allama-aijazfarruq
THANKS FOR VISITING
علامہ اعجاز فرخ




علامہ اعجاز فرخ
سفر ہے شرط۔۔۔۔۴

یہ لکھنؤ کی سرزمیں
حورانِ خلد میں تری صورت مگر ملے

حسین آباد سے نکلتے ہوئے مرزا نے گھوڑے سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ”نخاس چلیو، حضور شہر کی سیر کریں گے۔“ یہ بات عجیب تھی کہ مرزا گھوڑے کو چابک نہیں لگاتے تھے بلکہ کبھی کبھی بے خیالی میں اس سے باتیں کیا کرتے تھے۔ گویا گھوڑا نہ ہوا، ہمدم و ہم ساز ہوا۔ جب گاڑی چل پڑی تو مرزا جی نے کہا ”آپ پہلی بار لکھنؤ تشریف لائے ہیں، لیکن میں یہ عرض کروں کہ آپ بار بار لکھنؤ آئیں گے۔ یہ لکھنؤ کہ تاثیر ہے کہ جو ایک بار لکھنؤ آتا ہے وہ بار بار لکھنؤ آتا ہے۔ یہاں تو وہ مثل صادق آتی ہے ”ایک بار دیکھا ہے، دوسری بار دیکھنے کی ہوس ہے۔ حیدرآباد بھی تو نوابوں کا شہر ہے، وہاں کی تہذیب، عمارتیں، رہن سہن، وہاں بھی تو یہی ہوتا ہوگاکہ جس نے حیدرآباد دیکھا ہو اسے بار بار دیکھنے کی خواہش ہوگی۔“
میں نے کہا ”نہیں مرزا جی! جس نے حیدرآباد ایک بار دیکھا وہ دوسری بار حیدرآباد نہیں آتا۔“ مرزا نے مجھے حیرت سے دیکھا۔ میں نے کہا ”وہ حیدرآباد میں بس جاتا ہے، ہمیشہ کے لیے۔ اسے اپنے وطن کی یاد آتی ہے لیکن حیدرآباد چھوٹے نہیں چھوٹتا۔حیدرآبامہر و وفا کا شہر ہے۔ محبت میں آباد ہوا، محبت سے آباد کیا گیا۔ اس کی سوندہی مٹی میں محبت کی خوشبو ہے۔ اسی لیے وہاں مٹی کا عطر بھی کشید کیا جاتا ہے۔ سوندہی مٹی کا کورا عطر۔ جیسے تپتی ہوئی زمین بارش کی پہلی بوند کے ساتھ مہک اٹھتی ہے۔ جیسے کوری صراحی میں بسے پانی کے پہلے گھونٹ کی خوشبو۔ جیسے شب ِ فراق میں کسی کی یاد کی مہک۔ جیسے کسی برہن کو ساجن کا پیرہن مل جائے اور وہ اس سے لپٹ جائے۔“ مرزا نے بے ساختہ گھوڑے کی راس کھینچ لی اور مجھے تکنے لگے۔ میں نے آہستہ سے کہا ”شمامۃ العنبر اور عطرِ حنا تو لکھنؤ کے عطاروں نے کشید کیا، لیکن حیدرآباد کا عطر ”باسی دلہن“ کچھ اور ہے۔ کنوارپن جب حنا، اگر، موتیا اور گلاب کی لپیٹوں میں ملفوف کسی کی بانہوں میں سمٹ جائے اور شب وصال کے بعد دوشیزگی یوں نکھر آئے کہ آئینے میں اپنے آپ سے شرمائے تو اس خوشبو کو حیدرآباد میں ”باسی دلہن“ کہا جاتا ہے۔ مرزا مجھے حیرت سے دیکھتے رہے۔ ان کی تجربہ کار نگاہیں میری آنکھوں میں کوئی خواب تلاش کر رہی تھیں۔ شاید کسی چلمن کی ٹوٹی ہوئی تیلی، کسی ڈوپٹے کا رنگ، کسی پیرہن کی خوشبوکا خواب۔ جوان رات کے سینے پر مچلتے ہوئے آنچل کی لہروں کا خواب۔ لیکن جب تک آنکھوں میں خواب کی تعبیر نہیں اترتی، خواب کا کوئی رنگ نہیں ہوتا۔ بے رنگ خواب اوس کی طرح ہوتے ہیں۔ آنکھوں کو بھگوتے ضرور ہیں لیکن خواب کا کوئی رنگ آنکھوں میں نہیں چھوڑتے۔ مرزا کو شاید نہ اوس دکھائی دی نہ کہر کی دھند۔ انہوں نے گھوڑے سے کہا ”چلیو بھی، کیا کھڑا کھڑا اینڈ رہا ہے“ اور راس ڈھیلی چھوڑ دی۔ گھوڑا اپنی نپی تلی چال چل رہا تھا، مرزا خاموش تھے۔ ایسے لگتا تھا گاڑی تو راستے پر سفر کر رہی ہے لیکن مرزا کسی اور جہاں میں گم ہیں۔ جیسے، خواب کے کسی رنگ نے چھاپ لیا ہو، کسی ایسی رات کا رنگ اور خوشبو جسے کسی نے دن بنا دیا
