allama-aijazfarruq
THANKS FOR VISITING
علامہ اعجاز فرخ




علامہ اعجاز فرخ
سفر ہے شرط.....(۵)
نہ تو تو رہا، نہ تو میں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی

مرزا اس اپنائیت اور لگاوٹ سے لکھنؤ کا تذکرہ کر رہے تھے گویا ”ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا“۔ میں نے کہا: ”مرزا جی! آپ کہہ رہے تھے کہ بیگم صاحبہ کے رتبے کا اندازہ اُن کے پاندان کے خرچ سے ہوا کرتا تھا۔ بیگم صاحبہ کے پاندان کا خرچ ہی کتنا ہوتا ہوگا۔ اتنا تام جھام اور اس میں پاندان، بیگم صاحبہ یا تو خود پان نوش فرماتی ہوں گی یا نواب صاحب کے لیے اپنے ہاتھ سے پان بنا دیا۔ بہت ہوا کوئی ملنے جلنے آ گیا تو پان سے تواضع فرمادی۔ بھلا ایسے میں پاندان کا خرچ ہی کیا ہوا۔“ مرزا نے کہا:”حضور درست فرماتے ہیں۔ پان اگر نوشِ جاں کرنے کی چیز ہوتی تو خرچ کچھ بھی نہ ہوا۔ لیکن پان تو ایک تہذیب ہے۔ ایک مرصع تہذیب، اور پاندان اس تہذیب کی علامت ہے۔“ جتنا بڑا اور مرصع پاندان ہوا، تہذیب کی یہ علامت اتنی ہی پُروقار ہوئی۔ پاندان میں صرف چھالیہ لونگ، سپاری، کتھا، چوتا تھوڑی ہوتا تھا۔ پاندان تو دو منزلہ ہوتے تھے۔ بالائی منزل میں پان اور لوازمات، اس کے نیچے جو خانے بنے ہوتے تھے، اس میں دوآنی، چار آنے، آٹھ آنے، چھوٹی اشرفی، بڑی اشرفی، چھوٹا موٹا زیور، پہننے اتارنے کی انگشتریاں۔ جیسے جن کی جان طوطے میں، ویسے بیگم صاحبہ کی جان پاندان میں۔ یوں تو کسی کی مجال نہ تھی کہ بیگم صاحبہ کے پاندان کو ہاتھ لگائے۔ حتی کہ نواب صاحب بھی صرف نظروں سے طواف کیا کرتے تھے۔ یہ خزانہ تو بیگم کا صرفِ خاص تھا۔ ان کی کنیز خاص اس کی نگران ہوتی تھی۔ حمام سے پہلے بیگم صاحبہ اپنے سارے زیور اسی میں اتار رکھتی تھیں۔ ڈیوڑھی کے اندر جتنے ملازم ہوتے تھے، انائیں، ددائیں،کھلوائیاں، ماما، مغلانی،اصیل، کنیز، باندی، قلماقنیاں، جسولنیاں، مالن، دھوبن، سب اسی ہاتھ سے یافت پاتی تھیں۔ پھر انعام اکرام، خیرات، عطا، وظیفے، سب اسی دست پُر عطا پر تکیہ کئے ہوتے۔“ مرزا کچھ رکے، پھر کہا:”حضور! سائل بھی درشناس ہوتا ہے۔ اسی دروازے پر صدا لگاتا
ہے، جہاں سے امید ہو۔ حضرت ثاقب ؔ لکھنوی مرحوم نے کہا تھا۔ شاید آپ نے سنا ہو
دے صدا اے دل مگر نقشِ قدم کو دیکھ کر
ایسے بھی در ہیں کبھی جن پر کوئی سائل نہ تھا
