عید ہو یا کہ نہ ہو میرے لئے عید ہوئی

کسی ملک یا خطے کی شناخت کا مدار و قرار اس کی لسانی تہذیب اور تمدن پر ہوتا ہے‘ لیکن اس تہذیب کے پس پردہ عناصر و عوامل میں اس خطہ کی زرخیزی‘ موسم‘ فصلیں‘ سبھی کچھ شامل ہیں۔ طعام‘ لباس‘ بود و باش سب کچھ ان ہی عناصر و عوامل کی کار فرمائی ہے۔ فصل کے پک جانے پر خوشحالی اور اس کی مسرت کے تیوہار انسانوں کو باہم قریب لانے اور ہم آہنگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تمدن دراصل عربی لفظ ہے‘ جو مدن سے مشتق ہے۔ جس طرح دیہات کے لوگ اپنے قریبی شہر کے لئے نام کی بجائے صرف شہر ہی کہتے ہیں‘ اسی طرح عربی میں شہر کی جگہ ’’مدینہ‘‘ قبل اسلام مروج رہا‘ لیکن سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے بعد پھر کوئی شہر مدینہ نہ کہلایا‘ بلکہ آپ کے نور مبارک سے شرف پاکر تاقیام شمس و قمر مدینہ منورہ ہی باقی رہے گا۔ تمدن کے اصطلاحی یا لغوی معنی جو بھی ہوں‘ وہ اساتذہ اور اور مرتبین لغت کی نظر میں مستند بھی ہیں اور مسلّم بھی۔ میں اپنے فہم کی آسانی کے لئے تمدن کو ’’شہر نشینی‘‘ کہتا ہوں۔ اب اسے تمدن کہئے یا شہر نشینی‘ لیکن اس کا اثر و نفوذ بہرحال اطراف و اکناف پر ضرور مرتب ہوتا ہے‘ جس کی وجہ سے تہذیب و تمدن کی
انفرادیت اس خطہ کے لئے ایک شناخت بن جاتی ہے۔
ہندوستان ایک واحد ملک ہے‘ جس کی تہذیب و تمدن کے ان گنت رنگ ہیں اور یہیہمہ رنگی اس کی دلکشی کا باعث بھی ہے۔ بات دراصل اس کے دامن کی وسعت میں ہے کہ جس نے دنیا کے ہر خطے کی شرافت و تہذیب کو قبول کرکے اس میں اپنے گلال کو شامل کردیا اور اس طرح یہ موہنی تہذیب من موہنی ہو
گئی۔
قطب شاہوں کے زیر اثر پروان چڑھنے والی تہذیب ایرانی اور علاقائی تہذیب سے مزین تھی‘ گویاپگھلتے سونے کی زرتابی میں ہلکے سے تانبے کی آمیزش نے اسے یوں سرخی مائل کردیا جیسے کسی دوشیزہ کو نیم خوابی میں کسی کے خیال نے شرم سے سرخ کردیا ہو۔ آصف جاہوں نے اس تہذیب کو خوب خوب پروان چڑھایا۔ محبوب علی پاشاہ کے دور تک اس تہذیبی رچاؤ میں مغلیہ تہذیب کے زیر اثر شمالی ہندوستان کی تہذیب بھی ہلکے نقرئی رنگ کے ساتھ شامل ہوئی تو رنگ اور چوکھا ہو گیا۔ چنانچہ شب براء ت میں حلوے مانڈے کے ساتھ پھلجھڑیاں اور آتشبازی مغلیہ تہذیب ہی کی سوغات ہیں۔ ریاست حیدرآباد میں فصلی مہینوں کا رواج تھا۔ چنانچہ نیا سال آزر سے شروع ہوتا اور آزر‘ دے‘ بہمن‘ اسفندار‘ فروردی‘ اردی بہشت‘ خورداد‘ تیر‘ امرداد‘ شہریور‘ مہر اور آبان پر ختم ہوتا تھا۔ اسلامی مہینے محرم‘ صفر‘ ربیع الاول‘ ربیع الثانی‘ جمادی الاول‘ جمادی الثانی‘ رجب‘ شعبان‘ رمضان‘ شوال‘ ذیقعدہ اور ذی الحجہ پر ختم ہوتے تھے‘ لیکن بیگماتی زبان میں محرم تو محرم ہی تھا‘ صفر کو تیرہ تیزی‘ ربیع الاول کو بارہ وفات‘ ربیع الثانی کو دستگیر‘ رجب کو بندہ نواز‘ پھر شعبان اور رمضان کے بعد شوال خالی کا مہینہ کہلاتا تھا اور اس مہینے میں شادی بیاہ کی کوئی تقریب منعقد نہیں ہوتی تھی۔ حیدرآباد کی تہذیب میں سادگی بھی تھی‘ پرکاری بھی۔ خوشی ہو یا غم نہ ایک گھر کا نہ ایک فرد کا‘ بلکہ مشترکہ حصہ سمجھا جاتا۔ آج اپنوں سے کوئی ناطہ نہیں‘ کل پرائے بھی اپنے تھے۔ کسی گھر میں مانجھے کی تقریب ہو تو ہر گھر سے مانجھے کا نیوتہ بھجوایا جاتا اور کسی کے پاس سوگ ہو گیا تو تین دن تک چولھا نہ جلتا اور سوگواروں کے طعام کا انتظام محلے کے ہر گھر سے ہوا کرتا۔ رمضان برکتوں کا مہینہ سمجھا جاتا اور اس کے استقبال کی تیاریاں بڑے اہتمام سے کی جاتیں۔ وہ اہتمام یوں ہوتا کہ صاحبان تقویٰ شعبان کو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہینہ جان کر پورا مہینہ روزہ رکھتے‘ لیکن اکثر گھروں میں شعبان کے آخری دس دن میں گھر کے بزرگ ضرور روزہ رکھتے اور سارا گھر عبادتوں میں مصروف رہتا۔ یوں تو نظام کی رسدگاہ بھی تھی اور جنتری میں ہلال کی تاریخ درج ہوتی‘ لیکن گھر کی خواتین چاند کا حساب خوب جانتی تھیں کہ کونسا مہینہ انتیس دن کا ہوا تو کونسا تیس دن کا۔ سادہ لوح‘ بے ریا‘ نیک لوگوں کی دنیا تھی۔ چاند نے بھی کبھی دغا نہیں کی۔ کبھی برسات کے موسم میں بدلیوں نے گھیرا بھی تو پرانی حویلی سے چھوٹنے والی تین توپوں نے سارے شہر کو اطلاع پہنچا دی کہ ہلال رمضان دکھائی دے گیا۔ یوں بھی مساجد آباد تھیں‘ لیکن رمضان میں مساجد کی رونق کچھ اور ہی ہوتی۔ مکہ مسجد کے سارے فانوس روشن کردےئے جاتے۔ یوں بھی رمضان میں نزول انوار و رحمت‘ پھر انسانوں کے نفس پاکیزہ‘ یہ اندازہ مشکل ہوتا کہ نفس منور ہیں یا فانوس اور کس کی ضیا پاشیوں کی چھوٹ کس پر پڑ رہی
ہے۔
ناؤ نوش کی محفلیں تو امرا کے شوق تھے‘ لیکن کیا شاہ اور کیا گدا‘ کسی کے دل میں بھی گناہ تو کجا گناہ کا خیال بھی نہ ہوتا کہ شیطان تو قید ہوا۔ اب بہکانے والا ہی نہ رہا تو بہکنے والے کیوں بہکیں۔ کہتے ہیں کہ شہنشاہ جہانگیر لڑکپن ہی سے مے نوش ہی نہیں بلا نوش تھا‘ لیکن رمضان کے احترام میں وہ بھی اس سے باز ہی رہتا۔
رمضان کی آخری
شام تھی‘ شہنشاہ جہانگیر نور جہاں کے ساتھ کشتی پر سیر کر رہا تھا کہ آسمان پر عید کا چاند بصورت ہلال نمودار ہوا اور جہانگیر نے اسے دیکھ کر نور جہاں کا چہرہ دیکھا
اور کہا:
ہلال عید براوج فلک ہویدا شد
تو نور جہاں نے ہلکی سی مسکراہٹ سے دوسرے ہی لمحہ برجستہ کہا:
کلید میکدہ گم گشتہ بود پیدا شد
