allama-aijazfarruq
THANKS FOR VISITING
علامہ اعجاز فرخ




آئینۂ ایام۔ سترہویں قسط
سو گیا ساز پہ سر رکھ کے سحر سے پہلے
مخدوم مُحی الدین ۔ایک انسان۔ایک شاعر۔ایک عہد
فکر ا پنی نمو کے لیے ایک ترسیم چاہتی ہے۔ ایک ایسی ترسیم جو ترقی پذیر ہو یا کم از کم اس میں یکسانیت ہو۔ میں تو ایک ایسے
دوراہے پر کھڑا تھا جہاں قدیم و جدید کشمکش آمادہ تھے۔ شاید ایسے ہی موقعہ کے لیے غالب ؔ نے کہا تھا:
ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے ، کلیسا مرے آگے !

ایک طرف روایات کی پاسداری ، رسم و رواج کے بندھن، معاشرے کے تقاضے ، ہزار جور و ستم سہی، لیکن حرفِ شکایت نہ ہو۔ مقدر پر تکیہ۔ تودوسری طرف ترقی پسندی کے خوش آئند خواب، مطلق العنانی کے شکنجے سے نکلنے کی تدبیریں، انسان کو انسان کا غلام بنالینے کی ہوس سے نجات کے منصوبے، خون میں جولانی پیدا کردینے والے انقلابی نعرے، انگریزوں کی غلامی کا طوق اتار پھینکنے کا ولولہ، جاگیر دارانہ نظام سے چھٹکارا پانے کی جد و جہد ۔ میرا بچپن اور لڑکپن ان ہی افکار کی آماجگاہ تھی۔ دراصل یہ کچھ ہمارے گھر کے دیوان خانے کا بھی اثر تھا۔ میرے والد روایات کی پاسداری کے قائل تھے، حیدرآبادی تہذیب کے دلدادہ بھی۔ روشن فکر اور ترقی پسند بھی۔ ان کے احباب میں بھی ہمہ رنگی بھی تھی۔ آزادی سے پہلے ترقی پسند تحریک اپنا اثر دکھا رہی تھی۔ جامعہ عثمانیہ کی تعلیم نئی نسل کے لیے چشم کشا بھی تھی۔ نواب بہادر یار جنگ اقطاعِ عالم کے مسلمانوں کو یک جٹ کرنے کی تگ و دو میں تھے۔ وہ اگر چہ کہ خود لال گڑھی کے جاگیر دار تھے، لیکن وہ ایسے جاگیر دار نہیں تھے کہ ’’ان کے بازو بھی مرے، قوتِ بازو بھی مری‘‘ ۔ وہ ایک نیک سیرت انسان تھے۔ رحمدل، پاکباز، وضعدار، با مروت‘ سخی ، مہربان۔ وہ شعلہ بیان خطیب تھے ، لیکن ’’لاتُفسِدوا فی الارض‘‘ کے معنیٰ تفسیر اور شرحِ وبسط سے بخوبی واقف بھی تھے۔ ان کی نیت اور عمل میں کوئی کھوٹ نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ ایسے بیباک تھے کہ سیرت النبی ؐ کے ایک جلسہ میں انہوں نے آصفِ سابع کو موجود دیکھ کر خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’آ۔اے محمدِ عربی ؐ کے تاج پوش غلام ! میں تجھے بتلاؤں کہ آئینِ حکمرانی کیا ہے؟۔‘‘ سنتے ہیں کہ اس کے بعد آصفِ سابع کو آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی ۔ بہادر یار جنگ تک تو سب کچھ
ٹھیک تھا۔ ان کے بعد بہت کچھ بدل گیا، بہت کچھ۔
اُدھر عثمانیہ یونیورسٹی بھی آتش فشاں بنی ہوئی تھی۔ لاوا کمزور پرت کی تلاش میں پھوٹ پڑنے کو بے قرار تھا۔ پی وی نرسمہا راؤ بھی جامعہ عثمانیہ میں زیر تعلیم تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مرکزی ہال میں بڑے زور و شور سے ’’وندے ماترم‘‘ شروع کر دیا۔ یہ یونیورسٹی کے قاعدے کے خلاف تھا۔ وجہ نمائی کی نوٹس پر نہ صرف انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا بلکہ وندے ماترم پڑھنے پر اڑے رہے۔ یہ خبر جب پھیل گئی تو ناگپور یونیورسٹی نے ان کو ان کے ساتھیوں کو بقیہ تعلیم حاصل کرنے کی پیش کش کی اور وہ وہاں چلے گئے ، اور وہاں سے پونا یونیوسٹی، آریا سماج اور کانگریس تک ان کا سفر جاری رہا۔ باقی تو آپ
