allama-aijazfarruq
THANKS FOR VISITING
علامہ اعجاز فرخ





پسِ حرفِ بے تکلم اُسے ہمکلام رکھنا ..نصیر ترابی

بھی یہ وقت آن پڑتا ہے کہ کچھ لکھاجائے تو مقابل میں سوائے آئینے کے کچھ نہیں ہوتا اور پھر گمان بھی یہ کہ عکس اپناہے یا
اسکا۔جودکھائی دے رہا ہے ،وہ نہیں ہے اور جو نہیں دکھائی دے رہا ہے،وہ ہے۔
منم درآئینہ حیراں و عکس فریادی
تماشہ ایست کہ ہر کس بہ خود گرفتار است
نصیرترابی جو محبتوں سے اسیر کرے اور بے رُخی سے پروانہ رہائی جاری کردے۔اس کی محبتیں سمندر سمندر، جس کے آگے نسرین ناز آفرین عذرائے گل عذار ،نسترن غنچہ دہن،سمن پیرہن، لالہ رخسار،شیشہ اندام ہیچ ہوں۔ایسا سفاک جو محبت سے زخم لگائے اور اجنبیت میں وہ تاثیر مسیحائی رکھے کہ اس کی انگلیوں کالمس اندمال کے سارے سامان بہم پہنچائے۔سرکشی ایسی کہ کسی کو خاطرمیں نہ لائے کہ اسی میں دل کا اطمینان نہاں ہے۔لیکن اسی دل خانہ خراب ہی سے تو زندگی کا رنگ ہے۔میرا اور نصیر ترابی کا ازل کا ساتھ ہے، لیکن تارنفس کھینچنے میں وہ مجھ سے چھ مہینے آگے ہوگئے۔اگست۱۹۴۳ء کی ولادت پرورش وپرداخت،باپ کی نگاہ تکلم نصاب اور ماں کا دست دُعاء حصار،تعلیم کے لئے جامعاتی حوالے بہت کوتاہ قامت ہیں،جس کیونکہ ان کی آواز اپنے شجرہ نسب کے اعتبار سے نہج البلاغہ کی نسل سے تعلق رکھتی ہے، جواس ہوائے سرد و گرم میں ظن و تخمین کی نہیں،بلکہ یقین کی آواز ہے۔یہ آواز الفاظ کی معاشیات اور افکار کی ریاضیات پر مشتمل ایک ایسی نفسیات کی تشکیل میں مصروف ہے، جو ہزار بے ثباتی کے باوجود انفرادیت کے ادراک سے مکمل آراستہ ہے۔اس آواز کے بطن سے جو نخل نعمت نموپاتا ہے، وہ نصیر ترابی کے افکار کی آراستگی کی ایک صورت ہے۔یہ آراستگی صرف خوش جمال ہی نہیں، بلکہ اپنا ایک اثر ونفوذ رکھتی ہے۔خطیبانہاحتساب سے بالکل الگ،اس کا شاعرانہ کیف و کم نہ صرف سہ آتشہ ہے، بلکہ پیرسال خور دہ کو بھی صبح خیز کر دیتا ہے۔یہ کیف و کم اپنی انفرادیت کے ادراک سے مکمل آگہی رکھتا ہے۔علامہ رشید ترابی بلا شبہ برصغیر کے نہیں بلکہ عالمی افق پر خطیب بے بدل تھے وہ جتنے بڑے خطیب تھے اتنے ہی بڑے شاعر بھی تھے ان کی خطابت کے سحرا اور منفرد اسلوب نے بہت سارے ذوق خطابت رکھنے والوں کو اپنا حلقہ بگوش بناکر چھوڑا لیکن کسی نے اس بحر عمیق میں غواصی کی ہمت ہی نہیں کی اور سطحی لہروں کی حد تک تیر کر خود کی ذات میں رشید ترابی کو سمولینے کا دعویٰ کردیا،جس کے نتیجے میں وہ علامہ رشید ترابی کی چوتھی اور پانچویں کاربن کاپی سے آگے نہ بڑھ سکے۔