ازدواجی زندگی، سبھی کچھ وقت کے دو لمحوں کے درمیان اسیر ہے۔ کسی بلندی اور پستی کی پیمائش یا فاصلہ بھی دو نقطوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ دو سواریاں اگر ایک رفتار سے سفر کر رہی ہوں تو دونوں کی آپسی رفتار صفر ہے۔ گویا دونوں ایک دوسرے کے لیے ساکن ہیں لیکن زمینی نسبت سے سفر میں ہیں۔ کائنات کا مدار و قرار”نسبتوں“سے ہے۔ ہماری عزت، تکریم، وجود، عروج، زوال، بلندی، پستی، شناخت، سب نسبتوں کی رہینِ منت ہیں۔ جو لوگ نسبتوں کا انکار کرتے ہیں وہ یا تو فریب خوردہ ہیں یا فریب دہندہ ہیں۔ موصوف صفت سے متصف ہے۔ ورنہ عدم و وجود
میں فرق ہی کیا رہ جاتا ہے۔
علامہ صاحب! معاف فرمائیے۔ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ گراں گزری ہو تو درگزر فر مائیے۔ یہ تو ہوتا ہی ہے کہ
ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا
بات پہنچی تری جوانی تک!
تحقیق کا موضوع میں نے ”وقت“ قرار دیا۔ جب میری تحقیق ابتدائی مراحل میں تھی تو کبھی کبھی پرا گندہ خیالی میں سونچ کے راستے بدل جاتے تھے۔ مجھے ہونی اور انہونی میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا تھا۔ نظریاتی طبعیات یا Theoritical Physicsمیں اکثر ایسا ہوتا ہے۔ یا پھر مساوات کی ترتیب نہیں بنپاتی۔ ایک دن یونہی کچھ ہوا۔ مجھے آئین اسٹائین کے طبیعی نظریات میں اُلٹا پلٹا نظر آنے لگا۔ میرا نظر اس سے کچھ مختلف سا ہو رہا تھا۔ جین میرے روبرو بیٹھی کچھ گھریلو کام کر رہی تھی۔ جب میں سونچ میں ہوتا تو وہ اکثر خاموش ہی رہتی کہ مجھے کوئی خلل نہ ہو۔ اس دن اسے نہ جانے کیا سوجھی، اس نے کہا: ”خیر تو ہے، آج کچھ زیادہ الجھے الجھے سے دکھائی دے رہے ہو۔“ میری پراگندہ خیالی دیکھیے، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ وہ آرٹس کی اسٹوڈنٹ ہے، کیا خاک سمجھ پائے گی، میں نے اس کے آگے سب کچھ اگل دیا۔ وہ حیران حیران مجھے سنتی رہی۔ میں چپ ہوا تو اس نے کہا: ”یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ سائنس میں نظریاتی ترمیم تو ہو سکتی ہے، لیکن دونوں نظریات متضاد نہیں ہو سکتے۔“ میں چونک گیا۔ کس آسانی سے اس نے ایک بہت بڑی بات کہہ دی۔ ذہین تھی ناں وہ۔ وہ پلنگ کے ایک سرے پر بیٹھی تھی اور میں سر جھکائے دوسرے پر۔ یکایک میری زبان سے نکلا۔ ”اوہ! میں نے پالیا۔“ جین میری طرف تک رہی تھی۔ میرے چہرے پہ سکون اور ہونٹوں پر تبسم کی لکیر دیکھ کر اس نے گہری سانس لی، پھر کہا: ”چلو۔ اب سو جاؤ۔نیم خوابی میں اپنے خیال کو رسوخ دے لینا۔“ پھر اپنے نازک مخروطی انگلیوں سے میرے الجھے ہوئے بالوں میں کنگھی کرتی رہی۔ لیکن میں خواب میں بھی بلیک ہول اور اس کی ساخت ہی سوچتا رہا۔ اس کے بعد مجھے اپنا مقالہ تیار کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا
ہر نیا نظریہ قبول کرنے میں تامل تو رہتا ہی ہے۔ لیکن ماہرین نے اس پر توجہ ضرور دی۔ میرے VIVAکے پروفیسروں نے یہ کہہ کر میری توقیر میں اضافہ کیا کہ میں ان سے زیادہ ذہین ہوں۔ میری خوش قسمتی تھی کہ میں کیمبرج ہی میں پروفیسر قرار دیا گیا۔ ہمارے گھر میں ایک بیٹے کا اضافہ ہو گیا۔ پھر ایک بیٹی بھی آ گئی۔ میں نے سوچا تو نہیں لیکن جین کہتی تھی ہمارے آنگن میں چاند اترآیا ہے۔ آرٹس کی دلدادہ تھی، اسی ڈھنگ سے سوچتی تھی۔ مجھے اس کی یہ سوچ بھی اچھی لگتی تھی۔ وہ خدا پرست تھی۔ آسمانی تحفوں کی قائل بھی تھی۔ ثواب و عذاب کے اس کے اپنے فلسفے تھے۔ میں دنیا دار تھا، وہ دین دار تھی۔ لیکن ہمارے درمیان کبھی مذکرہ، مباحثہ، مناظرہ نہیں ہوا۔ اس نے کہا تو نہیں، لیکن شاید وہ یہ سمجھتی ہو کہ عین ایامِ شباب میں جب انسان زندگی سے لطف اندوز ہوتا ہے، میری بیماری مجبوری، معذوری کی وجہ سے میری سونچ بدل گئی ہو۔ وہ اتنی ہی گرمجوش رہی۔ وارفتہ اور فریفتہ ایک سائنس کی دنیا کے آدمی سے آپ یہ جملہ سن کر شاید مسکرا اٹھیں کہ سرشاریئ وصل تو دراصل ذہن ہی کا تلذذ ہے لیکن بدن بھی خوب وسیلہ رہاوصالوں میں
میرے دوست! مجھے تو اتنی فرصت نہیں ملی کہ میں انسانوں کو پڑھ سکوں لیکن آپ کوتو یہ شوق بھی ہے اور ذوق بھی۔ شاید میں آپ کو اپنا ہم خیال پاسکوں کہ قربتیں دوریوں میں اس وقت بدل جاتی ہیں جب انسان صرف خود کو صحیح اور دوسروں کو غلط سمجھنے لگتا ہے۔ ایک مقام سے جہاں دن کے وقت چاند بجھا بجھا سا نظر آ رہا ہو، ضروری نہیں کہ ساری زمین سے ویسا ہی نظر آئے۔ مقام بدلنے سے وقت بھی بدل جاتا ہے اور منظر بھی۔ اس حقیقت کو سمجھے بغیر ایک دوسرے پر تنقید سے نفرتوں اور دوریوں کے سوائے اور کچھ نہیں حاصل ہو سکتا۔ آپ غور فرمائیں تو آپ کو بٹواروں کی ایک یہ وجہ بھی واضح نظر آ جائے گی یا پھر مفادات ِ حاصلہ کا شاخسانہ تو آپ کی نظر میں ہے ہی۔ انسان میں تحمل نہ ہو تو باقی کیا رہ جاتا
ہے۔
مجھے یہ اختیار تو نہیں ہے کہ میں آپ سے اس طرح ہمکلام ہو سکوں۔ آپ اور میں تقریباً ہم عمر ہی ہیں۔ مجھے اندازہ ہے کہ میں کسی تنگ نظر انسان سے بات نہیں کر رہا ہوں۔ میں کافر ہوں، ملحد ہوں، دہریہ ہوں، دوزخی ہوں، ملعون ہوں، جو کچھ بھی ہوں، آپ فرزندِ توحید ہیں۔ خدائے واحد کی عبادت کرتے ہیں۔ آپ کے پاس علم و حکمت کی کتاب ہے جس کے تعلق سے آپ سینہ ٹھوک کر کہتے ہیں کہ کائنات کے ہر خشک و تر کا علم اس میں ہے۔ کلیساؤں نے تو حصولِ علم کو جرم قرار دیا تھا۔ آپ پر تو بلا تخصیصِ صنف علم کو فرض قرار دیا گیا تھا۔ آپ کے ایک حکیم شاعر نے کہا تھا:
دشت تو دشت ہیں، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑادیئے گھوڑے ہم نے
آپ کو تو حصولِ علم کے لیے نہ سرحدوں کی قید تھی نہ رنگ و نسل کی، اور نہ یہ کہا گیا کہ کسی کافر سے علم مت حاصل کرنا۔ علامہ صاحب! خود کو آئینے کے روبرو کھڑا کر کے دیکھیے۔ نہ آپ کی خوش لباسی علم ہے، نہ آپ کا طرہ و دستار علم ہے۔ ایک کثیر مجمع کو خطاب کر کے آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے معرکہ سر کر لیا ہے۔ حضورِوالا! اعلم نہ ماننے اور سننے والوں کی عطا کا نام ہے اورنہ عدل اہل شرافت کی خطا ہے۔ اسے صرف شہرت کہتے ہیں اور یہ انسان کو نشہ کا خوگر کر دیتی ہے۔ مجمعِ عام سے خطاب اور ہے لیکن کبھی کسی عالم سے آپ گفتگو کریں تو پتا چلے گا کہ
بھرم کھل جائے ہے ظالم! ترے قامت کی درازی کا
ا گر اس طرہئ پُر پیچ و خم کے پیچ و خم نکلے!!
