آئینۂ ایام ۔ قسط :۱۳
کوئی فرزانہ کبھی خاک اڑاتا آوے
(جوشؔ ، فانیؔ اور صدقؔ ۔حیدرآباد ادب کے حوالے سے )
گذشتہ سے پیوستہ :

’’.......جوش ؔ کو ماہانہ ایک سو روپیہ وظیفہ مقرر ہوا۔ ایک ہزار روپیہ قرض منظور کیا گیا۔ جسے جوشؔ نے پانچ ہزار لکھا۔. روانگی کے وقت ریلوے اسٹیشن پر ان کے احباب جمع تھے۔ جوشؔ کو حیدرآباد چھوڑنے کا بڑا قلق تھا۔ ان کی نگاہیں اسٹیشن پر کسی کو تلاش کر رہی تھیں۔ یکایک ان کی نگاہیں ٹہر گئیں ۔ ایسے لگا بے قرار آنکھوں کو قرار آگیا۔ وہ نظر بھر کے کسی کو اپنی آنکھوں میں محفوظ کر لینا چاہتے تھے لیکن آنکھ بھر آئی۔ ٹرین رینگنے لگی ۔ حیدرآباد چھوٹ گیا۔ جوشؔ نے کئی بار کوشش کی کہ ان کی خطا معاف کردی جائے لیکن سقوطِ حیدرآباد تک جوش ؔ نہ آ سکے۔
1951ء میں جب وہ دوبارہ حیدرآباد آئے ۔ تب تک انتظار کشیدہ آنکھوں میں پیوست سوئیاں کب کی زنگ آلود ہو چکی تھیں۔ جوشؔ حیدرآباد کی گلیوں کی
خاک چھانتے رہے۔ جانے کس کو تلاش کر رہے تھے۔ وہ کسی سے کیا کہتے کہ
سرمئی شام کی بانہوں میں سمٹتے سائے
زلف کا خم ‘ تری چتون کا فسوں پوچھتے ہیں !‘‘
آئینۂ ایام ۔تیرھویں قسط:
جوشؔ پر میری تحریر کے ضمن میں میری ایک قاری ڈاکٹر عائشہ تبسم نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ، اگرچہ جوشؔ نے غلط بیانی سے کام لیا ہے اور جوشؔ کی خودنوشت ’یادوں کی بارات‘ جھوٹ کا پلندہ ہے، لیکن ییہ جھوٹ اچھا لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بھی ایک راز کو فاش نہیں کیا۔ اور حقیقت کو چھپانا بھی تو دروغ گوئی ہے۔ میں اپنے قارئین کا بہت احترام کرتا ہوں۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے قارئین جو اپنی ساری مصروفیتوں کے بعد بھی میری تحریر کو پڑھنے کے لیے وقت نکال لیتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار بڑی اپنائیت سے کرتے ہیں۔ ان کا احترام تو مجھ پر لازم ہے، وہ میرے لیے بہت محترم ہیں۔ میری اپنی متاعِ عزیز ہیں۔ ڈاکٹر عائشہ تبسم سے اتفاق کرتے ہوئے میں اسے اور کشید کرنا چاہوں ہوں کہ کبھی کبھی ایک ضرر جھوٹ اتنا برا بھی نہیں ہوتا کہ اس کی مذمت کی جائے۔ جوشؔ نے ریاستِ حیدرآباد سے ملنے والے قرض کی رقم کو گھٹایا نہیں بلکہ اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ انہوں نے ایک ہزار کو پانچ ہزار لکھ کر شاید ریاستِ حیدرآباد کی فراخ دلی اور اپنے مرتبے کا خیال رکھنا چاہا ہو۔ معاشرے میں ہم سب یہی کرتے ہیں ۔ اپنی غربت و فلاکت ، تنگدستی اور افلاس کی پردہ پوشی، خوش لباسی، خوش قطع رنگین پیرہنی، ظاہری آسودگی، مصنوعی تبسم ، کھوکھلی ہنسی، بلکتے ہوئے قہقہے، فاقہ آشنا زبانوں سے نعمتوں کے ذائقے کا اظہار۔ جس دہرِ ناسپاس میں لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا برا سوچتے ہوں، ان کا بھی خوش قبا الفاظ میں تذکرہ ، قصیدہ، تشبیب، گریز، چہرہ، مدح سرائی، دعائیہ، کیا کچھ نہیں کرتے ۔ بھلا جوشؔ اکیلے کیوں مطعونِ خلائق ہوں؟۔ میں تو کہوں ہوں کہ جوشؔ کی خود نوشت ان کے ظاہر کی سوانح نہیں
