ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

کبھی کج کلاہوں کی بزم اور کبھی شب بیداروں کی انجمن میں ذکرِیار چلے والی کیفیت ہوتی تو یارانِ شب کا تقاضہ ہوا کرتاکہ میں اپنی سرگزشت لکھوں،لیکن میں ہمیشہ اس مطالبے کو طرح دے گیاکہ بھلا کسی اکیلے انسان کی کہانی کیا ہوتی ہے۔کہانی تو اسکے اطراف کے کرداروں سے مل کر تشکیل پاتی ہے۔ وہ کردار جو اپنی ذات میں خود عہد بھی ہوتے ہیں عہدساز بھی۔کبھی کبھی دیکھنے میں وہ ایک معمولی کردار نظر آتا ہے لیکن اپنی ذات کے نہاں خانوں میں تہہ در تہہ اتنی سربستہ کہانیوں کولئے لئے پھرتا ہے کہ ہر کہانی کے لئے ہزارہزارراتوں کی داستاں گوئی بھی کم پڑجائے۔میرے خیال میں دُنیا کی سب سے دلچسپ کتاب خود انسان ہے جسے ورق ورق پڑھیئے،سطرسطرپڑھیئے،لفظ لفظ پڑھیئے،حرف حرف پڑھیئے اور پھر بین السطور پڑھئیے تو پتہ چلتا ہے کہ جو لکھا گیا وہ تو کم کم ہے،جونہیں لکھا گیا وہ بہت کچھ ہے۔کبھی کبھی تو وہ بھی ہے جس کی پردہ داری میں انسان اپنے آپ سے بھی بہت کچھ چھپا لیتا ہے۔میں اپنے خوش ذوق قارئین سے یہ کہنے کی تو جراء ت رکھتا ہوں کہ حرف دراصل آواز ہی کی مکتوبی صورت گری ہے۔ایک حرف سے دوسرے حرف تک کبھی آواز کا یہ سفر مسلسل ہو تو یہ لفظ ہے،کبھی دونوںآوازوں کے بیچ خاموشی کا ایک لمحہ چپکے سے در آے تو یہ خاموشی آواز سے زیادہ گراں اور معنیٰ خیز ہوجاتی ہے۔ اہل علم اس آواز اور خاموشی کو حروفِ مقطعات بھی کہتے ہیں ۔عارفین کے تئیں راز دراصل اسی خاموشی کا دوسرا نام ہے جسے سرِنہاں کہئیے یا رازِ دروں کہہ لیجئے ۔ عام طور پرخاموشی کا یہی چہرہ در اصل انسان کے باطن کا چہرہ ہے۔آواز اور خاموشی دونوں کی اہمیت مسلم ہے اور دونوں کو برابر کا لہو چاہیے ۔ بہر حال یہ طئے ہے کہ طویل خاموشی کے بعدمختصر سی گویائی اورگویائی کے درمیان لمحہ لمحہ خاموشی کبھی کبھی گردش زمان و مکان کو بدل دیتی ہے، تب ایسی آوازکو بھی نور کہا جاتا ہے اورایسی خاموشی بھی محرمانِ حرف وظرف کے نزدیک نور ہی کہلاتی ہے۔اس نور کا ادراک عارفوں کی تہجدی ریاضت کا ثمر ہے،کم ظرف ناقدوں کی یاوہ گو ئی کا مقدر نہیں ۔ جن مشاہیر کی سوانح یا سرگزشت شرفِ قبولیت سے باریاب ہوئی،وہ دراصل اُن کی یادوں کی ریاست
ہے۔اس ریاست میں شہر،کوچے،محل، بارہ دریاں،بھول بھلیاں،آرائش،زیبائش،لباس،تلوار،ڈہال،نیزہ،سنان،تیر،کمان،خنجر،گپتی،ہلال،سیف،ریت گھڑی،گجر،جرس،کمخواب،ٹاٹ،چہلواری،بانات،بوریا،حصیر،قالین،شمع،چراغ،فانوس،ریت،پتھر،الماس،یاقوت،نیلم،پکھراج،لعل،
مرجان،مروارید،زمرد،اوس،شبنم،فوارہ،دریا،سمندر،دشت،بیاباں،صحرا،گلشن،شفق،دھنک،مہتاب،گھٹا،ناو،ندی،مانجھی،پتوار،برکھا،برہہہ