تہجد گزار تو ہمیشہ ہی کے تہجد گزار ہوتے ہی تھے‘ مگر رمضان میں تہجد ادا نہ ہو تولطفرمضان ہی کیا؟ اور پھر نہ گھڑی نہ الارم گویا کسی اَن دیکھے ہاتھوں نے خود ہی جگا دیا کہ چونکو یہی وقت تو آسمانوں کے دروازوں سے باران رحمت کا ہے۔ یوں بھی سحری کو جگانے والے جھانجھر لئے خوش الحانی سے کوئی حمد باری کرتا ہوا گزر رہا ہے تو کوئی ’’سحری کرو اٹھو‘‘ کی صدا دے رہا ہے۔ سارا شہر تو جاگ ہی پڑا‘ لیکن فقیرا نہ آئے صدا دے چلے کا منصب بھی تو پورا ہونا ہے۔ سحری تو بچے بھی شوق روزہ میں سب کے ساتھ کرہی لیتے‘ لیکن اکثر کمسن بچوں کی روزہ رکھائیاں تمام عزیز اقرباء‘ ہمسایوں کے درمیان ہی ہوا کرتیں۔ لرزکر مانگنے والوں کی دعاء تو پوری ہوتی ہی ہے‘ لیکن بارگاہ ایزدی میں دن بھر کے روزے کے بعد دعاء کے لئے اٹھے ہوئے کمسن بچوں کے ہاتھ ان کو عمر بھر کے لئے رزق کی
فراوانی سے آسودگی کی طمانیت تھے۔
اس زمانے میں افطار بہت سادہ ہوا کرتا۔ کھجور‘ نمک‘ایک دو موسم کے پھل‘ ہری مرچ اور لیموں سے چٹخارہ والی چنے کی دال‘ دہی بڑے‘ لیکن جو افطار گھر میں ہو وہی پہلے مسجد اور ہمسایوں کے پاس پہنچا دیا جاتا کہ رمضان فیض عام کا مہینہ ہے۔ اس زمانے میں کوئی افطار پارٹی نہیں ہوا کرتی تھی‘ اس لئے کہ کوئی سیاسی پارٹی بھی نہیں تھی۔ روزہ ایک مقدس عبادت ہے اور عبادت کو سیاست سے آلودہ کرنا کہاں تک درست ہے‘ یہ فقہاء جانیں۔ آدھا ماہ رمضان گزرا کہ زکوۃ شروع ہوئی۔ صاحبان نصاب نے پہلے ہی سے زکوۃ علحدہ کرلی اور یوں چپکے چپکے گھر گھر پہنچ کر تقسیم کی کہ داہنے ہاتھ کی اُلٹے ہاتھ کو خبر نہ ہوئی۔ نہ کوئی اعلان‘ نہ تشہیر‘ نہ نام و نمود‘ بھلا حق بہ حق دار رسید میں نام کیا اور نمود کیا۔ آج اہل دولت کے گھروں کے سامنے ناداروں‘ بیواؤں‘ یتیموں کا ہجوم رات دن کھڑا دیکھنے کو ملتا ہے کہ جانے کب سخی کا در کھلے اور کب میسر آئے۔ دن کی دھوپ اور رات کی اوس سرپر گزر جاتی ہے اور صاحبان ثروت کے پہرہ داروں سے پہلے گھرکیاں‘ جھڑکیاں اور بعض اوقات لاٹھیوں کی مار کھائی جائے تب کانپتے ہاتھ کمزوری کے باعث ملی ہوئی خیرات بھی نہ سنبھال سکیں۔ شریف تو فاقہ کو ترجیح دیں پر یہ ذلت نہ اٹھائیں‘ لیکن مجبور نادار یہ بھی چھوڑ دیں تو اور کیا کریں۔ بڑے بڑے اداروں نے دیواروں پر پوسٹر اور اخباروں میں اشتہار دے رکھے ہیں کہ ساری زکوۃ ان تک پہنچ جائے‘ ان کی بلا سے کوئی بھوکا مرتا ہے تو مرے‘ اس لئے کہ موت برحق ہے اور موت سے گھبرانا کیا ہے۔ کسی جان لیوا
مرض سے نہ آئی‘ بھوک سے آئی‘ جو زبان فاقوں کا ذائقہ جانتی ہے اسے نعمتوں اور لذتوں سے کیا کام۔
