allama-aijazfarruq
THANKS FOR VISITING
علامہ اعجاز فرخ




علامہ اعجاز فرخ

سب رنگ نہادہ ، شکیل عادل زادہ

محو حیرت ائینہ در آئینہ جیسے کہ میں
علامہ اعجاز فرخ، حیدرآباد – دکن

داستاں،اور وہ بھی داستاں طراز کی، اُس دشت نورد کی جس نے ذرّہ ذرّہ ریت چنی ہو اور ہر ذرّہ میں ایک کائنات دیکھی ہو‘ اس کائنات نے محرم راز سمجھ کر اپنا سب کچھ کھول دیا ہو‘ ظاہر بھی، باطن بھی،تب تو پھر اُس کی خاموشی میں سخن آرائی اور تکلم میں سکوت کی موسیقی صاف سنائی دیتی ہے۔میری کوتاہ نظری، کم آگاہی، علمی بے بضاعتی اور نادارئ قلم کے تئیں میں اظہارِ خیال کم کم ہی کیا کرتا ہوں۔کچھ اس لئے بھی کہ اب جبکہ نہ مصر ہے‘ نہ مصر کا بازار‘ کوئی سوت کاتنے والی بھی یوسف کے خریداروں میں نہ ہو تو نہ حُسنِ یوسف ہی انگشت تراش ہے نہ تاثیر زلیخائی باقی رہی اور کچھ یوں بھی کہ اظہارِ خیال انسان کے اندر کی کائنات تک رسائی چاہتا ہے۔ظاہری قد و قامت‘وجاہت‘طاقت کے تو پیمانے ہیں جس کا
حساب ہے۔اُس کی تو میزان بھی ہے۔لیکن جو اندر ہے وہ بے شمار ہے‘ بے حساب ہے۔کسی فنکار کے دروں سیر کی راہ صرف اُس کے فن کے وسیلے سے ہوسکتی ہے کہ اُس نے اپنے اندر کی کائنات میں کتنے شہر آباد کئے ہیں‘ بحروبر کا تناسب کیا ہے‘کتنی ندیاں گنگناتی ہیں‘کتنے آبشاروں کی گھن گرج ہے‘ بے انتظاربارشوں کے بعد سیل رواں خس و خاشاک کو بہا لے گیا تو کہا ں سبزے نے اپنی بساط بچھادی اور کہا ں پیڑ پودوں نے اپنے چوپال ڈال دی۔زاغ و غن بلبل و پپہیے نے کہا آشیاں بسالئے۔فن کار کی اس کائنات میں سیر کے لئے یہ ادراک بھی ضروری ہے کہ اک کانٹے کی کسک سے سیر بیاباں ہوجائے۔جہاں زخم زخم چلنے کا حوصلہ نہ ہو وہاں خار خار وادیوں کا تذکرہ کیوں ہو۔پتھروں کی بستی ہو اور دلِ گداز نہ ہو تو پھر خون رسے کیسے۔داستاں نگاری کے لئے روشنای کہاں سے آئے۔ ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے۔نیند گہری تھی بہت۔نیند کہیئے کہ اسے گردش ایام کے ماروں کی تھکن۔نیند کہیئے کہ اسے صورت حالات کے افعی کاپھن ۔نیند کہیے کہ اسے سانس کے چلنے کی چبھن۔خواب میں ایسے ہوا تھا محسوس جیسے ایوانِ تصور کے دریچوں پر کھڑا‘کوئی دستک سی دیئے جاتا ہے‘دل نے یہ سونچ کے کروٹ بدلی۔اجنبی ہوگا صدا دے کے چلا جائیگا۔پر نہ آواز رُکی اور نہ دستک ہی رکی‘ اور پھر تیز ہوائیں جو چلیں۔کھڑکیاں کھل
