allama-aijazfarruq
THANKS FOR VISITING
علامہ اعجاز فرخ




سفر ہے شرط .....
علامہ اعجاز فرخ

یوں تو پوری کائنات سفر میں ہے۔ کیا بشر اور کیا شجر۔ کہتے ہیں کہ حرکت زندگی ہے، اسی لیے سفر زندگی ہے‘ لیکن زندگی بھی ایک سفر ہی ہے۔ مگر یہ کہ نہ اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی چلے۔ اب چاہے خوشی سے یہ سفر پورا ہوا ہو یا جبر سے۔ بہرحال سفر تو طے ہے۔ میں تو کہوں کہ شوقِ سفر کے ساتھ ذوقِ سفر بھی ہو تو لطف زندگی کچھ اور ہے۔ بچہ جب پاؤں پاؤں چلتا ہے تو اسے اپنا آنگن بہت بڑا معلوم ہوتا ہے۔ چلتے ، گرتے، گرتے ، اٹھتے جب یہ سفر پورا کر لیتا ہے تو لگتا ہے کہ اس نے ایک نئی دنیا دریافت کر لی۔ اسے صحن نوردی کہتے ہیں۔ پھر تو کوچہ نوردی، شہر نوردی، دشت نوردی، صحرانوردی ، دریا نوردی، فضا نوردی، خلا نوردی، ماہ نوردی، سب انسان کا شوقِ سفر سہی ، لیکن عرش نوردی تو ذوقِ سفر کی انتہاء ہے۔ جہاں مکان سے لامکاں کا سفر ہو اور اس سفر پر وارفتگانِ عشق سے ’’ بلغ العلیٰ بکمالہٖ‘‘
کے سوا نہ کچھ سوچا جائے نہ کہا جائے۔
میں لڑکپن ہی سے سفر پسند تھا۔ ذرا سا موقعہ ملتا اور میں نکل پڑتا۔ حیدرآباد کے گرد و نواح اُس زمانے میں سرسبز و شاداب تھے، بڑے بڑے پختہ کنویں ، چار چار بیل پانی سینچتے ہوئے، کھیتوں میں دوڑتا ہوا شفاف پانی، جس سے موتی کی آب شرمائے، زمین تو ایسے سبز پوش جیسے کسی نے سبز بساط بچھادی ہواور پیڑ پودوں نے اپنی چوپال ڈال دی پھر زاغ و زغن ‘ بلبل و پپہیے نے اپنے آشیاں بنا لییہوں ۔ کبھی میں گولکنڈہ قلعہ کی طرف جا نکلتا۔ اونچی اونچی فصیلوں کو تکتا۔ ارادوں کی طرح مضبوط اور عزائم کی طرح بلند پُر شکوہ فصیلیں۔ شہر کو دیکھتا تو لگتا تھا کہ سبز زمردی نگینوں کے بیچ ہیرا جگمگا رہا ہے۔ سن رکھا تھا کہ بالا حصار سے تالی بجاؤ تو نیچے قلعہ کے دروازے پر سنائی دیتی ہے۔ بادشاہ صرف تالی بجا دیتا تھا تو چوبدار صف بہ صف سر جھکائے حکم کے انتظار میں کھڑے ہو جاتے ۔ میں نے کئی بار تالی بجائی ، مجھے صرف اپنی ہی تالی کی بازگشت سنائی دی۔ میں دیواروں ، فصیلوں ، آہن پوش دروازوں سے پوچھتا ’’کوئی ہے؟‘‘لیکن صرف سناٹے کی آواز سنائی دیتی، میں اداس ہو جاتا کہ یہ فصیلیں ، یہ محراب، یہ طاق ، یہ درودیوار میری کسی بات کا جواب کیوں نہیں دیتے۔ ان کی زبان بندی کر دی گئی ہے یا سماعتیں چھین لی گئی ہیں۔ اس وقت میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا، اور میری عمر کو13 برس رہی ہوگی ، گویا ابھی بچپن چھوٹا نہیں تھا، اور لڑکپن کو جوانی کی آہٹ نہیں سنائی دی تھی، آپ اسے میری نادانی کہہ لیجیے کہ میں ہر کور چشم کو نا بینا اور ہر آنکھ رکھنے والے کو بینا سمجھتا تھا۔ مجھے یہ ادراک نہیں تھا کہ ہر نابینا اندھا نہیں ہوتا، اور ہر سماعت نہ رکھنے والا بہرہ نہیں ہوتا۔ کچھ قصور اس زمانے کا بھی تھا، اس زمانے میں بونے قد آوروں کا قد بھی نہیں ناپتے تھے اور نہ گونگے ایوانِ خطابت میں اپنی خطابت کا رس گھولتے تھے۔ ایک دن میں قلعہ گولکنڈہ کی سیر کر کے گھر لوٹا تو سورج اپنی شعاعیں سمیٹ رہا تھا اور شام زلف برہم سنبھال رہی تھی۔ میری ماں نے چراغ ، دیوارگری، اور یکوں کو صاف کر کے دلان کے کنارے رکھ
دیئے تھے کہ دن ڈھل جائے تو چراغ روشن کر دے۔ لیکن وہ وہاں تھی
نہیں، شاید باورچی خانے میں پکا رہی تھی۔ میں کمرے کے ایک گوشے میں بیٹھ گیا۔ جب چراغ جل اٹھے تو وہ چراغ لیے کمرے میں چلی آئی۔ مجھے دیکھ کر پوچھا:’’ کہاں گئے تھے تم؟۔‘‘ میں نے چپ سادھ لی تو اس نے ڈانٹ کر کہا:’’ بتلاتا کیوں نہیں، صبح کا گیا ، شام گھر لوٹا ہے،‘‘ پھر میرا چہرہ کھنڈر کھنڈر دیکھ کر کہا :’’ کچھ کہتا کیوں نہیں؟۔ کیا ہوا ہے تجھے۔کہاں گیا تھا تو‘‘ْ اس کے ان سولات کے
بوچھار سے گھبرا کر میں نے کہا: ’’ گولکنڈہ قلعہ دیکھنے گیا تھا۔‘‘
’’وہاں کیوں؟‘‘
’’سنا ہے اور پڑھا بھی ہے کہ وہاں بادشاہ رہا کرتے تھے، فوج بھی ہوا کرتی تھی، جنگ بھی ہوئی تھی، وہاں ہیرے بھی نکلتے تھے، اور بادشاہوں کی قبریں بھی ہیں۔ ‘‘ ماں برس پڑی: ’’ ارے ناس پیٹے ۔ کیسا بادشاہ ، کہاں کی فوج۔ کیسی جنگ اور یہ موئے ہیرے کہاں سے آن ٹپکے؟ تو اس قلعہ کے کھنڈر میں پھرتا رہا، وہاں تو نہ جانے کتنے جن، آسیب اور روحیں بسی ہوں گی۔ جدھر سینگ سمائے منہ اٹھائے پھرتا رہتا ہے۔ نہ قبر دیکھتا ہے نہ کھنڈر۔ میں تو مرجاؤں گی تیرے پیچھے۔ بھلا تو کس کی سنتا ہے۔ آنے دے تیرے ابو کو ۔آج تیری ٹانگیں نہ تڑوائی تو کچھ نہ کیا۔ پھر نماز پڑھ کر خود ہی مصلے پر بلک پڑیں: ’’ یا اللہ میرے بچے کی خیر ہو ، صدقہ تیرے نبی ؐکا ، ان کی آل کا ، مارا مارا پھرتا ہے، اس کا دھیان رکھو میرے مولا۔ سب خیر ہو ۔‘‘ میرے والد دفتر سے لوٹے اماں نے چائے لا کر رکھ دی، اور خود تخت پر بیٹھ گئیں۔ ابو نے پوچھا ’’خیر تو ہے، تیوری چڑھی ہوئی لگتی ہے۔‘‘ اماں نے کچھ کہا نہیں۔ ابو کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھ کر رونے
لگیں تو ابو گھبراگئے۔ کہا:’’ کچھ کہو بھی یا روتی رہو گی۔‘‘
اماں نے کہا:’’ تمہارے لاڈ نے لڑکے کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ اسکول کی چھٹیوں میں اسے ساتھ لے جایا کرو۔ سویرے سے نکل پڑتا ہے تو شام کی خبر لیتا ہے۔ آج گولکنڈہ کے کھنڈروں میں گیا تھا۔ جانے کس جن چڑیل کا سایہ ہو گیا ہے، بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے۔ ہیرے ہیں، موتی ہیں۔ بادشاہ ہیں، فوج ہیں، جانے کن کن کی قبروں کا کہہ رہا تھا۔ صبح اسے کسی سیانے کو دکھلاؤ۔ میرا تو جی ہولا جا رہا ہے۔ ‘‘