یہ لوگ دراصل اس ادراک سے عاری تھے کہ علامہ رشید ترابی کی آواز کے پیچھے کتاب زاروں کی تہذیب ،فکری رزم گاہوں کا تمدن ہے اور ان کے وجود کی فضاء مصنوعاتی نہیں بلکہ توفیقی ہے۔یہ توفیق بیرونی زبوں حالی میں بھی نہ صرف بحال رہتی ہے، بلکہ ایسی نموگستر تہذیب کے باوصف حضوریت کے احاطے میں گوشہ گیری کے لئے مودت کے اجازہ کی حامل بھی ہے۔اس مقام کے بعد متناہی سے لا متناہی تک اور اس کے بعد ایک ایسا موڑ آتا ہے کہ جہاں پرزوال دفنا کے تمام استعاروں کا اطلاق محرمان حرف وظرف کے نزدیک متروک ہے۔ علامہ رشید ترابی کے فرزند نصیر ترابی کی فکری جامعہ اسی نصاب سے مزین ہے۔برگد کے پیڑ کی گھنی چھاؤں میں انفرادیت شناخت کے نخل کی ثمر آوری تو کجا اس کی پرورش و پرداخت بھی محال ہے۔اس لئے نصیر ترابی نے تنگنائے غزل سے اپنی منفرد شناخت حاصل کی اور وہ بھی اس حد تک کہ جوش ملیح آبادی جیسے غزل کے کٹر مخالف سے بھی دادا حاصل کی میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ جوش غزل کے اتنے خلاف نہیں تھے جتنے بعض غزل گو شعراء سے اختلاف کی وجہ سے انہوں نے غزل جیسی کافر ادا اور خوش جمال کی اس شدت سے مخالت کی، ورنہ جوش بحیثیت شاعر کسی صنف میں کیوں نہ سہی شعریت کے دشمن ہوں یہ محال عقلی ہے۔بہرحال ان کی پٹھنولی آخری دم تک اسی ضد پر اڑی رہی۔ نصیر ترابی کے تعلق سے یہ فیصلہ مشکل ہے کہ وہ اچھے شاعر ہیں، اچھے نثر نگار یا اچھے محقق۔میر انیس اور کمرہ تکنیک،اقبال کے حواس خمسہ، اکبر حیدری کا شمیری کے تلاش کردہ مرثیہ کا ایک نسخہ جسے انہوں نے میر انیس سے منسوب کرکے بیشتر عارفان انیس کو اپنا ہمنوا کرلیا تھا، نصیر ترابی نے اس مرثیہ کے ایک ایک مصرعہ،لفظیات،تراکیب،استعارے اورتخیلی عناصر کو علیحدہ علیحدہ کرکے اس تحقیق نوکے تارپور بکھیر دیئے، جس کا اعتراف ہر اہل نظر کو ہے۔ نصیر ترابی کی غزل کسی جبر کے نتیجے میں تخلیق اور اسکے اظہار کے لئے استعارے کی حمالی سے بوجھل نہیں،بلکہ ترسیل اور ابلاغ میں شفافیت ان کی غزل کا خاصہ ہے۔ان کی تنقید کی تیوری پر اس وقت بل آتے ہیں، جب استعاروں سے بھرپور شاعری میں جبری تخلیق کو تو یکھتے ہیں لیکن شاعر کی طرز زندگی اور عام رویہ کو اس کے بالکل برعکس پاتے ہیں تب وہ اس شاعری کو منافقت کوفہ اور مصحلتِ دمشق سے آلودہ قرار دے کر اسے سر عام ہدف بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے اُن کی غزل نہ جدید لب و لہجے میں ہے کہ جس میں تراکیب ‘ابہام اور استعاروں کی کثرت سے غزل بوجھل ہوجائے۔وہ دراصل ایک ایسے غزل کار ہے جو روایتی طرزِ فکر کے اوزار سے نئے لہجے کی غزل تراشے ہیں۔دراصل ان کی فکر کئی مناظر اور منازل سے گزرتی ہے۔