کبھی کسی عزیز، اقارب، رشتے دار کے پاس سے کوئی حصہ آتا تو گشتیاں یوں خالی تھوڑی لوٹائی جاتی تھیں۔ رکابی یا طشتری میں کم از کم پانچ چاندی کے سکے اور پھر بھیجنے والے کے مقام و مرتبے کا لحاظ کرتے ہوئے اس سے زیادہ، ساتھ میں چاول،پان، چکنی سپاری، اور خشک فواکہات کے ساتھ کشتی لوٹائی جاتی تھی۔ کبھی بیگم صاحب کو نیوتہ دیا جاتا کہ وہ تشریف لائیں یا کبھی ان کا دل چاہتا کہ اپنے عزیز و اقارب سے مل آئیں تو پالکیاں تیار ہوا کرتی تھیں۔ ڈیوڑھی سے برآمد ہونے سے پہلے حاجب دونوں طرف پردے تھامے ہوئے، بیگم صاحبہ کے پیچھے دو کنیزیں غرارے کے پائنچے سنبھالے ہوئے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے، ساڑھے سات گز کاپاجامہ آگے سے بیگم صاحبہ پائنچہ ہاتھ پرڈالے ہوئے اور پیچھے سے کنیزیں سنبھالے ہوئے لشتم پشتم پالکی میں سوار ہوئیں اور پیچھے ساڑھے سات سیری پاندان لئے دوسری پالکی میں کنیز آن بیٹھی۔ اگلی پالکی پر زردوز طاؤسی رنگ کا پالکی پوش اور پیچھے کنیز کی پالکی بانات اوڑھے ہوئے۔ کہاروں کے آگے ہاتف ہٹو بڑھو کی صدا لگاتے ہوئے۔ جب پالکی منزل کو پہنچ جاتی تو کہار دیوڑھی میں پالکی رکھ کر آواز دیتے فلاں دیوڑھی کی سواریاں آئی ہیں اور باہر کو نکل آتے۔ کنیزیں پردہ الٹ کر بیگم صاحبہ کو صحن تک لیجاتے لیجاتے میزبان بیگم صاحبہ سیڑھیوں تک اتر آتیں اور سینے سے لگا کر گلے ملتیں اور شکوہ سنج ہوا کرتی تھیں کہ بہت دنوں بعد صورت دکھلائی۔ عید کا چاند ہو گئیں،پھرمغلانی کواشارہ کیا،وہ آگے بڑھی،کشتی میں چاول کالی ماش،بھلاوں اور سکے،صدقہ اُتار کرباندی کو دیا ۔،،جاکہاروں کو دیدے،،بیگمصاھبہ ہاتھ تھام کر تخت تک لے گئیں۔ وہ تشریف فرماہوئیں تب آپ بیٹھیں۔ کنیز نے پان دان لا کر سامنے رکھ دیا اور میزبان بیگم صاحبہ کے آگے خمیدہ ہو کر ”بندگی سرکار“ کہہ کر الٹے قدم پیچھے کو ہو گئی۔ لڑکیاں بالیاں سلام کو آئیں۔ آداب، تسلیم، بندگی، بیگم صاحبہ نے داہنے ہاتھ کی چار انگلیاں کنپٹی کے قریب رکھ چٹخائیں‘ گویا بلائیں لیں پھر کہا، خوش رہو، آباد رہو، ماں باپ کی آنکھوں کی جوت سدا جاگتی رہے۔ جن ڈیوڑھیوں میں بیاہ کر جاؤ وہاں صدیوں چراغ جلتے رہیں۔ بادلوں کی اوٹ سے سفید گھوڑی پر سوار شہزادہ بیاہنے کو آئے۔ چاند تاروں کی چھاؤں میں ڈولی سدھارے۔ دوپہرہوئی، چوکیوں پر انواع و اقسام کا طعام سجایا گیا۔ بیگم صاحبہ طعام سے فارغ ہوئیں تو کنیز نے سیلفچی اور آفتابہ خدمت میں پیش کیا۔ ہاتھ دھوکر پیچھے کو پلٹیں تو کنیز نے پاندان پیش کیااور اوپر کی کشتی اٹھائی۔ بیگم صاحبہ نے مٹھی بھرسکّے اٹھائے اور سیلفچی میں ڈال دیئے۔ کنیز نے ہاتھ پر پھر پانی ڈال دیا کہ ہاتھ کا دھوون بھی تو تقدیر والوں کو ملتا ہے۔“ اتنا کہہ کر مرزا نے ایک گہری سانس لی، پھر کہا ”اب آپ
فیصلہ کریں، بیگم کے رتبہ کا اندازہ پاندان کے خرچ سے ہوا کہ نہیں۔“