اس دور میں افطار کے بعد نہ حلیم کے اشتہار‘ نہ ٹھیلوں پر میوے کے انبار۔ چوک کی مسجد کے نیچے ایک مقام پر ہریس تیار ہوتی تھی‘ جو خاندان عرب سے حیدرآباد منتقل ہوکر حیدرآباد میں بس گئے‘ ان کی ضیافت کے لئے جانے کس نے یہ کاروبار شروع کیا تھا۔ کبھی کبھی اہل دکن بھی چکھ لیا کرتے۔ بعد میں حسین ضابط ایرانی نے مدینہ ہوٹل میں حلیم تیار کروائی‘ جو ایرانی طرز پر بنتی تھی‘ یہ بہت مشہور ہوئی اور اب تو بغیر حلیم کے رمضان کا تصور بھی محال ہے۔ حیدرآباد میں روزہ کا احترام اس قدر کیا جاتا تھا کہ دن میں طعام خانے سنسان نظر آتے تھے اور مسافروں کے خیال سے اگر کھلے بھی رہے تو داخلہ پر پردہ ڈال دیا جاتا تھا کہ کسی کا بھرم نہ کھل جائے۔ عید سے دس بارہ دن پہلے ہی سے اہتمام عید اور اس کی تیاری شروع ہو جاتی۔ امراء اور نوابین کے محلوں اور ڈیوڑھیوں میں بزاز کپڑوں کے اتنے تھان کھول دیتے تھے کہ نوکر‘ چاکر‘ حاجب‘ خدمت گار‘ چوبدار‘ حقہ بردار‘ سائیس‘ کہار‘ ماما‘ مغلانی‘ کنیز‘ باندی‘ انائیں‘ دوائیں‘ قلما قلمنیاں‘ جسولنیاں‘ سب کے لئے کپڑوں کے جوڑے اور منہارن چوڑیاں پہنانے کے لئے آتی تو ایک ایک گھر میں کئی گھنٹے لگ جاتے۔ چوڑیاں بھی نازک کانچ کی جس کے رنگ آرزوؤں کے رنگ کی طرح کھلتے ہوئے پہلے ہاتھ کو خوب مل کر نرم کرلیتی‘ پھر آس آہستگی سے چوڑیاں چڑھاتی کہ کلائیوں میں چوڑی کی کھنک کے آگے جلترنگ کے سُر پھیکے پڑ جائیں۔ اگر چوڑیاں چڑھاتے چڑھاتے کوئی چوڑی ٹوٹ جاتی تو منہار ن چپکے سے اسے یوں الگ کرلیتی جیسے پھول سے کمھلائی ہوئی پنکھڑی کو الگ کرلیا جائے۔ آج کل ٹوپیاں صرف رمضان میں نظر آتی ہیں‘ اس وقت برہنہ سر ہونا معیوب ہی نہیں بدشگونی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ لڑکیوں کے لباس غرارہ‘ قمیص‘ کلی دار پاجامے کرتے‘ کامدانی‘ سلمیٰ ستارے‘ اطلس‘ کمخواب‘ زردوزی‘ کھیوا تو مردانہ شیروانیوں کی شان ہی کچھ اور تھی۔ عمدہ ٹوئیڈ کی شیروانی امراء کے لئے تو غریب بھی سوتی شیروانی ہی سہی مگر لباس یہی تھا۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ اس وقت نوجوان بھی شیروانی ہی پہنتے تھے‘ ہاں کبھی کبھی بانکے بننے کی خواہش ہوئی تو اوپر کے بوتام (گھنڈیاں) کھلی رکھیں‘ مگر چال میں وہی وقار و تمکنت۔ آج کی طرح نوجوان نہ چوٹی ڈالتے تھے‘ نہ کان میں جھمکا پہنتے تھے اور نہ لڑکیاں بال ترشواتی تھیں‘ نہ پتلون پہنتی تھیں۔ وہاں تو سر سے آنچل تک نہ ڈھلکتا‘ گویاں
آنچل نے ڈھلکنا سیکھا ہی نہیں تھا۔
آگرہ کا مینا بازار اپنی جگہ کبھی رہا ہوگا‘ لیکن قطب شاہ کا بسایا ہوا لاڈبازار آج بھی سجا سجایا ہے۔ چوک کے قریب نظام عطار کی دوکان کے قریب سے ہوکر کوئی گزر جائے تو ہوا کا چھوکر گزرنا ہی عطر بیز کردیتا تھا۔ عود‘ اگر‘ موتیا‘ موگرا‘ گلاب،پہاڑی پھول، شمامہ اور باسی دلہن تو نظام عطار پر ختم تھا۔ عطر تو پورن
داس رنچھوڑ داس کے پاس بھی مل جاتا‘ لیکن اصغر علی محمد علی کے زردہ اور قوام میں جو خوشبو تھی وہ اُنکے عطر میں نہ تھی۔