ہیں اور کرنسی سے ٹکسالی سکوں کے دور میں پہنچا دیتے ہیں۔ ایک ایسے دور میں جب قاتل شمشیربکف ہو،ساتھ ہی عیش نظارہ ہو شمشیر کا عریاں ہونا،ایسے میں بربطِ افسردہ کو جنبش دینا،خاموش جھیل میں کنکرپھینک کررقص آب کی تمنا کرنایاپھرشہرخموشاں میںیادوں کا چراغاں کرنا حوصلوں کی بات ہے۔جس میں سنگسار ہونے کی ہمت ہو وہ سوئی ہوی یادوں کو جگائے۔وہ تو جوشؔ ملیح آبادی ہی کا حق تھاکہ لمحہ لمحہ یادوں کی بارات سجائی۔وہ حقیقت میں رئیس تھے۔دل کے ،زبان کے،خاندان کے۔اُن کے ماحول میں رنگ تھا،کیف وکم تھا،کردار تھے اور پھر جوش کو وہ قدرت حاصل تھی کہ کسی مرحوم کردار کو بھی آئینہ ایام میں زندہ کھڑا کرکے آپ بیتی کہلوالیں۔جس شاعرآخرالزماں نے بوندا باندی سے موسلا دہار بارش تک کی تمام آوازوں کو اپنی شاعری میں برت کرخود اپنی لغت ایجاد کی ہواُسی کو یادوں کی بارات زیب دیتی ہے۔قاضی عبدالستار نے ’’داراشکوہ ‘‘ میں مغلیہ دور کو یوں زندہ کر دیا کہ دل بادل شامیانہ،روشن جھروکہ،مثمن برج،دیوانِ عام،دیوانِ خاص،فانوس،دوشاخہ سب جاگ اُٹھے۔میدانِ جنگ برپا کیا توہتھیاروں کی جھنکارصاف سنائی دے گئی۔حضرت خواجہ حسن نظامی رطب اللسان ہوئے تو شیریں سخنی نے آبرو پائی۔علامہ رازق الخیری کے موئے قلم نے دلی کی ایسی تصویر کھینچی کہ ،شمعِ تصویر پہ گرنے لگیں آآ کے پتنگ،۔عبدالحلیم شرر ؔ نے مرحوم لکھنؤ کی ایسی مرقع کشی کہ بہزاد و مانی کو پیچھے چھوڑ دیا۔میں ٹہرا ننگِ اسلاف،ہنرِبے ہنری میں یکتائے روزگار،علمی نادار،اپنے جہل سے مطلع،میرے پاس نہ اسم نہ طلسم کہ حیدرآباد کی سوندھی مٹّی کے بُت بول اٹھیں۔
سوندھی مٹّی کے بُت بول اٹھیں۔ یادوں کا بھی عجیب حال ہے۔کبھی دشتِ تنہائی میں ہوتا ہوں تو کوئی فکر نہیں،کوئی سونچ نہیں،کوئی خیال نہیں،نہ کوئی چاپ ، نہ سنچل ، نہ خوشبو،نہ مہک ، نہ ہوا کی سر سراہٹ،نہ آہٹ۔کوئی ڈسنے کو نہ ملے تو تنہائی کی ناگن خود کو پلٹ کر ڈستی ہوئی،ڈس کر پلٹتی ہوئی۔کبھی شام ڈھلے کوئی یاد راستہ بھول کر آنکلی تو اسکے نشانِ قدم کا سراغ پاکرچاند تاروں کی عماریوں سے قطار اندر قطار یادوں کے جھرمٹ نکل پڑے اور وہ بھی یوں کہ کسی کے بدن پر ستاروں کی کامدانی کا دوپٹہ،کوئی گل بداماں،کوئی گل پیرہن،،کوئی چاند کی کرنوں کا لبادہ اوڑھے،کوئی موتیا کی کلیوں سے ڈھکی ہوئی، کوئی جوہی چمیلی کے گجرے کلائیوں میں لپیٹے ہوئے،کوئی سرو قد کوئی بوٹا سا قد،کوئی سانولی،کوئی سلونی،کوئی جھیل کی طرح پرسکون،کوئی ندی کی طرح بل کھاتی ہوئی،کوئی موج کی طرح امڈتی ہوئی،کوئی میٹھے چشمے کی طرح گنگناتی ہوئی،کوئی شاخِ گل کی طرح لچکتی ہوئی،جھومتی ہوئی،جھوم کر سیدہی ہوتی ہوئی،کوئی کانٹے کی طرح چبھتی ہوئی،چھیڑتی ہوئی،سسکتی ہوئی،سسکاتی ہوئی،درد کی لہر اُٹھاتی ہوئی،موج در موج درد کو سنبھالتی ہوئی،تھامتی ہوئی،اپنی کسک سے سیرِ بیاباں کرواتی ہوئی۔۔۔یادیں ! ہزار ہزار راتوں کافسوں اور جاگتی آنکھوں کا خواب سمیٹے ہوئے۔لیکن ان یادوں کے بیچ وہ ایک یادجو دونوں ہتھیلیوں کے رحل پر اپنا چہرہ سجائے ہوئے،اپنے آپ سے بے خبر،خوشبو سے زیادہ سبک،خیال سے زیادہ نازک،راگنی سے زیادہ دلفریب،خواب سے زیادہ دلکش،بادہ بھی،پیمانہ بھی،مئے بھی مئے خانہ بھی،گیت بھی نغمہ بھی ،رنگ بھی دھنک بھی۔وہی ایک یاد تو ہے،جو تمام عمر وجود کے نہاں خانوں میں رہے ،جسے خیال چھو نہ پائے۔جسے کبھی یاد نہ کیا جائے ،جسے کبھی بھلایا نہ جائے۔
