آئینۂ ایام ۔ قسط :۱۲
زلف کاخم تری چتون کا فسوں پوچھتے ہیں
(جوشؔ ملیح آبادی۔حیدرآباد ادب کے حوالے سے )
گذشتہ سے پیوستہ :

’’میر عثمان علی خان کی شاعری مضامین کے اعتبار سے بلند پایہ شاعری میں شمار نہیں کی جا سکتی۔ ان کی تمام خوبیاں اپنی جگہ ، لیکن ادب کے میزان پر اس شاعری کو ملوک الکلام کے درجے پر فائز کرنا ادب سے ناانصافی قرار پائے گی۔ استاد جلیلؔ صرف اس بات کے مجاز تھے کہ فنی سقم کو دور کر دیا جائے۔ انہوں نے کر دیا۔ وہ مضامین میں ندرت یا تبدیلی کے مجاز نہیں تھے۔ وہ نہیں کر سکے۔ اس اعتبار سے میر عثمان علی خان کے کلام میں فنی سقم نہ سہی، لیکن مضامین کی ندرت یا
جدت نہیں پائی جاتی۔
ہوشؔ بلگرامی جو بعد میں ہوشیار جنگ کہلائے، میر عثمان علی خان کے مصاحبین میں تھے۔ اگلے صفحات میں جب ان کا تفصیلی تعارف ہو گا تو آپ محسوس کریں گے کہ ہوشؔ بلگرامی کو کس صف میں رکھا جانا چاہیئے۔ جامعہ عثمانیہ کے قیام کے بعد انہوں نے تنہائی میں آصفِ سابع سے کہا: ’’سرکار! اس غلام کی ایک
عرض پر توجہ فرمائیں تو عرض کروں!‘‘
آصفِ سابع نے کہا: ’’کہو‘‘!
ہوش ؔ نے کہا: ’’ حضور کا سایہ تا قیامِ شمس و قمر رعایا پر قائم رہے۔ سرکار کی بدولت مملکتِ آصفیہ کی رعایا بلکہ بیرونِ مملکت کی رعا یا بھی علم سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔ سرکار سلطان العلوم ہیں۔ بندہ پرور کا کلام ملکوکُ الکلام ہے، اس کے باوجود جامعہ عثمانیہ کے نصاب میں شامل نہیں ہے۔ واللہ ! یہ تو ستم ہے۔ آپ
دریافت فرمائیں کہ کیوں امیرِ جامعہ کی نظر اس امر پر نہیں گئی؟‘‘۔
نظام کی آنکھوں میں چمک لہرائی ۔ فوراً احکام صادر ہوئے کہ مولوی عبد الحق بارگاہِ خسروی میں حاضر ہو۔
جب عبد الحق پیشی میں پہنچے تو نظام نے کہا:’’ اجی عبد الحق! ہوش بلگرامی یہ کہہ رہے تھے کہ جامعہ عثمانیہ کے طالب علموں کو ہمارا کلام نہیں پڑھایا جا رہا ہے۔ اگر رعایا ہمارے کلام سے مستفید نہیں ہوئی تو پھر کس کے کلام سے استفادہ کرے گی۔ ان میں بادشاہ سے وفاداری کا جذبہ کیسے پیدا ہوگا؟ ‘‘ مولوی عبد الحق سکتے میں آگئے۔ ’’گویم مشکل، نہ گویم مشکل ‘‘کے مصداق چپ کھڑے تھے۔ انہوں نے دزدیدہ نظر سے ہوش ؔ بلگرامی کو دیکھا۔ ہوشؔ کے ہونٹوں پر عجیب مسکراہٹ تھی۔ اور عبد الحق کے دل میں یہ خیال کہ
کوئی میرے دل سے پوچھے ، تیرے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا!‘‘
آگے ملاحظہ فرمائیں:۔
