allama-aijazfarruq
THANKS FOR VISITING
علامہ اعجاز فرخ




علامہ اعجاز فرخ
سب رنگ نہادہ ۔ شکیل عادل زادہ
پانچویں قسط

انسانوں کے درمیان خود انسان ایک معمہ ہے۔ ظاہر تو صرف ایک چہرہ ہے۔ ایک چلتا پھرتا، خوابیدہ و بیدار وجود۔ لیکن جسے باطن کہاجاتا ہے وہ دراصل اندر کاآدمی ہے۔ ظاہر تو صرف چہرے کی ایک شناخت ہے۔ لیکن ایک ظاہر کے پیچھے ہزار ہزار باطن اور ہر باطن کا ایک چہرہ ہو اور اس چہرے کی کتاب کھلے تب شاید انسان کے دروں جھانکنے کے لیے کوئی روزن میسر آئے۔ نہاں خانوں کی سیر اور اس کی دریافت اتنی آسان بھی نہیں۔ صرف اسی کتاب کو پڑھ لینے سے کچھ نہیں ہوتا، کتاب اپنے آپ کو پڑھوانے پر آمادہ بھی ہو تب اس کو لفظ لفظ ، حرف حرف، پھر بین السطور اور بین الحروف پڑھنا دیدہ وری ہے۔ محرمانِ حرف و معانی آہنگ کے بدن تک رکتے نہیں ہیں بلکہ الفاظ کے درمیان کی خاموشی اور اُس غیر مرئی آواز کا بدن تلاش کرتے ہیں جو سماعتوں سے بہت آگے شعور و لا شعور کی نازک پرت پر اپنا نقش مرتسم کرتا ہے۔ اس نقش کا بھی بدن ہے، اس کا رنگ ہے، اس کا آہنگ ہے، اس کی حدت اور اس کی تھنڈک ہے، اس کی نازک بدنی اور گل پیرہنی ہے۔ اس کارنگ قبا نرم نگاہی کی اوس کی بھی کم کم ہی تاب رکھتا ہے کہ کہیں رنگ نہ پھیل جائیں۔ تقاضہ تو یہی ہے کہ اس کو اسی کی نرم روشنی اور تھنڈک میں پڑھا جائے۔ چاندنی بھی چڑھتے چاند کی ہو ، نہ پورے چاند کی نہ اترتے چاند کی۔ بھلا ایسے میں نقاد کی جھلسا دینے والی دھوپ کب اس کی تاب لا سکتی ہے۔ کلیوں کو کھلنے کے لیے ان کے وجود کے اندر کی گرمی بس ہے۔ وہ تو خود حفاظت کرنے والے پتوں اور کانٹوں کو کہنیوں سے پیچھے ڈھکیل کر جلوہ آرائیوں اور حشرسامانیوں کا سامان فراہم کر دیتی ہے۔ بہار کا سورج تو کمبخت قہر برسائے ہے۔ میں تو کہوں کہ نقاد کی تیز نگاہیں اور بہار کا سورج دونوں رنگ بدلتے ہیں۔ ایک شہر کا رنگ اور ایک شہر خیال کا رنگ۔ شہر خیال ،شہر حسن ہے۔ دلکشی و رعنائی کا شہر، جمال زیبائی کا شہر، آراستگی کا شہر، شہرِ خوباں، شہرِ نگاراں، شہرِخودنگراں، شہرِخود گزراں۔ اس شہر کی سیاحت اہلِ دل پر موقوف ہے۔ یہاں بازدید کی فرصت نہیں۔ آنکھ جب دیدۂ حیراں ہو جائے تو قوتِ
گویائی سلب ہو جاتی ہے۔ پھر تو بیگانۂ ہوش و خرد کے لیے یا کوچۂ قاتل ہے یا رقصِ بسمل ہے۔
سب رنگ نہادہ ، شکیل عادل زادہ پر میں لکھنا چاہتا تھالیکن چند مسئل کی وجہ سے میں رک سا گیا۔ پہلی بات تو یہ کہ میں کوئی ادیب، نہ اہلِ قلم ، مفکر نہ نقاد، بلکہ ہنرِ بے ہنری میں یکتائے روزگار۔ ادھر شکیل عادل زادہ کے بے شمار قاری، ایک بڑی تعداد ان کے قدردانوں سے سوا اُن کے عقیدت مندوں اور پرستاروں کی رہی ہے۔ شکیل تو میرے اندر بستے ہیں بلکہ جہاں اردو بستی ہے‘ اسی کے پہلو میں ہیں۔ جب کوئی اندر کا مکیں ہو تب تو ’’من و تو‘‘ کا جھگڑا ختم ہو جاتا ہے۔میں ٹھہرا زبان کا پھوہڑ، بے باک رقم، منہ پھٹ، جو سوجھ گئی، سو کہہ گیا، لکھ گیا۔ میں کیا جانوں کس پہ کیا گزری، کیا گذر گئی۔ اس احتمال نے بھی قلم کو روکے رکھا اور کچھ اس سے بھی زیادہ یہ کہ سنتے ہیں جس کو چاہا جاتا ہے اس کی ادائیں بھی جاں گزیں ہو
