آئینۂ ایام ۔ قسط :۱۱

یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

(حیدرآباد، تہذیب اورادب کے حوالے سے )

مہاراجہ کشن پرشاد‘ نہایت شریف ، خوش اخلاق ، وضعدار، روایت پسند، فیاض، روادار، خلیق، مہربان، مہمان نواز ، بذلہ سنج شخص تھے۔ ایک طرف ان کی فیاضیاں عام تھیں ، دوسری طرف وہ شعراء اور ادیبوں کے قدردان بھی تھے، قدرشناس بھی۔ بیرون حیدرآباد سے آنے والے بیشتر ادیب اور شعراء مہاراجہ کے بھروسے حیدرآباد چلے آئے اور جب تک ان کا کوئی مناسب انتظام نہ ہوا ، مہاراجہ نے کفالت کی۔ بعض صورتوں میں یہ بھی ہوا کہ ان شعراء اور ادیبوں کو مناسب مشاہرہ پر ملازمتیں بھی ملیں لیکن مہاراجہ کی ماہانہ امداد مسدود نہ ہوئی۔ بادشاہ ببھی ادب نواز، مدار المہام بھی، امراء بھی ، نوابین بھی۔ ایسے میں تو ادبی ماحول کو پروان چڑھنا ہی تھا، سو ہوا۔ حیدرآباد میں طیور بازی کا شوق نہ عوام میں رہا نہ خواص میں۔ طوائفیں، رقص و سرود کی محفلیں رہیں ضرور، لیکن لکھنؤ کی آب و تاب کچھ اور ہی تھی۔ وہاں تو تہذیب، آن بان، روزمرہ، محاوروں کا حسین استعمال، ضرب الامثال، گفتگو میں مصرع جڑنے کا سلیقہ، طنزِ ملیح، اشارہ، کنایہ، جنبشِ چشم و ابرو، تیور، کہہ مکرنیوں کا صرف، تذکیر و تانیث کا فرق ، لگاوٹ میں اجنبیت، مہربانیوں میں کٹھورپن، کٹھورپن میں تربیت ، سب کچھ کوٹھے پر خانم کے پاندان اور سروتے میں پھنسی ڈلی میں بند تھا۔ پاندان سے گلوری تک اور مخروطی انگلیوں ، رنگِ حنا سے پان کی پیشکشی تک اور پھر خوشبوئے مشک سے وارفتگئ شوق تک ، سلسلہ در سلسلہ ایک تہذیب تھی۔ ایک آب تھی۔ ایک دلنوازی تھی، ایک دلبری تھی۔ مرصع آدابِ شہر نشینی کی ایک چھوٹ تھی جو کرن کی صورت دل میں اترتی اور چاند بن کر وجود کو روشن کردیا کرتی تھی۔
بنارس کا کیا ذکر کروں؟ صبحِ کاذب کا جھٹپٹا، وہ ناقوس کی صدائیں، وہ شہنائی کا سُر، جمنا کے ہلکورے اور کناروں پر ڈوبتے ابھرتے انسانوں کے سائے، بدن پر لپٹی مہین ململ کی سفید ساری، سوریہ نمسکار کے لیے اٹھتے ہوئے ہاتھ، جیسے مستئ شب کی خمار آلود انگڑائی کے بعد ایک اور انگڑائی، بھیگے کھلے بال ، آگے کو پڑے ہوئے ، جیسے سانسوں کے تموّج پر گھٹاؤں کا پہرہ۔ گورا مکھڑا ، بھیگا بدن، آنکھوں میں کٹے ہوئے کجری کے بول، ہاتھ میں پوجا کی تھالی اور مسامات سے اٹھتی ہوئی دھانی بھانپ، اسی کو تو دیکھ کر جوش ؔ ملیح آبادی نے کہا تھا: ع یہ بھانپ نہیں ، چادرِ گل سر پہ تنی ہے، کیا گلبدنی ، گلبدنی، گلبدنی ہے!