جب بے انتظار بارشیں دریاؤں کو روانی دے دیں، تمام خس و خاشاک اس سیل رواں میں بہہ جائے ،اس کی روانی سیلابی کیفیت سے گزر کر نرم روی اختیار کرلے اور پھر بے وعدہ زمینوں پر سبزے کی بساط بچھ جائے، تب نصیرترابی کی غزل کتاب کے شعر جگہ جگہ اپنی چوپال ڈال دیتے ہیں۔ان کی غزلوں میں دوڑتے ہوئے بجلی کے کھمبے اور فیکٹریوں کی چمنیوں کا دھواں بادلوں سے مکاملہ نہیں کرتا، بلکہ پرت پرت زندگی کوالٹ کر اس کی حرارت اور حرکت کی سمت اور روشنی کا تعین کرتا ہے۔فکر میں یہ تلاشنے اور تراشنے کا عمل قافیوں کو شکار نے کی بجائے خود اپنی زخمی ہتھیلیوں کو چوم لینے میں زیادہ آسودگی
محسوس کرتا ہے۔
نصیر ترابی کی غزل کا بدن کرنوں سے تراشیدہ ہے۔اس پہلوی بدن کو جہاں کرن چھولیتی ہے اندر سے رنگ اچھال دیتی ہے، تب اس کی دلکشی سے شہر چٹخنے لگتا ہے۔اس سے سرشاری کا لطف خمار نیم شبی کے بعد ہے۔جب خود غزل کی پلکوں پرجاگتی آنکھوں کا خمار انگڑائی لے۔اس لمحے اگربکار خسروی کوئی گھر سے نکل پڑے تو کلاہ دار اپنے پچھلے دامنوں کو بھی چاک ہونے
سے بچاتے ہیں۔
نصیر ترابی کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ علامہ رشید ترابی ان کو بچپن میں حق و صداقت راست گوئی کا توشہ ساتھ دے کر مطمئن ہوگئے کہ میرے بچے کی زندگی کا سفر آرام سے کٹ جائے گا۔یہی کچھ ہماری ہم عمر نسل کے ساتھ ہوا۔آج شاید میں اور نصیر ترابی ساتھ ساتھ سوچ رہے ہوں کہ ہماری تیسری نسل کا غذ قلم لئے سوالیہ نظروں سے پوچھ رہی ہے’’کیا لکھوں؟‘‘ ہم کیا کہیں؟ اور کیا توشہ ساتھ دیں؟ کہ ان کی زندگی کا سامان سفر ہمارے پاس نہیں، ہمارے بس میں نہیں۔د ل آزا ری تو ایک فن ہوگیا ہے، جہاں لوگ ساری زندگی اس کی روٹی کھاتے رہتے ہیں‘ اپنے اپنے کنووں کو بحر اعظم سمجھنے والے مینڈک
ہاتھی کو دیکھ کر
بھولنے لگتے ہیں اور جب پھٹ جانے کے قریب ہوں تو ہاتھی کی آنکھوں پر پھپتی کسنے سے باز نہیں آتے اس شہرِ ناسپاس اور کوچۂ کم نگراں میں نصیر ترابی پر کیا گذری گفتنی نہیں دید نی ہے۔ ریاکاروں کے لئے نصیر ترابی ایک بہت بُرا اور ظالم آدمی ہے‘۲۰۰۵ء میں اُردو کانفرنس میں شعراء اور دانشوروں کو مدعو کرنے کے لئے میں پاکستان گیا تھا۔نصیر ترابی کو احساس ہوگیا کہ مدعو کرنا تو ایک ضمنی کاروائی ہے، میں اپنی ہمسفر کے انتقال سے بکھرا ہوا ہوں۔ایسی دلداری سے مجھے رکھا کہ کوئی اور ہوتا تو روپڑتا، مجھ سے وہ بھی نہ ہوا۔ایک مشہور شاعر کو مدعو کرنا چاہتا تھا۔نصیر ترابی نے کبھی اس پر بڑی سخت تنقید کردی تھی،نتیجے میں دونوں برسوں سے کشیدہ تھے۔