آئینۂ ایام ۔ قسط :۱۰

وہ مرا بھولنے والا جو مجھے یاد آیا

آئینۂ ایام ۔ شعر و ادب کے حوالے سے (حصۂ اول )

قلم کی شاہجہانی سے بھلا کس کو انکار ہو سکتا ہے۔ آہنگ کو پہچ و خم کی صورت دینا قلم ہی کا کارنامہ ہے۔ تخیل کی ترسیل موئے قلم کے بغیر ادھوری ہے۔ روشنائی میں رنگ تو ہے، لیکن رنگوں کی زبان قلم کی حکمرانی کی زیرِ نگیں ہے۔ قلم سمندِ فکر کی لگام کہ ایسے ڈھلوان، سنگلاخ زمینوں پر سموں کو زخمی ہونے اور سوار کو گرنے سے بچالے۔ قلم کلیدِ حرف و معانی، جہاں طالبِ دنیا آنکھیں بچھاتے ہیں‘ وہاں خاک قلم پاؤں نہ رکھے۔ قلم بد ست مثل تیغِ بد ست۔ قلم الفاظ کی چٹانوں سے معانی کے آبشار رواں کرے۔ قلم دو حرف سے عقدۂ دشوار کو کھولے تو بیک جنبش دروازۂ اسرار کو کھولے۔ صاحبِ سیف و قلم کے تصدق سے جس قلم کو روانی مل جائے، وہ یہ کہنے کا حق بھی رکھتا ہے کہ ’’اک پھول کے مضمون کو سو رنگ سے باندھوں‘‘۔ قلم تلخ ہو کہ تند ہو، اگر مصلحت کوش نہیں ہے تو آبروئے قلم باقی ہے۔ قلم اگر زر آسودہ ہوجائے تو بے باکی اس کا مقدر نہیں۔ مؤرخ کاقلم بھی اگر آزاد ہوتا تو مختلف تاریخیں شاید کچھ اور ہوتیں، لیکن کس کا قلم کن تنگ رہگذاروں سے گذرا ہے، کن شعلوں کے درمیان اس کا سفر رہا ہے۔ کہاں زر آسودہ ہو گیا اور کہاں انگلیاں خونچکاں ہو گئیں۔ یہ قلم کی تاریخ کا اہم موضوع ہے۔ لیکن قلم اول، قلم آخر، عقل اپنے کمال پر آخری سانس سے پہلے وصیت کے لیے اگر کچھ طلب کرتی ہے تو وہ قلم ہے۔ اس کے آگے دام و درم ہیچ، تاج و تخت بے حیثیت ، سلطنت و فرمانروائی محدود، افواج کے ہتھیار کند، لعل و جواہر اور زرو سیم بے قیمت، اس لیے کہ قلم زرنگار ، قلم تاجدار، قلم شہسوار، قلم امینِ صحافت، قلم عروجِ بلاغت، قلم گنجینۂ فصاحت، قلم اشہبِ طلاقت، قلم کاشفِ اسرار، قلم عطائے کردگار، قلم ذریعۂ حمد و ثنائے پروردگار، قلم شعلہ خو بھی، شبنم فشاں بھی۔ قلم فسانہ طراز بھی، حقیقت بیان بھی۔ قلم نشترِ جراحتِ جاں بھی، قلم مرہمِ زخمِ نہاں بھی۔ کیسے کیسے صاحبانِ علم و فن گذرے۔ کیا کیا اہلِ قلم اپنی نگارشات چھوڑ گئے۔ میں فاقہ بدمست سہی، کاسہ بدست نہیں۔ یہی میری حیثیت ہے کہ ایک ذرۂ خاک کو ہتھیلی میں لیے تکتا ہوں تو مجھے اس میں سالمات کا رقص تو دکھائی دیتا ہے لیکن ان سالمات کے درمیان کا ربط ان کی قربتیں اور ان کے فاصلے، ان کی محبتیں اور ان کی اجنبیت کے اسرار مجھ پر نہیں کھلتے ۔ میں تو نہ جانوں ہوں، میں تو کچھ بھی نہ جانوں ہوں، میں تو اس دورکا پروردہ ہوں جب حیدرآباد میں ہر سمت سے روشنی در آتی تھی یا ہر جہت میں صرف روشنی ہی روشنی تھی۔ ٹھنڈی روشنی آنکھوں کو فرحت اور روح کو سرور بخشنے والی روشنی۔ دیکھنے میں مٹی کی کٹوری میں تیل اور ہاتھوں سے بٹی ہوئی بتی ، دیئے کی ٹمٹماتی لو اور اس سے سارا گھر روشن۔ تیل کا دیا نہ ہوا گویا چاند آنگن میں اتر آیا، اور صرف گھر بھر کو نہیں سارے وجود کو منور کر دیا۔ یہ اندازہ مشکل ہے کہ اس وقت چراغوں میں روشنی زیادہ تھی یا اندر کا آدمی روشن تھا کہ ٹمٹماتے دیئے کی روشنی میں ہر چہرہ صاف، شفاف بے ریا ، معصوم اور سادہ دکھائی دیتا تھا۔ آج ہر طرف روشنی کا جنگل ہے، لیکن کوئی چہرہ صاف دکھائی نہیں دیتا۔نہیں معلوم مجھ سے بینائی چھن گئی ہے یا شہر بے چہرہ ہو گیا ہے۔ ورنہ آج بھی تاریکی ہو تو ہر چہرہ صاف نظر آتا ہے۔ شاید تاریکی چہروں کی نقاب اتار دیتی ہے۔
تہذیب تو انسانوں ہی کا ور ثہ ہے۔ قبائل کی اپنی تہذیب ہے، دیہاتوں اور گاؤں کی اپنی تہذیب۔ تمدن جسے میں اپنے فہم کی خاطر ’ شہر نشینی‘ کہتا ہوں دراصل انسانوں کی اختیار کردہ مرصع تہذیب کی صورت گری ہے۔ ادب تو ہر خطۂ زمین پر مختلف صورتوں میں رہا اور آج بھی ہے۔ ایام جاہلیت میں عرب اگرچہ کہ قواعدِ لسان سے نا بلد تھے لیکن ان کا ادبی شعور بالیدہ تھا۔ چنانچہ امراؤ القیس کی شاعری اس کا نہترین نمونہ تصور کی جاتی ہے اور دراصل ہے بھی۔ عربوں کی اپنی زبان دانی اور صرف پر بڑا ناز تھا۔ وہ دوسری اقوام کو گونگا تصور کرتے تھے۔ قرآنِ مجید جب لسانی معجزہ کی صورت نازل ہوا تب کہیں ان کا غرور ٹوٹا۔ خود کو فصیح و بلیغ کہنے والے سورۂ کوثر کی تین آیتوں کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ یہ کلامِ بشر نہیں ہے۔ ان کے تفاخرِ ذات، افتخارِ لسانیا ت، پندارِ انا، کہنہ روایات کو اسلام نے کہاں کہاں شکست و ریخت سے دوچار کیا ۔ یہ ایک علیحدہ تاریخ ہے۔ ان کا جہل ‘ علم سے پاش پاش ہوا۔ قریۂ جہل کو شہرِ علم نے پامال کیا۔ آریاؤں سے انگریزوں تک کون ہندوستان سے کیا لے گیا اور ہندوستان کو کیا دے گیا۔ اگر صرف یہ تاریخ مرتب کردی جائے تو چشم کشا ہوجائے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہندوستان نے ہر صاحبِ فن، اہلِ قلم، اہلِ دانش، حاملِ شعور کے لیے اپنا دامن کشادہ رکھا۔ زمین تو زرخیز تھی ہی، دلہن کی طرح سج گئی۔