حسنِ کشمیر کا تذکرہ تو یوں ہی ہو چکا کہ:’’ اگر فردوس بر روئے زمین است، ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است‘‘ ۔ قدرت کے ان دیکھے ہاتھوں نے بڑی فرصت میں اسے تشکیل دیا۔ برف پوش بلند پہاڑ، جن سے بادل اٹکھیلیاں کرتے ہوئے، چومتے ہوئے، چھیڑتے ہوئے ، سراہتے ہوئے، ان کے دامن میں خوبانی، سیب، اخروٹ اور شاہ بلوط کے پیڑ ، کہیں کہیں زعفران کے کھیت اپنے ریشوں سے فضاء کو مہکاتے ہوئے، کہیں کہیں کوئی مستِ ناز اپنی گلابی ہتھیلی کے بیچ اخروٹ کی کچی گری کو تکتی ، انتظار کشیدہ کہ اسے چوم کر اٹھالو تو جانوں۔ پھر خود اپنی ہی آہٹ سے جھینپتی، ڈرتی، جھاڑیوں میں پھنسا پشمینہ چنتی ہوئی۔ بھلا جس خطہ کو آرزوؤں کی اٹھان اور ناز و ادا کا سراپا ملا ہو ، اس کی تصویر کشی کیسے ممکن ہے؟ بنگال! وہ تو جادو گرنیوں کا ملک ہے۔ سانولا ملک۔ ان جادو گرنیوں کی آنکھوں میں جادو، زلف میں جادو، کج ادائی میں جادو، بھولپن میں جادو۔ موسیقی کے ساتوں سُر ‘ ان کے گلے میں رچتے ہیں۔ راگ، الاپ، دادرا، پہاڑی، درباری، دیپک، ملہار، بھیرویں، ٹپہ، سارے منتر ان کے آگے سر خم کئے ہوئے۔ ان کی نگاہوں کے ترکش کے تیر بے خطا۔ پلکیں جھکا کے قتل کرنا ان کا خاص وتیرہ۔ ترچھی نظر سے بسمل کرنا ان کا کھیل۔ ابروئے خمدار سے ، ہلال ، سیف ، شمشیر، گیتی ،پناہ چاہے کہ اس کے گھائل کا تریاق نہیں۔ زلف کے آگے طولِ شبِ فراق کوتاہ قامتی پر شرمندہ ہو۔ اوپر سے گھنی اور سیاہ زلف ایسی کہ رخ پر ڈال دے تو خورشید شام کے دھوکے میں تعاقبِ شب میں نکل پڑے۔ شام روشنی کے شہزادے کی رہ گذر پر بیٹھ جائے۔ اور دور بانسری ساتویں سُر میں روتی سنائی دے۔
ہندوستان نے مجھے جگہ جگہ لوٹا لیکن حیدرآباد نے مجھے ایسا برباد کیاکہ میں اندر سے آباد ہو گیا۔ حیدرآباد میں نہ اودھ کی شام کا سُرمہ تھا ،نہ صبحِ بنارس کا اجالا، نہ حسنِ کشمیر کی دلآویزی، نہ زلفِ بنگال کا جادو، لیکن پھر بھی اس کی موہنی تہذیب نے گوداوری کا طاس پار کرکے آنے والی تہذیبوں کو گلے لگا کر اوڑھنی سے دوپٹہ جو بدلا تو سب اکٹھی اوڑھے ‘ چھلہ سی کمر، چوٹیاں لٹکائے، ہم رقص و ہم آواز ہوئیں تو مہ لقا بائی چندا اپنا سُر الاپ بھول بیٹھی۔ یہ تھی حیدرآباد کی تہذیب جو مل جل کر ہم رنگ ہوئی، ہم آہنگ ہوئی، ا کٹھی ہوئی، ایک ہوئی۔
مہاراجہ کشن پرشاد صوفی مزاج تھے۔ یوں تو حیدرآباد کا مزاج ہی کچھ ایسا تھا کہ تہذیب، طرزِ بود و باش، لباس ، زیور ، ذوقِ طعام سے ہندو اور مسلمان کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ خاص طور پر امراء ، نواب، جاگیر دار، سمستان، کائستھ اور عہدیداروں کا رہن سہن سب ایک تھا۔ پہناوا سب کا شیروانی ۔ لڑکیاں بالیاں بچپن اور لڑکپن میں کلی دار کرتے پاجامے زیب تن کئے ہوئے ، یا قمیص غرارہ میں ملبوس ، شادیوں اور تقاریب میں کھڑا دوپٹہ ، لیکن سہاگنیں ساری ہی پہنتی تھی۔ اس میں ہندو اور مسلمان میں کوئی تفریق نہیں تھی۔ البتہ قمیص شلوار کا چلن ‘ حیدرآباد میں نہیں تھا۔ یہ پنجابی لباس کہلاتا تھا ۔ اور ادھر کوئی دس بیس برس پہلے حیدرآباد میں وارد ہوا۔ میرا خیال ہے کہ ایک فلم ’’سنتو بنتو‘‘ آئی تھی جو جڑواں پنجابی لڑکیوں کی کہانی تھی۔ بس اسے دیکھ کر اپنا لیا گیا۔ آج تو دو برس کی بچی سے نوے برس کی نوجوان لڑکی بھی سنتو بنتو بنی،چہرے پر غازہ،ہونٹوں پرمردہ جانوروں کی چربی میں سرخ رنگ کا فرانسیسی مرکب لگا کر خون چوستی تھوتھنی لئیے اٹھلاتی ہے اور میرا جی جلاتی ہے کہ یہ اسلامی تہذیب ہے اور ساری ہندو وں کا لباس ہے۔ میں پرانے زمانے کا دقیانوسی انسان ، نِرا احمق ، جاہل‘ بھلا اس تعلیم یافتہ دور میں کیا کہہ سکتا ہوں کہ جہاں سنترہ ہندو اور موسمبی مسلمان ہو، اور جہاں تربوز منافق کہلائے کہ باہر سے سبز اور اندر سے سرخ ہے ، جہاں گاجر ، پپیتے پر ہندو اور مسلمان کا اطلاق ہو، جہاں گائے ہندو اور اونٹ مسلمان کہلائے ، وہاں کون سنتا ہے فغانِ درویش۔ منگل سوتر اور ناک میں نتھ ‘ تھا تو راجستھان کا زیور لیکن حیدرآباد میں مروج تھا اور حال حال تک بلکہ آج بھی سہاگ کی علامت کے بطور پہنا جاتا ہے۔ اس سے سہاگ کا کوئی رشتہ نہ سہی، تعلق نہ سہی ، لیکن جس محبت سے پہنا جاتا ہے ‘ وہ شوہر سے بے پناہ محبت کا منہ بولتا اظہار تو ہے کہ جان جائے پر لچھا چوڑیاں سلامت رہیں۔ بڑی بوڑھیاں تو اس وقت دعا بھی یہی دیا کرتی تھیں کہ ’’ تم اپنی کوکھ مانگ سے ٹھنڈی رہو سدا‘‘ ۔ یہ سُر سنے تو مدتوں بیت گئے ۔ اب تو ہائے ، ہیلو کا زمانہ ہے، اور خدا حافظ کی جگہ بائی نے لے لی ہے۔ مہاراجہ کے گھر کا ماحول بھی حیدرآبادی تھا۔ فارسی ، اردو ان کے گھر کی زبان تھی۔ پھناوا، شیروانی، دستار اور چوڑی دار پاجامہ ۔
بچپن اور لڑکپن میں وہ میر محبوب علی خان آصفِ سادس کے ہم مکتب تھے۔ آصفِ سادس نے بھی اس رسم و راہ کو تا عمر نباہا۔ وہ ہر تقریب میں مہاراجہ کے گھر آیا کرتے ۔ سن 1905ء میں مہاراجہ نے آصفِ سادس کی تخت نشینی کے 25سال کی تکمیل پر سلور جوبلی کے سلسلے میں ایک مشاعرہ منعقد کیا ۔ اس مشاعرہ میں شریک شعراء آقا سید علی شوستری، عبد الجبار خان‘ آصفیؔ ، گردھاری لال باقیؔ ، عبد العلی ولا، ترک علی شاہ ترکیؔ ، غلام قادر گرامیؔ ، ظہیرؔ دہلوی،سراج الدین سائرؔ ، حیدریار جنگ طباطبائی، رساؔ ، آزاد ؔ انصاری، نواب وزیر الدولہ، نادر علی برتر ؔ ، وصفیؔ ، محبوب راج محبوبؔ اور مرزا عابد علی بیگم ؔ تھے۔ مزرا عابد علی بیگم ؔ ریختی میں شعر کہتے تھے اور زنانہ لباس ہی میں ملبوس ، اسی ناز و ادا سے شعر سناتے تھے جو صرف ان ہی کا خاصہ تھا۔ ان کی شاعری میں صنعتِ ’ایہام‘ کا بہت زیادہ استعمال ہوا کرتا تھا۔ یعنی بظاہر توایک معنی نکلتے تھے، لیکن اس کی تہہ میں جو مفہوم ہوا کرتا تھا ، اس کا مطلب کچھ اور ہوا کرتا تھا اور حاضرین کے لیے وہی معنی لطف پیدا کرتے تھے ۔ میرا قلم اس تحریر میں وہ اشعار لکھنے سے قاصر ہے۔