جانتے ہیں۔
اِدھر ترقی پسند تحریک نے جن کو متاثر کیا ،ان میں میر حسن، احسن علی مرزا، راج بہادر گوڈ، سرینواس لاہوٹی، اختر حسن، یہ کچھ نمایاں نام ہیں، لیکن ان کے پیر مغاں مخدوم محی الدین تھے۔ ہندوستان بھر میں پریم چند، کرشن چندر، ساحر لدھیانوی، علی سردار جعفری، احسان دانش، کیفی اعظمی، جاں نثار اختر، سجاد ظہیر، فیض احمد فیض، جواد رضوی، عابد علی خان، سلیمان اریب، محبوب حسین جگر، سب ہی اس تحریک سے متاثر تھے۔ میرے خیال میں اس تحریک کے پس پردہ محرکات، ان میں شامل ہونے والوں کی زندگی ، حالات، نفسیاتی عوامل سے واقفیت کے بغیر ان پر حرف گیری اور دشنام طرازی قرینِ عدل عناصر وعوامل کا جائزہ عدل گستری سے قریب کر دیتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ جائزہ لینا کسی انسان سے اتفاق کرنا ہے۔ تجزیہ دراصل ایک غیر جانبدارانہ عمل ہے، جس سے انسان کے اندر کے آدمی اور اس کے نہاں خانوں میں بند کتاب کے ابواب کھل جاتے ہیں اور اس سے انسان شناسی میں بہت مدد مل جاتی ہے۔ کسی انسان کو پڑھنے کے لیے آگہی اور عرفان کی ضرورت
ہوتی ہے کہ انسان میں ایک کائنات پوشیدہ ہے۔
مخدوم کا پورا نام ابو سعید محمد مخدوم محی الدین خدری تھااور پیدائش 2فروری 1908ء اندول ، ضلع میدک تھی۔ پانچ برس کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا۔ وہ اپنے چچا محمد بشیر الدین صاحب کے زیر پرورش آ گئے۔ بچپن ہی سے نماز ، روزے کے پابند تھے۔ ختم قرآن کیا۔ مدرسوں میں دینیات کی تعلیم پائی۔ مسجد کی جاروب کشی اور اذان ان کے فرائض میں داخل تھے۔ جہاں جہاں ان کے چچا کا تبادلہ ہوا ، مخدوم ساتھ رہے۔ اندول ، سنگاریڈی، میدک، پٹن چرو، دھرم ونت ہائی اسکول ‘ حیدرآباد اور آخر میں سنگاریڈی ہائی اسکول سے میٹرک کامیاب کیا۔ مخدوم جن مالی اور معاشی حالات سے دوچار تھے، ان حالات میں اعلیٰ
تعلیم کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا تھالیکن مخدوم نے عثمانیہ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔
بچپن سے جوانی تک اور پھر آخری سانس تک مخدوم عجیب حالات کا شکار رہے۔ ہندوستان میں اس وقت بیوہ کی دوسری شادی کا رواج نہیں تھا۔ خال خال اگر ہو بھی جاتی تو معیوب تھا۔ میرے خیال میں ہندوستانی مسلمان مذہب کے اعتبار سے تو اسلام کے پیرو تھے لیکن تہذیب کے اعتبار سے ہنوز وہ اس مقام تک نہیں پہنچ پائے تھے کہ جہاں اسلام انسان کو جرأت مند بنا دیتا ہے۔ مخدوم ابھی کمسن ہی تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا اور ان کی والدہ کی دوسری شادی کر دی گئی ۔ اس خیال سے کہ مخدوم پر کوئی اثر نہ پڑے ، یہ راز مخدوم سے چھپا رہا۔ بہت بعد میں یہ راز کھلا۔ اس کے بعد ان کی ماں ان کے ساتھ رہنے لگیں اور انہی کے گھر میں وفات پائیں۔ باپ کا سایہ نہیں، ماں کا آنچل نہیں۔ زبان فاقوں کے ذائقے سے آشنا ، آسماں دور، زمین تنگ۔ کبھی کبھی دسترخوان پر ان کے چچا احوالِ عالم سنایا کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے بتلایا کہ روس میں حکومت بدل گئی ہے ، اب وہاں امیر اور فقیر سب ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھاتے ہیں۔ ان کے اس جملے میں امیر ، فقیر، دسترخوان سب علامتیں تھیں لیکن مخدوم کے معصوم ذہن میں یہ بات گھر کر گئی کہ آخر وہ دسترخوان کتنا بڑا ہوگا اور اس پر کن کن انواع و اقسام کے کھانے چنے ہوئے ہوں گے۔ بھوک یہی خواب دکھلاتی ہے۔ یہی تصویر کشی کرتی ہے۔ اسی کو منزل بنا کر گامزن کر دیتی ہے۔ ہر خواب حقیقت نہیں ہوتا ، اکثر سراب ہوتا ہے۔ محمود و ایاز تو صرف نماز کی صف میں برابر کھڑے ہوتے ہیں۔ مالِ غنیمت اور حفظِ
مراتب میں غلام کی کیا مجال کہ وہ آقا کی برابری کر سکے۔ آخر کو غلام ہے، زر خریدہے۔
یونیوسٹی میں مخدوم صفِ اول کے طالبِ علم نہ کہلا سکے۔ان کے اندر کا آدمی جاگ چکا تھا۔ پروفیسر مناظر احسن گیلانی دینیات کے استاذ تھے۔ ماہرِ علم الکلام تھے۔ ملا صدر الدین شیرازی کی مشہور کتاب ’’اسفارِ اربعہ ‘‘ کا ترجمہ حضرت مناظر احسون گیلانی کے تبحرِ علمی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میں جب فلسفہ اور علم الکلام پڑھ رہا تھا تو اس کتاب کو سمجھانے والے اساتذہ کی تلاش میں مجھے کئی سال بیت گئے ۔ آخر کو پروفیسر یوسف علی صاحب نے میری مدد کی۔ پروفیسر مناظر احسن گیلانی جب کلاس روم میں درس دیتے تھے تو مخدوم ایسے ایسے سولات کرتے تھے کہ وہ عاجز ہو جایا کرتے تھے۔ بات دراصل یہ ہے کہ اسلام ‘ تسلیم ہے۔ تسلیم ‘ تصدیق ہے اور تصدیق ‘ یقین ہے۔ توحید، رسالت ، وحی، قرآن، واجب الوجود ، ممکن الوجود ، تکوینِ
خلقت، اسرارِ کائنات دلائل سے نہیں ، بلکہ یقین سے سمجھے جا سکتے ہیں۔
کچھ تو حاضری کی کمی اور کچھ مخدوم کی شرارتیں۔ اساتذہ سے چھیڑ چھاڑ، مخدوم فیل ہو گئے ۔ اس کے دوسرے سال وہ درجۂ دوم میں کامیاب ہو گئے۔دراصل مخدوم کو اپنے تعلیمی اخراجات کے لیے ٹیوشن کرنا پڑتا تھا۔ ایک ٹیوشن تو ان کا نہایت ہی دلچسپ تھا۔ ایک نواب صاحب کو کسی پری پیکر سے عشق ہو گیا ۔ وہ اسے خط لکھنا چاہتے تھے لیکن انہیں عشقیہ خطوط میں مہارت نہیں تھی۔ انہوں نے اس کارِ نیک کے لیے مخدوم کو ٹیوشن کے لیے رکھ لیا۔ اس وقت تک مخدوم کی مٹی ا بھی کوری تھی۔ انہوں نے انگریزی شاعر گوئٹے کے خطوط کی کتاب خرید لی۔ ان خطوط کے اردو تراجم نے نواب صاحب کی امید براری کی ہو یا نہیں ، لیکن مخدوم کو انگریزی ادب کا چسکہ ضرور لگ گیا۔ جن اساتذہ سے مخدوم کو استفادے کا موقعہ ملا ، ان میں ڈاکٹر