جرمنی کے اڈلف ہٹلر صاحب کا خبطِ حکمرانی عروج پر تھا۔نازیوں کی ہنگامہ آرائی اور اتحادیوں کی مدافعت زور وشور سے جاری تھی۔ حیدر آباد میں حکیم پیٹ برطانوی تیاروں کا سکوڈرن تھا۔ نظامِ دکن بھی برطانوی فوج کی اعانت کر رہے تھے۔شہر میں جگہ جگہ فضائی حملوں سے بچاو کے انتظامات جاری تھے۔یہ انتظامامات کنگ کوٹھی میں بھی کئے گئے تھے۔لیکن ابھی جاپان سلامت تھا۔ ۱۶ مارچ ۱۹۴۳ ء میری تاریخ پیدائش ہے۔میری دادی کہا کرتی تھیں کہ پیدئش کے بعد میں رویا نہیں لیکن میری آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔یہ خلافِ طبع تھا، سو مجھے اُلٹاکرکے میری ناک میں پیاز کا عرق ٹپکایا گیا تب میں رویا۔اب تو خیر پیاز کا عرق ایک علامت ہے لیکن آج بھی مجھے میری آنکھیں
بہت عزیز ہیں کہ یہ مجھے خواب اور آنسو کی دولت سے مالامال رکھتی ہیں۔میرا تعلق متوسط گھرانے سے تھاسو آج بھی ہے۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ یہ طبقہ اپنی شرافت اور وضع داری کا بھرم رکھنے میں ساری زندگی گزار دیتا ہے۔پشتینی روایات کا اسیر۔سرمایہ و افلاس،اُمید و بیم،خواب اور سراب کے دوراہے پرکھڑا حیراں حیراں، سو یہی سب کچھ میرا اطراف و اکناف اور میرا ماحول تھا۔ دس روپیہ ماہانہ کرایہ کا سفال پوش مکان، چار بڑے کمرے،دالان پیش دالان،سنگ سیلو کا فرش ،شطرنجی پر سفید چہلواری کی چاندنی،صدر میں قالین کی جگہ شولاپور کی سوتی چادر ، گاو تکیہ،پہلو میں رکھا ہوا کریم نگر کا ڈھائی سیری نقشی پاندان،ناگردان اور اُگالدان،سرخ صافی لپیٹے ہوئے کلی دار پان،خوبصورت سروتا۔ ایک طرف دودھیا لکڑی کی میزجس پر سلیقے سے رکھی ہوئی کتابیں، دوات، قلم ،کاغذ اور پیپر ویٹ۔ صحن مٹی کا تھالیکن دیوار سے لگے لگے موتیا ،گلِ عباس،گلاب کے پودے اور ان کے بیچ صدف کا پودا ہوا کرتا تھا جو بیشتر گھریلو علاج میں استعمال ہوتا تھا۔
جو بیشتر گھریلو علاج میں استعمال ہوتا تھا۔ میرے والد نہایت نرم خو،مرنجان مرنج،بذلہ سنج اور ادب دوست تھے۔ریاستی محکمہ بندوبست میں سرویر تھے۔ریاست کی سرحدی حدود کو سروے آف انڈیاسے ملحق کرنا اُن کے تفویض تھا۔سرخ و سفید رنگ،پُر رعب لیکن بشاش چہرہ،بڑی بڑی غلافی آنکھیں،جنھیں دیکھ کر خیال ہوتا جیسے کہانیاں سنا رہی ہوں۔نرم گفتار تھے،بڑی سے بڑی بات صاف کہدیتے تھے لیکن لہجے میں کو ئی نوک نہیں کوئی جھونک نہیں،اشارہ کنایہ میں بھی طنز سے گریز کرتے تھے کہ مقابل کو کاٹ نہ لگ جائے۔ادب اور شاعری ان کا ذوق تھا۔اساتذہ کے سیکڑوں شعر انھیں یاد تھے اور اپنی گفتگو میں شعر یا مصرعہ ٹانک کراسے شستہ یا شا ئستہ کرلینا ان کا اپنا سلیقہ تھا۔وہ مجھ سے بے پناہ محبت کرتے تھے لیکن میری ماں تربیت میں بڑی سخت گیر تھیں۔بچپن تو کھیل کا موسم ہوتا ہے وہ میرے کھیل کی دشمن تھیں۔نہ جانے انھوں نے کہاں سے سن رکھا تھا،جب بھی میں کھیلتاوہ کہتیں :