مولوی عبد الحق نے دست بستہ نظام سے کہا: ’’حضور کا اقبال اور بلند ہو۔ اہلِ دنیا‘ ہما کا تذکرہ کرتے ہیں لیکن ہما کو دیکھا کسی نے نہیں۔ سرکار کی سرپرستی درحقیقت سر پر ظلِ ہما ہے۔ اعلیٰ حضرت فدوی کے معروضہ کو گستاخی پر محمول نہ فرمائیں تو عرض کروں کہ آپ کا یہ تابعدار ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے جب حضورِ والا کے کلامِ بلاغت نظام کو پڑھتا ہے تب یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اس میں علم و معرفت، حکمت و طلاقت، فصاحت و بلاغت کا ایک بحرِ ذخار ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ اس کی غواصی آسان نہیں۔ میں اس بحرِ تفکر میں کمر کمر غرق ہوتا ہوں تو خبر ملتی ہے کہ کوئی اس کی تہہ لائے تو دُرِّشہوار پائے۔ بھلا جامعہ عثمانیہ کے مبتدی طلبہ کیوں کر معرفت آشنا ہوں گے کہ اس دُرِّ بے بہا تک ان کی رسائی ہو سکے۔ فدوی نے اس پر بارہا غور کیا ‘ لیکن وجوہات کی بناء پر عرض گذار ہونے کی ہمت نہ کر سکا۔ یہ کہہ کر مولوی عبد الحق رکے اور ہوشیار جنگ کی طرف دیکھا ۔ گویا بساطِ درباری میں ہوش ؔ بلگرامی کے
شتر سے ٹھیک ڈھائی گھر پر اپنا اسپ رکھ دیا ہو۔
نظام نے کہا:’’مولوی! کہو کہو۔ تمہیں کیا امر مانع ہو رہا ہے۔ ہم تمہاری صاف گوئی سے خوش ہوئے۔‘‘ مولوی عبد الحق نے کہا کہ’’ حضور کے کلامِ بلاغت نظام کو شاملِ نصاب کرنے کی صرف دو ہی صورتیں ہیں کہ یا تو سرکار خود بدولت جامعہ تشریف لائیں اور اپنے کلام کے اسرار و رموز کی عقدہ کشائی فرمائیں اور طلبہ کی صفوں میں خود اساتذہ بھی موجود رہیں کہ بہرہ ور ہوسکیں۔ لیکن یہ آداب کے مغائر ہے کہ سریر آرائے سلطنتِ آصفیہ کو یوں بار بار زحمت دی جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ طلبہ دولت خانۂ عالی پر حاضری دیں۔ ویسے بھی پیاسے کو کنویں کے پاس آنا چاہیئے لیکن اس میں یہ امر مانع ہے کہ سرکار امورِ شاہجہانی میں مصروف رہتے ہیں ، ہر لمحہ ، ہر پل، ہر وقت اعلیٰ حضرت کو اپنی رعایا کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔ طلبہ کی اس مداخلت کی وجہ سے امورِ سلطنت میں مداخلت کا امکان خارج از علت نہیں ہے۔ اور پھر !‘‘۔ یہ کہہ کر عبد الحق رک گئے ۔
’’رک کیوں گئے ؟ ‘‘۔ نظام نے کہا۔
’’فدوی اپنی اوقات جانتا ہے۔ الطافِ خسروی و رعایاتِ شاہانہ نے اس ذرہ کو آفتاب کیا۔ جاں بخشی ہو تو عرض کروں کہ حضور کا کلام ہر عقل کا جوہر زیبا نہیں ہو سکتا، حضور سلطان العلوم ہیں، آفتابِ حکمت ہیں، فرمان روائے مملکت ہیں، عقل و دانش میں سرکار کا کلام عقلِ پختہ کار اور ماہرینِ لسانیات، معرفت آشنا،
خاص الخواص کے لیے ہے۔‘‘
پھر حکم صادر فرمایا :’’ ہمارا کلام صرف خواص کے لیے ہے۔ اسے جامعاتی نصاب میں شامل نہ کیا جائے۔ ‘‘ مولوی عبد الحق سلام بجا لاتے ہوئے الٹے پاؤں نکل پڑے ۔ لیکن جاتے جاتے وہ ہوشؔ بلگرامی پر نظر کرنا نہیں بھولے کہ ’’ دیکھ ! اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا‘‘ ،اور اس طرح جامعہ عثمانیہ کا نصاب ،کلام الملوک بلکہ ملوک الکلام کی زد سے بچ گیا ہو گیا۔ بیرونِ ریاست کے ادیب، شعراء، ماہرینِ فن جب حیدرآباد آئے تو ان کے پیشِ نظر یا سالار جنگ اول کے لطف و کرم تھے یا پھر ان کے بعد مہاراجہ کشن پرشاد کی وضعدار شخصیت رہی ۔ ان دونوں کے لئے انکار عیب تھا۔ اگر دربار سے ممکن نہ ہوا تو انہوں نے اپنی ذات سے کفالت کی لیکن کسی امیدوار کو مایوس نہیں کیا۔ مہاراجہ کا تو یہ حال تھا کہ جب کبھی دربار کے لیے روانہ ہوتے تو نشست کے پہلو میں سکوں کی بھری ہوئی تھیلیاں ہوا کرتیں اور وہ راستہ بھر ضرورت مندوں میں سکے لٹاتے ہوئے راستہ طئے کرتے تھے۔
جوشؔ ملیح آبادی سے کون اردو دوست واقف نہیں۔ شاید ہی کوئی ادب شناس ایسا رہا ہو جس نے جوشؔ کی خودنوشت ’’یادوں کی بارات‘‘ نہ پڑھی ہو۔ جوشؔ کا بد ترین نقاد بھی جوشؔ کی لسانیات کا معترف ہے۔ بھلا جس نے بارش کے آہنگ، مینہ کی جھڑی، بادل کی گرج، رعد کی کڑک، ساون کی رم جھم، اولتی کی ٹپک، ندی کی گنگناہٹ، دریاؤں کے شور، آبشاروں کی گھن گرج کو حرف و لفظ کا خوش رنگ و خوش تراش پیرہن عطا کر کے لغات کو وسعت دی ہو، اس کا اعتراف نہ کرنا جوشؔ پر حرف گیری نہیں بلکہ اپنے جہل اور تنگ نظری کا اعلان ہے۔ میں کہوں تو بات اور ہے لیکن خود جوشؔ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حیدرآباد میں دس سال قیام نے نہ صرف ان کو بہت فائدہ پہنچایا بلکہ خود ان ہی کے الفاظ میں ’’مجھ جیسے کم سواد کو اپنے جہل سے مطلع کیا۔‘‘
جوشؔ کے مطابق ان کے حیدرآباد آنے کی وجوہات میں ایک وجہ وہ خواب ہے جو انہوں نے 1922ء میں دیکھا تھا۔ خواب انہوں نے نظامِ دکن کے بھی گوش گذار کیا تھا۔ جسے سن کر نظام آب دیدہ ہو گئے تھے۔ فی الحقیقت حیدرآباد کا رختِ سفر ان کے لیے معاشی مسئلہ تھا۔ ساتھ ہی ان کی ایک رومانی گتھی بھی تھی جو سرِ شام انہیں حیدرآباد چلے چلنے کے لیے اکساتی تھی۔ جوشؔ کو یہ اندیشہ لاحق تھا کہ چوں کہ ان کے پاس جامعاتی اسناد نہیں تھیں سو شاید ان کی حسبِ حیثیت ملازمت نہ مل سکے۔ ساتھ ہی انہیں یہ بھی خیال تھا کہ ان کی نازک مزاجی ‘ تذلیلِ ملازمت کی تاب نہ لا سکے۔ لیکن حالات اور اس سے کچھ سوا ان کی بیگم صاحبہ کے اصرار نے انہیں آمادۂ سفر کر ہی لیا۔ حیدرآباد کے سفر سے پہلے انہوں نے مہاراجہ کشن پرشاد کے نام علامہ اقبالؔ ، مولانا سلیمان ندوی، مولانا عبد الماجد دریابادی اور اکبرؔ الہ آبادی کے خطوط حاصل کر لیے تھے۔ وہ جب مہاراجہ سے ملاقات کے لیے پہنچے اور خطوط پیش کئے تو مہاراجہ نے ان سے کہا کہ وہ شاہِ دکن کے معتوب قرار پا چکے ہیں، ورنہ تو ان کی تقرری کا پروانہ انہیں دوسرے دن ہی مل جاتا۔ تاہم مہاراجہ نے سر اکبر حیدری کے نام نہ صرف ایک طویل سفارشی خط لکھا بلکہ جوشؔ کی موجودگی ہی میں انہیں ٹیلیفون بھی کردیا۔ جوشؔ سر راس مسعود کے ساتھ سر اکبر حیدری سے ملاقات کے لیے گئے۔ سر اکبر حیدری کو انہی دنوں حکومتِ برطانیہ نے ’’سر‘‘ کے خطاب سے سرفراز کیا تھا۔ انہوں نے جوشؔ سے اس ضمن میں ایک’’ قطعہ ‘‘ کہنے کی فرمائش کی۔ اکبر حیدری کو اردو کے تلفظ پر عبور حاصل نہ تھا۔ انہوں نے ’قطعہ‘ کا تلفظ ’’ کتہ‘‘ ادا کیا۔ جوشؔ کے لیے زبان میں تلفظ کی غلطی ہمیشہ ہی ناقابلِ برداشت رہی۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ انگریزوں کے سخت مخالف تھے۔ انگریزوں کے عطا کردہ خطاب پر تہنیتی قطعہ اور اس پر غلط تلفظ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اور جوشؔ نے اکبر حیدری کو قطعہ کے بجائے ایک نہایت سخت جملے سے نوازنے میں کوئی تأمل نہیں کیااور اس اہم وسیلۂ ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مہدی یار جنگ ‘ جوشؔ کے قدردان تھے۔ انہیں جب اس واقعہ کی اطلاع ملی تو وہ جوشؔ کو لے کر اپنے والد کے پاس پہنچے۔ عماد الملک کو جب پتا چلا کہ جوشؔ ‘ فقیر محمد خان گویاؔ کے پوتے ہیں تو انہوں نے مہدی یار جنگ سے کہا: ’’مہدی! جاؤ اور اندر سے میرا لیٹر پیڈ اور قلم لے آؤ۔ پھر کہا : ’’ بھلا فقیر محمد گویاؔ سے کون صاحبِ علم واقف نہ ہوگا؟۔ کون ان کی دادو دہش کا معترف نہیں؟ ۔ اللہ اللہ! ۔‘‘
انہوں نے امین جنگ کے نام مکتوب لکھا اور مہدی یار جنگ سے کہا:’’ تم خود امین جنگ کے پاس جاؤ اور کہنا انہیں آصفِ سابع کے روبرو پیش کردیں۔‘‘ عماد الملک ‘ آصفِ سابع کے اتالیق تھے۔ آصفِ سابع سے انکار ممکن نہ تھا۔ مستزاد یہ کہ جوشؔ نے وہ خواب بھی کہہ سنایا جو انہوں نے دیکھا تھا۔ خواب سن کر نظام رُخ بہ مدینۂ منورہ ہو کر تعظیم میں جھک گئے۔ میں یہ کہہ تو نہیں سکتا کہ نظام کو کس بات نے زیادہ متاثر کیا۔ لیکن دوسرے ہی دن مولوی عنایت اللہ ناظم دارالترجمہ نے جوش سے دریافت کیا کہ کیا وہ انگریزی ادب کے مترجم کی حیثیت سے 250روپیہ ماہوار پر ملازمت کے لیے تیار ہیں؟۔ اور جوشؔ کے اقرار پر ان کا تقرر کردیا گیا۔ فرمان ۲۸؍ دسمبر ۱۹۲۴ ء ؁ کی تحریر یوں ہے:
’’ جوشؔ ملیح آبادی کو انگریزی ادب کا ترجمہ کرنے کے لیے امتحاناً دو سال کے لیے ڈھائی سو روپیہ ماہوار کی جگہ دی جائے۔ مگر پہلے ان سے استمزاج کیا جائے کہ وہ اس آفر کو منظور کرتے ہیں یا نہیں ؟ ۔ اور ان سے یہ بھی کہہ دیا جائے کہ اگر ان کو یہ منظور نہیں ہے تو اس سے بڑھ کر ان کے حق میں کچھ نہیں ہو سکتا ۔ کارروائی داخلِ دفتر کردی جائے گی۔‘‘
1926ء میں جناب علی حیدر نظم طباطبائی کی بحیثیت ناظرِ ادب سبکدوشی پر جوشؔ کی ترقی ہو گئی۔ 500روپیہ ماہوار پر وہ ناظرِ ادب مقرر ہوئے۔ اگر چیکہ مرزا محمد ہادی رسواؔ بھی اس عہدے کے لیے امیدوار تھے لیکن قرعۂ فال جوشؔ کے حق میں اٹھا۔ ۱۴؍ دسمبر ۱۹۲۶ء ؁ سے ۲۸؍ اگست ۱۹۳۴ء ؁ تک وہ اسی عہدے پر برقرار رہے۔ یہ برقراری تو اپنی جگہ لیکن جوشؔ کو قرار کہاں؟۔ انہوں نے ایک بہاریہ نظم کہی۔ جس کا مقطع یوں تھا: کبھی جوش کے جوش کی مدح فرما کبھی گل رُخوں کی ثنا خوانیاں کر!
