پروفیسر سیدہ جعفر اور درک انیس

پروفیسر سیدہ جعفر اردو کی مایہ ناز استاد ،محقق،اور نقاد رہی ہیں۔ تحقیق و تنقید میں ان کی ۳۳ کتابیں اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ تمام عمر وہ نہ صرف اپنے کام میں مصرو ف رہی ہیں بلکہ بعد آنے والوں کے لئے نشان راہ بھی متعین کئے ۔انھوں نے تاریخ اردو ادب پر جو کام کیا ہے وہ ان کا لازوال کارنامہ ہے۔ماضی کی گرد میں گم شدہ دفینوں کی دریافت اور بازیافت انکی عرق ریزی اور جاں فشانی کا ثبوت ہے۔اگر چیکہ دکنی انکی دلچسپی کا خاص موضوع رہا ہے لیکن متقدمین سے عہد حاضر تک کے اردو مشاہیر کو انھوں نے روشناس کروانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا۔علامہ اعجاز فرخ نے اُ ن کے سانحہ ارتحال پر کہا کہ پروفیسر سیدہ جعفر کی شائستہ گوئی اور بائستہ چشمی اُن کے مزاج اور تحریروں کا خاصہ رہا ہے۔وہ ایک سنجیدہ اور مدبر ذوق کی خاتون تھیں۔شب وروز انتھک محنت اور علم دوستی کی مثال کم کم ہی دیکھنے کو ملتی رہی۔علامہ نے زیر نظر مضمون ،،پروفیسر سیدہ جعفر اور درک انیس ،، کے زیر عنوان اختصار کے ساتھ سہی لیکن ان کے طرز کا
جائزہ لیا ہے جو ایک بھرپور خراج بھی ہے۔ ڈاکٹر وصی بختیاری
پروفیسرسیدہ جعفر اور دَرکِ انیس
علامہ اعجاز فرخ
کسی ذی علم شخصیت یا کسی اعلیٰ فنکار پر خامہ فرسائی کے لیے بنیادی طور پر کم از کم دو کیفیات کا پیشِ نظر رہنا ضروری ہے کہ یا تو اس کے پورے فن پر نظر رہے، تاکہ فن کے وسیلے سے فنکار تک رسائی حاصل ہو، یا پھر فنکار کی مکمل شخصیت اور نفسیات سے اتنی گہری آگہی ہو کہ فن کے آئینے میں اس کا پرتو صاف دکھائی دے۔ ان زاویوں سے بھی شخصیت کا مطالعہ اتنا آسان نہیں، اگرچہ کہ شعور کے ایوان کی جلوہ سامانیاں چہرہ شناس تو کر دیتی ہیں، لیکن لا شعور کے نہاں خانوں اور طلسم کدہ تک رسائی اتنی آسان نہیں ہوتی کہ اس کا حرفِ خفی تو صرف شخصیت کی ذات میں پوشیدہ رہتا ہے۔ پروفیسر سیدہ جعفر اردو کی محترم استاد ہیں، ان کی شخصیت پر کسی تحریر کے لیے میری طالب علمی از خود قلم کو محتاط روی اختیار کرنے پر مائل کر دیتی ہے، اسی لیے میں ڈاکٹر حسن مثنیٰ کے پیہم اصرار کے باوجود
خود کو آمادہ نہیں کر پا رہا تھا۔
جامعہ عثمانیہ کے قیام کے بعد حیدرآباد کا علمی و ادبی منظرنامہ ہندوستان کے افق پر نہ صرف بہت تابندہ تھا، بلکہ پر کشش بھی رہا۔ یوں بھی 1857ء کے بعد دہلی اور لکھنؤ کا اجڑ جانا تہذیب، ادب اورثقافت کی پریشان حالی ہی کا نہیں، بلکہ پناہ گزینی کا بھی دور رہا، لیکن دکن آباد تھا۔ چنانچہ والی رامپور کے گزر جانے کے بعد داغؔ دہلوی حیدرآباد چلے آئے، امیرؔ مینائی نے بھی اسی زمین کو اپنی عافیت گاہ تصور کیا، لیکن جامعہ عثمانیہ کے قیام کے بعد مولوی عبد الحق ، عبد الماجد دریابادی، مرزا محمد ہادی رسواؔ ، جوشؔ ملیح آبادی، علی حیدر نظم طباطبائی، ضامن کنتوری، وغیرہ۔۔۔ بہرحال کہاں تک نام گنواؤں، یہ سب علم و ادب کے چند نام ہیں، جن سے کہکشاں سجی رہی۔ شمس العلماء سید حسین بلگرامی تو استادِ شاہ بھی رہے۔ اس پورے ماحول میں حیدرآباد کی علمی مجلسوں اور ادبی محفلوں کے بعد جب آج حیدرآباد کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ شاید شہر بدل گیاہے۔ ملک کی تقسیم کے بعد ترکِ وطن کرنے والے تو آج بھی وہاں مہاجر کہلاتے ہیں، انہوں نے تو خیر زمین بدل دی، ہم سے تو پرکھوں کی ہڈیاں چھوڑی گئیں اور نہ اپنی مٹی کی مہک۔ لیکن آباد شہر جب صحرا صحرا ہو کر بگولوں کی نذر ہو جائے اور جب دہر بدل گیا ہو تب ذوق نظارہ کا مقدر تو بینائی کا عذاب ہے ہی، ایسے میں سانس کی چبھن اپنی ہی زمین پر بے زمینی کے آزا ر کو تو شاید ’’ہجرت‘‘ بھی نہیں کہنے دیتی۔ میر انیسؔ
نے جس کرب سے یہ بند کہاتھا کہ:
ناقدرئ عالم کی شکایت نہیں مول
کچھ دفتر باطل کی حقیقت نہیں مولا
باہم گل و بلبل میں محبت نہیں مول
میں کیا ہوں کسی روح کو راحت نہیں مول
عالم ہے مکدر کوئی دل صاف نہیں ہے
اس دہر میں سب کچھ ہے، پر انصاف نہیں ہے
یہ اس وقت کی بات ہے ، جب قدردانان انیس ابھی موجود تھے۔ آج کا منظر نامہ تو کچھ یوں ہے کہ چو طرف پاگل ہوا ہے اور درمیان میں سیدہ جعفر نے ایک مٹی کا دیا جلا رکھا ہے اور دونوں ہاتھوں سے اس کی لو کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ ویسے تو ان کا پسندیدہ موضوع دکنی ادب ہے، لیکن طبعی طور پر ان کی نگاہ ’’مرثیہ نگاری‘‘ پر زیادہ مرکوز ہے۔ مختلف زبانوں کے مفکرین اور ادب کے مطالعہ نے ان کو جو آگہی اور بصیرت بخشی ہے، اس سے انہوں نے بالعموم مرثیہ اور
بالخصوص انیس ؔ کی مرثیہ نگاری کو پرت پرت الٹ کرنئے جہان دریافت کئے ہیں۔
ان کی نظر میں صرف تخیل کی بلندی ہی سب کچھ نہیں ہوتی، بلکہ خیال کو ابلاغ و ترسیل کی تنگنائے سے گزار کر اسے محسوس بنا دینے کی قوت اور فطرت کے رازہائے سر بستہ وا کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ملکہ بھی حاصل رہے جو جذبے کی تپش کو دوسروں تک پہنچا سکے۔ ان کی نظر میں لفظ آواز ہے اور ایک لفظ سے دوسرے لفظ کے درمیانی فصل خاموشی۔ بڑا شاعر وہ ہے ، جو نہ صرف الفاظ کے درمیان کی خاموشی سے گنجینۂ معانی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہو، بلکہ حاضر کیفیات میں ندرت اور اجنبی منظر کو مانوس بنا دینے کی قدرت رکھتا ہو۔ ان کے خیال میں انیسؔ کے پاس یہی سب کچھ نہیں، بلکہ اس کے سوا اور بھی بہت
کچھ ہے۔
پروفیسر سیدہ جعفر کے تنقیدی مضامین کے مطالعہ کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پہلے یہ پرکھا جائے کہ ادب کیا ہے اور کیا ادب نہیں ہے، جس کے نتیجے میں ادب میں ادبیت اور شاعری میں شعریت لازمی قرار پاتی ہے۔ انیسؔ کے مرثیوں کے ضمن میں یہ بات واضح طور پر کہی جا سکتی ہے کہ یہ مرثیہ شعرو ادب کے شہکا ر ہیں جو زندگی کی معنویت اور اسرار و رموز کائنات کی آگہی کے ساتھ ساتھ اپنی خود مختار حیثیت کی حامل ہیں۔ دیگر زبانوں کی حزنیہ شاعری سے اردو مرثیہ کو الگ کرتے ہوئے انہوں نے یونان کے مشہور شاعر ممنرمس MIMNERMUSکی ایلجی ELEGYکے تجزیہ میں المیہ کیفیات کے ساتھ ساتھ عشقیہ جذبات کے سموئے جانے کا تذکرہ کیا ہے، جب کہ اس سے قبل کیالی نس CALLINUSنے صرف رزم آرائی ، بین اور اپنے مرنے والے کا ماتم نظم کیا ہے۔ اس کے بعد آنے والے شعراء نے اس ادبی مقبولیت کی وجہ سے اس ادبی روایت کو پیشِ نظر رکھا، لیکن اردو مرثیہ نگاری کے ضمن میں سیدہ جعفر کی رائے میں میر ضمیرؔ نے مرثیہ میں تنوع کی خاطر چہرہ اور سراپا ایجاد کیااور اس طرح میر خلیق ؔ نے ساقی نامہ اور بہاریہ مضامین کا اضافہ کیا۔ مرثیہ میں جدت طرازی ایک نفسیاتی پس منظر بھی رکھتی ہے۔ غزل کی صنف میں اخلاق، حکمت، فلسفہ، سیاسی نظام سے بیزاری کا اظہار، جبر و استبداد کے خلاف
علامتی اظہار اور مشاہدۂ حق کی گفتگو بھی بادہ و ساغر کی علامتوں میں کی جاتی تھی، بلکہ پر لطف بھی تھی۔ ان علامتوں کے رچاؤ نے مخصوص معنویت کی فضاء بھی سازگار کرلی تھی۔ ضمیرؔ اور خلیقؔ کی اس جمالیاتی جدت طرازی نے مرثیہ کو ایک ایسی رعنائی بخشی ، جسے وہ ’’خندۂ تیغ‘‘ اور ’’گریۂ بہار‘‘ کا حسین اور دلکش امتزاج کہتی ہیں اور ساتھ ہی اس بات کی بھی قائل ہیں کہ اس سے مرثیہ کی ایک نئی جہت وضع ہوئی، جس میں خستگی، گداختگی، دردمندی اور المناکی کے ساتھ
ساتھ ایک دھیمی موسیقیت اور ہلکی ہلکی ، رکی رکی نغمگی بھی گھل گئی۔
ان کا یہ حقیقت پسند تجزیہ ایک مکمل تاریخ کا آئینہ دار ہے کہ مرثیہ نے اس وقت اردو شاعری کی آبرو رکھ لی ، جب غیر معتدل خارجیت ، معاملہ بندی، واسوخت
پسندی اور ریختی گوئی ابتذال اور سوقیت کی حدوں کو چھونے لگی تھی۔ لکھنؤ میں جرأتؔ ، رنگینؔ اور انشاء ؔ کی
غزل گوئی اپنے صحت مند عناصر ، رنگینی اور رس کے باوجود ادب کو سدا بہار عظمت و آفاقیت سے روشناس نہ کروا سکی تھی۔ ادب پر یہ مرثیہ کا احسان ہے کہ اس
نے پھکڑپن اور فحش کلامی کو اس وقت روک دیا ، جب وہ اپنے پورے شباب پر تھی۔ اگر میر انیسؔ اور مرزا دبیرؔ کی شاعری نہ ہوتی تو نہیں معلوم کاکل و ابرو اور
لب و عارض تک کی یہ محدود اردو شاعری کیا رنگ دکھا جاتی۔ ایسے میں انیسؔ کا یہ کہنا بجا معلوم ہوتا ہے:
مری قدر کر اے زمینِ سخن!
تجھے بات میں آسماں کردیا
سبک ہو گئی تھی ترازوئے شعر
مگر ہم نے پلہ گراں کردیا
ایسا نہیں ہے کہ پروفیسر سیدہ جعفر کی نظر صرف انیسؔ و دبیرؔ میں موازنہ پسند ہے یا پھر وہ انیسؔ و دبیرؔ میں کسی ایک کی پیرو کار ہوں۔ ان کی نظر میں محاسن خواہ کسی شاعر کے پاس ہوں، عدل شناس ہے۔ چناں چہ ان کے بسیط مطالعہ کے صدف میں ہر دور کی مرثیہ گوئی اور مرثیہ گو شعراء کی تفصیلات مل جاتی ہیں۔ وہ اس بات کی بھی قائل ہیں کہ اردو کے خمیر میں مرثیہ کا جزو مسلسل کارفرما رہا۔ چناں چہ دکن میں جب اردو ابھر رہی تھی ، اس وقت بھی شعری سرمایہ مرثیہ سے خالی نہ تھا۔ بہمنی فرماں روائی کے بعد بیجاپور اور گولکنڈہ میں مرثیہ کو عروج ملا۔ محمد قلی قطب شاہ، کاظمؔ علی، مرزا ؔ ،ہاشم علی نے مرثیہ گوئی میں اہم کردار ادا کیا۔ شمال میں تو مرثیہ شاہ قلی خان شاہی ؔ کی بدولت پہنچا۔ تب میرؔ ، سوداؔ ، میر امانیؔ ، میر عاصمیؔ ، میر آل علی، درخشاں مسکینؔ ، یکرنگؔ اور دیگر شعراء نے اسے اپنایا اور یہی مسدس کی صورت میں مرثیہ کا نقطۂ آغاز ہے۔ میر کا مرثیہ ، ان کی داخلی غم پسندی کے ترجمان ہیں، دراصل ان کی شخصیت اور رنگِ تغزل سے یہ ہم آہنگی بھی محسوس ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ان کے مرثیہ میں پھیکے پن کا احساس نمایاں ہے۔ غالبؔ نے خود اقرار کیا کہ انہوں نے مرثیہ کہنے کی کوشش کی اور تین
