allama-aijazfarruq
THANKS FOR VISITING
علامہ اعجاز فرخ








ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے
(راجکماری اندرا دھن راج گیر جی۔ حیدرآباد ی تہذیب کا ایک شاہکار مرقع )

کسی شہر کی تہذیب اور تمدن کا ایک گہرا تعلق موسم، فصلیں، اطراف و اکناف اور اس سے سواء کچھ شہر میں بود و باش اختیار کرنے والوں کی امنگوں اور اپنے آپ کو ظاہر کرنے کی خواہش سے بھی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بیرونی حکمران بھی رعایا پر اپنا اثر و نفوذ رکھتے ہیں کہ جیسے راجا ویسی پرجا۔ یہی کیفیت لسانیات کی بھی ہے۔ حیدرآباد کی تہذیب میں ترکی، ایرانی، عربی، مغل تہذیبوں کے ساتھ کاکتیہ تہذیب کا بھی اثر رہا ہے۔ چناں چہ لسانیات کے ضمن میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو اگر دلی سے چل کر گوداوری پار کر کے دکن پہنچی تو اس کے پیرہن میں کہیں مرہٹی کے رنگ اور کہیں تلنگانہ کے رنگ شامل ہوئے۔ ابراہیم قلی قطب شاہ کی شادی جب وجیا نگرم کی شہزادی بھاگیرتی سے ہوئی تو’’ زبانِ یارِ من تلگو و من تلگو نمی دانم ‘‘ والی بات تو تھی ہی، لیکن حسن و عشق کبھی زبان و بیان کے محتاج نہیں ہوتے۔ ان کی لسانیات ساری دنیا میں ایک ہوتی ہے۔ ازل سے آج تک اس زبانِ بے زبانی میں کوئی تبدیلی شاید نہیں ہوئی۔ اور پھر جیسے جی جان سے چاہا، اس کی زبان سے بیر کیسا؟ ۔ یہی وجہ ہے کہ حیدرآباد میں پہلے کبھی لسانی اور تہذیبی نہ تعصب رہا اور نہ ٹکراؤ۔ عوام کا بھائی چارہ تو تھا ہی۔ امراء بھی بلاامتیاز آپس میں اتنے گہرے تعلقات رکھتے تھے کہ سب ایک ہی خاندان کے فرد معلوم ہوتے تھے۔ چنانچہ راجہ دھن راج گیر جی، راجہ پرتاپ گیر جی، نواب خسرو جنگ، مہاراجہ کشن پرشاد، نواب قدرت نواز جنگ، سر سالار جنگ، یہ سب اتنے گھلے ملے تھے کہ مہاراجہ کشن پرشاد، دھن راج گیر جی کی صاحبزادی کے ساتھ جو اس وقت شاید دس بارہ برس کی رہی ہوں گی، کیرم بورڈ کھیلا کرتے تھے اور سالار جنگ نے راجکماری اندرا کی پہلی سالگرہ پر ایک عمدہ نسل کا ٹٹو (Pony)تحفہ میں دیا تھا، جس پر بیٹھ کر وہ اپنے باغ میں گھوما کرتیں۔ ان کی گورنس اور ملازمین ساتھ ساتھ ہوتے ۔ پھر جیسے جیسے وہ کچھ بڑی ہوتی رہیں، انہوں نے
ابراہیم خان سے گھڑسواری سیکھی اور کوئی 13برس کی عمر میں وہ ایک مشاق شہسوار بن چکی تھیں۔
یہ 1969ء کی بات ہے، ملک بھر میں غالب صدی تقاریب کا شہرہ تھا، ساحر لدھیانوی نے اپنی نظم میں کہہ دیا تھا:
غالبؔ جسے کہتے ہیں، اردو ہی کا شاعر تھا