میری خاطر وہ میرے ساتھ ان کے دفتر تک چلے اور کہنے لگے ملاقات ختم کرلو تو مجھے فون کرلینا، میں لے جاؤں گا۔لیکن وہاں پہنچتے پہنچتے نہ جانے کیا خیال آیا، کہنے لگے’’چلو اب کہاں پریشانی اٹھاؤ گے، میں ساتھ ہی چلتا ہوں۔‘‘ ان صاحب نے نصیر ترابی کو دیکھا تو ششدررہ گئے۔شکر ہے کہ ہاتھ میں چکوتر اور چھری نہ تھی کہ انگشت تراشی بھی بعید نہ تھی۔پھر بڑی دیر تک باتیں ہوتی رہیں اور جب تک ان سے ہندوستان آنے کا وعدہ تحریراً نہ لکھوا لیا نشست سے نہ اٹھے۔واپسی پر میں نے مسکراکر دیکھا تو ہنس کر کہنے لگے’’تمہاری خاطر در گزر کیا‘‘میں تو یہ بھی نہ کہہ سکا کہ’’ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا‘‘ میں سب کے لئے قرض خواہ ہوں ،لیکن نصیر ترابی کا قرض دار ہوں۔ایک ایسے وقت میں کہ جب چاند میرے لئے سبزچشم ہوچکا تو جگنوؤں سے کیا اُمید رکھوں۔اب توپرندپاؤں بدلتاہے تو نبض ڈوبنے لگتی ہے۔گزشتہ ملاقات کے دوران انہوں نے چند جملے کہے تھے ’’مودت مخلصین کے تئیں ایک تخاطبی حوالہ اور نکتہ بیں کے نزدیک حبل متین کا تشریحی رسالہ ہے۔عارفین کی صف میں مودت سے مراد وہ رسی لی جاتی ہے، جس کے ایک سرے پر ڈول باندھ کر کنویں سے پانی نکالنے کا کام لیا جاتا ہے۔پانی بھرا ڈول کھینچنے والے دستکاروں کا قول ہے کہ اس نوروں والی رسی کی گرفت کا سارا مدار و قرار عارفوں کی تہجدی، ریاضت و اصابت پر ہوا کرتا ہے۔‘‘پتہ نہیں انہو ں نے یہ جملے مجھ سے کہے، کسی اور سے، یا خود کلامی تھی۔مگر حضور سید الشہداء حسین ابن علی علیہ السلام میں ان کے یہ شعران جملوں کے گواہ بھی ہیں۔
یم فرات رواں ہے میان دیدہ و دل
نہ دامنوں کو خبر ہے نہ آستینوں کو
کل ایسا رن پڑے گا قیامت کہ دیکھنا
کل یہ زمیں کہے گی مجھے آسما ں کہو
وہ پہلی مرتبہ ۱۹۸۴ء میں۳۵ سال بعد حیدرآباد آئے تھے۔اب۲۵ سال بعد دوبارہ آرہے ہیں۔اس کے بعد شاید ہم کبھی مل
سکیں نہ مل سکیں،لیکن میں خود سے یہی کہتا رہوں گا:
پس حرف بے تکلم اسے ہمکلام رکھنا
ان کی غزل کے چند شعر ملاحظہ ہوں:
شہر میں کس سے سخن رکھئے،کدھر کو چلئے
اتنی تنہائی تو گھر میں بھی، گھر کو چلئے
اتنا بے حال بھی ہونا کوئی اچھا تو نہیں
اب وہ کس حال میں ہے اس کی خبر کو چلئے
در و دیوار سے راتوں کو صدا آتی ہے
صبح سے پہلے کسی اور نگر کو چلئے
*
میرے موسم کا طبق میرے لہو کی گردش
تیرے الفاظ کی خوشبو، تری آواز کا رنگ
فصل آئندہ کے قصوں میں بھی کام آئے گا
میرے پندار کا اسلوب ترے نازکا رنگ
دل ربائی میں رہی چہرۂ خاموش کی بات
خوش نمائی میں رہا طعنۂ طناز کا رنگ
اس کے جاتے ہی ہر اک آس کی لے ٹوٹ گئی
پھر نہ وہ شمع کی لو ٹھہری نہ وہ ساز کا رنگ




***