ابو نے کہا :’’ کہاں ہے وہ؟‘‘۔
’’ کمرے میں بیٹھا ہے۔ گم سم سا۔ بس چھت کو تک رہا ہے۔‘‘
ابو نے مجھے آواز دی:’’فرخ ! ادھر آؤ۔‘‘پھر کہا:’’کہاں گئے تھے بیٹا؟‘‘۔
میں نے کہا:’’ابو ! گولکنڈہ قلعہ دیکھنے گیا تھا۔ ‘‘
’’کوئی خاص بات؟‘‘۔ابو نے پوچھا۔
’’نہیں ابو!۔ میں نے تاریخ کی کتاب میں پڑھا تھا کہ قطب شاہوں نے یہ قلعہ بنوایاتھا۔ ان کے چوتھے بادشاہ محمد قلی قطب شاہ نے۔ حیدرآباد شہر کی بنیاد رکھی اور چارمینار اسی کا بنوایا ہوا ہے۔ ہمارے استاد بتلارہے تھے کہ یہ شہر محبت میں آباد ہوا۔ محبت سے آباد ہوا۔ محبت ہمیشہ آباد کرتی ہے۔ کسی کو برباد نہیں کرتی۔ لیکن گولکنڈہ پر مغلوں نے حملہ کر دیااور اسے ویران کر دیا۔‘‘ میں رکا ، پھر دھیمی آواز میں
کہا:’’میں
قطب شاہوں کے مقبروں کو بھی گیا تھا، وہاں چھ بادشاہوں کے مقبرے ہیں لیکن ساتویں بادشاہ کا مقبرہ ادھورا ہے۔‘‘
ابو نے کہا:’’ ہاں بیٹا! انہیں قید کر کے دولت آباد لے جایا گیا۔ وہ وہیں دفن ہیں۔‘‘ پھر مجھے سینے سے لگا لیا۔
میں نے آہستہ سے کہا:’’ ابو مجھے سیر اور سفر اچھا لگتا ہے۔ میں گھوم پھر لوں؟۔ ابھی تو اسکول کی چھٹیاں ہیں۔‘‘
ابو نے کہا:’’ہاں، لیکن بتلاکر جایا کرو۔ تمہاری ماں ہلکان ہوتی رہتی ہے۔ اپنے آنچل کی چھاؤں میں پالا ہے نا۔ لیکن تم دھوپ کے لیے پیدا ہوئے ہو۔ سنولادینے والی دھوپ کے لیے۔ ‘‘ پھر میری پیٹھ پر
ہاتھ رکھ کر دیر تک خلا میں دیکھتے رہے۔
ابو نے اپنے ڈیپارٹمنٹل اسٹور سے مجھے ایک بائیسکل دلوادی، اور اس طرح میرے پر تو کھل گئے لیکن مجھے شاید کسی اور چیز کی تلاش تھی، جب ہوا چلتی تو میں اپنے آنگن میں کھڑا ہو جاتا، ہوا مجھے چھو کر گذرتی ۔کبھی دھیرے سے اورکبھی زور سے۔ کبھی سر پر سے گذر جاتی۔ میں سوچتا اس کا دامن تھام لوں۔ مگر وہ میرے ہاتھ نہ آتا۔ مجھے ہوا کی آوارگی اچھی لگتی تھی۔ میں سوچتا رہتا کہ کتنی عجیب ہے ہوا بھی۔ صبح دم نکہتِ بادِ بہاری بن کر کلیوں کو ہلکے سے چوم کر جگا دیتی ہے اور شام ڈھلے جو پھول دستِ گلچیں سے بچ گئے، جن کے مقدر میں نہ کسی کی سیج ہو نہ ماتھا، نہ جنازہ ہو نہ مزار ، انہیں اپنے تیز ناخنوں سے نوچ کر رزق زمیں بھی کر دیتی ہے۔ کبھی ناؤ کو آہستہ روی سے کنارے پہنچا دیا تو کہیں سفینوں کو غرقاب کیا۔ صحراؤں میں بگولوں کا رقص بن کر ابھری تو کبھی دامن بھگو کر برہن کو ساون کی خبر پہنچا گئی۔ ہوا کے سر پر چھت نہیں ہوتی لیکن کمبخت کسی کے سر پر چھت سلامت بھی نہیں دیکھ سکتی ۔ پھر بھی اس کی آوارگی مجھے اچھی لگتی تھی کہ پلک جھپکتے میں سارے جہاں کی سیر کرتی پھرتی ہے۔ چار برس گذر گئے ۔ یہ کیسے گذرے ۔ ہم پر کیا گذری ۔ حیدرآباد میں کیا کیا انقلاب آئے ۔ آسمان نے کیسے کیسے رنگ دکھائے ۔ یہ ایک طویل داستان ہے۔ یہ درست ہے کہ آزادی کے بعد ستمبر 1948میں انضمامِ حیدرآباد تاریخ کا خونچکاں باب ہے، لیکن 1956میں لسانی بنیاد پر ریاستوں کی تقسیم نے ریاستِ حیدرآباد کو ہندوستان کے نقشے سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا۔ تہذیب کے تارو پود بکھر گئے۔ لاکھ کے گھر خاک ہوئے۔ جن کی ڈیوڑھیوں میں ہاتھی جھولتے تھے، ان فیل خانوں میں افلاس اور فلاکت نے بسیرا کر لیا۔ وہی ہوا، ایک طرف نوحہ گرساعتوں کی ردا اوڑھ کر غمزدہ غمزدہ سے چلتی تھی تو دوسری طرف خوشی کے شادیانوں کے سُر سنائی دیتے تھے۔ حیدرآباد میں ملازمین کی اکثریت تیلگو زبان سے ناواقف تھی، انہیں آندھرائی علاقوں میں، کرناٹک میں یا مرٹھواڑہ میں تبادلہ کر کے بھیج دیا گیا۔ حیدرآباد پر آندھرائیوں کا تسلط ہو گیا۔اگالدان ‘ گلدان ہو گئے۔ میرے والد کا تبادلہ گنٹور کر دیا گیا۔ان کی سروس بُک تلف ہو گئی۔چارسال انہیں کوئی تنخواہ نہیں ملی۔ سارا اثاثہ بازار بُردہوگیا۔ ہماری زبان فاقوں کے ذائقے سے آشنا ہو گئی۔ ملبوس میں پیوند کی گنجائش نہیں رہی۔ کڑی دھوپ تھی اور ہم تھے۔ میں انٹرمیڈیٹ کامیاب کر چکا تھا۔ اکتوبر میں ایئر فورس سلیکشن بورڈ کا امتحان کامیاب کیا۔ جنوری 1961میں ٹریننگ کے لیے کانپور بھیج دیا گیا۔ میں نے گھر کے اطراف فصیل تعمیر کردی کہ پھر بھوک داخل نہ ہو۔ گولکنڈہ قلعہ کی فصیلوں کی طرح۔ارادوں سے زیادہ مضبوط۔ عزائم کی طرح
بلند۔ میں ایر فورس میں تھا اور ہوا میری ہمرکاب تھی۔
ٹریننگ کے لیے میری پوسٹنگ کانپور کر دی گئی۔ یہ میرا پہلا سفر تھا۔ خوش آئند خوابوں کے ساتھ، ماضی کی یادوں کے ساتھ۔ تین ہینے تو ہمیں کیمپ چھوڑنے کی اجازت نہیں تھی، ان تین مہینوں میں میری ہیئت بدل گئی تھی۔ فوجی تربیت نے مجھے یکسر بدل کر رکھ دیا تھا۔ چال میں تمکنت، نپے تلے قدم، فراخ سینہ، بھرے ہوئے سڈول بازو، پنجے میں آہنی گرفت، سرخ و سفید رنگ، پُر وقار چہرہ۔ اب میں اٹھارہ برس کا تھا۔ عہدہ کا فخر اور جوانی کے نشہ نے مجھے بدل کر رکھ دیا تھا۔ سب کچھ بدل گیا تھا، لیکن میری آنکھیں نہیں بدلی تھیں۔ خواب دیکھنے والی آنکھیں۔ کہانیاں سنانے والی آنکھیں۔ نئے سفر اور
نئی زمینوں کو تلاشتی آنکھیں۔۔