عبد الحق، پروفیسر وحید الدین سلیم ڈاکٹر
سید عبد اللطیف ، عبد القدیر صدیقی، مناظر احسن گیلانی، پروفیسر حسین علی خان، پروفیسر ہارون خان شروانی، ڈاکٹر محی الدین زور، خلیفہ عبد الحکیم، محمد الیاس برنی، ڈاکٹر یوسف حسین خان، پروفیسر عبد الواسع صفاؔ جیسے اساتذہ شامل ہیں۔ یہ دور جامعہ عثمانیہ کا زریں دور تصور کیا جا تا ہے۔مخدوم نے اپنی طالب علمی کے زمانے ہی سے شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔ وہ بحیثیت شاعر جامعہ میں مقبول تھے۔ ویسے ان کی بذلہ سنجیاں ، شرارتیں، جدت طرازیاں، مجلے کے سلسلے میں ان کی کاوشیں بھی کم نہیں تھیں۔ ان کے ہمعصر شعراء میں سکندر علی وجدؔ ، محمد علی خان میکشؔ ، صمد رضوی سازؔ ، جلال الدین اشکؔ ، عبد القیوم باقیؔ ، ڈاکٹر بدرالدین بدرؔ ، مہندر راج سکسینہ، شنکر موہن وارؔ ، علی حسنین زیباؔ ، رگھونندن راج سکسینہ، ان سب کی وجہ سے شعر وادب کی
فضا نہال اور بحال تھی۔
مخدوم بہت غیور انسان تھے۔ ان میں بھوک کی بہت تاب تھی اور اس بات کا احساس بھی کہ اگر پیٹ کا پتھر کھولوں تو بھوک بھیک مانگنے پر مجبور کردیتی ہے۔ جس دن انہیں مشقت کی روزی مل جاتی ‘ وہ اپنے پیٹ کا پتھر کھولنے پر آمادہ ہو جاتے ۔ بھوک ایک عفریت ہے۔ میں اِس وقت شکم کی بھوک کی بات کر رہا ہوں، ورنہ تو بھوک ایک علامت بھی ہے، استعارہ بھی۔ انسان کے اطراف ہمیشہ بھوک حصار ڈالے رہتی ہے۔ شکم کی بھوک، بدن کی بھوک، شہرت کی بھوک، قدآوری کی بھوک، زر وسیم کی بھوک، نفس کی بھوک، اقتدار کی بھوک، نظروں کی بھوک، کمبخت کی کبھی سیری نہیں ہوتی۔ تھوڑی دیر سیری ہے، اِس کے بعد پھر بھوک ہے، پھر پیاس ہے۔ بھوک انسان کو ذلیل و خوار بھی کرتی ہے، رسوا سرِ بازار بھی کرتی ہے۔ تاب و تواں ہو تو عروج پربھی لے جاتی ہے۔ ظرف ہلکا ہو تو زوال آمادہ بھی کردیتی ہے۔ بھوک انسان کو بھکاری تک بنا دیتی ہے۔ بلکہ میں کہوں بعض انسانوں کو تو بھیک کی بھی بھوک ہے۔ خوش پوش سہی ، دولت مند سہی، پُر آسائش رہائش سہی، قیمتی سواریاں
سہی، نام و نشاں سہی ، الگ الگ نام سہی ، لیکن بھیک کی بھوک قرار سے نہیں رہنے دیتی۔
ایک مرتبہ مخدوم پر 48گھنٹے کا فاقہ گذر گیا ۔ پاسِ شرافت، زبان بندی پر پابند کر رہی تھی۔ بھوک تاب کو آزما رہی تھی۔ خود داری ہونٹوں پہ تبسم سجائے رکھنے کا متقاضی تھی۔ نفس تماشائی بنا ہوا تھا۔ مخدوم اپنے چچا کے گھر پہنچے۔ ان کی صاحبزادی نے مخدوم کو نڈھال پاکر پوچھا:’’ خیر تو ہے ؟ ۔ آپ کی مسکراتی آنکھیں بجھی بجھی سی ہیں۔ ‘‘ مخدوم نے بمشکل کہا:’’ پانی پلادو۔‘‘ وہ پانی لے آئیں تو گلاس تھامتے تھامتے مخدوم کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ وہ بھانپ گئیں ۔ جلدی جلدی روٹیاں پکا کر دسترخوان بچھا دیا۔ دو چار نوالوں کے بعد مخدوم نے اپنی چچازاد کو دیکھا پھر کہا:’’ تم نے تکلیف کی۔‘‘ لڑکی نے کہا:’’ آپ روز آ جایا کریں ، میں تکلیف کر لوں گی۔ پتا نہیں آپ کہاں کھاتے ہیں، کیا کھاتے ہیں؟۔ کم سے کم گھر کا کھانا تو کھا لیا کریں۔ ‘‘