میں سناٹے میں آ گیا۔ میری آنکھیں دیدہ حیراں ہو گئیں۔ مرزا جی نے مجھے کسی طلسماتی دنیا میں پہنچادیا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھاکہ جیسے لکھنؤ کی تہذیب کوئی شہزادی ہو اور کسی دیو نے اسے قید کر کے اس کی آنکھوں میں سوئیاں چبھودی ہوں اور رہائی کی شرط یہ تھی کہ تمدن کا شہزادہ جنگ کرتا ہوا اِن گپھاؤں تک آ پھنچے اسکی اانکھوں کی سوئیاں نکال دے تب رہائی ملے، شہزادہ اپنی تلوار سے زرد بیلوں کو کاٹتا ہوا شہزادی کو رہائی دلوانے کے لیے اس تک پہنچ تو گیا ہو لیکن شہزادی کی آنکھوں کی سوئیاں کب کی زنگ آلود ہو چکی تھیں اور آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔ ہر طرف زرد بیلوں کا
سحاب تھا۔
مجھے ایسا لگا کسی کا ہاتھ میرے گھٹنے پر ہو اور وہ اسے ہلا رہا ہو۔ میں نے چونک کر دیکھا۔ مرزا جی تھے۔ نیچے کھڑے میرے گھٹنے کو ہلا رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا ”حضور! خیر تو ہے۔ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں۔“ میں نے کہا ”کچھ نہیں مرزا جی، ٹھیک ہوں۔ بس یونہی کھو سا گیا تھا۔“ مرزا جی چپ ہو گئے۔ سامنے ہی مجھے ایک سقہ دکھائی دیا۔ اس نے کسی راہ گیر کو جھم جھم کرتے کٹورے میں پانی پیش کیا۔ راہ گیر نے پانی پی کر کٹورا واپس کر دیا اور جیب سے ایک سکّہ نکال کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے ہتھیلی میں سکہ یوں پیش کیا جیسے کسی کو نذر گذرانی جاتی ہے۔ میں نے مرزا جی سے پوچھا ”یہ کیا
ہے۔“ مرزا نے کہا ”حضور! یہ لکھنؤ کے وہ سقہ ہیں جو راہ گیروں کوٹھنڈا پانی پلاتے ہیں،،
،، وہ تو ہے، لیکن یہ شخص دونوں ہاتھوں میں یوں سکّہ کیوں پیش کر رہا ہے؟۔مرزا نے کہا”پانی وہ بے قیمت شئے ہے جسے لطف ِ قدرت نے اپنے بندوں پر عام کر دیا ہے، جس کے بغیر کیا نبات، کیا حیوان، بلکہ کوئی وجود اس کے بغیر زندہ نہ رہ پائے۔ ظلم کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ یہ سقہ کربلا کے ان شہیدوں کی یاد میں پیاسوں کو پانی پلاتے ہیں جن کو بوند بھر پانی نہ ملا۔ اس کا معاوضہ نہیں لیتے لیکن لوگ اس خدمت کو دیکھ کر اپنی طرف سے کچھ نہ کچھ نذر کردیا کرتے ہیں۔ کیا ہندو، کیا مسلمان، سب ان کا احترام کرتے ہیں۔سقہ میرے قریب پہنچ چکا تھا۔ مجھ سے پوچھا ”پانی ملاحظہ فرمائیں گے آپ؟، آب سرد ہے۔“ اس نے کٹورہ بھر کر پیش کیا۔ مجھے واقعی پیاس لگی تھی۔ ایک گھونٹ جو گلے سے اترا تو کلیجے تک ٹھنڈک کی لہر دوڑ گئی۔ پانی ٹھنڈا تھا اور سادہ تھا۔ لیکن مجھے محسوس ہوا میرے وجود کو معطر کر گیا۔ میں سوچنے لگا۔ پیاس نہ ہوتی تو پانی کی حقیقت کیا ہے۔ بے انتظار بارشوں کے بعد جب خس و خاشاک بہہ جائے تو یہی پانی دریا کی صورت مارا مارا پھرتا ہے۔ پیاسی گاگر نہ ہو تو ابلتے چشموں کا نغمہ کس کے لیے ہے۔ سوکھے کھیتوں کی جاں بلب زمینیں نہ ہوں تو ابر کی قیمت کیا ہے۔ آنکھوں کو جلوے کی پیاس۔ سماعت کو آواز کی پیاس۔ مشام کوشمیم پیرہنِ یار کی پیاس۔ لمس کو کسی کے بھیگے بدن کی پیاس۔ پیاس اورپانی۔ پانی اور پیاس کا تو طالب و مطلوب کا رشتہ ہے۔ آگ دونوں طرف برابر کی لگی ہے۔ ہر آگ پانی نہیں بجھا سکتا۔ کبھی کبھی برستا پانی بھی آگ لگا دیتا ہے۔ جب برکھا رُت ہو، ابر چھایا ہوا ہو، مینہ برستا ہو، تب کسی برہن سے پوچھو کہ کسیے بارش کا ہر قطرہ کٹار کی طرح بدن پر لگتا ہے۔ باہر ملہار ہو اور اندر کی جلن راگ دیپک کی طرح سلگتی رہے، سلگاتی رہے۔ طلب ِ علم بھی پیاس ہے۔ عرفان، آگہی، انتظار، منزل، کسی میں جذب ہو جانے کی خواہش، ضم ہو جانے کی آرزو، فنا میں بقاء سب پیاس ہے۔ سمندر لامتناہی ہے۔ مگر سمندر بھی پیاسا ہے کسی پیاسے کی تلاش میں۔ لیکن جب پیاسا سمندر تک پہنچ کر چلو بھر کر سمندر کے منہ پر مار دیتا ہے تب سمندر کو اپنے بے وقعت ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔ میں نے پانی کا آخری گھونٹ لے کر اس کے حوالے کر دیا۔ پھر جیب سے ایک روپیہ کا سکّہ دونوں ہاتھوں پر رکھ نذر کرتے ہوئے کہا: ”خدا کرے آپ کے ہاتھ میں کبھی درد نہ ہو۔“ اس نے چونک کر دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں کوئی ستارہ سا جھلملا رہا تھا۔ وہ شاید پیاس اور
ہاتھ میں کوئی ربط تلاش کر رہا تھا۔
سواری آہستہ آہستہ وکٹوریہ اسٹریٹ پر رواں تھی۔ مرزا اپنی سوچ میں گم تھے۔ کبھی سر اٹھا کر آسمان کی طر ف دیکھتے اور کبھی سر جھکا لیتے۔ میرے ذہن میں یہ سوچ تھی کہ مرزا تو صرف ایک کوچوان ہے اور کوئی کوچوان اس حد تک زبان، ادب، تہذیب، ماحول، رسم، رواج سے واقف ہو کر ماضی کے آئینہ خانے میں ہر دور کو یوں دیکھے جیسے حال کو دیکھ رہا ہے، کہاں تک ممکن ہے۔ اگر یہ سب شنیدہ ہے تو مانند دیدہ کیسے ہو گیا۔ صدیوں پہلے کے ماضی میں اتر کر سیر کرنا کوئی آسان بات بھی نہیں۔ یہ تو اسی سے ممکن ہے جو صدیوں کا فرزند ہو۔ جو ماضی کی طناب کھینچ کر اسے اپنے روبر و کرے یا پھر خود ماضی میں ضم ہو کر اس کا حصہ بن کر گھل مل جائے۔ تب کہیں یہ ممکن ہے کہ دیوار و در، در و دیوار ہو کر اس
سے گفتگوکریں۔
موسم میں ہلکی سی تمازت آ گئی تھی۔ گویا بہار کچی کلیوں کی کواڑ پر آہستہ دستک دیا چاہتی ہو اور یہ نوید سنانا چاہتی ہو کہ پال پوس کر پرورش کرنے والے پتوں کو کہینیوں سے پیچھے ڈھکیل کر پھوٹ پڑنے کی رت آگئی۔بھنورے کے
