allama-aijazfarruq
THANKS FOR VISITING
علامہ اعجاز فرخ




سب رنگ نہادہ - شکیل عادل زادہ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گُہرہونے تک
چوتھی قسط
علامہ اعجازفرخ – حیدرآباد، دکن

کوئی چھ مہینے پہلے کی بات ہے،جہانِ اردوکے موسس ومد یر ڈاکٹر سیدفضل اللہ مکرم نے مجھ سے مضمون کی خواہش کی۔ اتفاق سے اُس دن میں سب رنگ کا پرانا رسالہ دیکھ رہا تھا۔مجھے خیال آیا کہ میرے پاکستان سفر کے دوران شکیل عادل زادہ سے ملاقات کا احوال لکھ دوں۔ میں نے قلم برداشتہ ایک مختصر سا مضمون لکھ دیا۔عجیب یہ ہواکہ وہ مضمون نہ صرف دُنیا بھر میں پڑھا گیابلکہ سینکڑوں احباب نے اپنی پسندیدگی اور رائے سے بھی نوازا۔اورمجھ سے خواہش کی گئی کہ اس سلسلے کو جاری رکھوں۔خواہش تو میری بھی تھی لیکن یہ کچھ اتنا اآسان بھی نہیں تھا۔ ان کے
حالات زندگی،کوائف،بچپن،ہندوستان سے پاکستان کا سفر،
کشمکش،جدوجہد،احباب،قرابتیں،دوریاں،یگانگت،اجنبیت،سب کچھ تو چاہئے۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جغرافیائی نقشوں میں تو کوئی خلیج نہیں،لیکن کتنی قربتیں اور کتنی دوریاں ہیں یہ تو سب پر عیاں ہے ۔ !!۔ایسے میں خامہ فرسائی کوئی سہل نگاری بھی نہیں۔
دراصل قصہ کچھ یوں بھی ہے کہ میں نے ایک عمر گزاردی،بوریہ نشین تھا سوہوں۔لیکن میرے خیال کی آوارگی نہ گئی۔نہیں معلوم اس کوہوا اپنے بھنور میں لئے لئے پھرتی ہے یا خیال ہوا کا دامن تھام لیتا ہے کہ ابھی یہاں تھا سو وہاں ہے۔یوں میں اسے’’ خلل ہے دماغ کا‘‘ سمجھوں ہوں،لیکن یہ بات نہاں بھی ہے عیاں بھی کہ کس نے ،ہم کو نکما کردیا ۔’’ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے‘‘۔دنیامیں کام کے تو سارے ہی لوگ ہیں۔نکمے کم کم ہی پائے جاتے ہیں،سو میں ایک ہوں،اور اگر دوسرے کا نام لوں توڈر ہے کہیں اُن کے دوست بُرانہ مان جائیں ۔ اہل خرد کا بھروسہ کیا ہے۔
شکیل عادل زادہ کی دو طویل کہانیوں ،بازیگراور امبر بیل کا ایک عالم دیوانہ ہے۔ایسی دیوانگی کم کم ہی دیکھی گئی کہ انتظار میں آنکھیں طاق پر رکھ دی گئی ہوں اور،،پتیاں کھڑکیں تو میں سمجھا کہ آپ آہی گئے،،۔یہ تو طئے ہے کہ اضطرا ب ا ور وارفتگی شوق اس وقت تک ممکن نہیں،جب تک قاری یہ نہ محسوس کرے کہ’’ میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے‘‘۔آپ شائد اتفاق کریں گے کہ جب تک کہانی کار ،کہانی میں خود ایک کردار نہ ہو،کہانی میں گداز نہیں پایا جاتا۔