میں اپنی کم مائیگی کی وجہ سے یہ تو نہیں جانتا کہ حجاج ابن یوسف کے فرستادہ محمد بن قاسم یا محمود غزنوی نے ہندوستان کو کیا سوغاتیں دی ہیں۔ لیکن زمینوں کو عارضی فتح کرنے والوں کی فہرست میں اور تاریخ کے ابواب میں ان کے نام تو مل جاتے ہیں۔ میری نظر میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ ، فاتحِ قلوبِ انسانیت حضرت نظام الدین اولیاء ؒ ، صاحبِ سلوک چراغِ دہلیؒ ، اور حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز جیسی ہستیاں بھی ہیں، جن کا تذکرہ ‘تاریخِ اولیاء میں تو ہے لیکن تاریخِ اسلام میں میری نظر سے نہیں گذرا۔ اسلام کی نشر واشاعت میں ان حضرات کا کتنا گراں قدر حصہ رہا ہے ، یہ تاریخ کا باب نہ بن سکا۔ مؤرخین کی نظر میں کیا اہم ہے اور کیا غیر اہم ہے، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔ اس سے ان کے قلم کے مزاج اور نفس کا پتہ چلتا ہے۔ لیکن یہ تہمت تو سر ہوئی کہ ’’ اسلام بزور شمشیر پھیلا ۔‘‘ شاید آج بھی اسی طرح سے کوشش تو جاری ہے، صرف ہتھیار بدل گیا ہے۔ جن بزرگواروں کا میں تذکرہ کر رہا ہوں وہ شاید تاریخ کے محتاج بھی نہیں ہیں۔ بھلا دلوں میں بسنے والوں کو تاریخ کی حاجت کیا ہے۔ جو خود ایک زندہ تاریخ ہو اسے تاریخ کے اوراق کی ضرورت بھی کیوں ہو۔
ہندوستان کی کشادہ دامنی نے اگر مختلف مذاہب ، عقائد اور مسالک کو جگہ دی تو وہیں مختلف زبانوں اور تہذیبوں کی بھی پذیرائی کی۔ اس زمین کی یہی فراخ دلی اس کو عالم میں ممتاز کر گئی۔ مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے اسی امتزاج اور آمیزش کی وجہ سے جو ہمہ رنگی تہذیب اور زبان وجود میں آئی وہ اردو تو ہے ہی، لیکن اس کی آبیاری میں کس کس کا خونِ جگر شامل ہے، وہ بھی ناقابلِ فراموش ہے۔ میری ان تحریروں میں اتنی گنجائش تو نہیں ہے کہ میں ان سب کا محاکمہ کر سکوں ، لیکن جن شخصیتوں نے میرے مزاج کی تشکیل میں اپنے نشان چھوڑے ہیں، ان کے تذکرے کے بغیر تو یہ تحریر کچھ بھی نہیں رہ پائے گی۔ اپنے مزاج کے اعتبار سے میں حضرت امیر خسرو ؒ کا بہت دلدادہ ہوں۔ میرے ذوق کی تعمیر میں ان کی شاعری اور طرز نے گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس رجحان کی پرورش میں میرے والد کا بھی دخل رہا ہے۔ اردو کی نشر اور عوام تک رسائی میں خسروؔ کا بڑا حصہ ہے۔ ہندوستان میں عموماً فارسی اور ہندی کا رجحان زیادہ تھا۔ کہنے میں یہ بات میرے قارئین کو اچھی نہ لگے لیکن ماہرینِ لسانیات شاید میری تائید کریں گے کہ اردو میں ہندی الفاظ کا فیصد دیگر زبانوں سے زیادہ ہے۔ اور سچ پوچھیئے تو یہ اردو کی دلکشی کا باعث بھی ہے۔ امیر خسرو ؔ کی شاعری اس لیے بھی مقبولِ عام ہوئی کہ اس میں نہ صرف فارسی اور ہندی کا امتزاج ہے بلکہ اس میں ترنم کی آویزش بھی ہے جو نہ صرف عوام و خواص ہی کو نہیں بلکہ لڑکیوں بالیوں کو بھی بھا گئی۔ میں تو کہوں ‘ گاؤں کی دوشیزائیں پو پھٹنے سے پہلے دودھ دوہتے وقت جب امیر خسرو ؔ کے گیت ، دوہے گایا کرتی تھیں تو اس سے مسحور ہو کر گائے اپنے بچھڑے کو بھول کر تھن چھوڑ دیتی تھی۔ برہن کے من کی آگ ‘ خسروؔ کی غزل کے وسیلے سے ساجن تک تپش اور حرارت کو پہنچا دینے کا سامان یوں ہو جاتا تھا جیسے میلے میں ہوا ڈوپٹہ تو اڑا لے جائے پر اس نامراد ہوا کو جس کے سر پر چھت نہیں اور جو کسی کے سر پر چھت کو گوارہ بھی نہیں کرتی ، اسے یہ خبر ضرور ہوتی کہ اس ڈوپٹے کو کس پتہ پر پہنچانا ہے۔ نکہتِ گل کو اپنی صحبت میں آوارہ کرنے والی ہوا ‘ ڈوپٹہ کی خوشبو کو امانت مان کر ساجن تک پہنچادے تو میں اسے امیر خسروؔ کے کلام کی تاثیر سمجھوں یا عشق کی کرشمہ سازیاں۔ بات تو یہیں تمام ہوتی ہے کہ : زحالِ مسکیں مکن تغافل، در آئے نیناں، بنائے بتیاں کہ تابِ ہجراں نہ دارم اے جاں! نہ لیہو کا ہے لگائے چھتیاں شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چو عمر کوتاہ سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں ، تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں یکایک از دل دو چشم جادو، بصد فریبم بہ برد تسکیں کسے پڑی ہے جو جا سناوے، پیارے پی کو ہماری بتیاں
اس تحریر میں میرؔ و غالبؔ ، آتشؔ و ناسخؔ ، مومن ؔ و سوداؔ ، انیس ؔ و دبیرؔ ، جوش ؔ و فراقؔ کا تذکرہ تو آگے کہیں ہوگا ہی لیکن بڑی ناسپاسی ہو گی اگر ولیؔ دکنی کا ذکر نہ ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہلی اور لکھنؤ میں اردو کی پرورش و پرداخت ہوئی لیکن معذرت خواہی کہ جب تک ولی ؔ دکنی کے اشعار دلی نہیں پہنچے، نثر میں شعر برتنے کا ہنر بھی اہلِ دہلی نے نہیں سیکھا تھا۔ ولی کے اشعار گلی گلی عام ہوئے۔ گھروں میں گنگنائے گئے۔ روز مرہ میں استعمال ہوئے۔ قلی قطب شاہ تو یوں بھی اردو کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر تھا ہی، قلعہ معلی کی زبان نہ سہی ، لیکن دکنی کی آمیزش سے اردو غزل کا رنگ روپ یوں ہوا کہ آتش زباں کہوں، صاعقہ کردار کہوں ، شعلہ رنگ کہوں ، سفاک کہوں، دل آزار کہوں ، کج نہاد کہوں ، دل آزار کہوں کہ خانہ جنگ کہوں۔