منڈلانے کی رُت۔
میں نے پوچھا ”مرزا جی! لکھنؤ کے موسم کیسے ہوتے ہیں۔؟“ مرزا جی کے منہ میں پان تھا۔ وہ اسے تیزی سے چبانےمیں مصروف ہو گئے۔ پھر داہنے گال میں پان دبائے کہنے لگے ”میاں صاحب! گذرنے کو تو زندگی کے ماہ وسال گذر گئے لیکن اب تک یہ پتانہ چل سکاکہ موسم کا تعلق زمین سے ہے یا بدن سے۔ کبھی بدن میں حرارت سی حرارت تھی، تو سورج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یوں تکتے کہ وہ بادل میں اوٹ میں ہو جاتا اور ادھر پلک نہ جھپکتی۔ اب تو بالوں سے برف الجھنے لگی اور بدن بھی ٹوٹ کر بکھر نے لگا۔ ایسے میں کیا موسم اور کیسی گنتی۔ بدن پر بہار کا موسم ہو اور ساتھ ہمسفر بھی ہوتو تپتے ریگزاروں میں ببول کی شاخ بھی نخلستان ہو جاتی ہے اور اگر بدن خزاں رسیدہ ہونے لگے تو کیسا شجرِ سبز قبا اور کیا رنگ ِ حنا۔ اب تو آئینہ دیکھے بھی برسوں گذر گئے۔ آئینہ خانوں میں ملمع کئے کانچ کے ٹکڑے ہر رخ سے عکس دکھلائیں بھی تو اپنے ملمع سازی اور رنگ سے فریب دیتے ہیں۔ یہ آئینہ نہیں فریب ِ آئینہ ہے۔ آئینہ تو وہ ہوتا ہے جو شیشہ بدن بھی ہو اور روبرو ہو تو فرطِ حیا سے پلکیں بوجھل ہو جائیں اور پیشانی عرق عرق۔ تب آئینہ کے چہرے میں آئینہ دیکھنا‘ اندر کے آدمی کو روبروکرنا ہے۔ اس کے بعد تو تراشیدم، میں نے تراشا، پرستیدم، میں نے پرستش کی، شکستم، میں نے توڑدیا۔ بس یہی موسم بھی ہے اور موسم کے رنگ بھی، ورنہ سرد و گرم، ساون بھادوں، سردی جاڑا، بہار و خزاں تو صرف حوالے ہیں۔ ویسے غور فرمائیں تو کتنے موسم ہیں جو چپ چاپ گذر جاتے ہیں کہ آہٹ بھی نہ سنائی دے۔ کمسن بچے کی مسکراہٹ، بیساختگی کا موسم، نت نئے کھیل، بچپن کے اپنے آپ کا موسم، کھوج اور جستجو، لڑکپن کا موسم، پھر اس کے بعد تو خواب کا موسم، خیال کی فصل، آرزوؤں کا موسم، تمناوں کی فصل، دھوپ چھاؤں کا موسم، چشم ِ التفات کی فصل، فراق کا موسم، وصال کی فصل، جیسے پت جھڑ کے بعد موسم ِ گل کہ جب بور کی رت میں ہری کونپلیں رس لاتی ہیں، اور انجان بادل ملن کا خواب آنکھوں میں تو اتار دیتے ہیں لیکن یہی خواب یوں سارے کس بل ڈال کر لپٹ جاتے ہیں جیسے مدن مست کے پیڑ سے سانپ۔ مدن مست نہ ہو تو سانپ کیسا، اور سانپ نہ ہو تو مدن مست کیا۔ یہی رشتہ تو بدن کے تقاضوں اور خواب کا رشتہ ہے۔ اسی میں ہجر کی
لذت بھی ہے اور وصال کی کسک بھی۔ پھر تو حضور!
خبرِ تحیّرِ عشق سن، نہ جنوں رہا، نہ پری رہی
نہ تو تو رہا، نہ تو میں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی “




***