بعد کو اسی لڑکی سے مخدوم کی شادی ہو گئی۔
یہ تحریریں جو آئینۂ ایام کے عنوان سے پیش کی جا رہی ہیں، ان میں جن کرداروں کو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قارئین کو اس دور کے حالات اور معاشرے کا اندازہ ہو جائے اور کچھ یوں بھی کہ ابھرتی ہوئی پود پر کن عوامل کا اثر رہا۔ دنیا میں ہر شخص ایک کردار ہے۔ لیکن اس کردار کی تشکیل میں جن دوسرے کرداروں کا اثر ہوتا ہے، وہ بھی لائقِ غور ہے۔ یہ اثر کبھی راست ہوتا ہے اور کبھی لا شعوری طور پر۔ یہی اثر پذیری شخصیت کی تعمیر و تخریب کی اہم وجہ بھی ہے۔ اسی سے ذہانت کی ترسیم تشکیل پاتی ہے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے۔ مخدوم صاحب کو میں نے پہلی مرتبہ اپنے گھر ہی میں دیکھا۔ یہ آزادی سے پہلے کی بات ہے۔ میرے والد سے ان کی دوستی تھی۔ وہ کبھی کبھار رات میں آ جاتے تھے، کبھی راتوں رات چلے بھی جاتے تھے۔ کبھی ایک آدھ دن رک بھی جاتے تھے۔ اس کی وجہ تو اس وقت کسی کو معلوم نہیں تھی۔ ان کی روپوشی کی وجہ تو بعد میں معلوم ہوئی۔ میں نے ان کو پہلی مرتبہ جب تفصیل سے دیکھا تو اس وقت میں دوسری جماعت میں پڑھتا تھا۔ مخدوم کی روپوشی اور قید و بند سب گذر چکے تھے۔ نظام بھی اب مطلق العنان نہیں رہے تھے، بلکہ راج پرمکھ ہو گئے تھے۔ یہ 1950 ء تھی۔ ہم ایک سیلاب عبور کر چکے تھے۔ بہت کچھ بدل چکا تھا۔ گجر اور بہت کچھ بدل جانے کی خبر دے رہا تھا۔ حیدرآباد ہنوز خوابیدہ تھا۔ بیتے ہوئے ایام میں مگن، امروز و فردا کی تبدیلی سے بے خبر۔ اب تک آپ نے جن کرداروں کو ان تحریروں میں دیکھا ہے، ان سے ملاقات کی ہے، یہ ماضی کے اہرام میں حنوط شدہ لاشیں نہیں ہیں۔ یہ سب زندہ کردار ہیں۔ اپنے فکر و فن، طرزِ زندگی، تہذیب و معاشرت کی وجہ سے۔ میں خود بھی اپنی منزل کو بہت قریب پاتا ہوں۔ اسی لیے آئینۂ ایام میں وہ سارے عکس جمع کر رہا ہوں کہ ایک دور کا ، کچھ اس کے ماضی کا اور کچھ حال کا احاطہ ہو سکے۔ ورنہ میں کیا اور میری خودنوشت کیا؟۔ ترقی پسند تحریک کی آخری کانفرنس حیدرآباد میں منعقد ہوئی تھی۔ اس کانفرنس میں جناب سجاد ظہیر، المعروف بنے بھائی، کرشن چندر، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی، ملک راج آنند، جواد زیدی، اور بہت سارے چوٹی کے ادیب اور شعراء جمع تھے۔ جناب محبوب حسین جگر جو بعد کو سیاست اخبار کے روحِ رواں ہوئے، ان کی سرکردگی میں یہ کانفرنس ہوئی تھی۔ اس کانفرنس کی اہمیت اس لیے بھی تھی کہ اس میں یہ قرارداد منظور کر لی گئی تھی کہ چوں کہ ترقی پسند تحریک کا مقصد پورا ہوچکا ہے، اس لیے تحریک ختم کر دی جاتی ہے۔ اور یہ تحلیل کر دی گئی۔ کرشن چندر نے اس کانفرنس کی رپورتاژ لکھی تھی، ’’پودے‘‘۔ اگر چہ کہ ترقی پسند تحریک کے اس اجلاس میں مخدوم کا بہت اہم کردار تھا لیکن کرشن چندر نے اس میں مخدوم کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ جب ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اگر اس میں مخدوم کا تذکرہ کیا جاتا تو صرف مخدوم ہی رہ جاتا ۔ اور