1857ء کے بعد دلی اور لکھنؤ جو اجڑے تو یوں لگا جیسے محفل اجڑ گئی ۔ مرزا داغؔ دہلوی لٹ پٹ کر رامپور پہنچے۔ رامپور ان کے لیے نیا نہیں تھا۔ ایک دن وہ راستے سے گذر رہے تھے کہ ایک شخص کو لکڑیوں پر نبرد آزما دیکھا۔ کھلتا ہوا رنگ، دراز قد، چہرے کے پیچھے سلگتی ہوئی جوانی اور عشق کی تپش‘ ایسی کہ نظر نہ آئے۔ اسی شام جب داغؔ والئ رامپور نواب کلب علی خان کے مشاعرے میں شریک ہوئے تو اسی شخص کو محفل میں شعرا ء کی صف میں دیکھا۔ جب شمع گردش کرتی ہوئی روبرو پہنچی اور اس نے مطلع پڑھا : دیکھا مجھے تو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھ ! تو اہلِ محفل کی بے ساختہ داد اور رنگِ غزل دیکھ کر داغؔ دیدۂ حیراں ہو گئے۔ اس غزل کے بعد جب کلب علی خان نے ایک اور غزل کی فرمائش کی تو انہوں نے ایک اور غزل سنائی۔ جب وہ اس شعر پر پہنچے : انداز اپنا آئینے میں دیکھتے ہیں وہ اور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو اہلِ محفل تو بیخود ہو ہی گئے لیکن داغؔ حیرت سے شاعر کو تکنے لگے ۔ یہ نظام ؔ رامپوری تھے۔ غریب، مفلوک الحال شاعر۔ داغ ؔ نے ایسی معاملہ بندی اوراد ا بندی پہلے نہ دیکھی نہ سنی تھی۔ یہ طرزِ تغزل داغؔ کے دل میں ترازو ہو گیا۔ داغؔ کی شاعری میں یہ عناصر نظامؔ رامپوری کی عطا ہے۔ اس سے پہلے اردو غزل میں محبوب سے گفتگو تو تھی لیکن ادا بندی اور معاملہ بندی نہیں تھی۔ نظام رامپوری نے یہ جدید طرزِ سخن اپنایا ۔ پھر اس کے بعد یہ چل پڑا ۔ میری نظر میں اگر کوئی جدت طرازی رسوخ پا جائے تو اسے جدید کہنا چاہیئے اور اس بناء پر میں نظام ؔ رامپوری کو جدید لب ولہجہ کا شاعر سمجھنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتا۔ نواب کلب علی خان کے انتقال کے بعد داغؔ 1887ء میں حیدرآباد چلے آئے۔ ریاست حیدرآباد ہمیشہ سے علم و فن، شعر و ادب کی قدردان رہی ہے۔ جس پر بھی وطن کی زمین تنگ ہوئی ، وہ حیدرآباد چلا آیا ، پھر جیتے جی دکن دیس نہ چھوٹا۔ یہیں پیوندِ خاک ہوئے۔ پذیرائی کے ضمن میں مہاراجہ کشن پرشاد کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ مہاراجہ نے ان پریشان حال شعراء کی دستگیری میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ میں تو کہوں آخری وقتوں میں ان کا بال بال قرض میں بندھا ہوا تھا لیکن انہوں نے اپنی وضع داری کو ترک نہیں کیا۔
داغؔ دہلوی کو مہاراجہ نے آصف سادس سے متعارف تو کروایا، لیکن داغ ؔ کی بدقسمتی ان کے ہمرکاب تھی۔ وہ خال خال شاہی ضیافتوں میں مدعو تو ہوئے لیکن خاطر خواہ پذیرائی نہ ہو سکی۔ آصف سادس نباض بھی تھے ، قدر شناس بھی۔ داغؔ کی شعر گوئی اور رنگ پسند بھی تھا لیکن داغؔ کو نہ انعام و اکرام سے نوازا گیا اور نہ کوئی ملازمت ہی حاصل ہو سکی۔ اس تمام عرصے میں صرف مہاراجہ کشن پرشاد تھے جن کا دستِ پُر عطا بڑی خاموشی سے داغؔ کی مدد کرتا رہا۔ نو برس دو مہینے گذر چکے تھے۔ میر محبوب علی خان پاکھال کے جنگلوں میں شکار پر تھے۔ پنچولی ان کا پسندید ہ مقام تھا ، جہاں شکار کا کیمپ لگا کرتا تھا۔ صبح صبح داروغۂ اصطبل نے ایک صف میں گھوڑے کھڑے کر دیئے اور خود ان کے آگے دست بستہ کھڑا رہا۔ سیاہ رنگ کا چمکدار گھوڑا بہت خوبصورت تھا۔ اس کی کنوتیاں پھڑک رہی تھیں اور مچل رہا تھا ۔محبو ب علی خان نے داروغہ کی طرف دیکھاتو اس نے کہا :’’سرکار!تھوڑاسرکش ہے ،کچھ دنوں میں ٹھیک ہوجائے گا ۔‘‘نہ جانے بادشاہ کو کیاخیال آیا ۔انہوں نے مہاراجہ سے کہا :’’داغ ؔ کو بلواؤ‘‘۔ہرکارہ روانہ کیاگیا۔دوسرے دن داغ موجود تھے۔ میر محبوب علی خان نے داروغہ اصطبل کو حکم دیا کہ سیاہ گھوڑالایاجائے ۔محبوب علی خان گھوڑے کے پیچھے گئے ۔کچھ دیر اس کی کمر سہلاتے رہے پھرگردن کو تھپکی دی اور جست کر کے گھوڑے پر سوار ہوکر ایڑلگائی تو گھوڑاہواہوگیا۔محبوب علی خان نے اسے خوب خوب دوڑایا ۔جب دونوں پسینے میں نہاچکے تو دلکی چال لاکر اتر پڑے۔انہوں نے داغؔ سے کہا :’’سنا ہے آپ اچھے شہسوار ہیں‘‘۔انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اُٹھا کے ہاتھ داغ ؔ نے کہا :’’ظل الہی ! اب کہاں کئی برس ہوگئے ،مشق نہیں رہی ‘‘ محبوب علی خان نے کہا :’’پھر بھی آزماکرتودیکھئے ‘‘ داغؔ سوار ی کے لئے آگے بڑھے،ابھی زین فرس پر بلند بھی نہ ہوئے تھے کہ گھوڑے نے جگہ بدل دی۔داغؔ گرتے گرتے بچے۔سائس نے قابو کیا۔دوسری مرتبہ داغ سوار ہوئے لیکن ایڑ کی بجائے چابک جو رسید کیا تو گھوڑ ا الف ہوگیا۔اورداغؔ گر پڑے۔محبوب علی خان ان کی ہیئت کذائی پر ہنس پڑے۔داغ خجل تھے ۔محبوب علی خان نے کہا :’’آپ واقعی شہسوار ہیں‘‘۔پھر مہاراجہ سے مخاطب ہوکرکہا :’’آج سے داغ ہمارے دربار کے شاعر ہیں۔یہ جب سے ریاست میں مقیم ہیں ایک ہزارروپیہ ماہانہ کے حساب سے تنخواہ ایصال کردی جائے ‘‘۔ مہاراجہ نے کہا :’’جو حکم عالی جاہ!‘‘ اس زمانے میں کرنسی نوٹ نہیں تھے۔ایک لاکھ دس ہزار سکے چھکڑوں میں لاد کر داغؔ کے گھر پہنچائے گئے تو داغؔ نے معروضہ کیا :’’غریب کے گھر میں یہ رقم رکھنے کے لئے جگہ نہیں ہے ۔یہ رقم خزانۂ عامرہ میں رکھوائی گئی ۔داغ اس دنیا کو 1905ء میں داغ مفارقت دے گئے ۔انہیں فصیح الملک کے خطاب سے نوازاگیاتھا۔داغ کے گزرجانے کے بعد مہاراجہ کے مکان پر محفل مشاعرہ منعقد ہوئی۔داغ کی جگہ خالی دیکھ کر میر محبوب علی خاں نے مہاراجہ سے مخاطب ہو کر کہا : میرے قابو میں نہ پہروں دل ناشادآیا
وہ مرا بھولنے والا جو مجھے یاد آیا ! آپ کی بزم میں سب کچھ ہے مگر داغ نہیں مجھ کو وہ خانہ خراب آج بہت یاد آیا!

***