پڑھوگے لکھوگے تو ہوگے نواب کھیلوگے کودوگے توہوگے خراب میں کھیل تو نہیں پایا لیکن خراب ضرور ہوگیا۔نواب ہونا تو میرے مقدرہی میں نہیں تھا۔ میں ڈہائی سال کی عمر میں حرف شناس بنایا گیا،تین سال کی عمر میں سیپارہ رٹایا گیا،چار سال کی عمر میں اخبار پڑہوایا گیا،پانچ برس کی عمر میں انگریزی ،فارسی،حساب سکھایا گیا،چھ سال کی عمر میں ختمِ قران کے ساتھ چالیس آیتیں اور چہل حدیث ازبر کروائی گئیں۔سات برس کی عمر میں شعر پڑھنا سکھایا گیا، خوش نویسی کی تعلیم دی گئی اور اسکول میں داخل کروادیا گیا۔ سات سال میں بہت کچھ بدل گیا۔دوسری جنگ عظیم گذر گئی۔ہندوستان برطانوی تسلط سے آزاد ہو گیا۔ملک کا بٹوارہ ہو گیا۔ سلطنتِ آصفیہ کا پرچم سرنگوں ہوگیا۔ریاست حیدرآباد انڈین یونین میں ضم ہوگئی۔نظام حیدرآباد راج پرمکھ ہو کر رہ گئے۔جاگیرداروں کے ہوش اُڑ گئے۔زمینداروں کی زمینیں ہاتھ سے نکل گئیں۔لاکھ کے گھر خاک ہوئے۔جن کی دیوڑہیوں پر ہاتھی جھولتے تھے وہاں خاک اُڑنے لگی۔جگمگاتے فانوس گل ہو گئے۔بے چراغ اندھیروں نے ڈیرہ ڈال دیا۔
نوکرچاکر،سائیس،کوچوان،کہارمنشی،داروغہ،اصیل،مغلانی،ماما،خادمہ،کنیز،خواص، انائیں،ددائیں،قلماقنیاں،خواجہ سرا سبموقوف کردئے گئے۔افضل گنج کے پل پر کلاہ داروں کی ٹوپیاں فٹبال کی طرح اُچھالی گئیں۔صدر مجلس اتحادالمسلمین بی بی نگر کیس میں جیل بھیج دئیے گئے۔گھر،مکان،جائیداد،نام نشان،کاروبار بلکہ پرکھوں کی ہڈیاں تک چھوڑ کر ،جانے کس اُمید پر نقل وطن کرنے والے راتوں رات کوچ کرگئے۔لیکن ابھی میرے گھر کا دیوان خانہ روشن تھا۔وہی محفل یاراں تھی۔وہی یادوں کے چراغ تھے۔آنگن میں موتیا کی کیاری وہی خوشبو بکھیرتی تھی۔ میرے والد کے احباب پہلے میر،غالب، آتش ، سودا،ناسخ ،انیس، دبیر پر گفتگو کرتے تھے،اب فیض احمد فیض،مخدوم محی الدین،سجاد ظہیر،سردار جعفری،کیفی اعظمی بھی اُنکی گفتگو کا موضوع ہونے لگے۔ مخدوم رہا ہوچکے تھے۔ ایک شام وہ ہمارے گھر آئے۔رات بھر شعر سناتے رہے۔چارہ گر،چاندتاروں کا بن،غزلیں۔عجیب نغمگی تھی اُن کی شاعری میں،ایک طلسم تھا۔میرے والد نے مجھے اُن سے ملوایا۔اُنہوں نے مجھ سے کہا ،،کیسے ہو دوست؟،، اس کے بعد آخر وقت تک وہ مجھ سے ایسے ہی ملتے رہے،اتنے ہی پیار سے، اتنے ہی دلار سے۔
یہ سب کچھ پڑھنے کو تو چند فقرے ہی ہیں،لیکن ہر فقرے میں داستاں در داستان پوشیدہ ہے۔یہ داستاں تو زر نگار بھی ہے،خونچکاں بھی،میں زندگی کے۷۳ برس پورے کرچکا ہوں، ایک ایسے وقت میں یہ لکھ رہا ہوں جب،اُنگلیاں فگار اپنی،خامہ خونچکاں اپنا۔عجب نہیں کہ یہ داستاں سناتے سناتے یہ بھی گزر جائے کہ

زمانہ بڑے شوق سے سُن رہا تھا ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

***