شہرت‘ انسان کو اس مقام پر پہنچادیتی ہے، جہاں سے واپسی کا راستہ نہیں ملتا۔ آگے کنواں اور پیچھے کھائی والی کیفیت ہو جاتی ہے۔ عوام تو معصوم ہوتی ہے۔ آپ کے پاس الفاظ کے قبیلے دست بستہ ہیں۔ آپ اپنی چرب زبانی سے ان کی معصومیت، ان کی انسان دوستی اور بھولے پن سے کھلواڑ کر کے جھوٹا رعب ِ علم جھاڑتے ہیں اور خود کو علامہ کہلوانے میں مسرت محسوس کرتے ہیں۔ ان سے دست بوسی، پابوسی، نعلین برداری، صحبتیں، اطاعتیں آپ کو مغرور و متکبر بنا دیتی ہیں۔ آپ جس کی اتباع فرماتے ہیں ان کی زندگی تو رعونت سے بہت دور تھی۔ ان کے لیے تو امیر و غریب میں کوئی فرق نہیں تھا۔ وہ تو بوریہ نشین تھے۔ ان کا دست ِ پُر عطا تو ہر دامنِ طلب کو بھر دیتا تھا۔ ان کی زبان فاقوں کے ذائقے سے آشنا تھی۔ کبھی آپ نے سوچا بھی ہے کہ آپ کے دروازے پر کوئی سائل کیوں نہیں آتا۔ اس لیے کہ سائل اسی دروازے پر آتا ہے جہاں سے امید ہوتی ہے۔ جس دروازے سے بھیک تک نہ ملتی ہو،وہاں علم و خیر کہاں ملے گا؟ شاید آپ بھول گئے ہوں کہ شراب، افیون، گانجہ، چرس، بھنگ، کوکین کا نشہ پھیکا ہوتا ہے، دست بوسی اور پا بوسی کروانے اور انسان سے انسان عظمت چھین لینے کا
نشہ بہت گہرا ہو تا ہے، بہت ہی گہرا۔
آپ مجھے بتلا سکتے ہیں کہ گزشتہ 300برسوں میں آپ نے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کیا ایجاد کیا؟۔ کوئی دوا؟۔ کوئی سائنسی ترقی؟۔ کوئی طبی دریافت؟۔ کوئی خلائی ایجاد؟۔ کوئی نئی کھوج؟۔ کوئی نئے سیارے کی دریافت؟۔ کوئی سیرِ
افلاک؟۔ کوئی بحر نوردی؟۔
اسرائیل کی تمام مصنوعات آُپ بڑے شوق سے استعمال کرتے ہیں،اور اسرائیل پر لعنت بھیجتے ہیں۔ جنابِ والا! آپ کے پاس اس ان جملوں کے سوا رکھا کیا ہے کہ،،پدرم سلطان بود،، ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں، ہم نے چھ سو برس حکمرانی کی ہے۔ آپ کے سیاست دان، آپ کے رہنما، آُ کے رہبرصرف حکمرانی کی تاریخ دہراتے ہیں۔ مستقبل کی طرف کوئی نظر نہیں۔ کوئی اشارہ نہیں۔ کوئی منزل نہیں،نئی نسل کے لئے کوئی منصوبہ نہیں۔ آپ مجھے بھلا بُرا جو چاہیں سو کہہ دیں۔ لیکن
کہیں ضرور۔ میں تو نہ جانے کیا کیا کہہ گیا، لکھ گیا۔
،لکھ، رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!




***