شمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا

مغرب کی بہ نسبت ‘ مشرق ہمیشہ سے پُر اسرار رہا ہے۔ مشرق میں بھی ہندوستان کی سر زمین اپنے اندر کئی اسرار رکھتی ہے۔ مصر کی سر زمین اگر چہ کہ اپنے اہرام کی نسبت سے پر اسرار ہے لیکن ہندوستان اپنی قدیم تاریخ اور اس سے وابستہ تہذیب میں بھی کئی داستانوں ، کہانیوں اور قصوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اپنی مختلف النوع اور رنگارنگ تہذیب کی وجہ سے یہ داستانیں بھی بہت دلکش اور دلفریب ہیں۔ بدلتی ہوئی زمینوں اور شہر نشینی نے ان قصوں اور کہانیوں میں اضافے بھی کئے اور اپنی طرز بود وباش، اطراف ، اکناف، ماحول، ہوا، فضا، لباس، وضع قطع، خورونوش، ذوقِ آرائش کے ساتھ جب یہ کہانیاں خواص و عوام تک پہنچیں تو سدا بہار ہو گئیں۔ لکھنؤ، دلی، رامپور، بھوپال تو متمدن تھے، ان شہروں پر مغلیہ تہذیب کے اثرات بھی تھے لیکن
حیدرآباد کی بات کچھ اور تھی۔ اس شہر کی تو بنیاد ہی محبت پر رکھی گئی تھی۔ جانے کونسی گھڑی تھی اور کس ستارے کے کیا اثرات کس برج پر تھے کہ اس شہر کے ریشم جیسے خواب ،اطلسی وادیوں میں سیر کرتے خیال ، بادلوں کے پنکھ پر سفر کرتی رعنائی و زیبائی، خوشبو بکھرتی کہانیاں، ہجر و فراق کی تپش، آرزوئے وصال کی مہک، کنارِ شوق سے اٹھ جانے کی کسک ، شمیم پیرہن یار مشامِ جاں، یادوں کی چادر میں تمناؤں کا تموج، خوش گمانیوں کا گمان۔ حیدرآباد میں تو یاد کا بھی خمار تھا، سونچ کا بھی نشہ تھا۔ یہاں میخانوں ، میکدوں ، جام و مینا، بادہ و صراحی رہی ہو نہ رہی ہو ، نامراد ہوا میں اتنا خمار تھا کہ خود تو مست خرام تھی ہی، سب کو
مخمور کر کے رکھ دیتی تھی۔ اور رات اس کو دو آتشہ کر دیتی تھی۔ پھر دامانِ یار اور خمارِ گندم تو سہ آ تشہ تھا ہی۔ میری پچھلی تحریر میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ جوشؔ نے جب صدق ؔ جائسی سے کہا تھاکہ’’ میں کل شام آؤں گا تم تیار رہنا، دربار میں چلنا ہے۔‘‘ تب صدقؔ نے پوچھا تھا :’’کیا نظام کے دربار میں ؟۔‘‘ تو جوشؔ نے کہا تھا :’’نہیں! وہ دربارِ مشقت ہے۔‘‘ حیدرآباد تو نوابین ، امراء اور شرفاء کا شہر تھا۔ یہاں کئی دربار سجا کرتے تھے۔ جاہ کا الگ، دولہ کا الگ، ملک کا الگ ، نواب کا الگ اور اگر کچھ نہیں تو شرفاء کے دیوان خانے بھی تھے۔ وہاں جھاڑ ، فانوس، دوشاخہ روشن‘ تو یہاں دیوار گیریاں، یکّے، قندیلیں، چراغ، شمع، فروزا ں۔ لیکن ان سب سے سواء چہروں کی روشنی تھی، جس سے رات‘ دن ہو جایا کرتی تھی۔ کبھی یادِ ایام، کبھی محفلِ شعر، کبھی بذلہ سنجیاں اور کبھی دلداریاں۔ بڑے درباروں کی تو بات ہی اور تھی۔ وہاں تو رقص و سرود کی محفلیں، صحبتیں، مصاحبوں کی قصیدہ آشنا زبانوں کی مدح سرائی، دستر خوانوں کی تہذیب، لذتِ کام و دہن میں ماہرینِ مطبخ کے ہنر ، یہ سب کچھ درباروں میں میسر تھا۔ لیکن ان درباروں میں نظام کے دونوں بیٹوں اعظم جاہ اور معظم جاہ کے دربار اپنے جاہ و حشم اور شوکت کی وجہ سے منفرد تھے۔ ان شہزادوں کی شادیاں ترکی کے آخری خلیفہ عبد المجید کی شہزادیوں سے ہوئی تھیں۔ اعظم جاہ کی شادی شہزادی درِ شہوار سے اور معظم جاہ کا عقد خلیفہ عبد المجید کی بھتیجی شہزادی نیلوفر سے ہوا تھا۔ اعظم جاہ ’’بیلا وسٹا‘‘ میں مقیم تھے۔ یہ عمارت نظام کی ملکیت نہیں تھی۔ اسے جناب مصلح الدین محمد ، بار ایٹ لاء نے تعمیر کیا تھا۔ وہ حیدرآباد ہائیکورٹ کے چیف جج تھے، انہیں حکیم الدولہ کے خطاب سے سرفراز کیا گیا۔ 51برس کی عمر میں وہ طاعون کی وجہ سے انتقال کر گئے ۔ ان کے ورثاء نے اس عمارت کو فروخت کر دینا چاہا تو اسے نظام نے خرید لیا۔ سر علی امام جب بحیثیت وزیر اعظم ریاستِ حیدرآباد مقرر ہوئے تو انہوں نے اسی عمارت میں قیام کیا۔ اسی کے پہلو میں ’’لیک ویو گیسٹ ہاؤز ‘‘ ہے جہاں ان کا دفتر تھا۔ عجیب اتفاق ہے کہ لیک ویو گیسٹ ہاؤز گذشتہ ایک دہائی سے وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش ہے۔ جناب علی امام کی حیدرآباد سے روانگی کے بعد اس عمارت کی تزئین نو ہوئی اور یہ عمارت شہزادہ والاشان نواب اعظم جاہ بہادر، ولیعہد ریاستِ حیدرآباد ، پرنس آف برار ، سپہ سالارِ افواج، ریاستِ حیدرآباد کی سرکاری قیام گاہ قرار پائی۔ بیلا وِسٹا کے روبرو جہاں آج کل صدر دفتر محکمہ برقی واقع ہے، وہ دراصل بیلا وِ سٹا کا اصطبل تھا جہاں مختلف النسل تربیت یافتہ گھوڑے بندھے
رہتے تھے۔ اعظم جاہ شکار کے شوقین تھے۔ یہ شوق انہیں اپنے دادا میر محبوب علی

خان سے ورثہ میں ملا تھا۔ شیر اور مختلف درندوں کی ٹرافی بنوا کر انہوں نے ایک بڑے ہال میں سجا رکھا تھا۔ وہ اپنے اسلحہ خانہ اور

اصطبل کی خود نگرانی کیا کرتے تھے۔
کسی ذی علم شخصیت یا کسی اعلیٰ فنکار پر خامہ فرسائی کے لیے بنیادی طور پر کم از کم دو کیفیات کا پیشِ نظر رہنا ضروری ہے کہ یا تو اس کے پورے فن پر نظر رہے، تاکہ فن کے وسیلے سے فنکار تک رسائی حاصل ہو، یا پھر فنکار کی مکمل شخصیت اور نفسیات سے اتنی گہری آگہی ہو کہ فن کے آئینے میں اس کا پرتو صاف دکھائی دے۔ ان زاویوں سے بھی شخصیت کا مطالعہ اتنا آسان نہیں، اگرچہ کہ شعور کے ایوان کی جلوہ سامانیاں چہرہ شناس تو کر دیتی ہیں، لیکن لا شعور کے نہاں خانوں اور طلسم کدہ تک رسائی اتنی آسان نہیں ہوتی کہ اس کا حرفِ خفی تو صرف شخصیت کی ذات میں پوشیدہ رہتا ہے۔ پروفیسر سیدہ جعفر اردو کی محترم استاد ہیں، ان کی شخصیت پر کسی تحریر کے لیے میری طالب علمی از خود قلم کو محتاط روی اختیار کرنے پر مائل کر دیتی ہے، اسی لیے میں ڈاکٹر حسن مثنیٰ کے پیہم اصرار کے باوجود
خود کو آمادہ نہیں کر پا رہا تھا۔
شہزای درِ شہوار ‘ دراز قد ، حسین، جمیل اور ذہین خاتون تھیں۔ میں ان سے دو تین بار مل چکا ہوں۔ ان کے اندازِ گفتگو اور متانت نے مجھے مسحور کیا۔ وہ نہایت اعلیٰ اقدار اور پُر وقار شخصیت کی مالک تھیں۔ نرم گفتاری، شفاف لہجہ، شائستگی ان کے تکلم کا خاصہ تھا۔ لہجے میں ہلکا کا تحکم حسن کا وتیرہ ہے۔ لیکن ان کی شیریں گفتاری اور زیر لب دل آویز تبسم نے ان کی شخصیت میں ان عجیب بانکپن پیدا کر دیا تھا۔ ان کی ساری ذہانت ان کی نیلی آنکھوں سے چھلکی پڑتی تھی۔ میں گردم گزیدہ ہوں۔ سنتا ہوں کہ جو مردم گزیدہ ہوتے ہیں ‘ وہ مردم شناس نہیں ہوتے، سو شاید میں بھی ہوں۔ جلد اعتبار کرلینے والا، مصلحت نا آشنا ، غیر دور اندیش، ہنرِ بے ہنری میں یکتائے روزگار، زبان کا پھوہڑ۔ مجھ جیسا شخص قیافہ شناس نہیں ہو سکتا ۔ لیکن اس دور کے منظر آج جب میری نگاہوں میں پھرتے ہیں تو میری کور بینی کے باوجود سرگوشی کرتے ہیں کہ میں نے شہزادی درِ شہوار کے جن اوصاف کا تذکرہ کیا ہے ، اس کے باوصف ‘ ہر نسوانی کردار، مرد سے پروانہ وار محبت نہ سہی وفا شعاری کا متقاضی ضرور ہوتا ہے۔ شہزادے تو شہزادے ہوتے ہیں، صرف شہزادے۔ اور اعظم جاہ تو شکاری بھی تھے ، دام میں آئے ہوئے شکار کی جد و جہد ،آخری سانس تک رہائی کی تدبیر، وحشی آنکھوں میں موت کا رقص اور اس کے بعد شکست خوردگی ، بیچارگی، سپردگی،یہی سب
تو شکاری کو چاہیے ورنہ لذتِ شکار کیا رہ جائے۔ اعظم جاہ بہر حال شکاری تھے، ایک ماہر شکاری۔
ناقدرئ عالم کی شکایت نہیں مول
شہزادی درِ شہوار کی ولادت 26جنوری 1914ء ہے۔اور وہ 12نومبر 1931ء کو اعظم جاہ سے بیاہی گئیں۔ 1922میں سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے بعد 1924ء میں یہ خاندان پیرس منتقل ہو گیا۔ شہزادی درِ شہوار کے لیے ایران کے محمد رضا شاہ پہلوی اور مصر کے شاہ فاروق بھی خواستگار تھے ۔ لیکن علی برادران کے مولانا شوکت علی کی سعی بار آور ہوئی۔ چنانچہ جنوبی فرانس کے شہر نائس میں ان کی اور شہزادی نیلوفر کی شادی انجام پائی۔ خطبۂ نکاح مولانا شوکت علی نے پڑھا۔ یہ بات شاید دلچسپی سے خالی نہ ہو کہ 1940ء میں جب حیدرآباد ایئر پورٹ قائم ہوا اور فضائی خدمات کا آغاز ہوا تو اس ائیر پورٹ کا افتتاح شہزادی درِ شہوار کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ حیدرآباد کی تاریخ میں وہ پہلی خاتون قرار پائیں جن کے ہاتھوں افتتاح کی تقریب انجام کو پہنچی۔ یہ ایئر پورٹ حکومتِ آندھرا پردیش کا بھی ایئر پورٹ رہا۔،جب تک کہ حالیہ راجیو گاندھی بین الاقوامی طیران گاہ شمس آباد میں قائم نہ ہوا۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ اگر ایک ایئر پورٹ کا افتتاح ترکی نژاد شہزادی ہندوستانی بہو درِ شہوار کے ہاتھوں عمل میں آیا تو نیا ایئر پورٹ اطالوی نژاد ہندوستانی بہو سونیا گاندھی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس طرح طیرانگاہوں کے افتتاح کی ایک عجیب تاریخ رقم ہوئی۔ نظامِ دکن اپنی بڑی بہو کو بہت چاہتے تھے۔ چنانچہ جب عثمانیہ دواخانے کی تعمیر مکمل ہوئی تو اس کا افتتاح بھی نظام نے انہیں سے کروایا۔ علی گڑھ کا مشہور اجمل خان طبیہ کالج کا افتتاح بھی 1939ء میں شہزادی درِ شہوار نے انجام دیا۔ دواخانوں کے ضمن میں حیدرآباد دونوں شہزادیوں درِ شہوار اور نیلوفر کا مشکور ہے۔ ایک اور شفا خانہ درِ شہوار دوا خانہ جو پرانی حویلی میں قائم ہے ، انہیں کا رہینِ منت ہے۔ سن 2000ء میں انہوں نے نظام کے سلور جوبلی پویلین کی تقریبِ افتتاح کی صدارت کی۔ آخری مرتبہ وہ 2004ء میں حیدرآباد آئی تھیں۔ پھر اس کے بعد 2006ء