تھا۔
اس وقت میرا سن اٹھارہ برس تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ شہر صرف زمینوں پر نہیں ہوتے۔ شہر تو ذات میں ہوتے ہیں۔ شہرِ خیال، شہرِ آرزو، شہرِ تمنّا۔ آدمی اپنے شہرِ ذات کی چھبی زمین پر آباد شہروں میں تلاش کرتا ہے۔ اپنے اندر کی زمین کو زمینوں پر ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ کوئی اجنبی، ان دیکھی زمین مل جاتی ہے تو اس میں سیر کرتا ہے، کہساروں کی، میدانوں کی، صحراؤں کی، بیابانوں کی، وادیوں کی، کبھی تاریک وادیوں کی، کبھی روشن‘ صاف‘ ستھری‘ سپاٹ مسطح زمینوں کی، چشموں کی، دریاؤں کی، جھیلوں کی۔ کبھی سیر کرنے کی تمنا میں کبھی ان جھیلوں میں ڈوب جانے کی آرزو میں اور پھر جب اس زمین کو سر کر لیتا ہے تو نئی زمین کا انتظار ہے۔ یہی سیاحت ہے، شوقِ سیاحت بھی۔ ذوقِ سیاحت بھی۔ کولمبس کو خود خبر نہیں ہوتی کہ اس کی پابوس زمین کبھی شہر بن جاتی ہے، کبھی ملک۔ کبھی فتنہ گر، کبھی فتنہ ساماں۔
تانگہ رکا تو مرزا جی نے ایک بلند دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”یہ اکبری دروازہ ہے۔ کبھی اس کی بہار دیدنی تھی اور یہیں چاول والی گلی سے نخاس شروع ہوتا تھا۔ انگریزوں نے ترکاری منڈی سے شروع ہونے والی اس سڑک کو ملکہ وکٹوریہ کے نام سے معنون کیا تھااور یہ سڑک وکٹوریہ اسٹریٹ کہلاتی تھی۔ زنگی کی مانگ کی طرح سیدہی گئی ہے۔ ملیح آباد کے انقلابی شاعر جوشؔ نے اسے لکھنؤ کی مانگ بھی کہا ہے۔ لکھنؤ والے اس سڑک کے درمیانی حصے کو وکٹوریہ گنج کے بجائے کٹوریہ گنج بھی کہتے تھے۔ نواب واجد علی شاہ جنہیں لکھنؤ کے لوگ محبت سے ”جانِ عالم“ بھی کہا کرتے تھے، ان ہی کے دور سے یہ بازار رہا ہے۔ دور دراز کے علاقوں سے لوگ یہاں آ کر اپنا کاروبار کیا کرتے تھے۔ دنیا بھر کا کپڑا‘ سوت، ریشم، ململ، مخمل، اون، مشجر کمخواب، زربفت، کامدانی، زردوزی، ہمرو اور ڈھاکے کی ململ تو ایسی کہ انگرکھا نہ ہوا، ابر کی چادر سی بدن پر ہو۔ بزاز، خیاط، جوہری، سادہ کار، کسیرے، مسی گر، سنار، حکاک، ملمع ساز، رفو گر، رنگریز، چھاپہ گر، منھیار، نداف، پھول والے، تنبولی، عطار، ایسے ماہرین فن اور کاریگر شاید ہی کہیں اور پائے جائیں۔ سادہ کار اور سنار تو زیور بنادیں پر حکاک نگینہ تراشیں تو یوں کہ تاج شاہی کو تڑپ ہو کہ نگینہ زیور میں جڑے اور زیور چاہے کہ دستار کی زینت ہو یا گلے کا ہار ہو جائے۔ کسیرے تو دھات کے برتن بناتے پر ایسے کہ دیکھنے والی نظر دیدہئ حیراں ہو جائے۔ مرزا اپنی رو میں تھے اور میں خاموش انہیں سن رہا تھا۔ نداف پاؤ بھر روئی سے رضائی دلائی تیار کر دے۔ سچ کہوں حضور! پھولوں کی چادر بھی اتنی سبک نہ ہوتی ہوگی مگر واہ رے لکھنؤ کے نداف، انہیں بھلا پھولوں کے وزن سے کیا لینا۔ ان کے پیش نظر تو پھول بن اور پھول بدن ہوا کرتے تھے کہ دلائی کے بوجھ سے برگِ گل کی نزاکت کو ٹھیس نہ پہنچے اور سرد ہوا آتشِ گل کو ماند نہ کر پائے۔ رہی بات عطار کی تو احمد حسین محمد حسین، اصغر علی محمد علی جیسے عطار کاہے کو کہیں پائے جائیں۔ لکھنؤ قدر دانوں کا شہر ہے، ایک عطر پر کیا موقوف ہے، تمباکو، خمیرہ، زردہ، ہر ایک کا ذوق الگ، پسند الگ، خوشبو الگ۔ نواب صاحب کے خمیرے کی خوشبو اور، بیگم صاحبہ کے حقے کی مہک اور۔ لکھنؤ میں آداب، تسلیم، بندگی، سلام، قدمبوسی، مجرا تو ہے ہی، لیکن عطر پان، شربت بھی اپنی زبان اور معنی الگ رکھتے ہیں۔ مہمان کے استقبال پر پان کا طریقہ اور، رخصت پر پان کا سلیقہ اور۔ اس پر طرفہ گلوری کی نزاکت، پیش کش اور آداب تو قیامت ہے قیامت۔ لکھنؤ کا پان تو نفاست اور نزاکت میں اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔ غریب ہو یا امیر، تنبولی سے پان لے کر راستے میں جانوروں کی طرح جگالی کرے! عار ہے عار۔ یہ تو لڑکے نوجوان، اپنے ساتھیوں کے ساتھ کبھی پان کھا لیں تو وہ بھی اس احتیاط کے ساتھ کہ کوئی بزرگ دیکھ نہ لے اور پان کھائے کسی بزرگ سے سامنے ہو، یہ سوئے ادب تھا۔ جیسا گھرانہ اور خاندان، بیگم صاحبہ کاویسا ہی پاندان۔ یوں بھی بیگم صاحبہ کے رتبے اور مرتبے کا اندازہ ان کے پاندان کے خرچ ہی سے ہوا کرتا۔ لکھنؤ میں پان کی کاشت نہیں ہوتی۔ یہاں پان بنارس سے، کلکتے سے یا بھوپال سے آتے ہیں۔ کلی دار چونا، عرقِ گلاب یا کیوڑے میں بھگو کر رکھ دیا جاتا ہے اور پھر مہین ململ میں چھان کر اسے جما لیا جاتا ہے۔ کتھا تو خیر کانپور یا بریلی کا اہلِ لکھنؤ کو پسند ہے۔ شیر بادام میں پکا یا ہوا، جو زردہ اور قوام پسند ہوا تو کانپوری کتھا، اور جو پسند خاطر نہ ہوا تو بریلوی کتھا۔ پرت پرت ترشی ہوئی، چھالیہ، چکنی، سپاری، بڑلی، الائچی، سونف، لونگ، جوز، جوتری، نرملی، مہین تراشا ہوا کھوپرا، زعفران، گل قند، مشک، چاندی سونے کے ورق۔ ہر ہاتھ کا توازن الگ،انگلیوں کی نزاکت اور۔ معاف فرمائیے، چھوٹا منہ اور بڑی بات۔ بیگم صاحبہ کے پان بنانے کا سلیقہ تو کچھ یوں ہوا کرتا ہے کہ پہلے سرخ صافی زانو پر ڈال کر پان کو صاف کرلیا اور پھر انگلیوں سے ساری نسیں چھیل دیں کہ سخت ریشہ نہ رہے، پھر چونا اور اس پر کتھا لگا کر دونوں کو ایک دوسر ے میں ضم ہونے کے لیے چھوڑ دیا۔ زنگت نکھر آئی تو حسب ِ ذوق و ذائقہ اس میں قوام اور زردہ کی آمیزش کردی۔ باریک ململ کو موباف جیسی کاٹ کر الائچیاں اس میں لپیٹ دیں اور صراحی کے سرخ کپڑے پر رکھ کر اس پر اپنے ہاتھ سے آب ِ سرد کا چھڑکاؤ کر دیاکہ رات بھر میں بھیگ جائیں۔پان بناتے وقتچھیل کرایک ایک دانہ الگ کرکے ہتھیلی میں رکھ کر پرکھ لیا اور چاند ی کے ورق میں لپیٹ کر موتی بنالیے، تب کہیں وہ پان کے قابل ہوئی۔ حسبِ ذوق و ذائقہ اس میں مصالحہ اضافہ کیا گیا۔ جو اگر گرما کا موسم ہوا تو زعفران اور جو اگر جاڑے ہوئے اور طبیعت موافق پائی تو مشک کا ٹکڑا۔ بڑی نفاست اور نزاکت سے حنائی انگلیوں نے گلوری لپیٹی اور سونے چاندی کا ورق لپیٹ کر اس میں چاندی کا لونگ جڑ دیا۔ چاندی کے حلقے میں مہین اور نازک زنجیر ہوا کرتی ہیں، کسی میں سات تو کسی میں نو۔ ان کے دوسرے سرے پر چاندی کے لونگ بنے ہوتے ہیں‘ جو جڑے جاتے ہیں اور یہ گلوریوں کا گلدستہ چاندی کے خاصدان میں سرخ صافی میں لپیٹ کر حضور نواب صاحب کی خدمت میں پہنچادیاجاتا ہے۔ اس اہتمام سے کہ اس خوشبو تک نہ کوئی مشام پہنچے نہ ہاتھ۔ ادھر نواب صاحب نے خاص دان کھول کر گلوری نکالی اور سانس کھنچی کھنچی رہ گئی۔ زردہ، قوام، مشک، زعفران کی خوشبو تو ہے ہی لیکن حنائی انگلیوں کی خوشبو تو گلوری کی نس نس
میں بسی ہوتی۔
،، لیکن حضور!“ یہ کہہ کر مرزا جی رک گئے، دیر ہو گئی، کچھ کہا نہیں، بس خلاء میں تکتے رہ گئے۔
میں نے کہا ”مرزا جی!کہاں کھو گئے آپ“۔
کہا ”حضور کیسے کہیں، آپ نو عمر ہیں، نوجوان ہیں، مجھے وہ بات زیب نہیں دیتی۔‘
‘ میں نے کہا ”مرزا جی! پان تو پان ہے کوئی نشہ تھوڑی ہے۔ نہ حرام ہے نہ گناہ۔ اس میں کونسی سخن گسترانہ بات آ پڑی؟“۔ ”درست فرمایا حضور نے، پان نہ حرام ہے نہ گناہ۔ انسان کسی صورت حرام کو حلال نہیں قرار دے سکتا۔ لیکن اسے کیا کیجیے کہ قدم بے جادہ راہ دہر میں تھرا ہی جاتا ہے۔ چلے کوئی کتنا ہی بچ کے ٹھوکر کھا ہی جاتا ہے۔“ پھر نظریں جھکا کر دھیمی آواز
میں کہا
”بیگم کا پان اور ہے، ڈومنی کا پان اور، ایسی نفاست اور نزاکت سے بیگم نے گلوری تیار کی کہ نامراد ہوا بھی انگلیوں کی مہک کو چھو نہ پائے۔ بیگم کا پان ایک کے لیے ہے، اپنے مجازی خدا کے لیے۔ ڈومنی کا پان ہر ایک کے لیے ہے۔ انسان بھی عجیب ہے، بلند ہوتا ہے تو اتنا کہ عزت ِ نفس کے لیے محبت میں شرکت گوارہ نہیں کرتا۔ گرتا ہے تو اتنا کہ جانتے ہوئے بھی کہ رقیب کئی ہیں، عزت پیچھے چھوڑ پان ہی کے لیےی رات آنکھوں میں گذار دیتا ہے کہ، رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے، اور ادھر انتظار میں جاگتی آنکھیں اور سلگتا ہوا بدن انتظار کشید کر رہا ہے
وہ آئے ہیں نہ شب ِ انتظا رگذری ہے
تلاش میں ہے سحر بار بار گذری ہے
جو پیش باندی ساتھ آئی تھی، سر میں چنبیلی کا تیل مل رہی ہے۔ ہتھیلیاں اور تلوے سہلا رہی ہے۔ نادِ علی ؑ کا ورد کر رہی ہے۔ آیت لاکرسی دم کر رہی ہے اور بدن اینٹھا جا رہا ہے۔ چار و ناچار اس نے کہانی چھیڑی۔ ”ایک تھا شہزادہ۔ چاردانگ ِ عالم میں اس کی شجا عت اور مردانگی کی دھوم۔ سنہری بال، کشادہ پیشانی، بڑی بڑی تاتاری ہرن جیسی آنکھیں، ستواں ناک، سرخی دہن پر عقیقِ یمنی کا گمان اور ہنس پڑے تو موتی جیسے دانت، گویا عدن کی ساری بضاعت یمن میں ہو۔ فراخ سینہ جو راز کی امانت سنبھال سکتا ہو اور وار سہہ کر بھی حوصلہ نہ ہارنے کی جرأت رکھتا ہو۔ بھرے بھرے بازو جو شکست کو فتح میں بدلنے کی طاقت رکھتے ہوں، مضبوط کلائیاں، اور پنجہ ایسا کہ شیر کے منہ پر پڑ جائے تو زبان دانتوں سمیت باہر کو آن پڑے۔ دشمن کی کلائی چھڑانا مشکل ہو جائے۔ اور کسی سیم تن کی کلائی ہلکے سے تھام لے تو بانہوں میں اسیر ہو جانے کی آرزو کرے۔“ یہاں تک پہنچ کر اس نے چہرے پر نظر کی، آنکھیں بند تھیں، بکھری زلفوں کے بیچ چہرہ پر سکون تھا، ہونٹوں پر ہلکا تبسم سا تھا۔
اس نے کہانی روک دی۔ یہ سوچ کر کہ باقی کہانی خواب میں پوری ہو جائے گی۔
رات بھر روتے روتے سارنگی سسک رہی تھی۔ ستار کے تار مضمحل تھے۔ طبلہ نڈھال سا ہو رہا تھا۔ فانوس کی لو مدھم ہوا چاہتی تھی۔ وہ بھی تھکی تھکی سی اٹھی، روبرو ہو کر پان پیش کرتے ہوئے کہا ”حضور! پان“، نواب صاحب نے آنکھوں میں دیکھتے ہوئے گلوری اٹھانی چاہی۔ ہاتھ انگلیوں سے مس ہو گیا۔ بس ایک لمحے کے لیے، اس نے دھیرے سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا”کل پھر آئیے گا ناں؟“ میری آنکھیں آپ لی راہ تکتی رہیں گی۔ نواب صاحب نے گلوری دہن میں رکھی اور چوکور نکیلی ٹوپی کی نوک سیدھی کرتے ہوئے سیڑھیاں اتر گئے۔ ”پان تو پان ہے حضور! بس ناز و ادا کا فرق ہے۔“
نواب صاحب جب گھر پہنچے تو بیگم صاحبہ مسہری پر آرام فرما تھیں۔ یہ بھی لیٹ گئے اور دوسرے پہلو کروٹ بدل
لی۔ انگلیوں کو سونگھا۔ شاید لمس کی خوشبو چاہتے ہوں اور آنکھیں بند کرلیں۔
بیگم صاحبہ بیدار ہوئیں، ڈوپٹہ اوڑھ کر برآمد ہوئیں تو کنیز سلیفچی اور آفتابہ لیے حاضر ہوئی۔ منہ ہاتھ دھلوائے تو فرمایا ”حمام تیار کرو“ کنیز ”جی“ کہہ کر الٹے قدم لوٹ گئی۔ غسل فرماکر لوٹیں تو کنیز نے سرخ رنگ کی زر دوزٹوکری کے نیچے سلگتے ہوئے کوئلوں پر عود، اگر، لوبان، سہاگ مصالحہ ڈال کر اوپر تلے صندل کا برادہ ڈال دیاکہ بال خشک کر لیں۔ بیگم صاحبہ یوں بھی صندل اور گُلِ بفشہ کے ابٹن سے مہک رہی تھیں۔ نہا دھو کر اور اجلی ہوئیں تو نکھر گئیں۔ دن چڑھے نواب صاحب بیدار ہوئے تو دیکھا بیگم صاحبہ سفید چاندنی بچھے تخت پر سبز قمیص غرارہ زیب تن کئے ہوئے سرخ ڈوپٹہ اوڑھے، زانو پر سرخ صافی بچھائے پان کی نسیں چھیل رہی ہیں۔ نواب صاحب نے بیگم کو غور سے دیکھا۔ آج سج دھج ہی نرالی تھی۔ پہلو میں بیٹھ کر کہا ”آج تو حضور کے انداز ہی الگ ہیں۔ واللہ! آپ کی ان قاتل نگاہوں کے تو ہم بسمل ہیں۔ آج تو آپ قیامت لگ رہی ہیں۔ ہمیں ڈر ہے کہ آپ کا یہ حسنِ جہاں سوز ہمیں خاکستر نہ کردے۔ یقین جانیئے ہمیں آتشِ گل سے بڑا خوف لگتا ہے،
لیکن اسے چھیڑنے اور اس سے کھیلنے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔“ پھر کہا
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے
حوران خلد میں تری صورت اگر ملے
بیگم صاحبہ نے پان پیش کرتے ہوئے کہا ”پان ملاحظہ فرمائیے۔ گھر کا ہے۔“




***