یہ گداز اگر اس کی کہانیوں میں یکساں ہوتو اسے کہانی کار کا ظاہر سمجھئے۔جس کے لئے میزان بھی ہے،پیمانہ بھی۔جس کی قامت کو ناپا بھی جاسکتا ہے،جس کے خیال کا وزن اور الفاظ کے بدن کے قوس وخم فن کی مقیا س سے پرکھے بھی جاسکتے ہیں۔ظاہر تو بہت کم ہوتا ہے،کہیں کم کم ہوتا ہے،آدمی کہیں تو پورا ہوتا ہے،کہیں آدھا اور کہیں کم بہت ہی کم۔کہیں آدمی اپنے اندرایک سے زیادہ بھی ہوتاہے۔دو،تین،چار کئی روپ میں،کئی صورتوں میں،زندگی کے ہر موڑ پر ملنے والا،ٹکراتا ہوا،انجان بن کرگزرتا ہوا،محبتوں سے اسیر کرتا ہوا،بے رخی سے پروا نۂ رہائی جاری کرتا ہوا،چاہتوں کے زخم لگاتا ہوا،اجنبیت سے مسیحائی کرتا ہوا۔کبھی سوز کی صورت کبھی،کبھی سازکی۔نغمہ بھی ،نغمہ گر بھی۔اس ہزار چہرہ،ایک باطن کی مضراب جب تار کو چھیڑتی ہے،کبھی مارٹی،کبھی بالے،کبھی ٹھل،کبھی کرشنا جی،کبھی بابر زماں خاں،کبھی چندراوتی،کبھی کیچو،اور
کبھی میر جمشید عالم خاں کی صورت ابھر آتی ہے۔ہر نغمہ الگ ،ہر تار کیلرزش جدا۔نغمہ مسحور کن سہی،روح میں اترتاہواسہی،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ساز پہ کیا گزری۔مجھے تلاش بھی اُسی فنکار کی تھی اور یہ بھی کہ ’’دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک‘‘۔
جہاں تک میری تلاش ہے،وہ یوں کہ شکیل عادل زادہ کی کہانی کا سفر بہت پہلے ہی شروع ہو چکاتھا۔ ابھی وہ کوئی گیارہ بارہ برس کے رہے ہوں گے اُنھیں ایک سات آٹھ برس کی لڑکی اچھی لگی،لیکن وہ اس سے کچھ کہہ نہ پائے ۔جب تک آنکھیں کچھ کہنے سُننے کے قابل نہیں ہوتیں نہ کچھ کہا جائے ہے نہ سُنا جائے ہے،بلکہ بن کے انجان اُس سے خود سے،بچا کے اک دوسرے سے نظریں،بن بُلائے گُزرا جائے ہے۔یہ عمر تو ایسی ہوتی ہے جیسے نازک گلابی ہتھیلی کے بیچ کچے اخروٹ کی گری،کہ بس دیکھا جائے ہے۔کہیں سے سُن رکھا تھاتسخیر محبوب کے لئے اگر چالیس دن سورۂ مُزمل کا ورد کیا جائے تو مراد بر آتی ہے۔ابھی اس ورد کو دو چار دن گزرے ہوں گے کہ ایک زور دار تھپڑ پڑا۔گھبرا کر آنکھیں کھولیں تو کوئی موٗکل نہیں بلکہ اُستاد روبرو تھے۔غضب ناک آنکھیں،تمتمایا ہوا چہرہ،غصے سے کہتے ہوے کہ،،سبق تو یاد نہیں کرتا،بس مسجد میں بیٹھا کرتا ہے۔،،اتنی مار پڑی کہ پتھر ہو تو ٹوٹ جائے۔کوئی اور ہوتا تو دوسرے دن جھولتا ہوا قرآن حفظ کرنے میں مصروف ہو جاتا ، لیکن شکیل نے مسجد سے گھر کی نہیں،مراد آباد اسٹیشن کی راہ لی اور ٹرین میں بیٹھ گئے۔