شہر میں عید کی یہ تیاریاں ہوں تو کنگ کوٹھی کا کیا پوچھنا۔ نظام دکن نے ایک مرتبہ اپنے والد محبوب علی پاشاہ کی طویل الماری سے شیروانیوں کا انتخاب کیا اور اس میں سے ایک آعظم جاہ اور ایک معظم جاہ کو بھجوائی کہ عید کے دن پہن کر سلام کے لئے آئیں۔ آعظم جاہ نے تو چوم کر رکھ لی‘ لیکن معظم جاہ نے چاک کردی۔ جانے کس نے نظام کو خبر کردی۔ انھوں نے معظم جاہ کو بلوا بھیجا اور باز پرس کی تو معظم جاہ نے سلام کرکے کہا کہ میں عید کو پرانی شیروانی نہیں پہنوں گا خواہ کتنی ہی قیمتی ہو۔ نظام نے کہا ’’میں خود پہن رہا ہوں‘‘ تو معظم جاہ نے سلام بجالاکر کہا کہ ’’حضور یتیم ہیں اور میرے سرپر باپ کا سایہ سلامت ہے‘‘۔ نظام چپ ہو گئے اور 50 ہزار روپے عید کی تیاری کے لئے شہزادیکے پاس بھجوا دےئے۔ معظم جاہ نے جان برٹن کے کئی شیروانیوں کے الگ الگ تھان
خریدکر اپنے مصاحبین میں تقسیم کردےئے اور خود بھی نئی شیروانی پہن‘ دستار لگاکر نظام کے سلام کو حاضر ہوئے۔
نواب عنایت جنگ بہادر ہر سال کئی افراد کی شیروانیوں کا انتظام کرتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص کا نام ذہن میں نہ رہا۔ وہ بابائے شہر تھے۔ عید کے بعد دوسرے دن جب اجلاس سے روانہ ہوئے ، موٹر میں بیٹھنا چاہتے تھے کہ ا یک شخص نے پرانے لباس میں سلام کیا‘ تب نواب صاحب کو یاد آیا کہ اس کی شیروانی نہیں پہنچی۔ موٹر کے شیشے چڑھاکر شیروانی اتاری اور اس کے حوالے کردی۔ ڈیوڑھی پر پہنچ کر دوسری شیروانی طلب کرکے پہنی‘ پھر برآمد ہوئے۔ آپ جس وقت یہ مضمون پڑھ رہے ہوں گے رمضان کی آ خری شام ہوگی۔ چاند کے سبھی منتظر ہوں گے۔ اس زمانے میں بھی چاند کا اشتیاق تو سبھی کو ہوتا‘ نوجوان ٹکڑیوں میں چاند کو تلاش کرتے‘ بزرگ اپنے دوستوں کے ساتھ‘ لیکن گھر کی خواتین صرف صحن تک اتر آتیں کہ چاند کو خود بھی کسی کو ترسانا اچھا نہ لگتا اور گھڑی بھر کے لئے جھلک دکھلاکر خوشیاں بانٹ گیا۔ چاند بھی مخلص تھا‘ لوگ بھی بے ریا۔ اس زمانے میں چاند آنگن سے دیکھا جاتا تھا‘ سو آنگن میں اتر آتا تھا۔ کوئی کمیٹی بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلہ نہیں کرتی تھی۔ اب نہ وہ لوگ رہے نہ وہ دلداریاں۔ نہ وہ تہذیب‘ نہ سلام‘ نہ آداب‘ نہ تسلیم‘ نہ مجرانہ بگھی‘ نہ تانگہ‘ نہ پالکی‘ نہ ہوادار‘ نہ چاندی سونے کے ورق میں لٹپی گلوریاں۔ لوگ گلے تو ملتے ہیں مگر دل بہت کم ملتے ہیں۔ کسی کے لئے عید کچھ سہی‘ لیکن ایک حکیم علی الاطلاق نے کہا ہے کہ جس دن تم سے کوئی گناہ نہ ہو وہ تمہارے لئے عید کا دن ہے۔ آپ کو عید مبارک ہو‘ آپ خوش رہئے‘ سلامت
رہئے‘ آپ خوش ہیں تو پھر : ؂
عید ہو یا کہ نہ ہو میرے لئے عید ہوئی



  

***