جاتی ہیں۔’’سب رنگ ‘‘کا بھی یہ وطیرہ رہا کہ ’’انتظار اور ابھی اور ابھی اور ابھی‘‘۔ آنکھیں نکال کر طاق
پر رکھ چھوڑی ہیں کہ وہ اب آیا کہ تب آیا۔لیکن انتظار کشیدہ آنکھوں کو بھی کھلی رہنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔ کبھی اضطرابِ شوق میں کوئی جملہ
کوئی لفظ نکل جائے تو’’خیالِ خاطرِ احباب چاہیے ہر دم‘‘ کے اندیشے نے لکھنے نہ دیا۔
تقریر آواز سے کم اور لہجے سے زیادہ پہچانی جاتی ہے۔تحریر الفاظ سے کم اور اسلوب سے زیادہ پہچانی جاتی ہے۔ جسے صاحبِ طرز کہا جاتا ہے، وہ دراصل اسلوب ہی ہے۔ لہجہ اور اسلوب اندر کے آدمی سے ملاقات کی راہ فراہم کرتے ہیں۔ پھر کون کس طرح اپنے ناخن سے گرہ کشائی کرتا ہے، کون کس تہہ خانے کی قفل کشائی کا حرفِ خفی تلاش کرتا ہے، یہ اس کے ہنر پر منحصر ہے۔ ویسے یہ اتنا آسان بھی نہیں، کسی بھاری چٹان کے منہ م
میں در پوشیدہ ہو تو بوجھ کس ناتواں سے اٹھتا ہے۔
’’سب رنگ‘‘ ایک ڈائجسٹ ضرور تھا لیکن اس سے سوا ایک ذوق تھا، ذائقہ تھا۔ اس کی کہانیوں کا انتخاب شکیل عادل زادہ کے مزاج کی عکاس تھی۔ان کی زندگی کے چند حصے جو میری نظر میں ہیں، اس کے تئیں یہ کہا جا سکتا ہے کہ لڑکپن سے جوانی تک انہوں نے خود کو قدم قدم ایک تجربے سے دوچار کیا، انحراف کیا، کبھی خود سے ضد کی، کبھی حالات سے جھگڑتے رہے، کبھی دل کی مانتے رہے، کبھی اس سے بھی برگشتہ رہے۔ ملک کی تقسیم کے بعد قیام پاکستان نے بہت سی آنکھوں میں خواب جگائے، ترکِ وطن کرنے والوں نے اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے کے لیے نئی زمینوں کو خوش اعتبار جانا۔ ہجرت کرنے والوں کے قدم نئی منزلوں کی طرف اٹھتے تو ہیں ،ہر اندیشہ سود و زیاں سے بے خبر پیچھے چھوٹ جانے والی یادوں سے تغافل آمادہ، لیکن ایک بے نام سی خلش، ایک غیر محسوس کسک برابر ہمسفر رہتی ہے۔ محمد شکیل بچپن ہی سے بے حد غیور تھے۔ غیرت، بغاوت تو کر سکتی ہے سمجھوتے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ والد کا سایہ آٹھ جانے کے بعد ان کے اندر کا بچپن اور زیادہ حساس ہو گیا۔ ایک تقریب میں دسترخوان پر میزبان نے ان کے آگے ڈونگا کرتے ہوئے کیا ’’صاحبزادے !پہلے آپ شروع کریں۔‘‘ ان کا احساسِ یتیمی جاگ اٹھا۔ انہوں نے کہا ’’میں تو کھانا کھا کے آیا ہوں‘‘۔ کئی لوگوں نے اصرار کیا لیکن زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ گھر آنے کے بعد مامتا بچے کی بھوک کو پہچان گئی۔ ماں نے کھانا بنایا لیکن انہوں نے دوسرے دن شام ہی کو کھانا کھایا۔ شاید محمد شکیل پاکستان نہ آتے اگر ان کے ایک عزیز آصف صاحب نے جو اپنے عزیزوں سے ملنے مرادآباد نہ آتے اور نئی زمین کے دھنک رنگ نہ بیان کرتے۔ پاکستان میں خوابوں کی تلاش نے ان کے پیر بہت لہو رنگ کئے لیکن انہوں نے اپنے خوابوں کو بکھرنے نہیں دیا۔ انہوں نے فاقے کئے لیکن ملازمت نہیں کی، کامرس سے گریجویشن کیا، تجارت نہیں کی۔
حساب سے وہ کوسوں دور رہے، جس نے خود کیا کھویا کا حساب نہ رکھا ہو، اس کے لیے سود کیا اور زیاں کیا۔