گئیں،جوکھل نہ سکیں ٹوٹ گئیں۔کسی کھڑکی سے چمکتا ہوا جگنو آیا۔ہائے حیرانئ دل۔ایک کرن چوم رہی تھی میری پیشانی کو ہائے بیتابئ دل۔اک کرن سارے وجود کومنور کرگئی۔ہر سمت ہر جہت روشنی ہی روشنی تھی۔سمت سے ماورا جہت سے ماورا پھر اسی روشنی کے بیچ سے۔ایک پیکر ابھرا۔کندنی بدن کے مسامات سے اُٹھتی ہوئی دھانی بھاپ ۔سماعت میں جوشؔ
کا سُر اُترا
یہ بھاپ نہیں چادرِ گل سر پر تنی ہے
کیا گل بدنی گل بدنی گل بدنی ہے
کب ایسا سراپا دیکھا تھا۔پیشانی روشن روشن ۔ابروؤں کی کھنچی ہوئی کمانیں۔پلکوں کی چلمن۔نیند سے بوجھل آنکھیں‘اوپر سے جوانی کا خمار‘اُٹھتی ہوئی رنگین گھٹائیں‘ستواں ناک‘کندنی رخسار‘یاقوت کے قلم سے تراشیدہ لب‘دانتوں سے عدن کے موتیوں کو خجالت اور دہن ‘کہ گویا عدن کی ساری بضاعت یمن میں ہو۔صراحی دار گردن‘سانسوں میں کوک تو سینہ میں قیامت کا تلاطم۔آگے کوپڑی ہوئی گھنے سیاہ بالوں کی چوٹی گویا خزانہ پر ناگ کا پہرہ۔چھلاسی کمر‘قامت زیبا‘تکلم میں بھنور‘کن آنکھوں میں جھجک کہ کوئی دیکھتا نہ ہو۔تبسم میں کنایہ کہ ’’جو مڑ کے میں بھی نہ دیکھوں تو دیکھنا اُس کو‘‘بے نیازی میں ادائے دلبری‘کئی رنگ لہرائے لیکن رنگوں میں ایک رنگ تیرے سادگی کا رنگ۔دل نے کہا’’کورا‘‘ لیکن قلم نے اپنی ٹھانی بے ساختہ لکھا ’’شکیل عادل زادہ سب رنگ کے حوالے سے‘‘ بس یہی کچھ ہوا تھا۔چند سطریں تحریر کردی گئیں۔تشنہ لبی نے بڑھ کے ساغر اٹھالیا تو یارانِ میکدہ میں دھوم ہوگئی کہ’’دو گھونٹ کا اے ساقی الزام نہیں لوں گا‘‘دُنیا بھر سے ٹیلی فون،ای میل، فیس بک،ایک تانتا سے لگ گیا اس سے اندازہ ہوا کہ شکیل عادل زادہ عشق پیشہ ہی نہیں معشوق صفت بھی ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ پیاس کودوام ہے پانی کو نہیں۔تشنگی باقی رہ جاتی ہے اگر کوئی پیاسا ساحل سے لوٹ جائے ،تب تو دریا بھی پیاسا رہ جاتا ہے۔کراچی سے سید عقیل جعفری عباس صاحب کا گرامی نامہ آیا۔لکھا تھا’’شکیل عادل زادہ کی شخصیت اور فن پر ایک ضخیم کتاب کی تیاری پیش نظر ہے‘ میں نے کہا ’’دیر آید درست آید‘‘ انہوں نے عادل زادہ صاحب سے اپنے دیرینہ روابط کا اور محبتوں کا ذکرکیا۔دُنیا کا کونسا حصہ ہے جہاں شکیل عادل زادہ کے گھائل نہیں ہیں اور تقریباً سب کا یہی حال ہے۔میرے ذہن میں بس یہی ایک سوال گردش کرتا رہا اور ہنوز باقی ہے کہ صاحبانِ نقد ونظر سے یہ چوک کیوں ہوگئی۔ کیا قصہ گوئی،داستان طرازی یاکہانی یا پھر آج کی زبان میں فکشن کو یکسر ادب سے خارج کردیا گیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر باقی کیا رہ جائے گا۔کسی انسان کی کوئی سوانح حیات نہیں ہوتی۔وہ تو اطراف کے کرداروں سے مل کر تشکیل پاتی ہے ورنہ کسی انسان کی کہانی کیاہے۔پہلی سانس سے آخری سانس تک انسان کہانی ہے اورکہانی انسان سے جسم وجاں کی طرح پیوست ہے۔کہانی نہیں تو خواب نہیں‘ خواب نہیں تو زندگی نہیں۔کہانی تو وجود میں رچی بسی رہتی ہے۔کہانی کار مشاہدے سے اور کبھی تخیل سے دوسرے انسان کے اندر سیر ذات کرکے تشنہ تمناوؤں اورآرزوؤں کے رنگ سمیٹ کر جب صفحہ قرطاس پر سجا دیتا ہے تب ساری کائنات کا درد سمٹ کر ایک نقطہ میں تبدیل ہوجاتا ہے یہی نقطہ پھیلے توکائنات ہے سمٹے تو سمت وجہت سے بے نیاز بھی ہے ماورا بھی۔یہی نقطہ ازل بھی ہے ابد بھی۔پھر اس کے بعد تو
صرف’ ھو‘ ہے۔
شکیل عادل زادہ سے میں صرف ایک بار مل پایا ہوں وہ بھی کچھ دیر کے لئے۔کبھی کبھی ایک پل نظر بھر کر دیکھ لینا صدیوں کی رفاقت پر بھاری ہوجاتا ہے۔انسان کا سب کچھ کھل جاتا ہے۔یہ پل اُس عمر بھر کی ہم نشینی سے زیادہ قیمتی ہے جہاں تمام عمر کے بعد بھی
دونوں اجنبی ہوں۔
انسان کے اندر کی کائنات تو ایک سربستہ راز ہے۔جتنا کھلتا ہے اُس سے کہیں زیادہ اور چھپ جاتاہے۔اتنی تہہ داریاں کہ ایک پرت اُلٹی جانے تک ہزار پرتیں اوربڑھ جاتی ہے وہ سب کچھ جو مشاہدے سے شعور اور لاشعور میں پنہاں ہوگیا ہو اور وہ بھی جو اندر کی تپش سے بھسم ہوکر اکسیر ہوگیا۔میرے اپنے خیال میں کسی انسان کے اندر کی سیر مشکل ہے‘ خلاء نوردی آسان ہے۔آتش فشاں سے اُبلنے والے لاوے کا تجزیہ کچھ اتنا مشکل نہیں لیکن جو اپنے ہی دل سے اُٹھے اپنے ہی دل پر برسے اُس کا حساب تو بے حساب ہے۔اندیشۂ سود وزیاں سے پرے۔تخلیق کے کرب کا کوئی پیمانہ نہیں۔خود شکیل عادل زادہ کے مطابق’’ میں آگ بھی نہیں تھا کہ جل جاتا‘پتھر بھی نہیں تھا کہ ٹوٹ کر بکھر جاتا‘لیکن میرے سینہ میں آگ لگی ہوئی تھی اور میرے پتھر آپس میں ٹکرارہے تھے ایک شور مچا ہوا تھا‘سمندر میں وہ شور نہیں مچتا جو آدمی کے اندر مچتا ہے۔صحرا میں وہ دھوپ نہیں پڑتی جس سے آدمی کا صحرا تپتا رہتا ہے اورآدمی یہ سب کچھ نہیں ہوتا۔سمندر‘پہاڑ‘صحرا اورآگ کے تمام خواص اس میں موجود ہوتے ہیں لیکن یہ سب کچھ نہیں ہوتا۔سمندر ‘پہاڑ‘صحرا اور آگ اپنے گرج،چمک،اپنے فشار کا اظہار کردیتے ہیں‘آدمی کا کچھ نظر نہیں آتا۔اور یہی کچھ اگر نظر آجائے تب پھر جوتار سے نکلی ہے وہ دُھن کچھ نہیں ہوتی دیکھنا تویہ ہوتا ہے کہ ساز پہ کیا گذری۔دھن‘ تار‘ سازندہ‘ ساز‘ آگ‘