اردو پہ ستم ڈھاکے غالبؔ پہ کرم کیوں ہے؟
ستم پیشہ سیاست دانوں کے کرم بھی شاید ستم ہی کی صورت گری ہوتی ہے۔ اس کا رازِ دروں تو مبصرینِ سیاست جانیں، میں تو ان رموز سے ناآشنا ہی رہا ہوں، سو آج بھی ہوں۔ بہر حال اس وقت میں انڈین ایر فورس میں تھا۔ شاید 25یا 26برس کے درمیان میری عمر تھی اور میں اپنی سالانہ دو مہینے کی چھٹی پر پٹھان کوٹ سے حیدرآباد آیا ہوا تھا۔ مجھے یہ خیال ہوا کہ غالب ؔ صدی کے ضمن میں ایک خو بصورت مشاعرہ ہونا چاہیے۔ محترمہ قمر طیب جی سے میری صاحب سلامت تھی، شمس آباد اس وقت مضافات میں تھا، ہر طرف سرسبز و شاداب امرائیوں کے ساتھ ساتھ انگور کے باغات نے اسے اور بھی دلکش بنا دیا تھا۔ کئی ایکڑ زمین کے بیچ قمر طیب جی کا بنگلہ اپنی طرزِ تعمیر کے اعتبارسے منفرد تھا۔ یہ بنگلہ پنڈت نہرو کو بھی بہت پسند تھا۔ اس کے عقبی سبزہ زار میں ایک مستطیل سنگ مرمر سے منقش حوض بنا تھاجس میں چھوٹے ہوئے فوارے پانی کی پلکی پھوار میں قوس قزح کے رنگ بکھیرتے تھے، لیکن چاندنی رات میں یہ فوارے نہ جانے کیسے سنہری مائل ہو جاتے کہ یہ خطہ زمین ہی کا نہیں
لگتا تھا۔
میں نے قمر طیب جی سے مشاعرے کا ذکر کیا تو وہ مان گئیں۔ میں اس میں کوئی ندرت چاہتا تھا۔ سو طے یہ ہوا کہ یہ مشاعرہ جب چودھویں کا چاند اپنے شباب پر ہوتو سبزہ زار پر یہ محفل منعقد ہوگی اور اس میں چودہ شاعر کلام سنائیں گے۔ صدارت راجہ دھن راج گیر جی کی ہوگی۔ میں راجہ صاحب سے واقف نہیں تھا۔ قمر طیب جی سے راج کماری اندرا کے بہت قریبی تعلقات تھے۔
انہوں نے یہ مہم اپنے سر لے لی کہ وہ راجہ صاحب کو صدارت کے لیے آمادہ کرلیں گی۔
جہاں تک مجھے یاد ہے اس مشاعرہ میں تیرہ شعراء کو میں نے مدعو کیا تھا ۔ چودہویں شاعر کے لیے قمر طیب جی نے کہا تھا کہ اس کا انتخاب وہ کر لیں گی۔ چناں چہ مخدومؔ ، سلیمان اریبؔ ، شاذ تمکنتؔ ، خورشید احمد جامیؔ ، ترقی پسند شعراء خواجہ شوقؔ ، اوجؔ یعقوبی، طالب ؔ رزاقی، معز الدین ملتانیؔ ، روایتی غزل گو شعراء اور ان کے علاوہ متین سروشؔ ، خیرات ندیمؔ ، زبیر رضوی، صلاح الدین نیرؔ شامل تھے۔ جانے کس کی سفارس پر میں نے اس وقت کی ایک نو آموز اور نو خیز شاعرہ ثریا مہر کو بھی شامل کر لیا تھا۔ میری فہرست مکمل ہو چکی تھی۔ قمر طیب جی نے شعراء کے لیے پُر تکلف عشائیہ بھی ترتیب دیا تھا۔ سبزہ زار پر بے داغ سفید چاندنی کا فرش، مقابل میں ایک چھوٹا سا مرصع تخت ، اس کے پہلو میں دونوں طرف شعراء کے بیٹھنے کے لیے حیدرآبادی تہذیب کے مطابق سفید چاندنی اور گاؤ تکیے۔ جہاں شاعر کو کلام سنانا تھا ، وہاں ایک لیمپ پوسٹ رکھ دیا گیا تھا۔ اس کے سوا اور کوئی عارضی روشنی کا اہتمام نہیں تھا۔ صرف بھرپور چاندنی تھی۔ سامعین کی فرشی نشست میں اگلی صف میں لڑکیاں، ان کے پیچھے خواتین، آخر میں حضرات۔ البتہ لڑکیوں کے ہاتھ میں ڈائری ، کاپیاں اور قلم تھے کہ وہ اپنی پسند کے شعر لکھ لیں ۔ نہ جانے لڑکیاں شعر کیوں لکھا کرتی تھیں ، کس موقعہ کے لیے اور کس کے لیے، یہ ایک پہیلی ہے جس کا حل شاید سب جانتے
ہیں ، لیکن کوئی بوجھتا نہیں۔ کبھی کبھی پہیلی کو پہیلی رکھنا ہی اچھا لگتا ہے۔ قمر طیب جی کسی عذر کی وجہ سے فرش پر نہیں بیٹھ پاتی تھیں، ان کے لیے کرسی تھی، لیکن اسی کے پہلو میں ایک اور کرسی بھی رکھی تھی۔ جب سارے مہمان آ چکے تو میں نے دیکھا قمر طیب جی کے ساتھ ایک اور خاتون خراماں خراماں سبزہ زار پر چلی آ رہی ہیں۔ سفید ساڑی میں ملبوس ، رنگت ایسی جیسے کچے دودھ میں سیندور گھلا ہوا ہو۔ سر وقامت اس پر ستم زلف دراز، کشادہ پیشانی ، روشن آنکھیں، جھکی ہوئی پلکوں کی چلمن، ستواں ناک میں ہیرے کی لونگ ، گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ، جیسے ابھی غنچہ کھلا ہو اور پنکھڑی نے کم کم کھلنا ان ہی لبوں سے سیکھا ہو۔ مناسب اور تراشا ہوا کسی سنگ تراش کا شاہکار سراپا، مخروطی انگلیاں حنائی تو نہیں تھیں ، لیکن قدرت نے بڑی فیاضی سے اسے دستِ حنا کی رنگت دی تھی۔ انہوں نے ہاتھ میں ایک انگوٹھی پہن رکھی تھی، جس پر چھوٹا سا کنول کا پتا تھااور اس کے بیچوں بیچ ہلکے سنہری اور سفید کے درمیانی رنگ کا سڈول موتی جڑا تھا۔ کبھی کبھی کوئی لٹ رخسار پر جھول جاتی تو لگتا کہ خوشبو کی اسیر ناگن رخِ گل کو چومنا چاہتی ہے اور وہ دھیرے سے اس لٹ کو ہٹا دینا چاہتیں تو لٹ کچھ اور شوخ ہوجاتی۔ میں مبہوت سا تکتا رہا اور چپ تھا۔ حسن مکمل سامنے ہو تو مقابل کو چپ لگ جاتی ہے۔ یہی حسن کی سب سے بڑی تعریف بھی ہے اور خراج بھی۔ اس رات جیسی چاندنی نکھری تھی ، ایسی میں نے زندگی بھر کسی Super Full Moonمیں نہیں دیکھی۔ نہیں معلوم چاند کس سے روشنی خیرات مانگ رہا تھا اور کون فیاضی سے لٹا بھی رہا تھا۔ تب بیگم قمر طیب جی نے سکوت توڑتے ہوئے کہا:’’یہ ہیں مشاعرے کی چودہویں شاعرہ ۔ راجکماری اندرا دھن راج گیر جی‘‘۔ رات گذرتی جا رہی تھی اور میں چاہتا تھا کہ آہستہ گذرے۔ نیم شب کو جب میں نے مخدومؔ کو آواز دی کہ
وہ کلام سنائیں تو مخدوم لہک اٹھے۔
پھر چھڑی رات بات پھولوں کی