میں پریم چند، کرشن چندر، قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، قاضی عبد الستار سے تعلق رکھتا ہوں لیکن فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، عبد اللہ حسین، زہرا نگاہ، شکیل عادل زادہ، جون ایلیا اور رانا عضنفر کا قدردان بھی ہوں۔ زبان اور ادب کے رشتوں میں محبتوں کی فاختائیں‘ سرحدوں کی اسیر نہیں۔ ان کا دکھ ہمارا بھی دکھ ہوتا ہے۔ ہمارا تو یہ بھی دکھ ہے کہ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے اور ہم انہیں مل بھی نہیں پاتے، دیکھ بھی نہیں پاتے۔ انہوں نے وہاں بہت کچھ پایا ہوگا۔نئے خواب بھی نئے پرانے خوابوں کی تعبیر بھی۔لیکن ہم نے انہیں کھو دیا ہمیشہ کے لیے۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ شکیل عادل زادہ اگر ہندوستان میں ہوتے تب بھی یہی ہوتے تب یہ نہ ہوتے جو آج ہیں۔ وہ چاہے جہاں ہوتے یہی ہوتے۔زر و سیم کی ہوس، بے التفاتی، اجنبیت، بے مروتی، خود غرضی، انا پرستی، جنون، صنعت قد آوری، کے زخم یہاں بھی لگائے جاتے، وہاں بھی بدن پر سجائے گئے۔لیکن محبتوں سے معمور شکیل عادل زادہ کی ذات تو ایک عجیب شہر ہے جو معمور ہے ویرانوں سے۔ ہندوستان میں ان کے والد محمد عادل صاحب، جناب رئیس امروہوی کے اشتراک سے ایک رسالہ ’’مسافر‘‘ شائع کرتے تھے۔ان کے انتقال کے بعد وہ بند ہو گیا، رئیس صاحب بھی پاکستان سدھار گئے۔شکیل صاحب کے ذہن میں اس کے نقوش تھے۔ پاکستان میں کچھ دنوں انہوں نے ’’شیراز‘‘ کے لیے کام کیا۔ رئیس صاحب نے ایک اور پرچہ ’’انشاء‘‘ جاری کیا۔ اس میگزین میں جون ایلیا ان کے ساتھ ہو گئے۔ کچھ دنوں بعد ’’انشاء‘‘ بند ہو گیا اور ’’عالمی ڈائجسٹ‘‘ابھر آیا۔ یہ وہ دن تھے جب پاکستان میں اردو ڈائجسٹ مقبولیت حاصل کر رہے تھے۔ محمد شکیل‘ اب شکیل عادل زادہ ہو چکے تھے، انہوں نے اس ڈائجسٹ کے لیے جی جان سے محنت کی، عالمی ڈائجسٹ بہت مقبول ہو چکا تھا۔
بھی کبھی یہ ہوتا ہے کہ انسان مروت اور بھروسے میں آنکھیں بند کر لیتا ہے۔وہ دراصل مقابل کو بھی اپنی ہی طرح دیانت دار، صاف باطن، مخلص سمجھتا ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہوا اور بارہا ہوا۔ دراصل ہم لوگ پاس شرافت کے لوگ ہیں۔ یہ ہماری فطری ہی نہیں بلکہ جبلی مجبوری ہے۔ یہ ہماری توریث بھی ہے۔ ہم دراصل شراکت کو ایک جوہر سمجھتے ہیں۔ ضبط کرنا اور مسکرانا ہماری فطرت ہے۔ طلب سے عار ہے۔ ہم اس بات سے عاری ہیں کہ سرمایہ دار اور سرمایہ کار فقط سرمایہ میں اضافہ کا طلب گار ہوتا ہے۔ اس کے مزاج کی رعونت، حق بحقدار رسید کی قائل نہیں ہوتی۔ اسے اپنی خاندانی شہرت اور اپنے نام کے تفاخر کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ وہ فن اور فن کار کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے، اور استحصال میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ وہ ادب کا آدمی کم اور صنعت کار زیادہ ہوتا ہے۔ اس کا تفاخرِ ذات تو ’’ان کے بازو بھی مرے، قوتِ بازو بھی مری‘‘ کا قائل ہوتا ہے۔ اور فنکار کی خلوتِ غم میں صرف فن تنہا رہ جاتا ہے۔ شرافت دراصل کردار کا نام ہے۔ دولت کا نام نہیں ہے۔ شکیل عادل زادہ نے تو لب سی رکھے ہیں۔