دیگر سب ابھر نہیں پاتے۔
میری شخصیت پر مخدوم کی انسان دوستی اور شاعری کا اور وہ بھی غزل اور رومانی نظموں کا گہرا اثر رہا ہے۔ نظموں کا اثر تو شاید اس لیے کہ اس دور میں یہ نظمیں اپنے لب و لہجہ اور اسلوب کے اعتبار سے منفرد تھیں۔ نئے خواب اور نئے جہانوں میں سیر کروانے والی۔ نئی عبارتوں ، نئی اشارتوں اور نئی اداؤں سے روشناس کروانے والی۔ یہ بات بھی بعد میں میری توجہ کا باعث بنی کہ ہر فنکار پر اس کے عہد کے کسی بڑے فنکار کی کوئی نہ کوئی چھاپ کہیں نہ کہیں ضرور ملتی ہے۔ یہ شعوری اور لا شعوری دونوں وجوہات سے ہو سکتا ہے۔ اگر جوش ؔ پر انیسؔ کا اثر خال خال ملتا ہے تو عصرِ حاضر میں علی سردار جعفری، اختر شیرانی، جاں نثار اختر، معین احسن جذبی، اسرار الحق مجاز، مخدوم محی الدین اور بہت سارے دیگر نظم گو شعراء بھی جوش سے دامن نہ بچا سکے۔ بلکہ میں تو کہوں کہ یہ کیفیت فیض کے پاس بھی دبے پاؤں ملتی ہے۔ شاید اس لیے بھی کہ فیض دھیمے سروں میں سست خرامی سے ، آہستہ روی سے اور نرم آنچ سے دل پگھلانے کے ہنر آشنا تھے۔ میں شاید اسی تحریر میں نمونۂ کلام دے کر اپنے خیال کو ثابت کر دیتا لیکن وہ ایک ادبی چھیڑ چھاڑ ہو جاتی ، اس کے لیے ایک علیحدہ مضمون کی گنجائش باقی ہے۔ مخدوم کی غزل گوئی کی وجہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ وہ ایک کافر ادا، ستم پیشہ ، صنم آشنا، عشوہ طراز، جفا شعار، بت طناز سے عشق کر بیٹھے۔ اس کے حسنِ مغرور کا پندارِ انا کسی کو خاطر میں نہ لائے۔ سروقد ، زلف دراز، ابرو کمان، رنگت جیسے سفیدئ سحر نے شفق سے ہلکی سی سرخی مانگ لی ہو۔ بوجھل پلکیں ، آنکھوں میں تاتاری ہرنوں کی چمک ، پلکیں جو اٹھ گئیں تو مقابل کو ہوشیار کیا، جو اگر جھکی رہیں تو حوروں نے غُرفوں پر چلمن کا سلیقہ سیکھا ۔ خمِ گردن ، جس سے خطِ بہزاد و مانی شرمائے۔ سفید ساری میں ملبوس ، کانوں میں ہیرے کی بالیاں، گلے میں دُرِ غلطاں کی سفید سڈول موتیوں کی یک لڑی ، کلائیوں میں مرصع کنگن، انگلی میں کنول کے چھوٹے سے پتے کے بیچ آویزاں موتی کی آب وتاب جو ،،ِ صدف بند موتی ،،کے اچھوتے ہونے کی خبر دے۔ لب پر قدرتی تبسم کی لکیر جو اگر کبھی ہنس پڑیں تو کلیوں کو کھل اٹھنے کی گویا نوید مل گئی۔ میں نے انہیں پہلی مرتبہ 1969ء میں دیکھا تھا۔ میری عمر اس وقت کوئی پچیس چھبیس برس رہی ہوگی۔ وہ مجھ سے سات آٹھ برس بڑی تھیں، لیکن شاید وہ عمر کو قابو میں رکھنے کی فن آشنا تھیں۔ دو چار منٹ بات کرتے ہی غالبؔ کا یہ شعر میرے ذہن میں گردش کرنے لگا
بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر بات
عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا !! !