تپش‘ لئے‘ راگ‘ دیپک‘ چنگاری‘
شعلہ‘راکھ‘برکھا‘برسات‘گیت‘سکھی‘ساجن‘ملہار‘ناؤ‘ندی‘مانجھی‘ اُس پار یہ داستان در داستان خود ایک ہزار داستان ہے اور کوئی ہزار شیوہ اس داستان ہزار داستان کے یوں بند قبا کھولے کے ہر گرہ کشائی کے بعد پھر قبا کچھ اور چست ہوگئی ہو تو شکیل عادل زادہ کو کوئی کیا
کہے؟ ’دل صاحبِ انصاف سے انصاف طلب ہے۔
تاریخ طبیعات میں Albert Einsteinکے نظریہ اضافت نے ایک انقلاب برپا پیدا کیا۔اتنی سے پہلی سوچ کے تار میں برقی رو کس رفتار سے سفر کرتی ہے اگرانسان اسی رفتار سے سفر کرے تو پھر تیز روی کا کوئی تقابل وتصور نہیں کیا جاسکتا بلکہ دونوں کو ایک دوسرے کے لئے ساکن ہیں۔اس نظریہ کے بعد ابStephen Hikingکا نظریہ Warm holeایک اور نئی جہت کی تلاش میں ہے۔ادب میں ان اصطلاحات کا صرف اور گنجائش ایک علاحدہ موضوع ہوسکتا ہے لیکن اس سے ہٹ کر یہ بات طئے ہے کہ خیال ماضی ومستقبل میں کس رفتار سے سفرکرتا ہے‘ کن کن وادیوں کی سیر کرتاہے‘ کن غیر مانوس جزیروں کی بازیافت کرتا ہے‘ کن اجنبی پگڈنڈیوں پر اپنی غیر مرئی نقش قدم ثبت کرتا ہے اورپھر اس سفر نامہ کو کس وسیلے سے پیش کرتا ہے۔یہ غور طلب ہے ۔ماضی کے کھنڈر کو آباد کرنا اُن عجائب گھروں کی سیر‘ نوادرات سے گفتگو‘ اُن کی کہانیاں‘قصے‘ واقعات‘ حکایات‘کرداروں کی واردات ان سب کی یکجائی اپنی تسلسل کے ساتھ ماضی کا حال میں اور حال کا ماضی میں سفر دراصل سالماتی سفر سے زیادہ نازک ہے جہاں اگر کوئی سالمہ غیر متوازن ہو تو خیال کی کائنات بکھر کر رہ
جاتی ہے۔داستان دراصل اسی محشر خیال کا دوسرا نام ہے۔
داستاں گوئی میں وہ ہنر مندی کے جو سننے والے یا قاری کو ہمہ تن گوش بنادے تو ساری داستاں آواز،سُر،گیت،لَے، تال، نغمہ ہوجاتی ہے اور ایسے میں خوش ذائقہ سماعت کے ساتھ دل اپنا مزہ چاہے،جاں اپنا مزہ چاہے۔ اس کیف و کم میں داستاں کا اپنا ذائقہ ہے‘لفظ کا اپنا ذائقہ ہے‘سماعت کا اپنا ذائقہ ہے۔وصف تو یہ ہے کہ شکیل عادل زادہ یا تو ہر سماعت کو ہم ذائقہ کرنے کا ہنر جانتے ہیں یاپھر ہر ذوقِ ذائقہ کا سامان فراہم کرتے ہیں یہی تو وہ ستم ہے کہ انہوں نے ایک ہی ناوک کو ہردل میں یوں ترازوکیا کہ’’یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے
پار ہوتا‘‘
بلبل ہزار داستاں کی بھی ایک داستان ہوتی ہے۔رات بھر شاخِ گل پر نغمہ سرائی اپنے جگہ لیکن اُسی شاخِ گل کا ایک کانٹا اگر بلبل کے سینہ میں چبھ کر گلاب کے لئے سرخی سینچے تب سرخئ گل تو نظر نواز بھی، دل فریب بھی،صبح کی پہلی کرن پیڑ تلے بلبلِ خوش نوا کی بے نوا ئی بھی دیکھے۔رخِ گل پر آنسو کی صورت قطرۂ شبنم بھی۔لیکن یہ کوئی داستاں نہ
ہوئی داستاں تویوں ہوئی کہ ؂
پھر صبا سایۂ شاخِ گل کے تلے
کوئی قصہ سناتی رہی رات بھر
شاید اس بات سے اتفاق ہو کہ کہانی،افسانہ،قصہ،ناول ان سب کی صورت الگ الگ سہی لیکن کسی نہ کسی رشتے سے ان کا تعلق داستان ہی کے قبیلے سے ہے۔ اس اعتبار سے کہانی کار،افسانہ نویس،قصہ گو، ناول نگار،داستان طراز یہ سب فنکار اپنے وجود کے اندر خود بھی داستان ہیں۔یہ داستاں اس لائق ہے کہ اسے ورق ورق پڑھیئے، سطر سطر پڑھیئے،لفط لفظ پڑھیئے، حرف حرف پڑھیئے اور ان سب سے زیادہ الفاظ کے درمیان خاموشی کے تکلم کا ذائقہ حکایت حرف و لفظ سے ماورا ہے اس کے لئے وہ سماعت چاہئے جو کلی چٹکنے کی
موسیقی کی رمز آشنا ہو۔
کہنے کو تو یہ آسان ہے کہ کسی انسان کے ظاہر و باطن میں تضاد نہیں۔لیکن شاید یہ محال ہے۔ہر ظاہر کے کئی باطن ہیں اور اُس کے رسائی کے لئے انسان کے دروں رسائی چاہئے۔ایک عجیب رسم چل پڑی ہے انسان کی قیمت اُس کی آرائش،زیبائش،سجاوٹ، فرش، قالین،فرنیچر، رنگ،روغن، پردے، الماریوں،تصاویر،میز،کرسیوں اوراسباب تفاخر سے ہونے لگی ہے گویا انسانی یہی کچھ ہے۔شکیل عادل زادہ نے اپنے تحریروں سے شہرآباد کئے ہیں۔یہ خواہش بھی فطری سی ہے کہ اُن کے ایوانِ ذات کے دروں ’’کیاکچھ ‘‘تک رسائی ہو لیکن یہ اتنا آسان بھی نہیں تھا۔ کمندیں ڈال کر بالا خانہ تک تورسائی ہوسکتی ہے لیکن نہاں خانہ تک نہیں۔ دربان ،پاسبان،نگہبان ،سب سد راہ در، دروازہ، دریچہ،کھڑکی،روشن دان، تنبی،جھروکا،درز، شگاف، روزن،کچھ تو ہو‘ لیکن لگتا تھا سب کچھ قلعہ بند ہے۔ جانے کہاں سے سُرابھرا۔دور کوئی گارہا تھا۔کوئی لَے تھی۔کوئی گیت تھا۔کوئی راگ تھا۔ایک لپک سی تھی۔شاید راگ راگنی کو تلاش رہا تھا۔لگتا تھا غمِ ہجراں سنبھالے نہیں سنبھل رہا ہے مگر ،ہَوا سنبھال رہی تھی۔