رات ہے یا برات پھولوں کی
آپ کا ساتھ ، ساتھ پھولوں کا
آپ کی بات ، بات پھولوں کی
انھوں نے اور بھی غزلیں سنائیں۔ لیکن جب ان سے ان کی نظم ’’چارہ گر‘‘ کی فرمائش کی گئی تو مخدومؔ نے ’’اک چنبیلی کے منڈوے تلے‘‘ کچھ اس انداز سے سنائی کہ پھر نہ وہ چاند نکلا نہ نظم ایسی سنائی دی۔ حتی کہ وہ رات بھی آئی کہ مخدومؔ ’’سو گیا ساز پہ سر رکھ کے سحر سے پہلے۔‘‘ مخدوم نے مجھ سے کہا کہ میں راجکماری اندرا دھن راج گیر جی کو کلام کی دعوت دوں۔ میں نے تھوڑے سے تعارف کے بعد اتنا کہا کہ ’’چاند کی کسی کرن نے چنبیلی سے شرماکر کہا، آؤ! ہم تم دونوں مل کر کسی سانچے میں ڈھل جائیں۔ جب یہ آرزو سانچے میں ڈھل گئی تو راجکماری اندرا دھن راج گیر جی بن گئیں۔ وہ آئیں ، وہ ٹھہریں، انہوں نے اپنی مطبوعہ کتاب کھولی ۔ "Partings in Mimosa" اور اس میں سے دو نظمیں سنائیں۔ مخدومؔ نے دونوں کا فی البدیہہ ترجمہ پیش کیا۔ یہ تھی راجکماری جی سے میری پہلی اور تاحال آخری ملاقات۔ ان کی انگریزی شاعری تو میں سن چکا تھا، لیکن کبھی ان کی نثر یا ان کے خیالات پڑھنے کا موقعہ نہیں مل پایا۔ غالباً 1997ء کی بات ہے، دکن کرانیکل نے اپنی ساٹھ سالہ تقریب کے سلسلے میں ساٹھ صفحات کا اخبار شائع کیا تھا۔ اس میں ان کا ایک مضمون "The King and I" شائع ہوا ۔ اس کے اقتباسات کا خاکہ ذہن میں رہ گیا، جس سے ان کی شخصیت ، فن اور فنکار کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ راجکماری اندرا کی عمر اس وقت کوئی تیرہ برس رہی ہوگی اور نومبر میں جاڑے کا موسم جسے دکن میں گلابی جاڑا کہا جاتا ہے، اپنے شباب پر تھا۔ راجکماری جب اپنے گھوڑے پر سوار صبح کی سیر کر چکیں تو انہیں اطلاع دی گئی کہ دن میں ٹھیک گیارہ بجے ان کے والد ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ وہ کچھ ٹھٹکیں کہ ایسا صرف اس وقت ہوتا تھا جب کسی غلطی پر ٹوکنا ہوتا یا سرزنش کی نوبت آتی۔ بہر حال جب وہ اپنے والد کے روبرو ہوئیں تو انہوں نے حسبِ عادت ان کے دونوں رخسار چومے ۔ طلائی پاندان سے گلوری منہ میں رکھ کر ان کے والد نے کہاکہ کل ٹھیک گیارہ بجے اعلیٰ حضرت سے ملاقات کرنی ہے۔ تم تینوں بچے یعنی اندرا اور ان کے دونوں بھائی وقت پر تیار رہیں۔ راجکماری اندرا ابھی کمسن تھیں۔ وہ ساڑی نہیں پہنتی تھیں۔ لیکن آدابِ شاہی کے تئیں انہیں روایتی انداز میں پیش ہونا تھا۔ چناں چہ ان کی والدہ نے اپنے ملبوسات سے کھلتے ہوئے زرد رنگ کی فرانسیسی شفان ساڑی کا انتخاب کیا اور اس کے ساتھ اپنے بلاؤز کو تراش خراش کرکے راجکماری کے لیے موزوں کردیا۔