ہے۔ بلکہ ان کے اندر کے آدمی کی سوانح ہے۔ ان کے اندر ایک آگ تھی لیکن وہ سنبھال گئے۔ کسی کم ظرف آتش فشاں کی طرح اپنا لاوا نہیں اگلا۔ ان کے اندر سمندروں کا بھونچال تھا ، لیکن انہوں نے سمیٹ رکھا۔ جوشؔ نے دنیا کے تحمل کی حد تک ہی اظہار کیا ہے۔’’ اس پر بھی سنا ہے کہ زمانے کو گلہ ہے۔‘‘ ابھی دنیا کواس ادراک میں وقت لگے گا کہ بدن کی واردات اور ہوتی ہے ‘ قلب کی واردات اور۔ میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ جوش ؔ نے کہیں کہیں اپنی ناآسودہ تمناؤں کی شاید تجسیم کردی ہو اور خیالوں میں آباد اس منظر کو پیش کردیا ہو۔ آخر کو بڑے شاعر تھے۔ معقو ل کو محسوس اور خیال کی وادیوں کو آباد کرکے کبھی گلگشت اور کبھی سیرِ بیاباں کردینے کے ہنر پر قدرت رکھتے تھے۔ ان کی نثر بلاشبہ شاعرانہ ہے۔ ہم نے ہمیشہ یہی کیا ہے کہ اپنے خود ساختہ قواعد، ضوابط ، اصول، حدود کی روشنی میں دوسرے کی واردات کو دیکھا۔ یہ نہیں سوچا کہ وہ ہم نہیں ہے، اس کا اپنا آپ بھی ہے۔ اس کے اندر بھی ایک کائنات مضمر ہے۔ کبھی اس کی بھی سیر کی جائے۔ اس کی ذات کے اندر ۔ نہاں خانوں کی سیر۔جس کا حرفِ خفی اس نے بڑے بھروسے اور اعتماد سے ہمارے سپرد کردیا۔ وہ بھی خدا ہی کی ایک مخلوق ہے۔ محبت سے خلق کی ہوئی۔ روایات کی پابندِ سلاسل۔ رسوم و رواج کی فصیلوں میں قلعہ بند۔ جرگوں اور قبیلوں کے کہنہ اصولوں کے زندان میں محبوس۔ جوش ؔ کو اسی لیے تو شاعرِ انقلاب کہا جاتا ہے کہ وہ تازہ ہوا کے طلبگار تھے، وہ عظمتِ انسان کے قائل تھے، وہ حریت پسند تھے، وہ تحیر کی لزت سے آشنا کردینے والی قوتِ ایجاد کے ثناخواں تھے۔ وہ مجہول اور فرسودہ روایات کے قلعہ شکن تھے۔ جوشؔ کے لیے حرف و معانی کا ساتواں در کھلتا ہے جہاں وہ محلِ استعمال سے لفظ کو نئے معنیٰ عطا کرتے ہیں۔ جوشؔ کی نظر میں خیال کی ترسیل کے لیے لفظ ایک محمل ہے جس میں خیال سمو سکے۔ انہیں ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ ان کے منتشر خیالات کی ترسیل کے لیے مناسب لفظ نہیں مل سکے۔ وہ سریرآرائے سلطنتِ لفظ و معانی تو تھے ہی لیکن انہیں اپنی رعایا سے اس حد تک باخبری تھی کہ لفظ کے گھر کی کونسی کنواری کس سر سے پیار کرتی ہے۔ اہلِ دل کی محفل میں اب شاید ہی ان جیسا کوئی مسند آراء ہو سکے۔ رہی بات کہ حیدرآباد سے روانہ ہوتے ہوئے جوشؔ کو کس کا انتظار تھا۔ وہ جوشؔ جس کو فرطِ غم کی اتنی تاب تھی کہ کبھی آنکھ نہ چھلکی، وہ ضبطِ غم ٹوٹتے ٹوٹتے بھی جوشؔ نے کیسے سنبھالا۔ وہ کون تھی؟ اب اس غمِ رائیگاں کا تذکرہ کیا ہے۔ میں کسی ایسی ردا پوش کو جو اب کفن پوش ہو گئی ہو، تحقیق کے نام پر بے ردا کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔ انسانوں کے درمیان ایسی اَن گنت داستانیں ہیں۔ جب تک سینے میں دل دھڑکتا رہے گا‘ نہ دل کی لگی کم ہوگی اور نہ عشق کی بلا خیزی تمام ہوگی۔ یہ آگ تو ازل سے لگی ہوئی ہے‘ جو کبھی دکھائی نہیں دے گی ۔ جلا کر خاک کردیتی ہے لیکن چنگاری کی صورت بہر حال خاکستر میں ابد تک باقی رہتی ہے۔ میرے لڑکپن کی بات ہے ، سہ پہر میں میرعالم کی منڈی بھر جاتی تھی۔ یوں سمجھ لیجیے کہ شہر بھر کے لیے یہ بازار تھا۔ ضرورت کی ہر چیز یہاں دستیاب ہو جاتی تھی۔ اس زمانے میں ہر چیز اصلی، تازہ بہ تازہ، نو بہ نو مل جاتی تھی۔ میں گوشت سبزی خریدنے منڈی میر عالم جایا کرتا تھا۔ اس کی رونق کچھ یوں بھی تھی کہ ادھر سبزی والیاں خود سجی سجائی ، بالوں میں چنبیلی کا تیل ڈالے ، جوڑے میں کنیر کے تازہ پھول اڑسے، مدن مست کی طرح مہکتی ہوئی جب تازہ سبزیوں پر پانی کا چھینٹا دیدیا کرتی تھیں تو سمجھو کہ زمرد پر آب آجائے۔ چائے فروش ایک ہاتھ میں انگیٹھی پر چائے کی کیتلی اور دوسرے ہاتھ میں پیالیاں کھنکاتے ہوئے چائے ،چائے کی آوازیں بلند کرتے ہوئے دکھائی دیتے ۔ ایسے میں تنبولی کشتی میں پان سجائے ، عرقِ گلاب میں بھگویا ہوا چونا، دودھ اور خشخشاش کے عرق میں پکایا ہوا
کتھا، ورق کی طرح تراشی ہوئی
اور زعفران میں مہکائی ہوئی ڈلی۔ سونف، کھوپرا، جوز، جونتری، نرملی، زعفران، لونگ، الائچی، گلقند،زردہ، قوام سے سجی کشتی گلے میں لٹکائے آواز دیا کرتے
۔ پان لو پان۔ کشمیر کا زعفران، میسور کی سپاری، لکھنؤ کے اصغر علی محمد علی کا قوام، رامپوری زردہ، آصفجاہی کلی دار چونا، کانپوری کتھا۔ پان لو پان!۔
ایک دن ایک صاحب اس پنواڑی کے آگے کھڑے ہوگئے اور کہا: ’’بھیّا! بتلانا تو کہاں کا کتھا کہا تم نے؟۔‘‘
اس نے کہا : ’’ حضور بنگال کا پان ہے۔ کشمیر کا زعفران، میسور کی چھالیہ ڈلی، لکھنؤ کا قوام ۔۔۔۔‘‘
انہوں نے بات کاٹ کر کہا:’’ اماں! اس سب کو چھوڑو۔ یہ بتلاؤ کہ کتھا کہاں کا کہا تم نے؟‘‘
اس نے کہا : ’’حضورِ والا! کانپور کا کتھا۔‘‘
کہا: ’’پھر سے کہو! کہاں کا کتھا کہا؟۔‘‘
اس نے کہا:’’ جنابِ عالی ! کانپور کا کتھا ہے۔ خالص کانپور کا ۔ملاحظہ فرمائیں جو رمق برابر فرق آجائے تو داورِ محشر مجھے معاف نہ کرے۔ اور جو غلط کہوں ،
گناہگار ہوں۔ محشر میں میرا دامن اور آپ کا ہاتھ ہووے۔ ‘‘