بغیر ٹکٹ،بغیر زادِ راہ۔رات کو ایک آنے کے چنے کھا لئے اور اسٹیشن کے نل سے پانی پی لیا۔صبح ایک آنے کی چائے پی لی۔دن بھر میں باقی دو آنے بھی خرچ ہو گئے۔شام تک بھوک نے چہرے پر پرچھائیاں ڈالنا شروع کردیا۔ساتھ کے مسافرین نے اپنے توشے سے کھانا پیش کیا۔بھوک ہاتھ بڑھانا چاہتی تھی،غیرت مانع ہو رہی تھی۔آخر کارغیرت جیت گئی۔شکیل عادل زادہ کی زبان فاقہ کے ذائقے سے آشنا ہے اور وجود بے چراغ روشنی کے اُجالوں سے مانوس بھی ۔بچپن میں جب پھل کھانے کو جی چاہتا تھا تو اس کا ذائقہ صرف آنکھوں کی حد تک رہا،جب استطاعت ہو گئی تب رغبت نہ رہی طلب و رسد کے یہ فاصلے اوربے چراغ روشنی ، زندگی کے ہر پیچ و خم کوواضح کر ہی دیتے ہیں۔ایک بار اُن کی خالہ زاد نے کسی بات پر کہہ دیا کام کے نہ کاج کے،دُشمن اناج کے۔شکیل نے کئی دن کھانا نہیں کھایا۔ایک بار کسی عزیز کی شادی میں مراد آباد سے کوئی پچیس ، تیس میل سارا خاندان گیا ، میزبان نے دستر خوان پر التفات خاص کیا۔شکیل کو خیال گزرا کہ شا ئد اُن کی یتیمی پر ترس کھایا جارہا ہے ۔وہ آہستہ سے اُٹھے اور چپ چاپ نکل پڑے۔دن بھر ریل کی پٹریوں کے ساتھ ساتھ چلتے رہے اور مراد آباد پہنچ گئے۔اتنی زود حس،اور زندگی،ایسے میں آبلہ پائی تو مقدر ہو ہی جاتی ہے۔ریل کے سفر میں ابھی ایک اور قیامت ٹوٹنی تھی۔ٹکٹ چیکر نے ٹکٹ چیک کرتے کرتے جب شکیل سے ٹکٹ پوچھاتو وہ ایک لمحے کے لئے رُکے،پھر اُسے بتایا کہ وہ اپنے ماموں کے ساتھ سفر کر رہے تھے،ماموں بڑودہ کے اسٹیشن پر کھانالینے کیلئے اُترے او ر ٹرین چھوٹ گئی۔آنکھوں میں معصومیت،چہرے پر بھولپن،کہانی میں سادگی اور پرکاری،بچھڑ جانے کے تذکرے پراداسی لہجے میں گلو گیری ، ساتھ بیٹھے مسافرین بھی ہمنوا ء ہو گئے او ر اس حد تک ہمنواء ہوئے کہ ٹکٹ چیکر کو ہار ماننی پڑی۔میرے خیال میں یہ شکیل عادل زادہ کی پہلی کہانی ہے جو شاید اب بھی ہوا کے دامن میں محفوظ ہے۔بمبئی میں شکیل دادر اسٹیشن پر اتر پڑے۔بھنڈی بازارمیں ان کے کسی رشتے دار کی دُکان تھی۔دو دن میں سفید لباس ملگجا ہو چکاتھا۔بھوک سے پاؤں کانپ رہے تھے،ایک جگہ چکرا کر گر پڑے ،راہ گیروں نے پانی چھڑک کر اُٹھایا۔بن مسکہ کھلا کر چائے پلائی تو قدرے جان میں جان آئی۔بھنڈی بازار پہنچے تو وہاں رشتے داروں کیلئے نئی کہانی گھڑنی پڑی۔لیکن شکیل کا بچپن بمبئی کی تجربہ کار آنکھوں کودھوکا نہ دے سکا۔ اُن کے دور کے رشتوں سے ایک دادی رہا کرتی تھیں یہ ان کے پاس منتقل ہو گئے ۔ وہ ان کے والد کو یاد کرکے رونے لگیں اور انہیں سینے میں بھر لیا۔