میں لندن میں وفات پا گئیں اور وہیں دفن ہوئیں۔
شہزادی درِ شہوار نہ صرف تعلیمِ نسواں بلکہ ترقی نسواں کی حامی تھیں۔ چوں کہ وہ برطانیہ کی تعلیم یافتہ تھیں اس لیے خواتین
کے پردے کے حق میں نہیں تھیں۔ حیدرآباد میں پردہ شکنی اسی دور کا واقعہ ہے۔
سرِ شام شفق کے پھوٹتے ہی اعظم جاہ کے دربار کی تیاری شروع ہو تی تھی۔ آتھ بجے شب تک آراستگی مکمل ہو جاتی تو دربار شروع ہوتا۔ وہی ہنگام ، وہی مصاحبت، وہی جام و مینا ، وہی صراحی کی قلقل، طبلہ، ہارمونیم، ستار ، سارنگی، گھنگرو، پائل ، سُر، تال ، رقص، نغمہ، بھاؤ، ادا، نرت، آداب، مجرا، تسلیم، پاندان، گلوری، رات ، زلف، گیسو، عارض، خمار، تھکن، نیند۔آصفِ سابع کے صرفِ خاص سے نواب اعظم جاہ کو تیس ہزار 30,000روپیہ ماہانہ مقرر تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب سونا بیس تا پچیس روپیہ تولہ تھا۔ حسین ساگر کے قریب بشیر باغ کے نواح میں زمین بیس روپیہ ایکر تھی، گویا ایک پیسہ میں ڈھائی گز زمین دستیاب تھی۔ لیکن نواب اعظم جاہ کی شاہ خرچی کے لیے یہ تیس ہزار روپیہ ماہانہ ناکافی ہوتے تھے اور بیشتر ساہوکاروں سے قرض کی نوبت آجاتی تھی۔ ساہوکار‘اس رقم کو دگنی تگنی لکھ کر وصول کرلیا کرتے تھے۔ نواب اعظم جاہ کو آصفِ سابع کے وارث کی حیثیت سے تخت نشینی کی بھی بہت خواہش تھی۔ لیکن نظام حیات تھے۔انضمامِ حیدرآباد کے وقت معاہدہ کی رو سے نظام کی جانشینی کا مسئلہ طے پا گیا تھا۔ لیکن وہ میر عثمان علی خان کے بعد کا مرحلہ تھا۔ لسانی بنیادوں پر ریاستِ حیدرآباد ‘ آندھرا پردیش بن چکی تھی۔ نظام راج پرمکھ بھی نہیں رہے تھے۔ اعظم جاہ کو یہ ملال تھا کہ ان کے والد 25برس کی عمر میں تخت نشین ہو چکے تھے، جب کہ پچاس برس کی عمر تک بھی وہ انتظار کی فصل کاٹ رہے تھے۔ ان کے مصاحبین انہیں مشورہ دیتے رہے کہ پیروں فقیروں اور عاملوں کے ذریعہ وہ تخت نشین ہو سکتے ہیں۔ ضعیف العقیدہ اور غرض مند سب کچھ کر گذرتے ہیں ۔ کوئی امید بر نہیں آتی ، کوئی صورت نظر نہیں آتی کے مصداق‘ ابھی تخت بہت دور تھا۔ 1964ء میں آصفِ سابع علیل ہوئے۔ اعظم جاہ نے حکومتِ ہندوستان کو مکتوب روانہ کیا کہ وہ انہیں نظام کا جانشین قرار دیں اور آصف جاہ ثامن تسلیم کر لیں۔ آصفِ سابع کو اطلاع ملی تو انہوں نے فوراً اپنے پوتے میر برکت علی خان مکرم جاہ کو اپنا جانشین مقرر کردیااور حکومتِ ہند کو اطلاع دے دی ۔ اس کے بعد اعظم جاہ اور نظامِ دکن میں تعلقات کشیدہ ہو گئے اور نظام کے انتقال تک دونوں میں کوئی رابطہ نہیں رہا۔ 24فروری 1967ء کی دوپہر شہزادہ والا شان ، پرنس آف برار ، ولیعہد بہادر، نواب میر حمایت علی خان کو اطلاع دی گئی کہ آصفِ سابع میر عثمان علی خان رحلت فرما گئے۔ تین سال بعد وہ کنگ کوٹھی
آئے۔ باپ کے چہرے پر نظر ڈالی ۔ پیر چھوئے اور واپس لوٹ گئے۔
کچھ نہ دیکھا پھر بجز یک شعلۂ پُر پیچ و تاب
شمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا !!

پرنسس درشہوار کی ایک نادر تصویر دس برس کی عمر میں





***