وقت مقرر پر میر محبوب علی خان آصفِ سادس تشریف لائے۔ صدرِ محفل میں ان کے لیے ایک زر نگار کرسی رکھی ہوئی تھی۔ جب کہ دیگر شعراء اور سامعین سفید چاندنی کے فرش پر نیم دائرہ کی شکل میں بیٹھے تھے۔ آصفِ سادس نے کرسی پر بیٹھنا پسند نہیں کیا ، وہ بھی فرش ہی پر بیٹھ گئے کہ ادبی محفل کے قرینے میں فرق نہ آئے۔ شعراء داہنی جانب قطار میں تھے۔ ایوانِ شادؔ روشن فانوسوں سے جگمگا رہا تھا۔ آصفِ سادس سے منظوری لے کر مہاراجہ نے اشارہ کیا ۔ سونے کے مرصع شمع دان پر شمع روشن کی گئی اور مہاراجہ کی ایماء پر محفل کے پہلے شاعر جلیلؔ مانک پوری کے آگے شمع رکھ دی گئی ۔ جلیل ؔ نے ابھی مطلع ہی پڑھا تھا کہ داد و تحسین کا شور اٹھا ۔ خود آصفِ سادس نے داد دی ۔ جلیل ؔ نے اٹھ کر سات سلام کئے اور دوبارہ مطلع پڑھا۔ جلیلؔ نووارد تھے۔ پہلی مرتبہ مہاراجہ انہیں حیدرآباد میں متعارف کروا رہے تھے۔ لیکن بارہ شعرسنانے میں جلیلؔ مانک پوری کو کامل ڈیڑھ گھنٹہ لگ گیا۔ 4بجے جب حسینۂ شب کی زلفیں دراز ہوکر کمر سے نیچے آ پہنچیں تو مشاعرہ اختتام کو پہنچا۔ حاضرینِ محفل رخصت ہو رہے تھے کہ دروازے کے قریب مہاراجہ نے جلیلؔ کی آستین تھام کر اشارہ کیا کہ وہ رک جائیں اور آہستہ سے کہا کہ بادشاہ سلامت ان سے دوبارہ وہ کلام سننے کے خواہشمند ہیں ۔ جلیلؔ پر شادئ مرگ والی کیفیت تھی۔ انہوں بادشاہ سلامت کی خدمت میں حاضری دی اور دوبارہ کلام پیش کیا۔ جسے آصفِ سادس نے نہ صرف سراہا بلکہ وہ مصاحبینِ شاہ میں شامل ہو گئے۔ کچھ عرصے بعد جلیل ؔ نے 7000اردو میں مروج الفاظ کی تذکیر و تانیث پر ایک کتاب ترتیب دے کر محبوب علی خان کی خدمت میں پیش کی۔ آصفِ سادس نے اسے سراہتے ہوئے فرمایا :’’جلیل القدر ہو صاحب تمہاری بات ! کیا کہنا‘‘۔ بادشاہ کی زبان سے یہ تعریف سن کر جلیلؔ پھولے نہیں سمائے۔ اس کے بعد تسمیہ خوانی کی ایک شاہی تقریب میں شرکت کے موقع پر محبوب علی خان نے ایک نظم کہی لیکن اس کے ایک شعر میں کوئی لفظ انہیں کھٹک رہا تھا۔ انہوں نے جلیل ؔ سے مشورہ کیا۔ جلیلؔ نے فوراً لفظ بدل دیا، تو آصفِ صادس پھڑک اٹھے۔ اسی دن جلیلؔ کی خوش قسمتی نے یاوری کیاور وہ داغؔ دہلوی کی جگہ استادِ شاہ مقرر کئے گئے۔ ان کی تنخواہ 500روپیہ ماہوار قرار پائی۔ 1911ء میں آصفِ سادس کے انتقال کے بعد میرعثمان علی خان آصفِ سابع نے انہیں اپنا استاد مقرر کیا اور یوں جلیلؔ مانک پوری ، فصاحت جنگ