وہ دن ہی اور تھے زمانہ اور تھا۔آج اپنوں سے کوئی ناطہ نہیں ،اُس زمانے میں غیر بھی اپنے ہواکرتے تھے۔خاندان بٹے ہوے نہ تھے۔دور دور کی قرابتوں میں جو محبت ہوا کرتی تھی،وہ آج خون کے رشتوں میں بھی مفقود ہے۔کہتے ہیں زمانہ ترقی کر رہا ہے۔شاید اسی کو ترقی کہتے ہیں کہ ہر آدمی دوڑ میں ہانپ رہا ہے۔جیتے جی نہ چین ہے نہ آرام۔سب راستوں میں دکھائی دیتے ہیں۔شاید کسی کو منزل کا پتہ نہیں،سب کو بس تلاش ہے۔ایک بے نام سی تلاش،کوئی راہ نہیں ،کوئی چاہ نہیں،کوئی نشان منزل نہیں ،کوئی سراغ نہیں بس دن گذر جائے۔ عمر کا ایک دن ، ایک سال۔ اُس زمانے میں مٹی کے تیل کے چراغ ہوا کرتے تھے۔ٹمٹماتے ہوئے چراغ،ہوا سے لڑتے ہوئے چراغ،لیکن ہر چہرہ صاف دکھائی دیتا تھا۔معصوم ،بے ریا ،مخلص چہرے۔ آج روشنیوں کا جنگل ہے لیکن کوئی چہرہ صاف دکھائی نہیں دیتا۔لوگ کہتے ہیں کہ شہر بے چہرہ ہو گیا ہے۔میں سوچتا ہوں کہ مجھ سے بینائی چھن گئی ہے،ورنہ آج بھی تاریکی ہو تو ہر شئے مجھے صاف دکھائی دیتی ہے،روشن روشن، جیسے
رات کی سیاہی،جیسے آدم کی دعاء۔
شکیل بمبئی سے مرادآباد لوٹ آئے۔کوئی مستقل تھوڑی گئے تھے،بس ذرامار سے بچنا تھا،اُستاد جی نے حافظ بنا کر ہی دم لیا۔شکیل کے نانا محمد شریف صاحب بہت خوش ہوئے،انہیں شکیل کے والد کی بہت یاد آئی۔محمد عادل ادیب صاحب جو نہ صرف ادیب تھے بلکہ رئیس امروہوی کو بھی ادیب بنانے والے ادیب صاحب ہی تھے۔محمد شریف صاحب دیر تک شکیل کو سینے سے لگائے سر پر ہاتھ پھیرتے رہے،پھر رومال سے آنکھیں خشک کر لیں۔
محمد شریف صاحب برتنوں کے تاجر تھے ہندوستان بلکہ بیرون سے بھی آرڈر لیا کرتے تھے۔کاروبار خاصہ پھیلا ہوا تھا،دونوں لڑکے معاون تھے۔دوردراز کا سفر شکیل کے بڑے ماموں کیا کرتے تھے۔شکیل تو تھے ہی سیر سپاٹے کے شائق،ماموں جب حیدرآباد جانے کیلئے تیار ہوئے تو شکیل بھی ساتھ ہو گئے۔حیدرآباد بڑی اور رئیس ریاست تھی۔ نظام کے زیرنگیں تھی۔ابھی ملک آزاد نہیں ہوا تھا۔جوش ملیح آبادی ،عبداللہ عمادی،مرزا محمد ہادی رسوا،نظم طباطبائی،عبد الماجد دریا آبادی،مولوی عبدالحق،مناظر احسن گیلانی،صدق جائسی،فانی بدایونی،نجم آفندی،سر راس مسعود،عماد الملک،کون اہل علم و ہنر ایسا تھاجو حیدر آباد میں نہیں تھا۔ریل،بس،ہوائی جہاز،ڈاک کا محکمہ، صنعت و حرفت ، عثمان ساگر، حمایت ساگر،حسین ساگر،عثمانیہ یونیورسٹی،صاف ستھری پختہ سڑکیں، بجلی،ٹیلیفون،تار،دواخانے،بلدیہ،پوپھٹنے سے پہلے جاروب کش صفائی میں مصروف،اُمراء،نوابین،روساء،محلات،دیوڑھیاں،حویلیاں،چمن زار،شکیل نے اسی حیدرآباد کی سیر کی