کانپور میں مال روڈ بڑی خوبصورت جگہ تھی۔ سبک خرام ، چلنے والے کو کچھ دیر رک عیدِ نظارہ کی دعوت دینے والی۔ مارچ کا مہینہ ختم ہونے کو تھا، لیکن ابھی سردی باقی تھی۔ شمال میں گرما کا موسم اپریل سے شروع ہوتا ہے۔ اور جولائی میں ساون کی نوید ملتی ہے۔ میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ لڑکیوں کو بے باکانہ سائیکل چلاتے ہوئے دیکھا۔ چست قمیص شلوار میں ملبوس گلے میں ڈوپٹہ آدھا آگے کو ، آدھا پیچھے کو۔ کسی کی دو چوٹیاں موڑ کر پیچھے کو بندھی اور کسی کی آگے کو سینے پر۔ ایک تو زبان رسیلی ، دوسرے کھڑی بولی۔ یوں بھی جوانی سارے وجود میں سر رس گھول دیتی ہے۔ میں نیلے سرج کے بلیزر ، جیب پر سنہرا انڈین ایر فورس کا مونو گرام، مونوگرام پر پرواز کرتا ہوا عقاب ، سفید قمیص، چمکتے ہوئے ایر فورس کے بٹن، چھوٹے مگر سلیقے سے تراشے ہوئے بال۔ دونوں پیروں پر بدن کا وزن برابر تقسیم کیا ہوا۔ مجھے احساس تھا کہ نظریں مجھے چھو کر گذررہی ہیں، مجھے ابھی لمس کی خوشبو کا احساس نہیں تھا۔ لیکن پہلی مرتبہ لگا کہ نگاہ کی بھی خوشبو ہوتی ہے۔ ہوا کا ہلکا سا جھونکا مجھے چوکنا کر گیاکہ کمبخت ہوا میرے وجود
میں احساس کی اس خوشبو کو کہیں اورنہ پہنچادے ۔ پھر میں کیمپ کی طرف چل پڑا۔
مجھے لکھنؤ دیکھنے کی بڑی خواہش تھی۔ لکھنؤ کی تہذیب، آدابِ شہر نشینی ، رکھ رکھاؤ، وضع داری، مروت، زبان ، بیان، ذوق، شوق، شعر گوئی، محاورے، ضرب الامثال، روزمرہ، عادات، اطوار، ذائقہ، لباس ، رنگ، سلاست، فصاحت، بلاغت، نکتہ سنجی، نکتہ رسی، نکتہ چینی، ادب ، حفظِ مراتب، بہت کچھ سن رکھا تھااور اب تو پر بھی کھلے تھے۔ عبد الحلیم شرر نے بھی آتشِ شوق کو ہوا دینے میں کوئی کسر نہ چ
چھوڑی تھی۔ ابھی جوش صاحب کی یادوں کی بارات منظر عام پر نہیں آئی تھی۔
مجھے یاد نہیں کہ میں کس مہینے اور کن چھٹیوں میں لکھنؤ گیا تھا۔ مگر گیا صرف دو دن کے لیے تھا، بلکہ اس سے بھی کچھ کم۔ چار باغ ریلوے اسٹیشن سے باہر نکلا ہی تھا کہ ایک تانگہ آ کھڑا ہوا۔ اس انداز سے جھک کر آداب بجا لایا جیسے کسی دربار میں آداب کر رہا ہو اور پھر ’’حضور تشریف فرما ہوں۔ جہاں مقصود ہو سرکار کو پہنچا آؤں گا اور جو کہیے تو انتظار میں کھڑا رہوں۔ ‘‘ ابھی ان سے نپٹا ہی تھا کہ پہلو میں ایک خاتون کوئی پچاس کے پیٹے میں، سر آنچل سے ڈھکا ہوا، بالوں میں چاندی کی لکیریں ، چہرے پر متانت و شرافت کا نور، بید کی ٹوکری میں تازہ سجے ہوئے سیب لیے مجھ سے مخاطب ہو ئیں:’’ میاں صاحب زادے! خوش رہیے، آباد رہیے، یہ سیب تو ملاحظہ فرمائیں۔ کشمیر کے خاص باغ کے ہیں۔ رئیسوں کا انتخاب اور ان کے ذوق کے قربان جائیے، ادھر ایک ٹکڑا دہن میں رکھا نہیں کہ مشامِ جاں کو معطر کر گیا۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے، باغِ ار م کے سیب کا ذائقہ ہے۔ ذرا سرخی تو دیکھیے ۔جیسے کوئی نازنین اپنے محبوب کے تصور میں شرم سے سرخ ہو گئی ہو۔ قسم ہے جنابِ امیر کی، بس آپ ہی کے لیے شاخ سے ٹوٹے
ہیں۔‘‘
(جاری ہے۔۔۔۔)




***