ایک رسالہ کے مدیر نے یہ نظم آصفِ سابع کی سالگرہ کے موقعہ پر شائع کردی، جس سے مزاجِ شاہی کے تیوری پر بل آگئے۔ ان سے وضاحت طلب کی گئی۔ اور اس کا انجام ان کی ریاست بدری پر ہوا۔ جوشؔ نے یادوں کی بارات میں لکھا کہ آصفِ سابع نے آغا خانی نائب کوتوال کو مامور کیا کہ اگر جوشؔ معذرت طلب ہوں تو انہیں معاف کردیا جائے گا۔ لیکن جوشؔ معافی مانگنے پر تیار نہیں ہوئے۔ حتی کہ ان کی بیگم کے اصرار پر بھی وہ رضامند نہیں ہوئے اور بالآخر انہوں نے حیدرآباد چھوڑدیا۔ جوشؔ نے یہ بھی لکھا کہ انہیں 5000 روپیہ کلدار برائے سفر خرچ قرض دیا گیا۔ حتی ایں کہ بوقتِ رخصت نواب ذو القدر جنگ نظام کا یہ فرمان لے کر اسٹیشن آئے کہ جوشؔ اگر اب بھی معافی مانگ لیں تو گنجائش ہے کہ انہیں معاف کر دیا جائے۔ میری تحقیق کے مطابق جوشؔ نے اس سلسلہ میں غلط بیانی سے کام لیا۔ جوشؔ نے نظم کہی ضرور۔ ان سے وضاحت طلبی بھی ہوئی۔ انہوں نے تحریری معافی بھی مانگی۔ معافی نامہ آرکائیوز کے ریکارڈ میں متعلقہ مسل میں موجود ہے۔ میرے پاس اس کی نقل بھی ہے۔ ڈاکٹر داؤد اشرف نے بھی اس کا تذکرہ کیا ہے۔ جوشؔ نے نہایت عجز و انکسار سے خوشامدانہ طرزِ تحریر میں معافی چاہی ہے۔ اس معافی نامہ کے بعد جوشؔ کو معاف کردیا گیالیکن اس تنبیہ کے بعد کہ وہ آئندہ ایسی حرکات سے باز رہیں۔ جوشؔ کے اخراج کی یہ وجہ درست نہیں ہے۔ بلکہ اس کی وجہ کچھ اور ہی تھی جو‘ جوشؔ کی رومان پرور طبیعت کا شا خسانہ تھا۔ اس پر راز کے پردے پڑے رہے۔ اب جب کہ نہ جوشؔ باقی رہے اور وہ راز بھی ڈھیروں مٹی تلے زیرِ زمین خاک ہوا۔ میں بھی اس راز کو فاش کرنا نہیں چاہتا۔ لیکن نظام کے ایک فرمان کی نقل یہ ہے: ’’ اس شخص کو اگرچہ کہ پیشتر متنبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے اعمال کو درست کر لے ورنہ اس کی علیٰحدگی عمل میں آئے گی ، مگر افسوس اس کا کچھ نتیجہ اچھا نہیں نکلا۔ بلکہ سابقہ حالات ایک حد تک ابھی باقی ہیں۔ لہٰذا مناسب ہوگا ‘ جس مدت کے لیے وہ یہاں ملازم تھا اس حساب سے کچھ ماہوار بطور رعایت اس کے نام جاری کرکے ( جس کی مقدار سے پہلے یہاں اطلاع دی جائے) اس کو کہدیا جائے کہ وہ دو ہفتے میں یہاں سے خاموشی سے وطن چلا جائے اور پھر بغیر اجازت یہاں آنے کا قصد نہ کرے۔‘‘ ۲؍ جمادی الاول ۱۳۵۲ ؁ھ جوش ؔ کو ماہانہ ایک سو روپیہ وظیفہ مقرر ہوا۔ ایک ہزار روپیہ قرض منظور کیا گیا۔ جسے جوشؔ نے پانچ ہزار لکھا۔ روانگی کے وقت ریلوے اسٹیشن پر ان کے احباب جمع تھے۔ جوشؔ کو حیدرآباد چھوڑنے کا بڑا قلق تھا۔ ان کی نگاہیں اسٹیشن پر کسی کو تلاش کر رہی تھیں۔ یکایک ان کی نگاہیں ٹہر گئیں ۔ ایسے لگا بے قرار آنکھوں کو قرار آگیا۔ وہ نظر بھر کے کسی کو اپنی آنکھوں میں محفوظ کر لینا چاہتے تھے لیکن آنکھ بھر آئی۔ ٹرین رینگنے لگی ۔ حیدرآباد چھوٹ گیا۔ جوشؔ نے کئی بار کوشش کی کہ ان کی خطا معاف کردی جائے لیکن سقوطِ حیدرآباد تک جوش ؔ نہ آ سکے۔
1951ء میں جب وہ دوبارہ حیدرآباد آئے ۔ تب تک انتظار کشیدہ آنکھوں میں پیوست سوئیاں کب کی زنگ آلود ہو چکی تھیں۔ جوشؔ حیدرآباد کی گلیوں کی خاک چھانتے رہے۔ جانے کس کو تلاش کر رہے تھے۔ وہ کسی سے کیا کہتے کہ سرمئی شام کی بانہوں میں سمٹتے سائے زلف کا خم ‘ تری چتون کا فسوں پوچھتے ہیں !

  

***