چند برس پہلے میں نے کسی مضمون میں ان سے اس ملاقات کا ذکر کیا تھا جواخبارسیاست میں چھپا تھا۔ ان کا ٹیلی فون آیا ۔ انہوں نے شکریہ ادا کیا اور گھر آنے کی دعوت دی۔ مجھ میں ڈوبتے سورج اور دن کے وقت بجھے بجھے چاند کو دیکھنے کی تاب نہیں، میں نہیں گیا۔ میں کسی ادبی اجلاس میں تقریر کر رہا تھا۔ وہ وہاں چلی آئیں۔ مجھے سننے کے لیے ، مجھ سے ملنے کے لیے ۔ وہ مجھ سے سات آٹھ برس چھوٹی لگ رہی تھیں۔ میں حیرت میں پڑ گیا۔ میں نے حسنِ انگشت تراش بھی دیکھا تھا اور اب تاثیرِ زلیخائی بھی
دیکھ لی۔
مخدوم اسی زلف کے اسیر ہوئے۔ وہ شاعر تھے، حسنِ التفات کو التفاتِ حسن سمجھ بیٹھے۔ وہ اپنی غزلوں سے محبوب کو رجھانا
چاہتے تھے۔ انہوں نے
اس کی خاطر کئی غزلیں کہیں۔ ’’پھر چھڑی رات بات پھولوں کی ‘‘۔ ’’چلو! چمن میں چلیں، جشنِ یادِ یار کریں‘‘۔ ’’رات بھر دیدۂ نمناک میں لہراتے رہے‘‘ ۔ ’’عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے‘‘۔ پھر وہ مشہور عام نظم ’’اک چنبیلی کے منڈوے تلے‘‘۔ اور بہت کچھ ، بہت کچھ۔ شاخِ گلاب پر نغمۂ بلبل ابلتا رہا۔ اسے خبر بھی نہ ہوئی کہ ایک کانٹا اس کے سینے میں
چبھ کر گلاب کے لیے سرخی سینچ رہا ہے۔
مخدوم کی غزلوں کو وہ دربارِ حسن میں شاعر کا خراج سمجھتی رہیں۔ مخدوم اپنی دیوانہ وار محبت میں اس کو پذیرائی سمجھتے رہے۔
انہوں نے آنکھیں پھیر لیں، مخدوم نے ادائے دلبرانہ جانا۔ وہ انہیں تڑپاتی رہیں، جلاتی رہیں، ستاتی رہیں، مخدوم سلگتے رہے،
آہستہ آہستہ دھیمی آنچ کی طرح، پھر بجھ سے گئے۔
مئی 1969ء کی شام تھی۔ غالبؔ صدی تقاریب کا سلسہ تھا۔ میں نے بیگم قمر طیب جی سے بات کی کہ شمس آباد میں ان کے لان میں مشاعرہ ہو۔ اسی مشاعرہ میں شرکت کا دعوت نامہ دینے میں اس خاتون سے ملنے گیاتھا ۔ قمری مہینے کی چودھویں شب تھی۔ سبزہ زار پر فرش کا اہتمام تھا۔ درمیان میں سنگِ مرمر کا خوبصورت حوض ، فوارے چھوٹے ہوئے، چاندنی نکھار پر تھی، اور کوئی روشنی کا اہتمام نہیں تھا۔ صرف شاعر کے لیے ایک لیمپ پوسٹ تھا ۔ نشست میں آگے کو لڑکیاں، پیچھے خواتین ایک طرف اور دوسری طرف صرف حضرات۔ میں مشاعرے کی نظامت کر رہا تھا۔ اس مشاعرے میں مغنی تبسم ، راشد آزر، غیاث صدیقی، سلیمان اریب،متین سروش، اوج یعقوبی، خورشید احمد جامی اور مخدوم جیسے اساتذہ شریک تھے۔ وہ بھی آئیں ، اپنی انگریزی نظموں کا مجموعہ ہاتھ میں تھامے ہوئے، سینے سے لگائے ہوئے، خراماں خراماں۔ درمیان میں آکر رک گئیں۔ وقت کی رفتا ر بھی تھم سی گئی ۔ اپنا دہنا ہاتھ اٹھا کر پیشانی تک لے گئیں۔ لگتا تھا معصوم کنول پیشانی چوم کر لوٹا۔ اہلِ محفل نے بھرپور چاندنی میں تاج محل کو دیکھا۔ شعراء غزل سرا ہوتے رہے۔ پھر میں نے انہیں کلام سنانے کی دعوت دی۔ انہوں نے اپنی مخروطی انگلیوں سے صفحہ کھولا۔ کتاب ‘ خود کتاب پڑھ رہی تھی۔ شاعری خود غزل سرا ہواچاہتی تھی۔ پھر یوں مترنم آواز ابھری جیسے دور کسی برہن نے مندر میں چاندی کی گھنٹیاں بجادی ہوں۔ انگریزی نظم تھی۔ وہ نظم سنا چکیں تو صرف آخری شاعر مخدوم رہ گئے تھے۔ میں نظامت کے لیے اٹھا چاہتا تھا۔ مخدوم نے آہستہ سے سرگوشی کی : ’’دوست! اس نظم کا اردو ترجمہ سنا دو۔‘‘ میں نے کہا: ’’جی نہیں! آپ سنادیں۔ آپ نے ان کی بہت سی نظموں کا دلآویز ترجمہ کیا ہے۔‘‘ مخدوم اٹھے۔ نظربھر کے ان کو دیکھااور ’’شگافِ گل‘‘ کے عنوان سے خوبصورت ترجمہ آزاد نظم میں سنا دیا۔‘‘ پھر انہوں نے
غزل شروع کی۔ ان کی آواز ایسے ابھری جیسے پتھر کا جگر چیر کے جھرنا پھوٹے۔
دور ویرانے میں گاتا رہا تنہا تنہا سوگیا ساز پہ سر رکھ کے سحر سے پہلے!
مشاعرہ ختم ہونے کے بعد مخدوم نے بہت نرمی سے میرے کندہے پر ہاتھ رکھا۔کہا،، یہ شام تم نے غالب کے لئیے رکھی تھی یا! میں نے کچھ کہا نہیں ،صرف نظریں جُھکا لیں۔مجھے خاموش دیکھ کر مخدوم نے کہا۔،، بالکل اپنے باپ پر گئے ہو۔ دینا جانتے ہو۔ لینا نہیں جانتے۔ خدا تمہارے باپ کی آنکھیں ہمیشہ روشن رکھے۔ ‘‘ یہ کہہ کر چہرہ پھیر لیا۔ میں چشمِ نم کا مسکرانا نہیں
دیکھ پایا۔
25اگست 1969ء کو یعنی اس مشاعرے کے کوئی تین مہینے بعد میں برادرم یحییٰ خان کے وطن تانڈور میں بین ریاستی سرحد کے سروے میں مصروف تھا۔ تحصیلدار کے بنگلے کے روبرو ڈاک بنگلے میں مقیم تھا۔ میرا اردلی جو بازار گیا تھا، اس نے آکر خبر سنائی۔ ’’صاحب! مخدوم محی الدین صاحب دنیا سے گذر گئے۔ ‘‘ میں دھک سا رہ گیا۔ جیپ اسٹارٹ کی ، حیدرآباد پہنچا۔ ایک ہجومِ بے کراں جنازے میں شریک تھا۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ بہادر یار جنگ کے بعد اتنا مجمع کسی جنازے میں دیکھا۔ درگاہ حضرت شاہ خاموش کے احاطے میں ہمیشہ کے لیے خاموشی اختیار کرلی۔ ان کی قبر پر وہی شعر کندہ ہے:
دور ویرانے میں گاتا رہا تنہا تنہا
سوگیا ساز پہ سر رکھ کے سحر سے پہلے





مخدوم محی الدین

مخدوم کی غزل چھایا گنگولی کی آواز






***