جلیلؔ کہلائے۔ 1946ء تک فصاحت جنگ جلیلؔ استادِ شاہ برقرار رہے۔ یہ عہدہ ان کی آخری سانس تک ان کے ہمرکاب رہا۔ پھراس کے بعد نہ شاہی رہی اور نہ استادِ شاہ رہے۔ یوں فصاحت جنگ جلیل ؔ پر یہ عہدہ تمام ہوا۔ اس دور میں یہ بات عجیب سی تھی کہ بادشاہ خود کو ہر فن کا ماہر سمجھتے تھے۔ چناں چہ شعر گوئی بھی ان کا شعار رہا۔ غالبؔ ، ذوقؔ ، مومنؔ کی موجودگی میں بہادر شاہ ظفرؔ کی شعر گوئی ،اسی طرح نواب واجد علی شاہ اخترؔ کی شاعری، میر محبوب علی خان آصفؔ اور میر عثمان علی خان عثمانؔ کی شاعری ، صرف کلام الملوک تو ہو سکتی ہے لیکن ملوک الکلام نہیں ہو سکتی۔ مگر وائے بر زمانہ۔ ہر بادشاہ کے کلام کے لیے کلامُ الملکوک، ملوکُ الکلام کی اصطلاح رواج پاگئی۔ میر عثمان علی خان کی شاعری مضامین کے اعتبار سے بلند پایہ شاعری میں شمار نہیں کی جا سکتی۔ ان کی تمام خوبیاں اپنی جگہ ، لیکن ادب کے میزان پر اس شاعری کو ملوک الکلام کے درجے پر فائز کرنا ادب سے ناانصافی قرار پائے گی۔ استاد جلیلؔ صرف اس بات کے مجاز تھے کہ فنی سقم کو دور کر دیا جائے۔ انہوں نے کر دیا۔ وہ مضامین میں ندرت یا تبدیلی کے مجاز نہیں تھے۔ وہ نہیں کر سکے۔ اس اعتبار سے میر عثمان علی خان کے کلام میں فنی سقم نہ سہی، لیکن مضامین کی ندرت یا جدت نہیں پائی جاتی۔
ہوشؔ بلگرامی جو بعد میں ہوشیار جنگ کہلائے، میر عثمان علی خان کے مصاحبین میں تھے۔ اگلے صفحات میں جب ان کا تفصیلی تعارف ہو گا تو آپ محسوس کریں گے کہ ہوشؔ بلگرامی کو کس صف میں رکھا جانا چاہیئے۔ جامعہ عثمانیہ کے قیام کے بعد انہوں نے تنہائی میں آصفِ سابع سے کہا: ’’سرکار! اس غلام کی ایک عرض پر توجہ فرمائیں تو عرض کروں!‘‘ آصفِ سابع نے کہا: ’’کہو‘‘!
ہوش ؔ نے کہا: ’’ حضور کا سایہ تا قیامِ شمس و قمر رعایا پر قائم رہے۔ سرکار کی بدولت مملکتِ آصفیہ کی رعایا بلکہ بیرونِ مملکت کی رعا یا بھی علم سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔ سرکار سلطان العلوم ہیں۔ بندہ پرور کا کلام ملکوکُ الکلام ہے، اس کے باوجود جامعہ عثمانیہ کے نصاب میں شامل نہیں ہے۔ واللہ ! یہ تو ستم ہے۔ آپ دریافت فرمائیں کہ کیوں امیرِ جامعہ کی نظر اس امر پر نہیں گئی؟‘‘۔
نظام کی آنکھوں میں چمک لہرائی ۔ فورا! احکام صادر ہوئے کہ مولوی عبد الحق بارگاہِ خسروی میں حاضر ہو۔
جب عبد الحق پیشی میں پہنچے تو نظام نے کہا:’’ اجی عبد الحق! ہوش بلگرامی یہ کہہ رہے تھے کہ جامعہ عثمانیہ کے طالب علموں کو ہمارا کلام نہیں پڑھایا جا رہا ہے۔ اگر رعایا ہمارے کلام سے مستفید نہیں ہوئی تو پھر کس کے کلام سے استفادہ کرے گی۔ ان میں بادشاہ سے وفاداری کا جذبہ کیسے پیدا ہوگا؟ ‘‘ مولوی عبد الحق سکتے میں آگئے۔ ’’گویم مشکل، نہ گویم مشکل ‘‘کے مصداق چپ کھڑے تھے۔ انہوں نے دزدیدہ نظر سے ہوش ؔ بلگرامی کو دیکھا۔ ہوشؔ کے ہونٹوں پر عجیب مسکراہٹ تھی۔ اور عبد الحق کے دل میں یہ خیال کہ کوئی میرے دل سے پوچھے ، تیرے تیرِ نیم کش کو یہ خلش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا! (........جاری ہے)

***