ان صاحب کی آنکھیں بھر آئیں۔ گلوگیر لہجہ میں کہا:’’بھائی! خدا تجھے سلامت رکھے۔ میرایہ مطلب تو نہ تھا۔ بہت سال گذر گئے ۔ وطن سے چلا ہوں۔اس زمین نے پناہ دی۔ رزاقِ متین نے روزی روٹی تو کشادہ کردی۔ لیکن رات سونے کے لیے جب بستر پر لیٹتا ہوں تو وطن کی مٹی اور چٹائی بہت یاد آتی ہے۔ برا نہ مانو ۔ مجھے تو اپنے وطن کی موریوں کی بو بھی شمامۃ العنبر لگے ہے۔‘‘ پھر جیب سے سارے پیسے نکال کر کہا:’’یہ سب لے لیجیو! مگر ایک مرتبہ پھر کہدینا ، کہاں
کا کتھا تھا۔‘‘
پنواڑی نے رندہی ہوئی آوازمیں کہا: ’’ حضور! کانپور کا کتھا ہے۔‘‘ اور پھر گلوری بناکرپیش کرتے ہوئے کہا: ’’ حضور ! پیسے اپنے پاس رکھیں۔ خدا آپ کو جلد اپنے وطن لے جائے، بچھڑے ہوئے عزیزوں سے ملائے۔‘‘
جوشؔ ملیح آبادی بھی حیدرآباد آگئے۔ یہاں بس گئے۔ ملازمت بھی ملی، ماحول بھی سازگار تھا۔ ان کے ذوق کی تسکین کا بھی پورا سامان مہیا تھا۔ ان کے قدردان بھی تھے۔ محفلوں میں ان کی پذیرائی بھی تھی۔ لیکن ان سے بھی یادِ وطن نہ چھوٹی اور نہ انہوں نے اپنے پرانے دوستوں کو فراموش کیا۔ صدقؔ جائسی مرحوم ہمارے گھراکثر آتے رہتے۔ میرے والد سے ان کی بے تکلفی بھی بہت تھی۔ وہ جب کبھی کوئی واقعہ سناتے تو ان کے طرزِ بیان میں داستان گوئی کے عناصر ایسے شامل رہتے کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔یہ واقعہ بھی انہیں کا بیان کردہ ہے۔ بعد کو یہ شائع بھی ہوا۔ ایک دن صدقؔ جائسی ‘ جوشؔ سے ملاقات کے لیے گئے تو دیکھا ، جوشؔ صاحب اپنے مکان کے پیش دالان میں تشریف فرماہیں اور سامنے چھوٹی سی میز پر ایک خوبصورت گول تختہ اور اس سے منسلک پنسل اور نیچے کاغذ رکھا ہے۔ صدقؔ جائسی کے پوچھنے پر انہوں نے بتلایاکہ اسے ’’پلان چیٹ‘‘ کہتے ہیں اور اس کے ذریعے روحوں سے ربط پیدا کیا جا سکتا ہے۔ یہ تختہ بعد میں بھی میں نے دیکھا اور بہت سے افراد کو اس مشغلے میں مصروف بھی پایا۔ لیکن میں اس کی تہہ کو نہ پہنچ سکا، نہ اس کی حقیقت کو پاسکا۔ جوشؔ نے صدق صاحب سے کہا‘ میں یہ سونچ رہا ہوں کہ فانیؔ کو حیدرآباد بلوالیا جائے ۔ آگرے میں تو وہ بیکار ہوگئے ہیں۔ شاید ان کے لیے حیدرآباد میں کوئی راہ نکل آئے۔ پھر انہوں نے کہا، دیکھیں پلان چیٹ پر کیا جواب آتا ہے۔ انہوں نے کسی استاد شاعر کی روح سے دریافت کیا تو جواب آیا:’’ کوئی حرج نہیں۔‘‘
اس واقعے کو کئی ہفتے گذر گئے ۔ وہ جوشؔ تھے ، بس اس دن ان کے سر میں سمائی تھی ، سو گذری۔ ایک دن صدق ؔ جائسی نے پوچھا:’’فانیؔ کے حیدرآباد آنے کا کیا ہوا؟۔‘‘ جوشؔ فق انہیں دیکھنے لگے ۔ پھر کہا:’’بس! ایک دو دن میں انہیں لکھتا ہوں۔ ‘‘ چند دنوں بعد پتا چلا کہ فانیؔ حیدرآباد پہنچ چکے ہیں۔ جوشؔ انہیں لے کر مہاراجہ کشن پرشاد کے پاس گئے۔ ان سے احوال و کوائف بیان کئے۔ مہاراجہ نے فی الفور ان کے قیام کا انتظام عزیزیہ ہوٹل میں کردیا۔ جہاں ان کے قیام اور طعام ‘ دونوں کا بندوبست تھا۔