بند کے بعد وہ واسوخت ہو گیا، لیکن انیسؔ و دبیرؔ نے اسے ایک مستقل فن کی صورت دے دی۔
مرثیہ اور مثنوی کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے پروفیسر سیدہ جعفر نے ان خیالا ت کا اظہار کیا ہے کہ بعض مثنویوں میں سراپا، باغ، محلات، صحراؤں کے متحرک تصویریں پائی جاتی ہیں، جذبات میں گرمی بھی ملتی ہے اور فنی پختگی بھی۔ لیکن ان محلاتی فضاؤں میں غیر مانوس اجنبیت کا احساس ضرور ہوتا ہے ، جب کہ مرثیہ کو بیانیہ اور توضیحی شاعری کی لازوال تصویریں ملی ہیں۔ محاکات، منظر نگاری، مرقع کشی اور جذبات نگاری کے نمونے مرثیہ کو دیگر اصناف سے منفرد بھی رکھتے ہیں، پائیدار اور بلند بھی۔ ان کی نظر میں انیسؔ کے پاس سراپا، گھوڑا، تلوار، علم ، صبح کا منظر ، دوپہر کی دھوپ، آمدِ شب ، رجز، جنگ، ایسی توضیحی شاعری ہے، جس کے بغیر فطرت کی مصوری کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ حق کی دیدہ وری، ژرف نگاہی اور باریک بینی اور سیدہ جعفر کا نقد و نظر ایک طویل مقالہ چاہتا ہے۔ انیس ؔ کے پاس تو عصری تصویر کشی کے بصری فنون کئی مقامات پر دنگ کر دیتے ہیں، مثال کے طور پر ’’آمد ہے کربلا کے نیستاں میں شیر کی‘‘ والا مرثیہ بہتر نمونے کی شکل میں موجود ہے، لیکن پروفیسر سیدہ جعفر کے پاس ولیم ورڈس ورتھ کی پنہاں اشاریت ، انیسؔ کا احتساسی رجحان اور جوشؔ کا اکتساب‘ تسلسل کے ساتھ قاری
پر حیرت کے ابواب کھول دیتا ہے، جو ان کی عالمانہ شان ، نفیس ذوق ، بائستہ چشمی اور شائستہ گوئی کا ثبوت ہے۔ انیس ؔ کا یہ بند دیکھیے:
وہ دشت ، وہ نسیم کے جھونکے وہ سبزہ زار
پھولوں پہ جا بجا وہ گہر ہائے آبدار
اٹھنا وہ جھوم جھوم کے شاخوں کا بار بار
بالائے نخل ایک جو بلبل تو گل ہزار
خواہاں تھے نخل گلشن زہرا جو آب کے
شبنم نے بھر دیئے تھے کٹورے گلاب کے
جوشؔ ، انیسؔ سے بہت متاثر ہیں۔ ان کے اسلوب کی طرحداری اور زورِ بیان میں انیسؔ سے اکتساب صاف جھلکتا ہے۔ ساتھ ہی جوشؔ کی لفظیات میں انیسؔ کے
لفظیات کا نفسیاتی اثر بھی غالب نظر آتا ہے۔ چنانچہ یہ بند ملاحظہ ہو:
شمعیں ہوئیں خموش، چہکنے لگے طیور
الٹی نقاب چرخ نے ، جھلکا زمیں پہ طور
سینوں میں اہل دل کے ہوئے قلب چور چور
آنکھوں سے رخ پہ دوڑ گیا آنسوؤں کا نور
دریا بہے، چٹک گئیں کلیاں گلاب کی
پھوٹی کچھ اس ادا سے کرن آفتاب کی
اگرچہ کہ پروفیسر سیدہ جعفر نے نقد و نظر میں مرثیہ کے ہر شاعر کے ساتھ عدل کیا ہے، لیکن ان کی پسند میر انیسؔ کے حق میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ کبھی دکن بہت رئیس تھا، آج شاید اس کی علمی اور ادبی زبوں حالی کی داستان چار سو عام ہوجاتی، لیکن سیدہ جعفر نے حیدرآباد کی ادبی رئیسانہ شوکت کا بھرم باقی رکھا۔ یہ
چند سطور ان کی شخصیت کا احاطہ نہیں ہیں، نہ ہی ان کی انیسؔ تنقید کا ، بلکہ اسے صرف میرا خراج سمجھا جانا چاہیے۔



  

***