ہیرے ، زمرد، پکھراج سے مزین زیورات سے راجکماری خوب سج دھج گئیں۔ ان کا چہرہ خود زیور تھا۔ بھلا ان کو زیور کیا۔ بس اتنا ہوا کہ ہیروں کو آب و تاب بڑھ گئی۔ راجکماری کو ان کے اتالیق نے آدابِ شاہی سکھائے۔ میوزک روم میں اعلیٰ حضرت نواب عثمان علی خان کی قدآدم پُر شکوہ تصویر آویزاں تھی۔ انہوں نے اسے نظر بھر کر دیکھا تو محسوس کیا کہ رعب شاہی تو تھا ہی لیکن آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی ، جس میں ذہانت ، مقناطیسیت اور تحکّم ، سب کچھ تھا۔ دوسرے دن ٹھیک گیارہ بجے راجہ دھن راج گیر جی ہلکے سرمئی رنگ کی شیروانی ، چوڑی دار پاجامہ، موتیا رنگ کی پگڑی ، ہیرے کی گھنڈیاں ، داہنے ہاتھ کی انگلی میں زمرد کی انگوٹھی سے مزین برآمد ہوئے۔ ان کے دونوں بیٹے بھی ہم لباس تھے۔ عبد اللطیف شوفر نے رولس رائس کا دروازہ کھولا۔ راجہ صاحب نے سکریٹری سے کہا کہ وہ تحفہ میں دیے جانے والے پاندان کو ساتھ لے کر دوسری موٹر میں چلے آئیں۔ جب کنگ کوٹھی میں داخلہ ہوا تو راجکماری حیرت زدہ رہ گئیں کہ نہ چمن ، نہ سبزہ زار، نہ حوض، نہ فوارے، گیٹ سے محل تک سرخ بجری اور چبوترے پر ایک عارضی ترچھا سائبان ، جس کے نیچے صرف لکڑی کی ایک کرسی اور اس سائبان کے نیچے ایک شخص شیروانی اور رومی ٹوپی میں کھڑا تھا۔ راجہ دھن راج گیر نے خم ہو کر فرشی سلام کیا۔ ان کے پیچھے راجکماری اور ان کے دونوں بھائیوں نے بھی تقلید کی۔ پھر آگے بڑھ کر گیارہ اشرفیاں نذر گزرانی ۔ راجکماری اور ان کے دونوں بھائیوں نے بھی نذر پیش کی۔ اعلیٰ حضرت نے پر تجسس نظر سے دیکھا تو راجہ صاحب نے کہا :’’ سرکار ! یہ میرے بچے ہیں۔ یہ بڑی لڑکی اور یہ دونوں بیٹے۔‘‘ نظام نے بچوں سے نذر قبول کرنے میں توقف کیا تو راجکماری نے دھیمے لہجہ میں کہا کہ سرکار اگر ہماری نذر قبول کرلیں تو ہماری عزت افزائی ہوگی۔ نظام نے ہاتھ لگا کر ایک اشرفی اور چاند
چاندی کے سکوں کی نذر قبول کی اور پھر راجکماری سے پوچھا:’’ پڑھتی ہو؟۔‘‘
راجکماری نے کہا:’’جی سرکار!‘‘۔ بمبئی سے واپسی کے بعد محبوبیہ میں داخلہ لیا ہے۔‘‘
نظام نے دریافت کیا:’’کیسی لگی یہاں کی تعلیم؟۔‘‘
کہا:’’ سرکار! ابھی تو نئی نئی ہوں ۔ مانوس ہو جاؤں گی‘‘۔
پوچھا:’’ کس جماعت میں پڑھتی ہو؟۔ ‘‘
راجکماری نے کہا:’’ جی سرکار! جونیر کیمبرج میں۔‘‘