ان کا بہت استحصال ہوا۔ ان کا وصف ہی یہ ہے کہ وہ دشمن کو بھی پریشان نہیں دیکھ سکتے۔ وہ دشمن کی تکلیف کو بھی اپنی تکلیف سمجھتے ہیں۔ ہم لوگ تو ہیں ہی ایسے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری متاعِ فن لٹتی ہے۔ جو مشعلیں ہم نے روشن کی تھیں، انہیں مشعلوں سے ہمارے خیمے جلا دیئے جاتے ہیں۔ ہم ان کو راکھ ہوتا ہوا دیکھتے رہتے ہیں، لیکن ہمارے ہونٹوں سے تبسم کی لکیر نہیں مٹتی۔ تبسم جو طنز بھی ہے، اعلانِ فتح بھی۔ اظہارِ اطمینان بھی۔ افتخارِ ذات بھی۔ دنیا کے لیے پیغام بھی۔ تلاطم خیز بھی۔ علامتِ سکون بھی۔ صبر بھی، ظلم کے خلاف آواز بھی۔ سوانحِ ذات بھی کہ ’’اک تبسم سے زیادہ مری روداد نہیں‘‘۔ شکیل عادل زادہ کی ذات میں ایک تلاطم ہے، ایک بھونچال ہے، لیکن وہ اسے دبائے رکھتے ہیں، شاید انہیں سفینوں کا خیال ہے۔ ان کے سرد آتش فشاں کے اندر بہت لاوا ہے۔ شاید انہیں بستیوں کا خیال ہے کہ وہ اسے اُبلنے نہیں دیتے۔ ان کے اندر خیالات کی شدت سے تہلکہ خیز ہلچل ہے، اس کی پیمائش کے لیے شاید ابھی کوئی رچرڈ اسکیل ایجاد نہیں ہوا لیکن انہوں نے اس پر سکون کی چادر ڈال رکھی ہے۔ جیسے تپتی ہوئی زمین پر اوس کی چادر۔ وہ انسان کی عظمت کو سمجھتے ہیں۔ انہیں زندگی کا سلیقہ حاصل ہے۔ قناعت ان کی دولت ہے۔ توکل ان کا تکیہ ہے۔ صبر ان کا بسترہے۔ تحمل ان کی چادر ہے۔ ان کے اندر کا آدمی مجسم حرفِ دعا ہے۔ ان کے گھر سے ابھی قاتل کو شربت
دینے کی رسم ختم نہیں ہوئی ہے۔
شکیل عادل زادہ عالمی ڈائجسٹ سے الگ ہو گئے، کسی نے وجہ نہیں پوچھی۔اگلی اشاعتوں میں پرچہ بے رنگ ہو گیا۔ ادارے کو اپنی شہرت پر ناز تھا۔ اس نے بے رنگی گوارہ کرلی۔ اپنے پندارِ انا کو ٹھیس گوارہ نہیں کیا۔ شکیل عادل زادہ کے پاس سرمایہ نہیں تھا، صرف پندرہ سو روپیے تھے، لیکن ان کے پاس دوست تھے۔ انہوں نے سب رنگ کا ڈیکلریشن داخل کر دیا۔ کراچی میں خبر پھیلی۔ پہلے پرچے کے لیے خود بھاگ دوڑ کرتے رہے۔ ...... آرام طلب تھی، جنوں کو آبلہ پائی کی فکر نہیں تھی۔ جون ایلیا نے عالمی ڈائجسٹ کا اداریہ بہت سخت لکھا۔ ہم نوالہ، ہم پیالہ، ہم دم و ہم راز نے بیتے دنوں کو بھلا دیا۔ سب رنگ کی پہلی اشاعت، کتب فروشوں نے اس شرط پر رکھی کہ جو پرچے بچ جائیں گے واپس کر دیئے جائیں گے۔ کوئی پیشگی رقم نہیں دی گئی۔ پہلی اشاعت سے کچھ پرچے واپس آ گئے۔ دوسری اشاعت مکمل فروخت ہو گئی۔ تیسری اشاعت کم پڑ گئی۔ پھر اس کے بعد’’ سب رنگ ‘‘نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ پہلی اشاعت پر شکیل عادل زادہ نے پاکستان کے ایک بڑے تقسیم کار طاہر اینڈ سنس سے رابطہ پیدا کیا تھا۔ انہوں نے سب رنگ کو درخورِ اعتناء نہیں سمجھا۔ انہوں نے دوسرے تقسیم کار کو دیدیا۔ تیسری اشاعت کے بعد طاہر اینڈ سنس نے ایڈوانس چیک روانہ کیا۔ شکیل صاحب نے واپس کر دیا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ کراچی میں پرچہ بند کروا دیا جائے گا۔ انہوں نے دھمکی نظر انداز کر دی۔ بہت بعد میں یہ سمجھوتا ہو گیا کہ انہیں لاہور کی ڈسٹری بیوشن دی جا سکتی ہے۔ کراچی کی نہیں، انہوں نے قبول کر لیا۔




***