اور جی بھر کے سیر کی۔
سراپا نگاری میں شکیل عادل زادہ سب سے الگ،سب سے منفرد ہیں۔میری نظر میں ابوالفضل صدیقی کا،چڑھتا سورج، بھی ہے بھیادھیرج بھی اسکے علاوہ اشفاق احمد بھی ہیں،قیصر تمکین بھی ،علی باقر بھی لیکن قاضی عبدالستار اور شکیل عادل زادہ،یہ دو فنکار ایسے ہیں جن کی تحریریں قاری پر بڑے گہرے نقوش چھوڑتی ہیں۔منظر نگاری تو خیر ایک ایسا فن ہے جہاں تخیل کی پرکار سے بھی آرائش وزیبائش کے اسباب فراہم کئے جاسکتے ہیں۔سراپا نگاری میں تشبیہ کے بغیرحسن کی تعریف محال ہو جاتی ہے۔تشبیہ سبک ہو تو حُسن رسا نہیں ہوتی،بوجھل ہو توحُسن کو ماند کر دیتی ہے۔خیال لفظ کا پیرہن چاہتاہے۔آنچل سادہ ہو تو کیفیت اور،شکن درشکن ہو تو تصویر حسن اور،آنچل کسمساتا ہوتو تعریف حسن اور،رنگ قبا اور۔کہیں جوانی کی کوک ہے،کہیں کچی نیند کا خمار ہے،کہیں
انگڑائی کی قوس ہے ،خم ہے۔یہ فن ان دونوں پر تمام ہے۔لیکن ددونوں کے رنگ الگ،طرز الگ،اُٹھان الگ،بیان الگ۔یہی سفاکی تو بسمل کئے دیتی ہے۔ شکیل عادل زادہ کورقص بسمل بہت پسند
ہے۔ بازی گر میں شکیل عادل زادہ نے حیدرآبادکے ایک محل کی اندرونی تعمیر اس کی آرائش وزیبائش کاجس انداز سے ذکر کیا ہے،اُس سے تو ایسا محسوس ہوتاہے کہ اس محل کے معمار نے اپنے سارے نقشے مُہر بند لفافے میں شکیل عادل زادہ کے نام کر دیئے تھے،اور جن سازشوں کے تار پود بیان کئے ہیں تو لگتاہے’’ فتنوں نے پاؤں چوم کے پوچھا کہاں چلے‘‘ اُس محل کی ستم رسیدہ جوان خاتون ’’خانم‘‘ کی سراپا نگاری ،اُکی جھکی ہوئی پلکوں کی ہلکی سی لرزش میں پوری داستاں۔خاموشی میں تکلم کے بھنور،پس چلمن سے سراپا کی قیامت خیزی،خوشبو سے پیام رسانی،آپ بتلائیے کہ لفظ اور خیال کی ایسی ترسیل کہ جو لکھا جائے وہ صرف نوشتہ ہوکر رہ جائے اور جو نہ کہا جائے وہ سب کچھ سامنے ہو اور گھائل کردے ،تڑپا کے رکھ د ے پھر مہینوں نہیں برسوں چپ سادھ لے تو اُسے کیاکہتے ہیں؟ ابھی تو بہت کچھ ہے جو کھلا نہیں۔محمد شکیل سے شکیل عادل زادہ تک اور پھر سب رنگ تک۔۔۔۔۔۔ دیکھیں کیا گذرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک۔!!




***