نظام نے خوش ہو کر کہا:’’ بہت خوب! میں اپنی ریاست میں تعلیمِ نسوان کی ترقی کا خواہاں ہوں۔ ‘‘ راجہ دھن راج گیر جی نے اپنے سکریٹی کے ہاتھ سے لے کر سونے کا پاندان اعلیٰ حضرت کو پیش کیا۔ منقش جالی کے درمیان تاجِ شاہی ، اندر سپاری، لونگ، الائچی، نرملی، جوز، جوتری، سب کچھ سونے کے بنے ہوئے تھے۔ نظام نے ہر چیز کو ہاتھ سے چھوا
اور پوچھا:
’’ کہاں بنوایا دھن راج۔‘‘
تو راجہ صاحب نے کہا: ’’ جی حضور! بنگلور میں۔‘‘
نظام نے کہا:’’ ہم اسے جوبلی کی میوزیم میں رکھوائیں گے۔ ہم تمہارے اس تحفہ کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ جو ایک اعلیٰ ذوق
کا مظہرہے۔‘‘
اس کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی آمد تک جب بھی راجکماری اندرا اپنے والد کے ساتھ کسی بھی سرکاری تقریب میں شریک ہوتی تھیں تو نظام اپنے خصوصی مہمانوں سے ان کا تعارف کرواتے ہوئے کہتے تھے: ’’ اسے جب میں نے پہلی بار دیکھا تھاتو
یہ اتنی سی تھی۔ ‘‘
حضورِ نظام سے پہلی ملاقات اور دیرینہ روابط کے بعد راجکماری اندرا کا تجزیہ یہ تھا کہ ’’ میں نے پہلی مرتبہ جب نظام کو دیکھا تو حیرت میں پڑ گئی کہ کیا یہ وہی شخص ہے ، جس کی تصویر میں دیکھتی رہی ہوں۔ ان کی آواز پاٹ دار اور لہجہ تحکمانہ تھا۔ لیکن میرے لیے ان کے لہجہ میں شفقت تھی۔ دنیا کے متمول ترین انسان کو اتنے سادہ لباس اور سادہ طرزِ زندگی میں دیکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ ان کی ظاہری قامت تو جو تھی سو تھی، لیکن انسانوں کے درمیان وہ ایک بلند قامت شخصیت تھے۔ ان کی آنکھوں کی مخصوص چمک ، ان کی شخصیت کا خاصہ تھی، جس سے مقابل کو نظر ملانے میں تامل ہوتا تھا۔ ان کی زندگی اتنی سادہ تھی کہ پہلی ملاقات کے دوران انہوں نے تالی بجائی ، دوسرے ہی لمحہ ان کی صاحبزادی شہزادی پاشا ایک معمولی چینی کی پیالی میں چائے لے کر آئیں۔ نظام کثرت سے سگریٹ پیا کرتے تھے، اور وہ بھی حیدرآباد کی بنی ہوئی چارمینار سگریٹ۔ آج کبھی کبھی ا پنے میوزک روم میں آویزاں تصویروں اور اپنے البم کے کلکشن میں راجکماری اندرا، خسرو جنگ، قدرت نواز جنگ ، سالار جنگ ، پنڈت نہرو ، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور اپنی اس تصویر کو دیکھتی ہیں جو رائل اکیڈمی اور انگلینڈ کے ایک مصور نے اس وقت بنائی تھی جب وہ بہت چھوٹی سی تھیں۔ اپنی نشست گاہ کی کرسی سے ٹیک لگائے فانوس کی جھلملاتی روشنی اور ماضی
کے دھندلکوں کے درمیان رانی اندرا دھن راج گیر جی کے منہ سے بے ساختہ نکل جاتا ہے:
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے




***