شاید وہ اسی سمت آرہا تھا‘ وہ وارث شاہ کی ہیر گارہا تھا۔گارہا تھا کہ شعلہ سا لپک رہا تھا لگتا تھاکلیجہ اُس کا غم سے پھٹ رہا تھا۔ قریب پہنچا تو رُک گیا،سرگم تھم گئی،لیکن ہَوا بلک رہی تھی پھر ہر طرف خاموشی،سکوت،سناٹا۔وہ مجھے غورسے دیکھ رہا تھا گویا ایک ہی نظرمیں سب کچھ پڑھ لیناچاہتاہو۔بالوں کی سفیدی ،شکن آلودچہرہ،ہاتھوں کی جھریاں،پاؤں کے آبلے،زخموں کی کھرنڈ، صدیوں کی مسافت،پڑھنے کو بہت کچھ تھا۔سادہ ورق پڑھنے میں زندگی بیت جاتی ہے‘ اُس کی عمر چالیس بیالیس برس تھی ابھی اندر سے وہ آگ تھا اورراکھ کا بھید جاننا چاہتا تھا میں نے اُسے غور سے دیکھا۔ خد وخال پنجابی تھے۔لگتا تھا اُس کے اندر کوئی چیز ٹوٹ گئی ہے میں نے پوچھا’’کہاں کے رہنے والے ہو؟‘‘ کہا ’’کبھی منڈی بہاء الدین میں رہتے تھے جی۔ اب توجہاں سانجھ ہوجاتی ہے وہی شام کرلیتے ہیں۔‘‘ ’’کیانام ہے تمہارا؟‘‘ میں نے بڑی اپنائیت سے پوچھا۔ اُس نے رکتے رکتے کہا۔’’نام کیاہوتاہے جی! وہ تو ایک شناخت ہے‘ اُس کی اپنی‘جو کسی دوسرے میں ضم ہوجائے اُس کا اپنا کیارہ جاتاہے۔ گوندل قبیلے سے ہوں‘ ماں باپ نے حسن رضا نام رکھا تھا‘اب تو تن بھی اُس کا من بھی اور نام بھی۔ آپ توگیانی ہو بابو جی سب جانتے ہو پھر بھی پوچھتے ہوں۔‘‘ پھر خود ہی کہنے لگا۔’’یُگ بیت گیا۔چیت کے مہینے میں ملی تھی۔بیساکھ میں قریب آئی،ساون بھادوںیوں گذر گئے،پھاگن میں رات کو دن بناگئی،چیت میں بچھڑ گئی ،کہتے ہیں جو چیت میں بچھڑ جاتا ہے پھر کبھی نہیں ملتا پر میرا دل نہیں مانتا۔یہاں بہت لوگ آتے ہیں جی۔جب تک دردسہا جاتا ہے کھلی آنکھوں سے تکتے رہتے ہیں پر ہمیشہ کے لئے آنکھیں بندکرلینے سے پہلے ایک ہی لفظ کہتے ہیں’’کورا‘‘ پھر سوجاتے ہیں۔میں نے جی، برسوں میں اندر جانے کا راستہ کھوج لیا ہے لیکن وہ ہر کسی سے نہیں کھلتا آپ بھی دیکھ لوبابو جی شاید آپ سے کھل جائے پھر وہ مجھے دوسری طرف لے گیا چھوٹا سادروازہ تھا‘ بند تھا دیوار پرتختی لگی تھی’’سب رنگ‘‘میں نے جیسے ہی دروازہ پر ہاتھ رکھا دروازہ کھل گیا۔ بہت قدیم عمارت تھی۔بہت ہی پرشکوہ۔لیکن اتنی پر شکوہ عمارت میں سامان کچھ نہیں تھا۔وسیع ایوان میں صرف ایک قد آدم آئینہ تھا اور میں تھا۔کیفیت یہ تھی ؂
لمحہ لمحہ منکشف ہوتا ہوا جیسے کہ تو
محوِ حیرت آئینہ در آئینہ جیسے کہ میں




***