فانیؔ کا نام شوکت علی خان تھا۔ ان کے اجداد شاہ عالم کے دور میں افغانستان سے ہندوستان آئے۔ ان کی خوب پذیرائی ہوئی۔ لیکن شوکت علی خان فانیؔ تک ان کی ریاست نہ پہنچ سکی۔ صرف شرافت ورثے میں آئی۔ فانی نے 1901ء میں بی .اے کیا اور 1908ء میں ایل .ایل. بی کیا لیکن ان کی پریکٹیس کامیاب نہیں ہوئی۔ جس وقت وہ 1932ء میں حیدرآباد آئے، ان کی عمر پچاس سال سے متجاوز ہو چکی تھی،جو سرکاری ملازمت کی حد سے گذر چکی تھی۔ مہاراجہ نے ان کی درخواست تو داخل کروادی لیکن اس پر خود نظام معترض ہوئے کہ ان معمولی جائیدادوں پر بھی اگر بیرونی افراد کو ملازمت دی گئی تو جامعہ عثمانیہ کے فارغ التحصیل کہاں جائیں گے؟۔ اس پر اخباروں نے بھی بہت شور مچایا۔ خدا خدا کرکے جب شور تھما تو فانی ؔ کو ان کی قابلیت کی بناء پر منصف کے عہدے کی پیش کش کی گئی۔ فانیؔ کے احوال کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے ایک طرف ان کے لیے افسوس کا جذبہ بھی ابھرتا ہے کہ زندگی نے ان سے کوئی بہتر سلوک نہیں کیا ۔ دوسری طرف فانیؔ کی حماقتیں اور نادانیاں نھی دکھائی دیتی ہیں۔ جہاں انہوں نے ازخود اپنی بد قسمتی کو بارہا دعوت دی کہ وہ آئے اور ان کی زندگی میں گھر کرے۔ فانی کو حیدرآباد کی رونقوں نے گھیر لیا۔ وہ شہر چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔ انہوں نے اس ملازمت سے انکار کر دیا۔ مہاراجہ کی ماہانہ امداد دو سو روپیہ جاری تھی۔ انہوں نے حیدرآباد میں ملازمت کے خوش آئند تصور میں بیوی اور دونوں بچوں کو بھی حیدرآباد بلوالیا تھا۔ بھلا ہوٹل میں اتنے افراد کا خرچ کہاں پورا ہو سکتا تھا۔ احباب نے انہیں ملے پلی محلے میں نو تعمیرشدہ سرکاری مکانات میں دس روپیہ ماہوار پر Aکلاس کا مکان کرایہ پر دلوایا۔ تب کہیں فانیؔ کو کچھ سکون میسر آیا۔ مہاراجہ کشن پرشاد نے اپنے رسوخ سے فانیؔ کا تقرر بحیثیت صدرمدرس کروادیااور وہ مدرسہ فوقانیہ ‘ دارالشفاء میں صدر مدرس قرار پائے۔ جوشؔ نے فانی سے کہا:’’کل تم تیار رہنا۔ میں شام سے پہلے تمہیں لینے آجاؤں گا۔ چلنا ہے۔ ‘‘ فانی نے پوچھا:’’کہاں؟‘‘ جوشؔ نے کہا:’’دربار میں۔‘‘ فانیؔ نے پوچھا:’’نظام کے دربار میں؟‘‘ جوش نے کہا:’’نہیں۔ وہ دربارِ مشقت ہے۔‘‘ ’’دربارِ مشقت!‘‘۔
جوش نے کہا:’’ہاں!۔ وہاں سوائے نظام کے ہر شخص کھڑا رہتا ہے۔ مجال نہیں کہ بے اجازت کوئی جنبش کر سکے۔جب تک بادشاہ سلامت مخاطب نہ ہوں‘ کوئی زبان نہیں کھول سکتا۔ اور تو اور مجال نہیں کہ کوئی چھینک دے۔ بدن میں کہیں کھجلی ہو رہی ہو تو بدنصیب برداشت کرے مگر سرکار کے روبر کبھی دفع نہیں کر سکتاہے۔ بلکہ اگر حوائج ضروری درپیش ہوتو برداشت کرے کہ مثانہ پھٹ جائے۔ اور یہ دربار کوئی وقتِ مقررتک نہیں بلکہ مزاجِ شاہانہ پر موقوف ہے۔ ‘‘
جوشؔ نے کہا:’’ دربار تو حیدرآباد میں بہت ہیں۔ ہر جاہ، ملک، دولہ، جنگ ، امراء کا الگ الگ دربار ہے۔مہاراجہ کا دربار تم دیکھ ہی چکے ہو۔ مہاراجہ نہایت شریف ، وضعدار، ہمدرد، خلیق اور با مروت شخص ہیں لیکن آدابِ درباری تو بہر حال آدابِ درباری ہیں ہی۔ خود مہاراجہ کا یہ حال ہے کہ جب راستے سے گذرتے ہوں اور ادھر سے بادشاہ سلامت کی سواری گذرنے کو ہو تو خود بدولت سوری سے اتر کر کھٹے ہوجاتے ہیں اور جیسے ہی کارواں نظر آ جائے خمیدہ ہو کر مسلسل اس وقت تک آداب بجا لاتے ہیں کہ کاروان کی آخری سواری اوجھل نہ ہو جائے۔ ایک دفعہ میں اور صدقؔ جائسی مہاراجہ کے دربار میں موجود تھے۔ ایک پانچ چھ برس کی لڑکی دربار میں داخل ہوئی۔ اہلِ دربار سب تعظیم میں کھڑے ہو گئے اور جھک کر سات سلام عرض کئے ۔ میں نے بھی ان کی تقلید کی۔ جب سب بیٹھ گئے تو میں نے دیکھا ‘ وہ لڑکی جس کی ہم تعظیم فرما رہے تھے‘ وہ مہاراجہ کی گود میں بیٹھی ہے۔ اب تم جانو میرا کتنا خون کھول گیا ہوگاکہ اس سن و سال میں اس بچی کے احترام میں کھڑا ہو کر اور کمر خمیدہ ہو کر سات سلام بجا لانا پڑا۔ میں نے اپنے آپ پر نفریں کی کہ لعنت ہو شبیر حسین خان جوشؔ جاگیردار تجھ پر کہ تونے اپنی جاگیر میں سلام ، مجرا بجالانے والوں کی ذرا سے تساہل پر قمچیاں رسید کیں۔ اب دیکھ کہ قسّامِ ازل نے تیرے مقدر میں کیا لکھا ہے۔ میں غصّے میں بھرا بیٹھا تھا لیکن دربار سے بلا وجہ اٹھنا بھی محال تھا۔ بارے جب دربار ختم ہوا اور ہم باہر نکلے تو میں پھٹ پڑا۔ اور صدقؔ کے آگے ہلکان ہوتا رہا۔ صدقؔ بہ کمالِ صبر و ضبط مجھے سنتے رہے۔ زبان سے ایک لفظ نہ کہا۔ اس بندۂ خدا کی خاموشی سے مجھے وحشت سی ہونے لگی ۔ آخر کو صدقؔ نے نہایت متانت سے صرف ایک جملہ کہا:’’غم نہ کرو ۔ کوئی دس برس بعد تمہارے اس سلام کا جواب اپنے تبسم سے دے گی۔ تب تمہاری حالت دیگرہوگی۔ ‘‘ میں یکلخت رکا۔ غور سے صدقؔ جائسی کے چہرے کو دیکھا۔ لیکن اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔ کوئی رنگ نہیں۔ کوئی تأثرنہیں۔ میں ہنس پڑا ۔ اس ایک برجستگی نے میرے غصے کو کافور کردیا۔‘‘ آہستہ آہستہ رات ڈھل رہی ہے۔ میری پلکوں کی مسہری پر چادر بے داغ بے شکن ہے۔ نہ اس پر تنقید اتری ہے نہ اس کی انگڑائی نے میری پلکوں کو چو ماہے۔ میرے پیچھے شہر بھی ہے، رونقِ بازار بھی ہے۔ میرے آگے صحرا بھی ہے۔ دشتِ پُر خار بھی ہے۔ اور میں سونچ رہا ہوں،حیدرآبا د تجھے کہاں کہاں سے یاد کروں ،کتنا یاد رکھوں،میرے اندر یادوں کے چراغوں کی لو بڑھ رہی ہے اور میں تنھا کھڑا ہوں کہ،
دشت میں کوچہ و بازار کی حسرت لے کر
کوئی فرزانہ کبھی خاک اڑاتا آوے۔
(بقیہ: جوش، فانی اور صدق ۔ اگلی قسط میں جاری ہے۔)

  

***